☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(امام النووی) انٹرویو(زاہد اعوان) متفرق(اے ڈی شاہد) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() کھیل(منصور علی بیگ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری )
بھگت کبیر۔۔۔۔ ایک عظیم شاعر اور فلاسفر

بھگت کبیر۔۔۔۔ ایک عظیم شاعر اور فلاسفر

تحریر : وقار احمد ملک

06-07-2020

  بھگت کبیر ہندوستان کے مشہورصوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ مسلمان اور ہندو دونوں ان کو روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا تعلق پندرہویں صدی میں بتایا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔ ایک رائے کے مطابق ان کی پیدائش 1398 عیسوی ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ 1440 ء میں پیدا ہوئے ۔جائے پیدائش بنارس کے بارے میں کسی کو شک و شبہ نہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں مختلف معلومات روایات کی شکل میں موجود ہیں۔

 ایک روایت کے مطابق ان کا تعلق جولاہوں کے خاندان سے تھا۔ وہ ایک مسلمان جولاہے کے بیٹے تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ ایک برہمن بیوہ کے بطن سے پیدا ہوئے جس نے ذلت اور رسوائی سے بچنے کے لیے نومولود کو ایک تالاب کے کنارے پھینک دیا۔یہاں سے ایک مسلمان جولاہے نے ان کو اپنایا اور پرورش کی۔ بالغ ہونے کے بعد بھگت کبیر نے مسلمان مشائخ سے علم حاصل کیا۔ لیکن یہ تعلیم ان کی علم کی پیاس کو نہ بجھا سکی۔ مزید تحصیل علم کے لیے انہوں نے ایک ہندو رامانند کی شاگردی اختیار کر لی۔ ان کے یہ ہندو استاد وشنو جی کے پجاری تھے۔ دو طرز کی تعلیم کے حصول کے بعد دونوں مذاہب کا رنگ ان پر غالب آ گیا اور انہوں نے ہندوازم اور اسلام دونوں کو اپنانے کی کوشش کی۔
بھگت کبیر نے عام بھگتوں کی روایت کے خلاف چلتے ہوئے شادی کر لی۔ ان کی اولاد بھی ہوئی۔متعصب ہندوئوں کو ان کا یہ عمل ایک آنکھ نہ بھایا اور انہوں نے بھگت کبیرکو بنارس سے دیس نکالا دے دیا۔ وہ ذات پات اور مذہبی تفریق کے سخت خلاف تھے۔ شاعر ہونے کے ناطے انہوں نے دوہے کہنا شروع کیے جو بہت جلد ہندوستان بھر میں معروف ہو گئے۔ اپنے دوہوں میں وہ بھگتی کے معارف بیان کرتے۔
بھگت کبیر کو ہندو؛ ہندو سمجھتے ہیں جبکہ مسلمان ان کو ایک ولی کامل کا درجہ دیتے ہیں۔ سکھوں کی مذہبی کتاب گروگرنتھ میں بھی کبیر کے دوہے اور اشعار شامل ہیں۔ پیدائش کی طرح ان کی وفات کے سن پر بھی مختلف معلومات ملتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق وہ 1448 عیسوی میں فوت ہوئے جبکہ دوسری مضبوط روایت کے مطابق ان کا سن وفات8 151ہے۔ کہتے ہیں جب بھگت کبیر کا انتقال ہوا تو ہندو اور مسلمانوں میں میت کے حصول پر جھگڑا ہو گیا۔ ہندو ان کی لاش کو جلانا چاہتے تھے جبکہ مسلمان ان کو دفنانے پر بضد تھے۔ اچانک ان کی لاش غائب ہو گئی اور اس کی جگہ چند پھول پائے گئے۔ کچھ پھولوں کو ہندوئوں نے جلا دیا اور کچھ کو مسلمانوں نے دفن کر دیااور قبر بنا دی جو آج تک بھارت کے شہر ماگھر میں موجود ہے۔ عقائد کے لحاظ سے وہ اللہ اور رام دونوں کو مانتے تھے۔ مسجد اور مندر کے وجود کی اہمیت کے قائل نہ تھے۔ خدا کے وجود کو ہر جگہ اور ہر چیز میں تسلیم کرتے تھے۔ ان کے مذہبی فلسفہ کے مطابق انسان کی نجات خدا سے محبت اور انسان سے دوستی میں مضمر ہے۔ ان کے پیروکار کبیر پنتھی کہلاتے ہیں۔ ان کے والد کا نام نیرو اور والدہ کا نام نیما یا نعیمہ تھا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ جولاہے تھے۔۔ ان کی شاعری میں کئی زبانوں کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ مشہور تنقید نگار سردار جعفری اپنی ایک تنقیدی کتاب میں بھگت کبیر کو میر اور غالب کے بعداردو کا تیسرا بڑا شاعر قرار دیتے ہیں۔ اردو کی تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو بھگت کبیر قلی قطب شاہ سے بھی پرانے شاعر ہیں۔ ان سے پہلے امیر خسرو کے علاوہ اور کوئی شاعر دکھائی نہیں دیتا۔
بھگت کبیر تاریخی کتابوں میں کبیر داس کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا زمانہ سکندر لودھی کا زمانہ تھا۔ سکندر لودھی نے ہی ایک روایت کے مطابق ان کو بنارس سے ماگھر منتقل ہونے کا مشورہ دیااور پھر اختلافات کی بنیاد پرسکندر لودھی نے ان کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سکندر نے کبیر کو تین مرتبہ قتل کرنے کی کوشش کی لیکن تینوں مرتبہ ناکام ہوا۔ پہلی مرتبہ آگ میں جلا کر، دوسری مرتبہ پانی میں ڈبوکر اور تیسری مرتبہ ہاتھی کے ذریعے کچل کر۔
بھگت کبیر کی عظمت کی گواہ اس کی عوامی شاعری ہے جس میں ہم کو ہندی بھگتی اور اسلامی تصوف دونوں کا رنگ یکجا دکھائی دیتا ہے۔ مذہبی دوہے لکھنے کے باوجود ان کا انداز فکر سیکولر تھاجو انسان کی فلاح و بہبود کا قائل تھا۔ کبیر کی فکر اور فلسفہ ٹیگور، اقبال اور دوسرے کئی اہل قلم کی تحریروں میں دکھائی دیتا ہے۔

مزید پڑھیں

  کوہ قاف کا نام سامنے آئے تو کئی گمشدہ کہانیاں ذہن میں جاگ اٹھتی ہیں۔ ایسی کہانیاں جو بادشاہوں کی حسین شہزادیوں سے شروع ہو کر جنوں اور پریوں کے زیرقبضہ ہیبت ناک قلعوں میں ہونے والے طلسماتی واقعات پر منتہج ہوتیں۔ ایسی کہانیوں کا لبِ لباب عام طور پر یہ ہوتا تھا کہ فلاں ملک کے طاقتور بادشاہ کی حسیں اور نرم و نازک شہزادی کو فلاں جن یا دیو نے اغوا کیا اور کوہ قاف کی کسی خاموش وادی کے تاریک محل میں لے جا کر قید کر دیا۔ ایسی کہانیاں پاکستان، بھارت، ایران اور عرب علاقوں کے افسانوی اور بچوں کے ادب میں اہم مقام کی حامل ہیں۔ یہ کہانیاں تحریری شکل میں تو موجود ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ غیر تحریری شکل میں سینہ بہ سینہ روایات کی شکل میں بھی منتقل ہوتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے ہر شہری کا ہر روز سبزیاں،پھلوں اور اناج وغیرہ کی شکل میں زرعی اشیاء سے واسطہ پڑتا ہے،کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہ حال ملکی معیشت اس وقت ٹڈی دل کے حملوں سے مزید خطرے سے دوچار ہے،جس کی وجہ سے آنیوالے دنوں میں پورا ملک غذائی قلت کا شکار ہوسکتا ہے،

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

آبی مسائل کے حوالے سے پاکستان انتہائی خطرناک صورت حال سے دوچار ہے۔پاکستان میں کبھی بارشیں کم ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی صورتحال بن جاتی ہے توکبھی بارشیں زیادہ ہونے سے سیلاب آتے ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور اربوں روپوں کا ملک کو نقصان ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں