☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
شہروں کے نام :کب کس سے منسوب ہوئے؟

شہروں کے نام :کب کس سے منسوب ہوئے؟

تحریر : اسد اسلم شیخ

04-28-2019

پنجاب کے اکثرشہر اور قصبات اس کے آباد کرنے والوں کے ناموں سے منسوب ہیں ۔ جیسے لاہور کو لہو یا لاہو، نے آباد کیا تھا۔ بہاولپور، نواب بہاول خاں نے آباد کیا، احمد خاں نے احمد پور شرقیہ، دائود پوترہ سردار حاصل خاں نے حاصل پور، جلال الدین نے جلال آباد (ضلع لودھراں) بکھر خاں نے بھکر، دریا خان نے دریا خان،

بلوچ سردار فتح خان نے فتح پور (ضلع لیّہ) ، سردار سلطان خان نے کوٹ سلطان (ضلع لیّہ) ، سنجر خان نے سنجر پور (ضلع رحیم یار خان) سبزل خاں نے کوٹ سبزل (ضلع رحیم یار خان) صادق محمد خان پنجم نواب بہاولپور نے صادق آباد، سمابہ خاں نے کوٹ سمابہ (ضلع رحیم یار خان) ، سردار سوائے خان نے ترنڈہ سوائے خان (ضلع رحیم یار خان) ، نواب شجاع خان نے شجاع آباد، قوم لنگاہ کے جلال نے جلالپور پیروالہ، جلال کھاکھی نے جلالپور کھاکھی (ضلع ملتان)، نورشاہ کھگہ نے نور شاہ (ضلع ساہیوال) لکھاوٹو نے حویلی لکھا (ضلع پاکپتن)بوچھ نے بوچھال کلاں (ضلع خوشاب) دادن خان نے پنڈ دانخان (ضلع جہلم) احمد خاں کھوکھر نے احمد آباد (ضلع جہلم) نارو باجوہ جاٹ نے نارووال، بدو نے بدو ملہی (ضلع نارووال ) شادی نے شادیوال (ضلع گجرات) بہائو الدین نے منڈی بہائوالدین، قادر خان نے قادر آباد (ضلع منڈی بہائو الدین) کاموں نے کامونکی (ضلع گوجرانوالہ) نواب وزیر خان نے وزیر آباد (ضلع گوجرانوالہ) حافظ میرا ک نے حافظ آباد، فیروز دین نے فیروز والہ (ضلع شیخوپورہ) مرید ورک نے مریدکے (ضلع شیخوپورہ) شیر خان نے جنڈیالہ شیر خان (ضلع شیخوپورہ) سیّد میر نے سیّد والہ (ضلع ننکانہ) راجن نے راجن پور، مٹھن خان نے کوٹ مٹھن (ضلع راجن پور) غازی خان اول نے ڈیرہ غازیخان، مانہ احمدانی نے مانہ احمدانی (ڈیرہ غازی خان) سردار چُھٹہ خان نے کوٹ چُھٹہ (ضلع ڈیرہ غازی خان) حاکم ملتان مظفر خان نے مظفر گڑھ ، خان بی بی نے خان گڑھ (ضلع مظفر گڑھ) سلطان چجھڑہ نے شہر سلطان (ضلع مظفر گڑھ) ، اَدو خان نے کوٹ اَدو (ضلع مظفر گڑھ) محمود خان نے محمود کوٹ (ضلع مظفر گڑھ) محمد علی عرف میلسی خان نے میلسی (ضلع وہاڑی) فتح خان جوئیہ نے فتح پور (ضلع وہاڑی) نواب محمد بہاول نے بہاولنگر ، نواب محمد صادق نے منڈی صادق گنج (ضلع رحیم یار خان) فرید خان لکھویرا نے شہر فرید (ضلع بہاولنگر) اور بہاولپور نواب بہاول خان اوّل نے آباد کیا۔ جبکہ قبول خان نے قبولہ ضلع (پاکپتن ) اور کمال خان کھرل نے کمالیہ کا قصبہ آباد کیا۔ یہ تمام شہر اور قصبات اپنے بانیوں کے ناموںسے منسوب چلے آتے ہیں۔ ضلع بہاولنگر کا قصبہ ہارون آباد، ریاست بہاولپور کے نواب سر محمد صادق خاں نے آباد کیا تھا اور اسے اپنے بیٹے ہارون الرشید کے نام سے منسوب کیا۔

بادشاہوں سے منسوب شہر:پنجاب کے چند شہر اور قصبات بادشاہوں یا صوبے داروں کے ناموں سے بھی منسوب ہیں۔ جیسے جلالپور جٹاں، بادشاہ جلاالدین خلجی، سرائے عالمگیر، مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر ، شیر گڑھ، شیر شاہ سُوری کے ناموں سے منسوب ہیں۔ وزیرآباد کا شہر پنجاب کے صوبیدار نواب وزیر خان اور ضلع گجرات کا قصبہ سعداللہ پور، مغل بادشاہ شاہجہاں کے وزیراعظم نواب سعداللہ خاں سے منسوب ہے۔ ہندو سکھ راجائوں سے منسوب شہر:پنجاب کے چند قدیم شہر اور قصبات ایسے ہیں جو صدیوں سے آباد چلے آتے ہیں اور ان کو اس وقت کے علاقائی ہندو راجوں نے آباد کیا تھا۔ جیسے راجہ مل کا آباد کردہ ملوٹ، کنج پال کا کنجاہ (ضلع گجرات) سیتا رانی کا سیت پور، راجہ کنب کا تلمبہ (ضلع خانیوال)، دنی چند کا دُنیاپور (ضلع لودھراں)، راجہ کیروڑ کا کہروڑپکا (ضلع لودھراں)، راجہ بھونگر کا بھونگ (ضلع رحیم یار خان)،رانی مٹو کا مٹوٹلی (ضلع ملتان)، راجہ دیو پال کا دیپالپور (ضلع اوکاڑہ)، مہاراجہ کورامل کا گڑھ مہاراجہ (ضلع جھنگ)، مانگاسنگھ کا مانگا منڈی (ضلع لاہور)، دیدار سنگھ کا قلعہ دیدار سنگھ (ضلع گوجرانوالہ) اور سوبھا سنگھ کا قلعہ سوبھاسنگھ (ضلع سیالکوٹ) قابل ذکر ہیں۔ ننکانہ، سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک کے نام سے منسوب ہے۔ ان سے پہلے اس کا نام تلونڈی تھا۔ ان کی وفات کے بعد یہ ننکانہ بن گیا۔

صوفیائے کرام سے منسوب شہر اور قصبات:کئی شہر اور قصبات نے وہاں منسوب بزرگان دین کے مدفون ہونے کی وجہ سے شناخت حاصل کی چنانچہ یہ انہیں کے ناموں سے منسوب ہو گئے۔ جیسے بابا ولی قندھاری کی نسبت سے حسن ابدال (ضلع راولپنڈی)، سیدن شاہ کے نام سے چوأ سیدن شاہ (ضلع چکوال)، بابا دین محمد کے نام سے دینہ (ضلع جہلم)، حضرت شاہ کاکو کی نسبت سے کالا شاہ کاکو، حضرت نولکھ ہزاری کی نسبت سے شاہکوٹ (ضلع ننکانہ)، حضرت سخی سرور کے نام سے کوٹ سخی سرور (ضلع ڈیرہ غازی خان)،شاہ صدر دین سے قصبہ شاہ صدر دین (ضلع ڈیرہ غازی خان)، حضرت دین پناہ کے نام سے دائرہ دین پناہ (ضلع مظفر گڑھ)، شیخ فاضل کے نام سے شیخ فاضل (ضلع وہاڑی)، حضرت شیخ دیوان مچاولی کی نسبت سے چک دیوان (ضلع وہاڑی)، میاں چنوں نامی بزرگ کی نسبت سے میاں چنوں (ضلع میانوالی)، سیّد احمد کبیر بخاری کے نام سے کبیروالہ (ضلع خانیوال)، عبدالحکیم کے نام سے قصبہ عبدالحکیم (ضلع خانیوال)، عالی پیر کی نسبت سے مخدوم عالی (ضلع لودھراں)، حضرت لعل عیسن کی نسبت سے کروڑ لعل عیسن (ضلع لیّہ)، جمن شاہ بخاری کے نام سے قصبہ جمن شاہ(ضلع لیّہ)، حضرت ظاہر پیر سے ظاہر پیر (ضلع رحیم یار خان)، حضرت عبدالرشید حقانی کے نام سے مخدوم رشید (ضلع ملتان)، مقیم محکم الدین کے نام سے حجرہ شاہ مقیم (ضلع اوکاڑہ)، ماموں کانجن کے نام سے ماموں کانجن (ضلع فیصل آباد)، تاج الدین شوری کے نام سے شورکوٹ، مخدوم تاج الدین اٹھارہ ہزاری کے نام سے قصبہ اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ اور حضرت شاہ جیونہ کے نام کی نسبت سے ضلع جھنگ ہی کے دو قصبات منڈی شاہ جیونہ اور شہر شاہ جیونہ منسوب ہیں۔ضلع خانیوال کا قصبہ جہانیاں، حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا قصبہ پیرمحل، پیرسیّد قطب علی شاہ بزرگوں سے منسوب ہیں۔ مگر یہ دونوں بزرگ ان شہروں میں مدفون نہیں ہیں ان کے مدفون دوسرے مقامات پر ہیں۔

قبیلوں کے نام سے منسوب شہر اور قصبات:کئی شہر اور قصبات ان کو آباد کرنے والے ابتدائی آبادکار قبیلوں سے منسوب ہیں۔ جیسے پنڈی گھیب (ضلع راولپنڈی) کو گھیبہ قبیلہ نے آباد کیا۔ پٹھان قبیلہ حضرو کی نسبت سے حضرو (ضلع اٹک)، راول قبیلہ سے راولپنڈی، گوجر قبیلہ سے گوجرخاں، گجرات، گوجرہ اور گوجرانوالہ مشہور ہیں۔ اسی طرح سے ستّی قبیلہ سے کوٹلی ستیاں (ضلع راولپنڈی)،کہوٹ قبیلہ سے کہوٹہ، سونگھا قوم سے سنگھوئی (ضلع جہلم) لِلّہ قوم سے قصبہ لِلّہ (ضلع جہلم)، سوہا قوم سے سوہاوہ (ضلع جہلم) مانگٹ قوم سے مانگٹ (ضلع منڈی بہائو الدین)، گوندل قبیلہ سے میانہ گوندل، بھٹی قبیلہ سے پنڈی بھٹیاں (ضلع حافظ آباد)، روہیلہ قبیلہ سے روہیلا نوالی (ضلع مظفر گڑھ)، مغل قبیلہ سے کوٹلہ مغلاں (ضلع راجن پور)، لُنڈ قبیلہ سے ٹبی لُنڈ (ضلع راجن پور)، احمدانی قبیلہ سے بستی احمدانی، کھر قبیلہ سے قصبہ کھر (ضلع ڈیرہ غازی خان)، سمین قوم سے سمینہ (ضلع ڈیرہ غازی خان)، جتوئی قبیلہ سے قصبہ جتوئی (ضلع مظفر گڑھ)، لودھرہ قبیلہ سے لودھراں، چاچڑ قبیلہ سے قصبہ چاچڑاں شریف (ضلع رحیم یار خان)، ساہی قبیلہ سے ساہیوال، چچ قبیلہ سے قصبہ چیچہ وطنی (ضلع ساہیوال)، ہانس قبیلہ سے ملکہ ہانس (ضلع پاکپتن)، لالی قبیلہ سے لالیاں (ضلع جھنگ)، موکل قبیلہ سے موکل(ضلع قصور) اور ہندو ذات پتواں سے پتوکی (ضلع قصور) منسوب ہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  بھگت کبیر ہندوستان کے مشہورصوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ مسلمان اور ہندو دونوں ان کو روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا تعلق پندرہویں صدی میں بتایا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔ ایک رائے کے مطابق ان کی پیدائش 1398 عیسوی ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ 1440 ء میں پیدا ہوئے ۔جائے پیدائش بنارس کے بارے میں کسی کو شک و شبہ نہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں مختلف معلومات روایات کی شکل میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں

  کوہ قاف کا نام سامنے آئے تو کئی گمشدہ کہانیاں ذہن میں جاگ اٹھتی ہیں۔ ایسی کہانیاں جو بادشاہوں کی حسین شہزادیوں سے شروع ہو کر جنوں اور پریوں کے زیرقبضہ ہیبت ناک قلعوں میں ہونے والے طلسماتی واقعات پر منتہج ہوتیں۔ ایسی کہانیوں کا لبِ لباب عام طور پر یہ ہوتا تھا کہ فلاں ملک کے طاقتور بادشاہ کی حسیں اور نرم و نازک شہزادی کو فلاں جن یا دیو نے اغوا کیا اور کوہ قاف کی کسی خاموش وادی کے تاریک محل میں لے جا کر قید کر دیا۔ ایسی کہانیاں پاکستان، بھارت، ایران اور عرب علاقوں کے افسانوی اور بچوں کے ادب میں اہم مقام کی حامل ہیں۔ یہ کہانیاں تحریری شکل میں تو موجود ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ غیر تحریری شکل میں سینہ بہ سینہ روایات کی شکل میں بھی منتقل ہوتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے ہر شہری کا ہر روز سبزیاں،پھلوں اور اناج وغیرہ کی شکل میں زرعی اشیاء سے واسطہ پڑتا ہے،کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہ حال ملکی معیشت اس وقت ٹڈی دل کے حملوں سے مزید خطرے سے دوچار ہے،جس کی وجہ سے آنیوالے دنوں میں پورا ملک غذائی قلت کا شکار ہوسکتا ہے،

مزید پڑھیں