☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل خواتین کچن کی دنیا سفر نامہ دین و دنیا فیشن متفرق کیرئر پلاننگ ادب
مہنگائی کے دور میں رکھے جو غربت کا بھرم

مہنگائی کے دور میں رکھے جو غربت کا بھرم

تحریر : سید علی شاہ نقوی

05-05-2019

موجودہ عہد انتہائی مہنگائی کا عہد ہے اور انسانی ضروریات زندگی میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے، بن سنور کر رہنا، اچھا لباس اور پاؤں میں اچھے جوتے پہننا ہر کسی کی خواہش بن چکا ہے۔ اچھے جوتے خریدنے کے لئے اچھے پیسے بھی درکار ہوتے ہیں، کئی کئی ہزار کا جوتا عام بازاروں میں دستیاب ہے جبکہ چند سو کا جوتا جو کہ ظاہر ہے کہ غریب آدمی ہی خریدتا ہے یہ جوتا کچھ ہی عرصہ بعد ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔

کسی کی سلائی ادھڑ جاتی ہے تو کسی کا چمڑا یا ریگزین پھٹنا شروع ہو جاتی ہے، ایسے میں کسی غریب کیلئے بار بار نیا جوتا خریدنا ناممکن بھی ہوجاتاہے اور مشکل بھی سو ایسے میں اسے مجبوراً موچی کی خدمات سے فائدہ اٹھانا پڑتا ہے جو آج کے مہنگائی کے دور میں اس کیلئے ایک غنیمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں اس دورِ جدید میں جوتوں کی بڑی بڑی دکانیں موجود ہیں اور ایک اندازے کے مطابق لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے وہاں غیر معیاری اور ناقص جوتوں کی بھی بھر مار ہے۔ بڑی بڑی دکانوں پر بڑے بڑے شیشوں اور دکانوں پر بچھے ہوئے قالینوں کے جھرمٹ میں سجائے گئے یہ جوتے جو ہزاروں میں خرید کئے جاتے ہیں چند ماہ کے استعمال کے بعد ہی خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اصلی ورائٹی کی پہچان ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ خرید ے گئے جوتے کی چمک اور بناوٹ اس قدر مسحور کرتی ہے کہ وہ پہچان ہی نہیں پاتا کہ جوتے کا میٹریل کیسا ہے اور بیچنے والے کمال کی مہارت سے جوتے کا اصل اور میٹریل کا انتہائی معیار ی ہونے کا یقین دلاتے ہیں اور پھر بھاری پیسے جیب میں ڈال کر گاہک کو خوش خوش گھر کی طرف روانہ کر دیتے ہیں۔ جوتے خریدتے وقت کہتے ہیں کہ او پاجی بے فکر ہو جاؤ! بڑا ودھیا مال اے! میں وی ایہو ہی استمال کرداواں! گاہک کو مطمئن کرنے کا فن اب ہر کوئی جان گیا ہے۔ بہر کیف ناقص جوتوں کی تیاری کی بھر مار ہے اور کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو اس کا سد باب کرے اگر جوتے معیاری بنتے تو آج پاکستان کے ہر بازاراور ہر محلے میں جگہ جگہ موچی دکھائی نہ دیتے۔ بعض جوتے تو دوسرے دن ہی ٹانکے کے لئے لے جانے پڑتے ہیں۔ موچی کے پاس جاؤ تو وہاں پہلے سے ہی رش ہوتا ہے،

دوسرا پالش کروانے والوں کی بھر مار ہوتی ہے۔ بڑی دیر وہاں بیٹھنا پڑتا ہے، بعض موچی انتہائی ناقص کام کرتے ہیں، سلائی کے وقت کچے دھاگے کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے جوتا اگلے روز ہی تنگ کرنا اور پاؤں کو درد سے لبریز کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان ذہنی الجھن کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے، اسے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا کرے وہ نیا جوتا خریدے یا اسے پھینک دے یا پھر کسی سینئر اور پرانے موچی کے پاس جائے۔ یوں تو موچی پورے پاکستان میں پائے جاتے ہیں اور پھٹے پرانے جوتے سی کر اور پالش کر کے اپنے پیٹ کا دوز خ بھر رہے ہیں مگر پنجاب میںموجودہ عہد میں ایک تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے جب گاہک موچی کے پاس جاتا ہے تو اسے موچی کہہ کر پکارنا مثلاً چاچا موچی، موچی بابا، گاموں موچی، بابا موچی یعنی کہ موچی کا لفظ استعمال ہوتا تھا مگر اب صورتحال یہ ہے کہ صوبہ پنجاب میں پٹھان قوم کی ایک بڑی تعداداس کام سے وابستہ ہوگئی ہے۔ 14/5

سالہ نوجوان سے لے کر 70 سال کی عمر تک انسان موچی کا کام کر رہے ہیںاور جو بھی ان پٹھانوں کے پاس اپنے جوتے لے کر آتا ہے کوئی بھی ان کو موچی نہیں کہتا بلکہ یوں کہتے ہیں کہ ’’خان صاحب جوتا پالش کردو‘‘۔ خان صاحب اس کی سلائی کردو۔ یعنی کہ اس شعبے سے وابستہ پٹھانوں کے لئے صاحب کا لفظ استعمال ہونے لگا ہے۔ ایک بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ پٹھان لوگوں نے موچی کے کام میں جدت پیدا کی ہے اور اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ پٹھان جوتے کو مضبوط، طاقتور اور چمکتا دمکتا بنانے میں اپنی مثال آپ ہیں۔

سلائی اور پالش کا ہنر یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب صرف کالی اور براؤن پالش چلتی تھی مگر پٹھانوں کے اس شعبے میں آنے کے بعد بڑی تبدیلی رونما ہوئی اور رنگ برنگے جوتے بھی پاس ہونے لگے، ایک جوتے پر دو دو اور تین تین قسم کی پالش استعمال ہو رہی ہے اور بعض جوتے تو سرف سے دھوئے اور پنجے والے حصے پر پالش کی جاتی ہے جس جوتے یا بوٹ پر پٹھان برادری سے سلائی کروائی جائے وہ جوتے جلدی ٹوٹنے یا پھٹنے کا کام نہیںلیتے۔ معیاری کام کی وجہ سے ہماری عوام شوق سے ان لوگوں کے پاس جاتی اور اپنے جوتوں کو نئی زندگی سے آشنا کرتی ہے۔ اب تو ایسا دور آگیا ہے کہ ہر شخص ہی مہنگائی کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے۔ انسانی ضروریات بہت بڑھ گئی ہیں سو ہر چیز کے دام بڑھ گئے ہیں اور مزدوری بھی۔ کبھی وقت تھا کہ چند پیسے دے کر جوتا سلائی کروالیا جاتا تھااور بات روپوں تک آگئی اور اب تو سو پچاس تک بات جا پہنچی ہے۔

پرانے وقتوں کی بات ہے ڈیرہ غازی خان کے علاقے پتھر بازار میں ایک موچی ایسا تھا جو گدھے ریڑھی پر سامان رکھ کر پورے علاقے کا چکر لگاتا اور بچوں ، عورتوں اور مردوں کے جوتے مرمت کر کے روزی کماتا تھا، صبح سے جب شام ہوتی تو وہ ایک روپیہ کما لیتا تھا اور اسی ایک روپے میں وہ دن بھر کا راشن بآسانی ناصرف حاصل کرتا بلکہ اس روپے میں سے بھی کچھ نہ کچھ بچ جاتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آتی رہیں اور اجرت میں وقت کی مناسبت سے اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کبھی وقت تھا کہ ہر گھر میں جوتے پالش ہوتے تھے مگر اب لوگ بدل گئے ہیں، خود جوتے پالش کرنے کا رجحان کافی حد تک دم توڑ گیا ہے، لوگ بہت سارے جوتے ایک شاپر میں ڈالتے اور پھر موچی کے حوالے کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے پالش کر رکھنا شام کو لے جاؤں گا اور یوں بہت سارے جوتوں پر وہ ڈیڑھ دو سوروپے خرچ کر دیتا ہے اگر یہی جوتے وہ خود پالش کرے تو اس پر 20 روپے بھی بمشکل خرچہ آئے گا۔

میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بچت کرنے کا رجحان بھی ہم نے بہت کم کر ڈالا ہے اور بعض لوگ تو اپنے ہی جوتے پالش کرنے کو ایک تھرڈ کلاس کام سمجھنے لگ گئے ہیں۔ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ہمارے نبی ؐ جہاں اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں کو خود پیوند لگاتے تھے، اپنے جوتے بھی خود سلائی کرتے تھے، آج سلائی کرنا تو دور کی بات ہم اپنا ہی جوتا پالش کرنا گناہ سمجھنے لگے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں اگر موچی موجود نہ ہوں تو لوگ خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کے لوگ پریشانی کا شکار ہو جائیں کیونکہ جوتوں کے بغیر ہر گز گزارہ نہیں ہے اور یہ ہر انسان کی ضرورت ہے اور جوتوں کی مرمت ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے اور پھٹے پرانے جوتوں کی خود مرمت کرنا بھی ناممکن ہے اسی لئے موچی ایک غنیمت ہے اور معاشرے کی اشد ضرورت بھی۔ ملتان کے علاقے چوک دہلی گیٹ پر ڈاکٹر عبدالعلیم چودھری کے کلینک کے سامنے ایک موچی بابا ہوتے تھے جنہیں پیمو موچی کہتے تھے اصلی نام تو غالباً غلام حسین تھا، انہوں نے ساری زندگی ایک ایک پائی اکٹھی کر کے حج کے فریضے کی نیت کی تو ایک رات دیکھا کہ ساتھ والے گھر میں لڑائی ہو رہی ہے، ذرا توجہ کی تو بابا جی کو لڑائی کی وجہ سمجھ آگئی۔

قصہ یوں تھا کہ اس گھر میں بچی جوان تھی اور اس کی شادی کے لئے جہیز نہیں تھا۔منگنی ہوئی پڑی تھی لڑکے والوں نے جہیز نہ دینے کی وجہ سے رشتے سے انکار کر د یا۔ یہ سارا ماجرا دیکھ کر بابا پیمو نے اپنی ساری جمع پونجی چپکے سے اس بچی کے جہیز کی نذر کر کے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کردی اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد بابا اللہ کو پیارا ہو گیا، وہ بچی آج بابا جی کی شفقت کی بدولت خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے، اب آپ سوچیں کہ موچی ایسے بھی ہوتے ہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان پانی کے سنگین بحران کا شکار ہے ۔ہمارے دریا خشک ہورہے ہیں ۔ ڈیمز کی کمی سے سیلاب کا29ایم اے ایف اور دریائوں کا اضافی پانی ضائع ہو جا ...

مزید پڑھیں

پاکستان ان ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں تمباکو استعمال کرنے والے اور اس کے نتیجے میں جان لیوا بیماریوں کا شکار ہونے والوں کی ...

مزید پڑھیں

خلیفہ عبد المجید ثانی کی معزولی اور سقوط خلافت کا نامبارک اقدام امت مسلمہ کے لئے بیسویں صدی کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔ مسلمانوں کا مستقبل تا ...

مزید پڑھیں