☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل کچن کی دنیا فیشن دین و دنیا متفرق تاریخ دنیا کی رائے رپورٹ کیرئر پلاننگ ادب
تمباکوپر ٹیکس

تمباکوپر ٹیکس

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر سہیل اختر

06-16-2019

پاکستان ان ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں تمباکو استعمال کرنے والے اور اس کے نتیجے میں جان لیوا بیماریوں کا شکار ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں تمباکو نوش افراد کی تعداد 2.56کروڑہے۔ پاکستانیوں نے مالی سال 2017-18میں 295 ارب روپے کے 59ارب سیگریٹ پی لئے ۔

تقریباً ایک لاکھ افراد سالانہ تمباکو کے استعمال کی وجہ سے لاحق ہونے والی مختلف بیماریوں کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔اس کے باوجود ملک میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو تمباکونوشی (سگریٹ، پان، چھالیا، گٹکا وغیرہ کا استعمال) کرتے ہیں۔اس اعتبار سے اس پر ٹیکسوں میں اضافہ خوش آئند ہے، جہاں اس عادت کو ختم ہونا چاہیے وہاں اس پر لگائے گئے ٹیکس سے اس سے پیدا شدہ بیماریوںکا علاج بھی کرنا چاہیے۔

تمباکونوشی کے انسانی صحت پر مضر اثرات کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ہمیشہ مہمات چلائی جاتی ہیں؛ اس سے ہونے والے نقصانات سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے؛ ملک میں پبلک مقامات پر اس کے استعمال کی ممانعت پر مبنی قانون سازی بھی کی گئی ہے جبکہ کم عمر افراد کو اس کی فروخت کے خلاف قانون بھی موجود ہے۔ ان تمام تر انسدادی تدابیر کے باوجود بھی تمباکونوش حضرات اس نشے سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے۔

ڈاکٹرز کی تنظیم پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی (پیما )، پاکستان چیسٹ سوسائٹی اور دوسری غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے اسی لئے یکم رمضان المبارک کوبھی ’’قومی یومِ انسداد تمباکونوشی‘‘ منایا جاتا ہے ۔اس سال بھی منایا گیا تھا۔ یہ ثابت شدہ ہے کہ 8 گھنٹے بعد خون میںنکوٹین اور کاربن مونوآکسائیڈ کی سطح نصف سے کم رہ جاتی ہے جبکہ 48 گھنٹے بعد جسم اور پھیپھڑے کاربن مونوآکسائیڈ سے بالکل پاک ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو اس عادت کو پختہ بنا کر تمباکوشی سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ہم تمباکو نوشی کے انسانی زندگی پر پڑنے والے مضر اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے دینی پہلو کا بھی جائزہ لیں گے۔

تمباکو کے نقصانات:

سگریٹ/حقہ کے دھویںکے ساتھ چار خطرناک نقصان دہ کیمیکلز (کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، سائنائیڈ) پھیپھڑوں اور جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ جاتے ہیں، جن سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں سانس کی بیماریاں، دائمی کھانسی، نمونیہ، ٹی بی، دل کا دورہ، دھڑکن تیز ہونا، ہائی بلڈ پریشر، دورانِ خون کم ہونا اور اس سے فالج، گردوں کے فعل میں کمی، ہڈیوں کی کمزوری اور دیگر کئی امراض شامل ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر90فیصد تمباکو کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دیگر اعضاء کے کینسر میںجن کی وجہ تمباکو ہے، منہ، گلا، نرخرہ، غذا کی نالی، معدہ، لبلبہ، مثانہ، رحم کا نچلا حصہ اور چھاتی کا کینسر شامل ہے۔ تمباکو میںشامل نکوٹین نشہ آور ہے، جس کا اثر ہیروئن سے بھی طاقت ور ہے،یہی وجہ ہے کہ آدمی تمباکو کا غلام بن کر رہ جاتا ہے، نیزاسی سے مزاج میں خشکی ، چڑچڑا پن اور ڈپریشن پیداہوتا ہے۔

تمباکو سے موت کا خطرہ:

پاکستان میںاس وقت 22ملین سے زائد نوجوان تمباکو استعمال کر رہے ہیں۔ یہاں سگریٹ پینے والے سالانہ ایک لاکھ سے زائد افراد پھیپھڑوں کے کینسر، سٹروک، دل اور سانس کی بیماریوں کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ تمباکو استعمال کرنے والے ہر 100میں سے 50افراد کی موت کہ وجہ تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں۔ طبی ماہرین کے خیال میں سگریٹ زندگی کے 11قیمتی منٹ روزانہ ضائع کرتا ہے۔اس طرح سگریٹ نوش کی زندگی کے اوسطاً10سال کم ہو جاتے ہیں۔

تمباکو نوشی کا دینی پہلو:

دورِ نبویﷺ اور صحابہ کرامؓ میں چونکہ تمباکو موجود نہیں تھا اس لیے اس کی ممانعت کی احادیث موجود نہیں ہیں۔ابتدا میں فقہا نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کی تاثیر چونکہ شراب جیسی نہیں ہے،اس لیے اسے مکروہ کے درجے میں ہی رکھا، لیکن جدید تحقیق سے جب اس کے نقصانات سامنے آئے تو یہ رائے تبدیل کرنا پڑی ۔ مارچ1982ء میں مدینہ منورہ میں ہونے والی اسلامی کانفرنس برائے انسدادِ منشیات میں عالم اسلام کے 17ممالک کے جید علمائے کرام نے تمباکونوشی کے استعمال کو حرام قراردے دیا۔ ان علماء میں مفتی اعظم سعودی عرب عبدالعزیز بن باز، ریکٹر جامع ازھر ڈاکٹر احمد عمر ہاشم، مفتی اعظم عمان شیخ احمد بن عماد الخلیلی اور علامہ یوسف القرضاوی شامل تھے۔ تمباکونوشی کی حرمت کے لیے درج ذیل دلائل بھی دیے گئے:

تمباکو کے نتیجے میں بیماریاں اور موت:

’’اور تم اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘ ( البقرہ195)

’’اور اپنے آپ کو قتل مت کرو، بلاشبہ اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔‘‘ (النساء29)

’’جس نے کسی زہر کے استعمال سے خود کو ہلاک کیا تو (روزِ قیامت) وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے استعمال کرتا رہے گا۔‘‘ (بخاری)

تمباکو کے دھویں سے دوسروں کو تکلیف:

تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمباکو نوش کے ساتھ رہنے والا ایک گھنٹے میں جتنا تمباکو سونگھتا ہے، وہ ایک سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ ’’تکلیف نہ دو دوسروں کو اور نہ ہی اپنی ذات کو۔‘‘ (مسند احمد)

’’مومن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔‘‘ (بخاری)

’’جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ پر یقین رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔‘‘(بخاری)

’’دراصل ایک اچھے اور برے ساتھی کی مثال یوں ہے جیسے ایک عطر فروش اور لوہار ۔ جیسے ایک عطر فروش تمھیں یا تو خوشبو دے گا یا تم اس سے خوشبو خریدو گے یا کم از کم تمھیں اس میں سے اچھی خوشبو تو آئے گی اور بھٹی پھونکنے والا یا تو گندگی بودے گا یا پھر کپڑے جلا دے گا۔‘‘ (بخاری و مسلم)

تمباکو فضول خرچی ہے:

’’اور مال بے جا نہ اڑاؤ۔ بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل26-27) ’’اللہ تعالیٰ کو تین چیزوں سے نفرت ہے: فضول باتیں کرنا، بھیک مانگنا اور مال ضائع کرنا۔‘‘ (بخاری و مسلم)

’’روز قیامت ابن آدم کے قدم ہل نہ سکیں گے جب تک پانچ باتوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے: زندگی کے بارے میں کہ کیسے گزاری ، جوانی کے بارے میں کہ کہاں کھپائی، مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا؟‘‘ (ترمذی)

تمباکونوشی کے اخلاقی پہلو:

بیماری اورہلاکت سے خود کو نقصان ہوتا ہے۔سگریٹ کے دھویں سے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے نزدیک بیٹھنے والوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔مال کا بے جا اسراف ہوتا ہے،دوسرں بالخصوص بچوں کے لیے بری مثال قائم ہوتی ہے۔دھوئیں دیگر لوگوں کوملوث کرنا، کیونکہ انہیں بھی اس عادت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔

تمباکو کا ترک ممکن ہے:

تمباکو کی عادت پڑنے کے بعد اس کو چھوڑنا آسان نہیں لیکن اگر انسان عزم کر لے تو سب کچھ ممکن ہے۔ رمضان المبارک اس سلسلے میں انسان کو بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے مضبوط ارادہ کر لے اور جس طرح صبر و برداشت کی قوت سے کام لے کر دن میں اس بری عادت سے رک جاتا ہے اسی طرح رات میں بھی اس کا استعمال ترک کر لے۔ اگر تمباکو چھوڑنے کی علامتیں پیدا ہوں تو ان کو ماہر ڈاکٹر کی مدد سے دور کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے پیش نظر یہ بات ضرور رہنی چاہیے کہ چند دنوں کی یہ دشواری، عمر بھر کی فضول، بے مقصد اور بیماری کی زندگی سے بدرجہا بہتر ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پنجاب میں مسلمانوں کی آمدکے بعد فنِ تعمیر کا ایک نیا باب کُھل گیا۔ انہوں نے مذہبی عمارات کے علاوہ محل، مقبرے، سرائیں اور باغات بھی تعمیر ...

مزید پڑھیں

طارق شاہ اپنے چار پھولوں حسینہ شاہ ، شمائلہ شاہ ، مشال اور عائشہ کی ساتویں برسی 22اگست 2019ء کو منائیں گے جس میں قرآن خوانی ہو گی اور ایک من ...

مزید پڑھیں

حکومت نے اسلام آباد میں شاپنگ بیگز پر پابندی لگا دی ہے۔ملک بھر میں پابندی لگانے پر کام ہو رہا ہے مگر حکومت کے پاس اس کا کوئی متبادل موجود ...

مزید پڑھیں