☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
بارشوں میں 30فیصد کمی

بارشوں میں 30فیصد کمی

تحریر : عذرا جبین

07-28-2019

دنیا آگ کا گولہ بنتی جارہی ہے،،ہر طرف پانی کی پکار ہے، کراچی سے خیبر تک نہیں بلکہ کراچی سے امریکہ تک موسمیاتی تبدیلیوں نے پانی کو دنیا بھر کا مسئلہ نمبر ون بنا دیا ہے۔گزشتہ چند برسوں میںمون سون کا 78سالہ شیڈول بری طرح متاثر ہوا ہے، بارشوں کے بارے میںکچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔

1880ء کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلیاں نے انسان کو چکرا دیا ہے،1941ء میں انگریزوں نے مون سون کا موجودہ شیڈول ترتیب دیا تھا مگر اب یہ حتمی نہیں رہا، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔پچھلے سال جون گزشتہ چند عشروں میں گرم ترین جون تھا۔اس مرتبہ وہاں بھی درجہ حرات 43ڈگری سنٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا تھا۔یورپ سے کینیڈا اور جنوبی امریکہ تک اور وہاں سے روس تک موسم نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔اس لئے بارشوں کے مہینوں میں تبدیلی سے پانی کی حفاظت سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ لاہور اور بعض دوسرے شہروں میں بہت ابر کرم برس رہا ہے، پچھلے برس سے بھی زیادہ برسا ،مگر یہ سچ نہیں۔ پانی کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔پاکستان میں رواں برس میں یکم جولائی سے 18جولائی تک ہونے والی بارشوں کا جائزہ لیا جائے تو ہم پچھلے برسوں کے مقابلے میں بارشی پانی کی قلت کا شکار ہیں۔اس عرصے میں گزشتہ برس کے مقابلے میں پانی 30فیصد کم برسا ہے،گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 29.3 ملی میٹر بارشیں ہوئی تھیں مگر اس سال کے اسی عرصے میں ہونے والی بارشوں کا حجم20.4ملی میٹر سے زیادہ نہیں۔

ہم ایک تہائی کمی کا شکار ہیں۔ سندھ اور پنجاب کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، پچھلے سال کے ان دنوں میں وہاں22.4ملی میٹر بارش ہوئی تھی مگر اس سال کے اسی عرصے میں وہاں صرف 0.4ملی میٹر بارش نے علاقے کو سیراب کیا ہے، وہاں پچھلے برس کے مقابلے میں 0.2فیصد بھی بارش نہیں ہوئی۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر سندھ حکومت نے اگلے دو تین مہینوں میں تھر کے علاقے پر توجہ نہیں دی تو پانی کی کمی سے پیدا شدہ اموات میں خدا نخواستہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

لہٰذا سندھ کے بعض رہنمائوں سے درخواست ہے کہ خالی خولی نعروں کی بجائے اگلے چند مہینوں میں پانی پر توجہ فرمائیں ۔یہ سنگین مسئلے کے طور پر ان کی سیاست کو چیلنج کر نے والا ہے۔ انہیں عدم اعتماد سے فرصت مل چکی ہے۔ اس لئے آبی ضروریات پر بھی توجہ مرکوز کرنا چاہیے ۔ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ پانی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ۔ یقیناََ پانی ہی ان کے لئے اہم ہے،

وہ ہر سال تھر میں بہت توجہ کرتے ہیں مگر اس سال کم بارشوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔اگرچہ کالاباغ ڈیم کو دفن کیا جا چکا ہے ،کیاپاکستان اسی وقت ’’کھپتا‘‘ ہے جب یہ ڈیم بن جائے؟ اس پر بھی کچھ سوچ لیا جائے۔ اگر یہ ڈیم موجود ہوتا تو شاید ملک کو آنے والے کل میں پانی کی خوفناک کمی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔بس تھوڑا سا غور فرما لیں۔دل مانے تو ٹھیک ورنہ کوئی دبائو تو ہے نہیں۔

اس سال یکم جولائی سے 18جولائی تک کے عرصے میں پنجاب میں 45.3ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔پچھلے سال کے انہی دنوں میں یہاں ہونے والی بارشوں کا حجم 51.4ملی میٹر تھا۔پنجاب کو اب تک بارشوں میں 12فیصد کمی کا سامان ہے۔یہ کمی زرخیز علاقوں میں واقع ہوئی ہے اس لئے اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ اس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ارسا بھی پنجاب کا کوٹہ کم کرتا رہتاہے۔ چشمہ جہلم لنک کینال بھی کبھی کبھی بند رہتی ہے۔لہٰذا پنجا ب کو اپنے زیرزمیں وسائل کو بہتر بنانا ہوگا۔

ہم ایک بڑی غلطی کر چکے ہیں۔وہ یہ کہ بارش کا تمام پانی سیوریج سسٹم میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ سڑکوں کے کنارے گرین بیلٹ کو اونچا اور سیوریج سسٹم کو نیچا کر دیا ہے۔پارکوں کی جگہ سکڑ رہی ہے، خالی علاقوں کو پکا کیا جا رہا ہے، جس سے پانی کے سیپیج میں کمی آنا فطری بات ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف پانی کے زیر زمیں ذخا ئر کے چارج میں کمی آ رہی ہے۔وہیں اس سے سیوریج سسٹم پر بھی دبائو بھی بڑھ گیا ہے۔املاک کو نقصان پہنچاتا ہوا یہ پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ہمیں ہر صورت میں زیر زمیں پانی کے ذخائر کو چارج کرنے والے اقدامات کرنا چاہیں، اس سے سیوریج سسٹم پر بھی دبائو کم ہو جائے گا۔

آزاد کشمیر میں اس عرصے میں پچھلے سال 60.8ملی میٹر بارشیں ہوئیں، مگر اس مرتبہ ان کا حجم صرف 48.5ملی میٹر ( 20فیصد کم)رہ گیا ۔منگلہ ڈیم ریزنگ پراجیکٹ اضافی پانی ذخیرہ کرنے کے لئے نعمت ثابت ہو گا ۔ اس منصوبے کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ سے ہم نے اربوں روپے کا پانی املاک کو ضائع کرنے پر’’لگا ‘‘دیا!۔گلگت بلتستان میں بھی 76فیصد کم بارشوں نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ گزشتہ برس اسی عرصے میں وہاں 6.2ملی میٹر بارشیں ہوئیں تھیں جو اب 1.5ملی میٹر رہ گئی ہیں۔انہیں بھاشا دیامیر ڈیم کی تعمیر جلد ازجلدمکمل کرنے میں مدد کرنا چاہیے۔

اگر ہم خیبر پختونخوا پر ایک نظر ڈالیں تو بظاہر یہ صوبہ ہر لحاظ سے پانی میں خود کفیل نظر آتا ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔ وہاں پچھلے سال کے اسی عرصے میں بارشوں کا حجم 57.3فیصد ملی میٹر تھا جو اس سال کم ہو کر 46.7ملی میٹر( 19فیصد کمی) رہ گیا ہے ۔ہاںگلیشیئرز مسلسل پگھل رہے ہیں ۔ پانی کا یہ ا ہم ذریعہ دن بدن سکڑ رہا ہے۔ہم گلیشیئرز کی حفاظت پر توجہ نہیں دے رہے۔مستقبل میں گلیشیئرز کی کمی سنگین مسلہ بن سکتی ہے۔اگرفوری طور پرمزید ڈیمز نہ بنے تو مسائل قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں نے پاکستان پر ہی اثر نہیں ڈالا۔بھارت کئی عشروں کے بعد گرم ترین دنوں کا سامنا کر رہا ہے۔ایک بڑی بھارتی ریاست چنائی خشک اور بنجر ہو چکی ہے، زمین پھٹ رہی ہے، لوگ پانی پانی کر رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں مدھیہ پردیش اور گجرات کے مابین کبھی دریائے نرمادہ کے پانی پر تنازعات ابھرے ہیں۔ہماری ارسا کی طرح وہاں ’’نرمادہ کنٹرول اتھارٹی‘‘ (The Narmada Control Authority)کام کر رہی ہے۔مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے گجرات کو مزید پانی دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ اس سے گجرات کے مسلمان زیادہ تعداد میں متاثر ہوں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلمان اکثریتی علاقوں میں آبی ذخائر کی تعمیر کو نظر انداز کر کے مسلمانوں کے ایک اور ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔دونوں ریاستوں نے ایک دوسرے پر پانی چوری کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے ۔پاکستان میں ڈیمز نہ بننے کے لئے فنڈنگ کرنے والا بھارت اپنی بھڑکائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے۔

مزید پڑھیں

حکومت نے اسلام آباد میں شاپنگ بیگز پر پابندی لگا دی ہے۔ملک بھر میں پابندی لگانے پر کام ہو رہا ہے مگر حکومت کے پاس اس کا کوئی متبادل موجود ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

گزشتہ دو دہائیوں سے وطن عزیز دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ایک طرف سے بھارت آنکھیں دکھا رہا تھا تو دوسری طرف سے افغان حکومت بھی ظالم ساس کا ک ...

مزید پڑھیں

پاکستان سمیت 146ممالک میں ہونے والے ایک عالم گیر سروے نے ہمیں کئی پریشانیوں سے پہلے ہی آگاہ کر دیا ہے،یہ تو ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ ایک خا ...

مزید پڑھیں

خاندان کئی افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر ہر خاندان کسی نہ کسی مِس مینجمنٹ کے بَل بوتے پہ ہی چل رہا ہوتا ہے۔

...

مزید پڑھیں