☰  
× صفحۂ اول (current) عید اسپیشل آزادی اسپیشل فیشن خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل متفرق ادب
مرحوم بیٹی کا باپ کے نام خط

مرحوم بیٹی کا باپ کے نام خط

تحریر : بلال حیدر

08-11-2019

طارق شاہ اپنے چار پھولوں حسینہ شاہ ، شمائلہ شاہ ، مشال اور عائشہ کی ساتویں برسی 22اگست 2019ء کو منائیں گے جس میں قرآن خوانی ہو گی اور ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی جائیگی ۔

وہ ان چاروں لخت جگروں کی برتھ ڈے ہر سال مختلف پریس کلبوں میں مناتے ہیں برتھ ڈے اور برسی منانے کا مقصد نہ ختم ہونے والی محبت ہے۔

 یہ آج سے چھ برس پہلے کی بات ہے کتنا اچھا وقت گزر رہا تھاشمائلہ، عائشہ، مشال اور حسینہ شاہ سے اس کے امی اور ابو کتنا پیار کرتے تھے۔ ناز لاڈ اور نخرے اٹھاتے تھے۔ ہر خواہش کو پورا کرنے میں بالکل بھی دیر نہیں لگاتے تھے۔ منہ سے بات نکلتی اور وہ اپنے آرام و سکون کی پرواہ کئے بغیر ہر خواہش کی تکمیل میں جت جاتے تھے۔یہ چاروں بچے اپنے دوستوں کو کہتے تھے کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمیں بہت چاہنے والے ماما بابا ملے ہیں ۔ پھر22 اگست 2012 کا وہ دن آیا جب یہ سب موٹر وے پہ پشاور سے اسلام آباد اپنے گھر جا رہے تھے۔ سب بہت خوش تھے۔ چاروں بچوں کے والد طارق گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے۔ سب خوش گپیوں اور شرارتوں میں مشغول تھے۔امی معصوم اور ننھی منی شرارتوں پہ ہنس رہی تھیں ۔اچانک ایک ٹرالر کہیں سے نمودار ہوا ، زور دار زآواز سے ٹکرا گیا، گاڑی الٹ گئی ۔ گاڑی گھسٹتی ہوئی دور تک چلی گئی۔والد طارق کے کانوں میں شمائلہ، مشال ، حسینہ اور عائشہ کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ وہ بری طرح رو رہے تھے۔کسی کے سر سے خون بہہ رہا تھا اور کوئی دردسے چلا رہا تھا۔سب ماما ماما بابا بابا کہہ رہے تھے۔ لیکن والدین بھی خاموش تھے دونوں خاموش تھے۔۔۔۔گاڑی کے گرد لوگ جمع تھے اور اونچی اونچی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔بچے پکار رہے تھے ، وہ ماما بابا جو ایک آواز پر دوڑے آتے تھے وہ بھی بے سدھ پڑے تھے اور کوئی آواز پر کان نہیں دھر رہا تھا۔تھوڑی دیر میں چاروں بچے موقع پر دم توڑ چکے تھے ۔ البتہ والد اور ماں کی سانسیں چل رہیں تھیں لیکن وہ بھی لہولہان تھے ۔وہاں جمع ہونیوالے لوگوں نے جلدی جلدی دونوں کو اٹھایا اور ہسپتال منتقل کیا۔

خط

پیارے ابا

 میرے بابا جان میں جانتی ہوں آپ ہمارے لئے دکھی ہیں پریشان ہیں اداس ہیں۔ ہمیں یاد کرتے ہیں ہماری برسی ہماری سالگرہ مناتے ہیں۔ لیکن بابا جان آپ فکر مند نہ ہوں۔۔ہم یہاں بہت خوش ہیں۔ یہاں ہمارے ساتھ اور بھی بہت سے بچے ہیں۔ ہم لوگ خوب کھیلتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔ لیکن آپ سے ایک گلہ ہے شکایت ہے کہ آپ کے اس ہمہ وقت اداس ہونے اور رونے سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ آپ کو معلوم ہے نا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں اپنے بندوں کو مخاطب کر کے کیا فرماتا ہے ؟ "اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے (سورہ انفال) ۔تو میرے اچھے بابا بحیثیت مسلمان ہم سب کا یقین ہے کہ ہر ذی روح نے مرنا ہے۔ اور یہ دنیا کی عارضی زندگی فقط دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔!اللہ تعالیٰ اسی کو آزماتا ہے جسے اس قابل سمجھتا ہے۔ آپ خوش ہوں شکر گزار ہوں کہ اس نے آپکو اپنے پیارے بندوں میں چنا ہے۔"ان اللہ مع الصابرین بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"بابا جان جب آپکو ہماری یاد ستائے تو آرمی پبلک اسکول کے ان بچوں کے والدین کے صبر کے بارے میں سوچنا جو 16 دسمبر کو اس جہاں سے چلے گئے اور ان کے والدین ان کے پاس نہیں تھے۔ برما روہنگیا کے مسلمان بچوں کے بارے میں سوچنا کہ جن کو کفار ان کے ماں باپ کے سامنے ذبح کر رہے ہیں۔ ان شیر خوار بچوں کو سوچنا جو میدان کربلا میں پیاسے مارے گئے۔ان بچوں کے بارے میں سوچنا جو 8 اکتوبر 2010 کے زلزلے میں شہید ہوئے۔ ان والدین کے بارے میں بھی سوچنا جو اپنے بچوں کو کھو چکے ہیں۔ آقا دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ 

وآلہ وسلم کے صبر عظیم کو سوچنا جب انھوں نے اپنے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں کو لحد میں اتارا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کے بارے میں سوچنا جب اپنے ہی ہاتھوں وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے نکلے تھے۔ اللہ انکا صبر آزماتا ہے جن کو چاہتا ہے۔ایک حدیث پاک میں حضرت ابو موسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں۔۔۔" جب کسی بندے کی اولاد کا انتقال ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو بلاتا ہے اور پوچھتا ہے۔" میرے بندے نے کیا کہا جب تو نے اس کے دل کا پھل اس کا لخت جگر اسکی عظیم نعمت اولاد کو اس سے چھین لیا؟فرشتے جواب دیتے ہیں 'یا اللہ تیرے اس بندے نے تیری حمد بیان کی اور کہا انا للہ وانا الیہ راجعون اے اللہ ہم تیری طرف سے آئے تھے اور تیری طرف لوٹ کر جانا ہے۔'اللہ فرماتا ہے تم میرے اس بندے کے لئے جنت میں گھر بنا دو اور اس کا نام "بیت الحمد " رکھ دو۔(ترمذی شریف)۔ صبر و شکر دو عظیم نعمتیں ہیں۔ بابا میں آپکو خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔میری موجودگی کو آپ اس طرح بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ بے سہارا بچوں کا سہارا بنیں ان کا درد محسوس کریں۔ جن کے والدین نہیں ہیں ان کے سر پہ دست شفقت رکھیں انکی مدد کریں۔انکو حسینہ شمائلہ مشال اور عائشہ سمجھ کر انکی آنکھوں میں خوشی کے دیپ روشن کریں۔ اس سے اللہ بھی خوش ہو گا آپ کو دلی سکون ملے گا اور ہم بھی خوش ہوں گے۔ایک آخری بات سب کے لئے کہ خدارا روڈ پہ گاڑی احتیاط سے چلائیں۔ اوور ٹیک کے چکر میں خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ امی جان کا بھی خیال رکھیں اور خوش رہا کریں۔آپکی بیٹی حسینہ شاہ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

یہ تاریخی فوارہ ایوب خان نے امریکہ کے صدر آئزن ہاور کے استقبال کے لیے بنوایا تھا جنہوں نے صدر پاکستان کی دعوت پر دسمبر 1959ء میں پاکستان پ ...

مزید پڑھیں

ایک بھارتی جریدے سے پتہ چلا کہ بھارتی ریاستوں، شہروں اور دیہات میں مسلمانوں نے ناصرف ادارے قائم کئے تھے بلکہ ہندوئوں اور دوسرے مذاہب کے ...

مزید پڑھیں

ایک تحقیق کے مطابق ہر4 بالغ افراد میں سے1 اور ہر 10 بچوں میں سے 1کو دماغی امراض یا مسائل کا سامنا ہے۔ کسی ایک انسا ن کے دماغی مرض سے صرف وہی ن ...

مزید پڑھیں