☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
18ویں آئینی ترمیم پر لفظی جنگ

18ویں آئینی ترمیم پر لفظی جنگ

تحریر : محمد سمیع گوہر

05-10-2020

  اب جبکہ دنیا بھر کے تمام ممالک اپنے اپنے ملکوں میں کورونا وائرس کی بناء پر ہونیوالی ہولناک تباہی سے محفوظ رہنے کے اقدامات، اس کے علاج کیلئے ویکسین اور دوائوں کی تیاری اور اس وبائی بیماری کے خاتمے کے بعد پیدا ہونیوالے سنگین اقتصادی بحران سے نمٹنے کی تدابیر کرنے میں مصروف ہیں پاکستان میں ابھی تک اس عفریت کا مقابلہ کرنے کیلئے وفاق اور سندھ کی صوبائی حکومت کے درمیان اسمارٹ لاک ڈائون اور سخت لاک ڈائون پر بیان بازی جاری ہے اور کوئی بھی فریق اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے ۔گوکہ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے مئی کے مہینہ کو پاکستان میں کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے حوالے سے انتہائی خطرناک قرار دیا جاچکا ہے

لیکن ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ملک کی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتیں اس وباء کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونے کے بجائے سیاسی جنگ لڑنے میں مصروف نظر آتی ہیں۔اسی نازک صورتحال میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے رہنمائوں نے اب یہ کہنا شروع کردیا ہے 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق کو کمزور اور صوبوں کو زیادہ مضبوط کردیا گیا تھا جس کی وجہ وفاقی حکومت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اپنا کردار بہتر طور پر انجام دینے سے قاصرہے۔ان رہنمائوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی مالیاتی کونسل کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو دی جانے والی بھاری رقوم کا بھی غلط استعمال کیا جارہا ہے اور وہ اس کا حساب دینے سے پر بھی آمادہ نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت18ویں آئینی ترامیم پر نظر ثانی کیلئے ایک قانونی مسودہ تیار کررہی ہے جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں سے بھی مشورہ کیا جائے گا۔دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتیں پی ٹی آئی کے رہنمائوں کی اس تجویز پر آگ بگولہ ہوگئی ہیں اور اسے صوبائی خود مختاری پر حملہ اور ایک سوچی سمجھی سازش قرار دے رہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ18ویں ترمیم پرکوئی بات نہیں کی جائے گی اور اس کے تحفظ کیلئے ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
آئین میں ترمیم کی کیا اہمیت ہے ؟ یہ کس طرح تشکیل پاتا ہے اور اس کی پاسداری کس طرح کی جاتی ہے یہ عوام کا مسئلہ نہیں ہے جو ہر دور میں غربت،مہنگائی،بے روزگاری،شہری سہولیات کی عدم فراہمی اور سماجی ناانصافیوں سے محرومی کا شکار ہوکر ایک انتہائی تکلیف دہ زندگی بسر کرنے پر مجبور رہتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ ملک کی اشرافیہ کا مسئلہ ہے۔دوسری جانب ہماری نوجوان نسل ہے جس کو ہمارے موجودہ فرسودہ نظام تعلیم کی بنا پر ملک کی سیاسی تاریخ اور جدوجہد آزادی کے بارے میں کچھ زیادہ آگہی نہیں ہے ۔چند سال قابل راقم الحروف کو ایک بڑے ادارے کی جانب سے ملازمتوں کی بھرتی کیلئے بنائے گئے ایک انٹر ویو بورڈ میں شامل ہونے کا موقع ملا تھا تواس وقت میں نے نصف درجن سے زائد ایم اے پاس نوجوانوں سے جب یہ سوال پوچھا کہ پاکستان کا پہلا آئین کب بنا تھا تو ہر نوجوان کا جواب یہ تھا کہ 1973ء میں بنا تھا کوئی نوجوان یہ نہ بتا سکا تھا کہ پاکستان کا پہلا آئین 1956ء میں اور دوسرا آئین 1962ء میں بنا تھا۔ اب جبکہ ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان18ویں آئینی ترمیم پر نظر ثانی کیلئے لفظی جنگ جاری ہے آیئے آج کے مضمون میں 1973 ء کا آئین جو کہ 12اپریل 1973ء جس کو اس وقت کی قومی اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے منظور کیا تھا، جس کے تحت ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم کا حلف پیپلز پارٹی کے چیئرمین مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اٹھا یا تھا اس میں اب تک کی جانیوالی آئینی ترامیم پر ایک نظر ڈالیں۔ یہاںیہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آئین کی منظوری کے پہلے ہی روز ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے بنیادی حقو ق معطل کردئیے تھے بعد ازاں یہ ایمرجنسی 1985ء میں سندھ سے تعلق رکھنے والے دوسرے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے اٹھائی تھی، 1973ء کے آئین میں اب تک 34 ترامیم کی جاچکی ہیں10 مرتبہ ایکٹ آف پارلیمینٹ کے ذریعے قومی اسمبلی نے منظور کیں اور 24 مرتبہ صدارتی احکامات کے ذریعے۔
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں 7 آئینی ترامیم منظور کی گئی تھیں جو مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی کے بعد نئے پاکستان کی حدود کا تعین،گرفتار افراد کی تحویل کی مدت میں توسیع،اقلیتوں کیلئے اسمبلی میں نشستوں کا تعین،ہائی کورٹس کی پابندی کے احکامات میں اضافہ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65برس مقرر کرنا،وزیر اعظم کا انتخاب عوام کے ووٹ سے منتخب کردہ قومی اسمبلی کے ذریعے کرنا اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا پر مشتمل تھیں۔پاکستان کے آئین میں ترامیم کا دوسرا مرحلہ1979ء میں پیش آیا جب پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق نے ملک میں تیسر ا مارشل لاء لگا کر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو معزول کردیا تھا اور آئین کی بعض شقوں کو معطل کردیا تھا۔اس وقت سپریم کورٹ میں بیگم نصرت بھٹو کی جانب سے دائر کی جانے والی پٹیشن پر عدالت عظمیٰ نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء لگانے کے فیصلے کو جائز قرار دیتے ہوئے انکی قانون سازی کے حق کو تسلیم کرلیا تھا۔1979ء سے 1982ء کے دوران جنرل ضیاء الحق نے آئین میں ترامیم کیلئے صدارتی احکامات جارے کئے جس کے تحت ملک کا چیف ایگزیکٹیو وزیر اعظم کے بجائے وہ خود صدر بن کر ہوگئے تھے اور انھیں قومی و صوبائی حکومتیں برطرف کرنے کا اختیار بھی حاصل کرلیا تھا۔1985ء میں ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ کی تشکیل کرکے غیر جماعتی انتخابات کرائے جس کے بعد 1973ء کے آئین کا حلیہ یکسر تبدیل ہو گیا تھا اور اس دور کا یہ آٹھواں ترمیمی ایکٹ 1985ء کے طور پر جانا جاتا ہے۔
نواں آئینی ترمیم کا بل 1986ء میں سینیٹ نے منظور کرکے قومی اسمبلی کو بھیجا تھا مگریہ بل قومی اسمبلی کی ایک سلیکٹ کمیٹی کے زیر غو ر ہی تھا کہ اسمبلی توڑدی گئی اور یہ بل منظور نہ ہو سکا تھا،یہ بل شریعت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے سے متعلق تھا۔دسواں ترمیمی ایکٹ مارچ 1985ء میں منظور کیا گیا تھا جو قومی اسمبلی کا اجلاس ایک سال میں 133دن بلانے سے متعلق تھا۔11ویں ترمیم کا بل جو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستوں سے تھا اس کے محرکین کی جانب سے واپس لے لینے کی بناء پر قانون نہ بن سکا تھا جس کے بعد 12ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جنرل ضیاء الحق کے دور میں کی جانے والی تمام قانون سازی کو 1973کے آئین کا حصہ بنا دیا گیاتھا۔1997ء میں چودھویں آئینی ترمیم کے ذریعے قومی اسمبلی نے صدر پاکستان کو اسمبلیاں توڑدینے کے اختیارات سے محروم کردیا تھا اور اسی ترمیم کے ذریعے وفاداری تبدیل کرنیوالے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کا قانون بھی منظور کیا گیا تھا۔15ویں ترمیم کے ذریعے شریعت کو ایک بار پھر سپریم لاء بنانے کا بل پیش کیا گیا جو منظور نہیں کیا جاسکا تھا۔16ویں ترمیم کے ذریعے کوٹہ سسٹم کی مدت20 سال سے بڑھا کر 40 سال کردی گئی تھی۔17ویں آئینی ترمیم صدر پاکستان کے عہدہ سے متعلق معاملات اور 13ویں آئینی ترمیم کے اثرات کو تبدیل کرنے سے متعلق تھی۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کی سب سے زیادہ اہم18ویں آئینی ترمیم جوکہ100 آئینی ترامیم پر مشتمل تھی جسے 18ویں ترمیمی ایکٹ 2010 ء کہا جاتا ہے اس میں کی جانے والی اہم ترامیم کیا تھیں:۔
٭سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے جاری کئے جانے والے تمام لیگل فریم ورک آرڈرز جو بغیر کسی قانونی اختیار اور بغیر کسی قانونی جواز کے جاری کئے گئے تھے منسوخ کردئیے گئے تھے،اس کے ساتھ آئین میں 16ویں ترمیمی ایکٹ2003 ء اس کے بعد اسے بھی منسوخ کردیا گیا تھا
٭ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخواکا نیا نام دیا گیاتھا۔
٭ آئین کو منسوخ اور معطل کرنے کو ملک سے سنگین غداری کا جرم قرار دے دیا گیا تھا۔
٭ ملک کے ہر شہری کو اطلاعات تک رسائی کا حق دیا گیاتھا۔
٭16سال تک کی عمر کے ہر بچہ کو ریاست کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا پابند کیا گیا۔
٭صدر مملکت کو وزیر اعظم کے مشورے پر اسمبلیاں تحلیل کرنے کا پابند کیا گیا۔
٭وزیر اعظم کی سربراہی میں نیشنل اکنامک کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔
٭ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور وسائل کی تقسیم کرنے والی کنکرنٹ لسٹ کو ختم کردیا گیا تھا اور ان حدود کا تعین بھی کیا گیا تھا جہاں وفاق اور صوبے قانون سازی کرسکتے تھے۔یہ قوانین جوکہ شادی،معاہدے، آتشی اسلحہ کا قبضہ، مزدوری،تعلیمی نصاب،ماحولیاتی آلودگی،دیوالیہ پن اور 40 دیگر متنوع علاقوں پر حکومت کے قانون سے متعلق تھے اب ان کو کنکرنٹ لسٹ سے نکال دینے کے بعد صوبوں کو منتقل کردئیے گئے تھے اور صوبائی اسمبلیوں کو ان معاملات پر قانون سازی کی ذمہ داری سپر کردی گئی تھی۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی پارلیمینٹ نے18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیساتھ ساتھ ملک کے قانون اور سیاسی فریم ورک کیلئے ایک نیا اور قابل تعریف اتفاق رائے پیدا کیا تھا جو پارلیمینٹ،وزیر اعظم ،عدلیہ اور صوبائی حکومتوں کو پاکستان کے آئین کے تحت زیادہ سے زیادہ خودمختاری فراہم کرتی ہے۔اگرچہ یہ تبدیلیاں ملک کے سیاسی جماعتوں کیلئے درپیش اہم معاشی اور سلامتی کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کے بھر پور مواقع فراہم کرتی ہے لیکن ان ترامیم کے نتیجے میں بہت سی تبدیلیوں کے مکمل اثرات گزرتے وقت کے ساتھ ہی سامنے آسکیں گے۔
کسی بھی ملک کا آئین اس کیلئے سب سے مقدس دستاویز سمجھا جاتا ہے جس کے بنانے والے انسان ہی ہوتے ہیں ،انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں بدلتے وقت کو سامنے رکھتے ہوئے پارلیمینٹ کی دو تہائی اکثریت سے ترمیم کی جاسکتی ہے لیکن اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کو تبدیل کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے۔اب جبکہ کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے پھیلنے والی تباہی کے بعد اس کا مقابلہ کرنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر نظر نہیں آتی ہیں اس لئے اس بات کو زیادہ تقویت مل رہی ہے کہ صحت عامہ کا شعبہ وفاقی حکومت کے سپرد کرنا چاہیے تاکہ وہ ملک کے تمام صوبوں میں رہنے والے عوام کیلئے طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ایک ہی پالیسی کے تحت کام کرسکے۔18ویں ترمیم کے بعد تعلیم کا نظام صوبوں کو منتقلی کے بعد ملک میں یکساں تعلیم نظام کی کمی بڑی شدت کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے۔اس لئے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کیلئے ضروری ہے کہ آئینی ترامیم کے مسئلہ پر جذباتی ہونے کے بجائے موجودہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کریں اور وہ فیصلے کریں جو ملک و قوم کے مفاد میں ہو سیاسی جماعت کے مفاد میں ہرگز نہیں ۔کوویڈ 19 کے بعد اب ایک نئی دنیا سامنے آرہی ہے جہاں ہر ملک کی حکومتوں کو اپنے عوام کیلئے صحت عامہ کے سٹرکچر کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی پڑے گی۔پاکستان میں صحت عامہ کے شعبہ کی حالت بہت خراب حالت میں ہے ،سرکاری شعبہ کے ہسپتالوں میں عوام کو بہتر علاج میسر نہیں ہوتا،اچھے ڈاکٹرز اور عملہ کی کمی ہے،ادویات بہت مہنگی ملتی ہیں،پرائیویٹ شعبہ کے ہسپتالوں میں علاج بہت مہنگا ہوتا ہے ،اچھی لیبارٹریز کی کمی ہے اور بے شمار افراد ہسپتال پہنچے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ان حالات میں عوام کیلئے ایک بہت مربوط قومی صحت پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس سے ایک عام آدمی کو علاج ومعالجہ کی بہتر سہولت مل سکے۔

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سال کاآغاز اچھا نہیں تھا، ہمارے کئی لیڈرگھر سے نیب کی قید تک اور نیب کی قید سے احتساب عدالت تک کے چکر لگاتے رہے۔درمیان میںکہیں کہیں ہسپتالوں میںبھی پڑائو ڈالا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ سال کا پہلا دن ہی اہل سیاست پر بہت بھاری گزرا، جب 1 جنوری کونیب نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ،سابق سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا ، عمران الحق ، سہیل انور سیال اور ملک قیوم کے خلاف بھی کیسز کھول دیئے۔

مزید پڑھیں

وطن ِ عزیز میں بیروزگاری کا معاملہ طوفانی صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے، ملکی معیشت پر اس کے اثرات مہلک کینسر سے کم نہیںاس وقت پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 9.1فیصد سے زائد ہے۔

مزید پڑھیں