☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ متفرق عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا رپورٹ انٹرویوز کھیل خواتین
بلوچستان اور آزاد کشمیر فالٹ لائن پر۔۔۔

بلوچستان اور آزاد کشمیر فالٹ لائن پر۔۔۔

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

10-06-2019

زلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں،

آلام ہیں کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایام ہیں

اللہ تعالیٰ بیک وقت رحیم و کریم اور قہار و جبار ہے۔ یہ کائنات اسی کی عظیم الشان ہستی کا پرتو ہے اور یہاں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات اسی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جہاں لا محدود نعمتیں اور عنائتیں، جو عیاں بھی ہیں اور نہاں بھی، اس کے رحیم و کریم ہونے کی دلیل ہیں وہاں ارضی و سماوی مصائب اور آفات اس کے قہار و جبار ہونے کا پتہ دیتی ہیں۔ اسی تناظر میں خیر و شر اور جزا و سزا ایک ہی تصور کے دو جڑے ہوئے اور باہم مربوط رخ ہیں۔ کسی ایک رخ کے بغیر تصویر ادھوری اور بے معنی ہو جائے گی۔ چنانچہ کارخانۂ قدرت میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات ہی وہ ذریعہ ہیں جس سے وہ عظیم ذات مسلسل اور ہر لحظہ اپنا اظہار کر رہی ہے۔ تمام تر تباہی میں تعمیر کی کئی صورتیں مضمر ہوتی ہیں۔

ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں انتہائی شدید زلزلے آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔ بلوچستان اور آزاد کشمیر کے فالٹ لائن میں ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں زلزلے آنے کا امکان زیادہ ہے۔ جیسا کہ آج کل اسلام آباد، پشاور اور راول پنڈی سے گزرنے والی فالٹ لائن کے علاقوں میں دبائو بڑھ رہا ہے۔ دوسری تھیوری یہ ہے کہ کم شدت کے زلزلے آنے سے بڑے زلزلے آنے کا سلسلہ ’’رول بیک‘‘ ہو سکتا ہے۔ اس لیے کم شدت کے زلزلے کے جھٹکے لگنے کا عمل بند ہونا زیادہ خطرناک ہے۔

 26 اکتوبر 2015ء کو 8.1 ریکٹر اسکیل کا بڑا زلزلہ آیالیکن اس کا مرکز کوہِ ہند و کش میں زیادہ گہرائی 193 کلو میٹر ہونے کی وجہ سے اس سے وسیع پیمانے پر تباہی نہ ہوئی۔ 26 اکتوبر 2015ء کو8.1 ریکٹر اسکیل کا بڑا زلزلہ آیا لیکن اس کا مرکز کوہِ ہندو کش میں زیادہ گہرائی 193 کلو میٹر ہونے کی وجہ سے اس سے وسیع پیمانے پر تباہی نہ ہوئی۔8 اکتوبر 2008ء کا زلزلہ 10 کلو میٹر کی گہرائی کا زلزلہ تھا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ تھا۔ یہ زلزلہ ایم بی ٹی کے فالٹ کا مظفرآباد، بالاکوٹ اور وادی نیلم میں اکٹھا ہونے کی وجہ سے آیا اور اس کی وجہ سے کچھ دوسرے فالٹ ایریا بھی متاثر ہوئے۔ زلزلہ پلیٹوں کے ٹکرانے سے آتا ہے اور پلیٹوں کے ٹکرانے کا یہ عمل اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔

نیشنل ارتھ کوئیک ا نفارمیشن سینٹر کے مطابق ہر سال اوسطاً درمیانی 3 لاکھ زلزلے آتے ہیں لیکن ان میں سے 12 ہزار سے 14 ہزار زلزلے ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ 8 ریکٹر سکیل کے زلزلے کا ایک سال میں صرف ایک دفعہ آنے کا امکان ہوتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق سال میں اوسطاً درمیانی اور زیادہ شدت کے 18 زلزلے آتے ہیں۔ 6 ریکٹر سکیل کے اوسطاً فی سال زلزلوں کا تخمینہ 120 لگایا گیا ہے۔ 3 سے 1 ریکٹر سکیل کے زلزلوں کی اوسط تعداد روزانہ 9 ہزار کے قریب ہوتی ہے۔ جیسا کہ 29 اکتوبر 2008ء کو بلوچستان میں آنے والے زلزلہ کے بعد 24 دسمبر 2008ء تک 2 سے 5.5 ریکٹر سکیل تک کے 1500 سے زیادہ زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ 24 ستمبر 2013ء کے بعد آواران اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں 20 سے زیادہ زلزلے آئے ہیں جن میں 28 ستمبر کو آنے والا زلزلہ 6.7 ریکٹر سکیل کا تھا جس نے نوکجو میں کافی تباہی مچائی۔ 26 اکتوبر 2015ء کو آنے والے 8.1 ریکٹر اسکیل کے زلزلے کے بعد اب تک (فروری 2016) 178 سے زیادہ کم اور زیادہ شدت کے زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ 

سائنسی علم کے مطابق دوران گردش یہ پلیٹیں ایک دوسری کے قریب بھی آتی ہیں اور ایک دوسری سے ہٹ بھی رہی ہیں۔ دور ہٹنے والی پلیٹیں نیا Sea Floor بنا رہی ہیں اور سی فلور کے اوپر سے 2 تین کلو میٹر اونچے پہاڑ بن رہے ہیں۔ پاکستان میں کئی جگہوں پر فالٹ لائن گزرتی ہے۔ سب سے بڑی دراڑ یا ’’فالٹ‘‘ چمن کے مقام پر ہے جو آٹھ سو سے نو سو کلو میٹر تک لمبی ہے۔ اسی طرح شمالی علاقوں میں بھی بے شمار فالٹ ہیں، جو کہ دونوں پلیٹوں کے ٹکرائو سے مین بائونڈری پر پیدا ہوئی ہیں، اس کا مرکز اسلام آباد تک ہے۔ چمن میں بڑی فالٹ لائن ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے علاقے زیارت، پشین، ماشکیل، آواران اور خضدار چھوٹے بڑے زلزلوں سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ 

میر پور میں24ستمبر2019کو آنے والے زلزلے سے 37 افراد جاں بحق ہوئے۔ زلزلے کی طاقت کم تھی ،ریکٹر سکیل پر 5.8کی طاقت کے باوجود جانی نقصان کی وجہ زلزلے کی کم گہرائی بتائی جا رہی ہے۔زلزلے کا مرکز جہلم کے 23کلومیٹر شمال میںزمین کے دس کلومیٹر نیچے بتایا جا رہا ہے۔امریکی محکمہ جیالوجیکل سروے نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔زلزلے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس سے کئی سڑکیں پھٹ گئیں اور ان میں کاریں اور دوسری مسافر گاڑیاں دھنس گئیں، انہیں نکالنے کے لئے فوری طور پرخدمات مہیا کی گئیں۔سڑکوں کے پھٹ جانے کی وجہ سے ہی متاثرین تک رسائی میں بھی مشکل پیش آئی مگریہ کام بھی بہ احسن و خوبی ہو گیا۔ مکانات سیسمک زون کو مد نظر رکھتے ہوئے مخصوص ڈیزائن کے تحت بنائے گئے تھے اسی لئے اللہ کے فضل سے بڑی تعداد محفوظ رہے۔ لوگ اب مزید احتیاط سے کام لیں گے۔ 

آئیے اب غور کریں کہ زلزلے کیوں آتے ہیں۔ اس کی زد میں اکثر و بیشتر غریب اور سادہ لوح عوام ہی کیوں آتے ہیں جب کہ خوشحال اور متمول طبقہ مقابلتاً محفوظ رہتا ہے۔ یہ اور بہت سے ایسے سوالات 2005ء کے آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے اور 26 اکتوبر 2015ء کے زلزلے کے بعد اٹھائے گئے۔

آج کا ستاروں پر کمند ڈالنے و الا انسان اس بات کی کوئی حتمی توضیح پیش نہیں کر سکا کہ زلزلے کیوں آتے ہیں، حالانکہ اس کی بہت سی وضاحتیں ممکن ہیں۔ ایک تاویل تو یہ ہے کہ جب انسان راہِ حق سے بھٹک جاتا ہے تو راہِ راست پر لانے کے لیے اسے جھنجھوڑا جاتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائے، 

زمیں کو فراغت نہیں زلزلوں سے

نمایاں ہیں فطرت کے باریک اشارے

زلزلے کی پیش گوئی

انسان اپنی بساط کے مطابق زلزلوں کو سمجھنے کی تگ و دو میں مصروف ہے اور زلزلے آنے کی وجوہات سے کسی حد تک واقف ہو چکا ہے۔یہ بھی جان چکا ہے کہ بڑے بڑے زلزلوں کے امکانی علاقہ جات کون کون سے ہیں۔ البتہ ابھی تک زلزلوں کے آنے کے اوقات کا پہلے سے تعین کر لینا ممکن نہیں ہو سکا۔ جہاں انسان زلزلے کے بارے میں صحیح پیش گوئی کرنے سے قاصر ہے وہاں تحقیقات سے یہ بات پتہ چلی ہے کہ جانوروں کوزلزلہ کی آمد کا پہلے سے پتہ چل جاتا ہے۔ اس سلسلے میں چین میں سانپوں پر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ زلزلہ سے پہلے سانپوں کے رویہ میں تبدیلی آتی ہے اور وہ اپنی جگہ چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زلزلے کی لہریں زیرِ زمین چٹانوں میں رونما ہونے لگتی ہیں جس سے زمین کے مقناطیسی میدان میں ہلکا سا ردوبدل پیدا ہوتا ہے۔ انسانی حس ان تمام کیفیات کو محسوس کرنے سے قاصر ہے لیکن جانور اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ زلزلے سے پہلے زمین کے نیچے چٹانوں میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ یا پلیٹوں کے ٹکرائو کو محسوس کر لیتے ہیں جب کہ انسان کی قوتِ سماعت بہت محدود ہے۔ انسان ایک ہزار چکر فی سیکنڈ کی لہروں کو سن یا محسوس کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس کتے، بلیاں اور دوسرے جانور 60 ہزار چکر فی سیکنڈ آواز سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چوہے، چمگاڈر، وہیل، ڈولفن ایک لاکھ چکر فی سیکنڈ کی آواز سن سکتے ہیں۔ 

خیبر پختونخوا ا ور آزاد کشمیر کے کئی مکینوں نے بتایا کہ 8 اکتوبر کے زلزلے کے دن صبح ہی سے جانور بہت بے قرار تھے اور آسمان کی طرف منہ کر کے عجیب و غریب آوازیں نکال رہے تھے اور کئی جانور اور پرندے اپنے اپنے علاقوں سے ہجرت کر گئے تھے۔ 26 اکتوبر 2015ء کو زلزلے کے دوران آسمان پر پرندوں کی کثیر تعداد موجود تھی جو ایک طرف اُڑی جا رہے تھے اور انہوں نے آسمان سر پہ اُٹھایا ہوا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کو خواب میں اس کی اطلاع کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دوست نے بتایا کہ زلزلہ کے دنوں میں ایک جماعت باغ میں کام کر رہی تھی جس کے امیر کو خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنی جماعت کو لے کر کھلے میدان میں چلا جائے۔ پوری جماعت فجر کے بعد کھلے میدان میں جا کر ذکر میں مصروف رہی اور اس وجہ سے زلزلہ سے بچ گئی۔ آواران میں بھی لوگوں نے بتایا کہ زلزلے سے پہلے مکمل اندھیرا چھا گیا تھا اور پرندے بالکل غائب ہوگئے تھے۔ تاہم جانوروں کی نقل و حمل دیکھ کر کبھی کبھی درست پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔ پاکستان میں ایک دفعہ 1996ء میں تربیلا ڈیم کے قریب آنے والے ز لزلے کی کامیابی سے کی پیش گوئی کی گئی۔ چین میں 1976ء میں 7.6 ریکٹر سکیل کے زلزلے کی گھنٹوں اور منٹوں تک درست پیش گوئی کی گئی جس کی وجہ سے چند گھنٹے پہلے سارا شہر خالی کرا لیا گیا اور مکمل شہر تباہ ہونے کے باوجود صرف بیس افراد ہلاک ہوئے۔ 

 ان حالات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ پورے ملک میں بالعموم اور فالٹ لائن کے علاقوں میں بالخصوص بڑی عمارتوں اورپلازوں میں ردوبدل کیا جائے۔ بلڈنگ کوڈ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ نئی عمارتیں زلزلہ پروف بنائی جائیں۔ فوری طور پر جدید آلات سے لیس جدید ترین ارتھ کوئیک انفارمیشن سینٹر قائم کیا جائے۔ اگرچہ زلزلے کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی لیکن قدرتی آفات سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کو کسی قدر کم تو ضرور کیا جا سکتا ہے۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بھارت دنیا کی امیر ترین سابق ریاست حیدر آبادکا کئی سو ارب ڈالر کا قروض ہے۔ چند روز قبل اس ریاست کے والی، وارثان 35ملین پائونڈ کا کیس جیت گ ...

مزید پڑھیں

35سالہ شفیق آر خان کا تعلق بہار سے ہے۔ بچپن سے ہی غریبوں کی مدد کرنے کے جنون نے آج اسے عالمی دنیا میںمقبول بنا دیا ہے۔کھیلنے کودنے کی عمر ...

مزید پڑھیں

سائنس دان بلیک ہولز پر تحقیق کر ہے ہیں ، اس کی تلاش میں وہ کبھی ایک ستارے پر تحقیق کرتے ہیںکبھی دوسرے کو اپنے مشن کا حصہ بناتے ہیں،کبھی کہ ...

مزید پڑھیں