☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) خصوصی رپورٹ(صہیب مرغوب) صحت(محمد ندیم بھٹی) رپورٹ(افتخار شوکت ایڈوکیٹ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ دنیا(انجنیئررحمیٰ فیصل) دلچسپ دنیا() دلچسپ دنیا() دلچسپ دنیا() طنزومزاح(ممتاز مفتی) طنزومزاح(علی رضا احمد) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(نجف زہرا تقوی) تاریخ(محمد سعید جاوید) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
’’ مار ڈالا زندگی نے۔۔۔‘‘

’’ مار ڈالا زندگی نے۔۔۔‘‘

تحریر : افتخار شوکت ایڈوکیٹ

10-20-2019

میں گزشتہ کئی دنوں سے ایک مضمون پر کام کر رہا تھا کہ ہمارے ہاںلوگ کام کرتے کرتے اتنی جلدی تھک کیوں جاتے ہیں،انہیں دو منٹ کام کرنے کے بعد دس منٹ آرام کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے، بھرتی ہوتے وقت اپنی صلاحیتوں کے بارے میں جوبلند و بانگ دعوے کرتے ہیں ،بھرتی ہونے کے بعد وہ پورے کیوں نہیں ہو پاتے،ان دعووں، اپنے مشن سے پیچھے کیوں ہٹ جاتے ہیں؟

یہ اور اس سے ملتے جلتے کئی سوال میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔میرے والد صاحب ایک سرکاری افسر تھے، اس حوالے سے بھی میں نے ان کے دفتر میں کئی باردوسرے افسروں اوراہلکاروں کو اپنے کام سے بے زاری کا اظہار کرتے دیکھا۔تب سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ لوگ اپنے کام سے اتنی جلدی بے زار کیوں ہو جاتے ہیں۔

اسی موضوع کو سامنے رکھ کر جب میں نے کئی فیکٹریوں اور دفاتر کے چکر لگائے تب جا کر معلوم ہو ا کی ہمارے ہاں آدھے سے بھی زیادہ افراد مس فٹ ہیںیا فٹ ہونے کے بعد کام میں دلچسپی کم ہو گئی ۔میں نے محسوس کیا کہ وہ ’’عالمی ادارہ صحت‘‘ (WHO) کی جانب سے نئے اعلان کردہ مرض برن آئوٹ(Burn out) کا شکار ہیں۔ عام زبان میںبرن آئوٹ اس بیماری کو کہتے ہیں کہ جس میں انسان کام کرتے کرتے اکتا جائے ،یہ سوچے کہ زندگی کی دوڑ بہت تیز ہے ،مزید نہیں بھاگا جاتا، بوریت محسوس کرے اور یہی بوریت بڑھتے بڑھتے ڈپریشن میں تبدیل ہو جائے۔

عالمی ادارہ صحت کی تشریح کے مطابق یہ مرض کام کی جگہ پراس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی کام سے پیدا ہونے کے دبائو پر قابو پانے میں ناکام ہو جائے اور یہ دبائو دائمی سٹریس میں بدل جائے۔ اس کا نتیجہ موت یا خود کشی کی صورت میں بھی نکل سکتاہے۔ ’’ورلڈ اکنامک فور م‘‘ اور دوسرے اداروں نے اس مرض کو’’عالمی وبائی مرض ‘‘قرار دیا ہے،ماچس کی تیلی سے تشبیہ دیتے ہوئے عالمی ماہرین نے کہا ہے کہ یہ مرض انسان کو اندر ہی اندر ایسے کھوکھلا کر دیتا ہے جیسے ماچس کی تیلی لکڑی کو جلا کر بھربھری اور کمزور سی کردیتی ہے، اسی حوالے سے اسے’’Burnout‘‘کہا جاتا ہے۔ انسان کو اندر ہی اندر ختم کر دینے والا مرض۔جاپان میںا سی مرض کو خود کشی کا بڑا سبب سمجھا جا رہا ہے۔پاکستان میں یہ مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ایک سروے کے مطابق اس مرض کا سب سے زیادہ نشانہ برطانوی شہری بن رہے ہیں۔جہاں 57فیصد ملازمین نے یہ شکایت کی ہے۔امریکہ میں50فیصد، سپین میں 37فیصد اورفرانس اور جرمنی مین 30،30فیصد ملازمین کو یہی شکایت ہے۔کہتے ہیں کہ کچھ شعبے سے تعلق رکھنے والے اس کا زیادہ شکار ہیں۔ایک سرو ے کے مطابق 73فیصد فوجی،72فیصد فائر فائٹرز،61فیصد پائلٹس،52فیصد پولیس افسران، 51 فیصد براڈ کاسٹرز اور ایونٹ مینجرز،50فیصد رپورٹرز، 49 فیصد پبلک ریلیشنز ایگزیکٹیوزاور سینئرکارپوریٹ ایگزیکٹیوز اور 48 فیصد ٹیکسی ڈرائیور بھی شامل ہیں۔ دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے بھی ہوں گے مگر ان پر زیادہ تحقیق نہیں کی گئی۔امریکہ اور برطانیہ میں ہونے والی دیگر تحقیقات میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی بڑی تعداد کو بھی اس مرض میںمبتلا پایا گیا ہے ۔اس سے امریکی معیشت پر 300ارب ڈالر کا بوجھ پڑ رہا ہے،اس مرض میں مبتلا ہونے کے باعث امریکہ میں سوا کروڑ افراد 2016اور 2017میں نوکریوں سے محروم ہو گئے۔ کچھ نے نوکری چھوڑ دی اور کچھ کو نکلنا پڑا۔جبکہ سوا پانچ لاکھ افراد نے علاج کروایا۔7.5 ہزار افراد پر ہونے والے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ 23فیصد نے اکثر یا مستقل اس کی نشاندہی کی جبکہ کبھی کبھی شکایت کرنے والوں کی تعداد 44فیصد تھی۔سخت مقابلے کے ماحول نے 60فیصد صاحب حیثیت برطانویوںکو ’’برن آئوٹ ‘‘کا شکار کر دیا ہے۔برطانیہ میں37لاکھ افراد صرف ایک ادارے سے اس مرض کا علاج کروا چکے ہیں، جس سے آپ اس کی شدت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔67فیصد چھوٹے بڑے صنعت کار اسی مرض کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔44فیصد ڈاکٹروں نے کہا کہ بیوروکریسی کے مطالبوں نے انہیں ’’برن آئوٹ‘‘ کر دیا ہے۔ ہر تین میں سے دو برطانوی صنعت کار، سرمایہ کار،دکاندار یہی جملہ تواتر کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔حتیٰ کہ ادیب اور صحافی بھی زندگی کی دوڑ میں خود کو تھکا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ہمارے ہاں ابھی تک اس مرض کے بارے میںکوئی جامع تحقیق نہیں ہوئی مگر عالمی اندازوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں بھی اس کی سطح برطانیہ سے کم نہ ہوگی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ا نسان کے اندر ہی اندر جلنے اور اپنے ہی وجود کو کھانے کی پانچ ’’منزلیں ‘‘ہیں یعنی یہ مرض اچانک نہیں ہوتا، اس میں وقت لگتا ہے ، وقت کے گزرنے کے دوران ہی ہم اپنے اندر کی پریشانی کو ختم کر کے خود کو بچا سکتے ہیں۔کہا جاتاہے کہ ماحول اور کام کی نوعیت روزانہ ہی مختلف انداز سے متاثر کر رہی ہوتی ہے۔ ایک روز اچھا لگنے والا کام دوسرے روز بور اور تھکا دینے والا بھی لگ سکتا ہے۔ سائیکاٹرسٹ کہتے ہیں کہ کام کا ذہنی دبائو مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔ہمیں ا س پر نظر رکھنا چاہیے کہ ہم کام کی وجہ سے کس قسم کے سٹریس کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔اس کے پانچ مرحلے ہوتے ہیں۔ ان سے نکلنے کو نفسیات کی زبان میں (The Reignite Project) بھی کہا جاتا ہے یعنی دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت کو بیدار کرنا۔

 عام آدمی کی زندگی میں اس بیماری کے پانچ مرحلے آتے ہیں، پہلا مرحلہ25سے44برس کی عمر میں آتا ہے۔جبکہ اس کی کئی علامتیں ہیں،جنہیں محسوس کرتے ہوئے لوگ خود کو اس بیماری سے بچا سکتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں مفید شہری بن سکتے ہیں۔

پہلا مرحلہ :اس مرحلے میںبیماریوں کے خلاف مزاحمت کمزور ہو جاتی ہے، ہربیماری جکڑ لیتی ہے، زندگی جہنم لگنے لگتی ہے، مایوسی اور قنوطیت چھا جاتی ہے ،کام میں دل چسپی ختم ہو جاتی ہے ، ناکامی کا سوچتے رہتے ہیں،تھکان محسوس ہوتی ہے ، خود پر قابو نہیں رہتا،جلدی جذباتی ہو جاتے ہیں، جلدی ٹوٹ جاتے ہیں، کام سے بھاگنے لگنے ہیں۔انرجی لیول کم ترین سطح پر آجاتا ہے،کارکردگی بھی کم ہوجاتی ہے ۔اس ضمن میںوینونا سٹیٹ یونیورسٹی(Winona State University)میں ایک بڑی تحقیق ہوئی تھی۔انہوں نے زندگی کے ’’ہنی ون دور‘‘ کو بھی ’’برن آئوٹ ‘‘کا پہلا مرحلہ قرار دیا ہے۔اس مرحلے میں ہم جاب سے خوش رہتے ہیں اور پوری دل چسپی کے ساتھ کام میں جت جاتے ہیں۔بھرپور تخلیقی اورجسمانی محنت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی بھی جاب یا بزنس کے آغاز میں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے۔لیکن محنت کے ساتھ ساتھ دبائو بڑھنا شروع ہو جاتا ہے،یہی مرحلہ انسان کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔اس مرحلے سے بچنے کے لئے ہی خود کو باہمت رکھنے کے لئے کئی پروگرام تجویز کئے گئے ہیںجن پر عمل کر نے میں ہنی مون پیریڈ ہی ختم نہیں ہوتا،اور نوجوان بڑھاپے تک پوری لگن سے کام کرتا رہتاہے۔اس صورت میں جب آدمی مطمئن اور ہرذمہ داری لینے کو تیار رہتا ہے،انرجی لیول برقرا رہتا ہے ،مشن میں ناکامی کا تصور بھی ختم ہو جاتا ہے اور ہر وقت کامیابی کے بارے میں ہی سوچتا رہتا ہے ۔ خود کو ہی درست چوائس ثابت کرنا ہی اس کا مقصد ہوتا ہے۔

دوسرا مرحلہ :ٰ انسان سٹریس (دبائو)محسوس کرنا شروع کر نے لگتاہے، زندگی بے مقصد دکھائی دیتی ہے ،یہ احساسات جذباتی، زود رنج اور جسمانی طور پر پریشان کر دیتی ہیں۔ اگر کوئی ان پر قابو نہ پا سکے تو وہ تیسرے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے ورنہ دوسرے مرحلے کے بعد فرد پہلے مرحلے میں واپس جا سکتا ہے۔ اس منزل کی پہلی نشانی ہائی بلڈ پریشر،کسی بات پر فوکس نہ کرنا، چڑ چڑ اپن،ملازمت سے بے اطمینانی،نیند، ملاقاتوں اور کارکردگی میں کمی، دل کی بے ہنگم دھڑکن، بلا جواز اینگزائٹی،فیصلہ سازی میں تاخیر، کھانے پینے کی عادت میں تبدیلی، تھکن، باتیں بھولنا، دانت کچکچانا اورسر درد بھی شامل ہیں۔

تیسرا مرحلہ:اگر کوئی فرد خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو تیسرے مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے جسے دائمی دبائو (Chronic Stress)کہتے ہیں۔اس مرحلے میںدوسرے مرحلے کی علامات زیادہ شدت کے ساتھ ابھرتی ہیں، فرد میں تحرک برائے نام رہ جاتا ہے۔ وہ دلچسپیوں اور مشاغل سے بھی دور رہنے لگتا ہے اور قدرے تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔جاب میں اہداف پورے کرنے میں ناکام رہتا ہے۔صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی جاب سے فرار کی سوچنے لگتا ہے۔کام پر جانے سے پہلے ہی تھکان محسوس کرتا ہے ،اور سوچتا ہے کہ آج چھٹی نہ کر لوں؟ جسمانی عوارض بھی گھیر سکتے ہیں۔ دیر سے گھر آنے یا دفتر جانے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔فرد بات بات پر برا ماننے لگتا ہے۔ طبیعت میں جارحیت جنم لے لیتی ہے اور چلتا پھرتا ایٹم بم بن جاتا ہے۔ اسے دائمی تھکن گھیر لیتی ہے۔یعنی ہروقت تھکن ،تھکن اور تھکن پیچھا کرتی ہے۔یہ لوگ ہر وقت اندیشوںمیں مبتلا رہتے ہیں۔۔۔کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہو جائے!

 چوتھا مرحلہ : چوتھے مرحلے سے واپسی ذرا مشکل ہوتی ہے، صحت مندی کے دروازے بند نہیں ہوتے مگر راستہ بہت تنگ ہو جاتا ہے۔کیونکہ علامات سنجیدہ رخ اختیار کر لیتی ہیں۔یہی وہ مرحلہ ہے جس پر فرد ’’برن آئوٹ‘‘ پر غور شروع کرتا ہے ورنہ اس سے پہلے کے مرحلوں پرفرد دھیان ہی نہیں دیتا۔ مگر اس مرحلے پر اسے بیرونی مداخلت درکار ہوتی ہے جیسا کہ ڈاکٹر ، نرس یا کوئی اور مددگار۔ فردخود کو بے کار سمجھتے ہوئے کسی کام میں ہاتھ ہی نہیں ڈالتا۔ ذہنی فرارحاصل کرنے کی کوشش معمول بن جاتی ہے۔ وہ خود کو اندر سے کھوکھلا محسوس کرنے لگتا ہے۔ زندگی کے بارے میں قنوطیت چھا جاتی ہے۔وہ خود پر ہی شک کرنے لگتا کہ ۔۔’’میں یہ کام نہیں کر سکوں گا، یہ کام تو بہت ہی مشکل یاہے یا یہ لوگ میرے خلاف ہیں ،ہر مشکل کام مجھے ہی دے دیتے ہیں ۔ تنہائی پسند ہو جاتا ہے ۔دائمی سردرد ،پیٹ اور معدے کی بیماریاں گھیر لیتی ہیں ۔فرد اپنی ضرورتوں سے بھی غافل رہنے لگتا ہے۔

پانچواں مرحلہ: آخری اور خطرناک مرحلے میںمعمولی سی مشکل بھی دیو کی طرح نظر آنے لگتی ہے۔اسی مرحلے کو طبی سائنس ’’برن آئوٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔اس مرحلے پر اوپر بیان کردہ علامات دوسروں کو بھی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ یہ تمام علامات فرد کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔فرد کویہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ بوریت محسوس کر رہا ہے،بوریت اس کے چہرے پر ہی عیاں ہو جاتی ہے۔فرد دائمی اداسی اور قنوطیت کا شکار ہو جاتا ہے۔اب دبائو کی جگہ ڈیپریشن لے لیتا ہے،دائمی ذہنی اور جسمانی تھکان معمول بن جاتی ہے۔یاد رکھیے،ہر انسان میں بے انتہاء لچک ہے،اللہ تعالیٰ نے اسے مشکل سے مشکل بات پر قابو پانے کی صلاحیت سے بھی نوازہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی خوبیاں عنایت کر دی ہیں جو اسے کسی بھی پریشانی سے نکال سکتی ہیں ،لہذا یہ بھی قابل علاج ہے۔

علاج کیسے کیا جائے:اس کا علاج کوئی مشکل نہیں۔جیسے ہی پہلے مرحلے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوں، ان کا علاج شروع کر نا مفید ہو گا۔علاج کے لئے کسی معالج کے پاس جانا ضروری نہیں فرد خود بھی انہیں دور کر سکتا ہے ۔سب سے پہلے کام میں دل چسپی کا لیول بڑھا دیا جائے ۔اپنے اوپر توجہ دیجئے۔ بڑھ چڑھ کراپنا خیال کیجئے ، اپنے رویے میں لچک پیدا کیجئے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔اس سلسلے میںایک منصوبے کو(Reignite Project)کہا جاتا ہے ۔اس میں وہی کچھ کرنا ہوتا ہے جس کا ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔سروے سے معلوم ہوا کہ 52فیصد افراد دوستوں اور رشتے داروں سے میل ملاپ بڑھا کر اپنی علامتوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ 17فیصد افرد کو کونسلنگ کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ13 فیصد کو ماہرین نفسیات، 10فیصدکو میڈیکیشن، 9فیصد کو جنرل پریکٹیشنر، 11 فیصد کو ہسپتال،5ہومیوپیتھک کی ضرورت پڑتی ہے۔دیگر لوگ دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بوسیدہ لباس میں ملبوس بنت حوا سر پر بھاری چھابہ اُٹھائے مٹی اور کاغذوں کے کھلونے لیکر صدا بصحرا ہے، گلی گلی اس کی صدائوں کی گونج سنائی دی ...

مزید پڑھیں

2019ء صوبائی حکومتوں کے لئے گہما گہمی کا باعث بنا رہا۔کئی برس کے بعد کراچی میں امن لوٹ آیا ، بدامنی کی وجہ سے30سال تک میراتھن ریس نہیں ہو سک ...

مزید پڑھیں

سالِ نو نئی امیدوں، امنگوں اور مسرتوں کے ساتھ طلوع ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی گزرے برس گزر جانے والوں کی یاد دلاتا ہے۔ آئیے ادب اور فن کی دنیا ...

مزید پڑھیں