☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
گھر سے دوری 70لاکھ افراد کے لئے جان لیوا !

گھر سے دوری 70لاکھ افراد کے لئے جان لیوا !

تحریر : محمد ندیم بھٹی

11-03-2019

آئر لینڈ میںپیش آنے والا دلخراش واقعہ دنیا بھر میں زیر بحث ہے۔ دوسرے ملک کے سہانے سپنوں کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے اپنے ملک سے نکلنے والے 39افراد نے ایک ٹرک میں دم گھٹنے سے جان دے دی ۔مرنے والوں میں سے ایک بچی مسلسل اپنے باپ کو ایس ا یم ایس کر رہی تھی کہ ۔۔۔’’ابو میں مر رہی ہوں ،ابو میں مر رہی ہوں‘‘۔۔ لیکن کئی سو میل دورموجود ابو بے بسی کی تصویر بنے ہوئے تھے، وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے۔

انہیں تویہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کی بچی ہے کہاں ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس ٹرک میں ایک بھی پاکستانی موجودد نہ تھا مگر کم تو ہم بھی نہیں ہیں!۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں بھی بیرون ملک جانے کا اتنا ہی شوق ہے جتناکہ ٹرک میںجانے والوںکو تھا۔ہردوسرے نوجوان کو باہر جانے کی پڑی ہے ۔کہیںبھی جانے کا موقع مل جائے، درخواست حاضر ہے۔ ان میں سے درجنوں افراد ہر سال کسی نہ کسی آفت کا شکار ہو کر جان اپنے رب کے سپرد کر دیتے ہیں ،سینکڑوں گرفتار ہوکر غیر ملکی جیلوں کی ’’زینت‘‘بن جاتے ہیں یاوہاں قدم رکھتے ہی ملک بدر کر دیئے جاتے ہیں۔ ان کی تعدادکم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

 

گھر سے دوری بھی انسان کے لئے کم مصیبت نہیں۔ہر سال لاکھوں افراد اپنی ملازمت اور مزید کئی لاکھ افرادجان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ورلڈ اکنامک فورم کا کہنا ہے کہ گھر سے دور کام کرنے والے کئی طرح کے امراض کا شکار ہو سکتے ہیں۔ایک اور تحقیق نے کہا کہ 3لاکھ افراد تو ہر سال موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ورلڈ اکنامک فورم نے اس بارے میں مکمل احتیاط کرنے کا مشور دیا ہے۔ورنہ گھر سے دوری جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے ۔اگرچہ اس بارے میں دنیا بھر میں جامع اور مربوط سروے نہیں ہوا مگر یہ حقیقت ہے کہ صنعتی ممالک میں کروڑوں افرادکسی نہ کسی وقت پر اپنے گھر سے دور رہ کر کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں،ان میں سے 70لاکھ افراد کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں،پاکستان میں گھر سے دور رہنے والوںکی تعداد دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تعدادنائن الیون سے پہلے ایک کروڑ کے لگ بھگ تھی۔ آنے جانے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے، لاکھوں افراد تین تین مہینوں کے لئے بیرون ملک جاتے تھے ۔اب یہ سلسلہ بندہوکر نہایت کم ہو گیا ہے۔

سوئٹزر لینڈ کی ایک عالمی فرم نے انکشاف کیا ہے پاکستان سمیت دنیا بھرکے کم از 70فیصد کارکن دوران ملازمت ہفتے میں ایک بار اور ان میں سے 53فیصد ملازمین کو تین دن تک گھر سے دور رہنا پڑتا ہے۔ سفر کے جہاں متعدد فائدے ہیں وہیں اس کے کئی نقصانات بھی ہیں، گھر ٹوٹ ساجاتا ہے۔اقوام متحدہ نے 2017ء میں پاکستان سمیت ایک سو سے زائد ممالک کے سروے کے بعد بتایا کہ اپنے ہی گھر میں رہ کر جاب کرنے والے 25فیصد افراد نے ذہنی دبائو کی شکایت کی ۔جبکہ گھر سے دور رہنے والوں میںشکایت کرنے والوں کا تناسب 41فیصد تھا۔ کئی افراد ہوم سک ہو جاتے ہیں۔ برطانیہ کی ایک کمپنی کو اپنے ملازمین گھر سے دور بھیجنا مہنگا پڑ گیا،اسے دبائو،ڈپریشن اور انگزائٹی کے علاج پر سالانہ20 ارب روپے خرچ کرنا پڑ گئے۔ عوام سے بہتر ماحول میں کام لینے کے حوالے سے 40ممالک میں کئے گئے سروے میں نیدرلینڈزٹاپ پر رہا۔ وہاں دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم افراد کو گھروں سے سے دور بھیجا گیا ، جنہیں بھیجا گیا ان کی دیکھ بھال کے لئے بھی مناسب انتظامات کئے گئے تھے ۔اس کے بعد اٹلی ڈنمارک،سپین فرانس ،لیتھونیا، ناروے،بیلجیم، جرمنی اورپھر سویڈن کا نمبر آتا ہے۔

انسان سماجی جانور ہے، ملنے ملانے ،بات چیت کرنے کا موقع نہ ملے تو بن پانی کے مچھلی کی مانند تڑپ کر رہ جاتا ہے۔اسی لئے دنیا بھر میں قید تنہائی کو سنگین حرکت سمجھاجاتا ہے صرف سنگین جرائم میںملوث مجرموں کو ہی قید تنہائی میں رکھنے کی اجازت ہے۔قیدی کو تنہا رکھنے والے ممالک کو دنیا میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ۔یہ مجرم کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے۔لیکن کئی مرتبہ فرد کو جاب ،تعلیم یا شادی وغیرہ کے سلسلے میں بیرون ملک یابیرون شہر جانا پڑتا ہے۔ماحول کی تبدیلی وقتی طور پر تو اچھی محسوس ہوتی ہے، مگرجلد ہی دل اچاٹ ہو جاتا ہے اور انسان اندر ہی اندر پریشان ہونے لگتا ہے۔اسی بارے میںماہر نفسیات ڈاکٹررابرٹ یرکس(Robert Yerkes) اورجان ڈاڈسن(John Dodson) نے بتایا کہ ’’انسان صرف25منٹ اپنوں میں رہ کر انگزائٹی میں کمی لا سکتا ہے‘‘۔ انہوںنے کہا کہ ایک حد تک تو دبائو بھی ترقی میں موثر کردار اد کرتا ہے ، بسا اوقات انسان دبائو کا شکار ہو کر کام میں اضافہ کر دیتا ہے مگر یکدم اس کے منفی اثرات نکلنا شروع ہو جاتے ہیں اورفرد جلد ہی تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔جس سے نا صرف کارکردگی میں کمی آجاتی ہے بلکہ علاج معالجہ پر بھی اخراجات اداکرنا پڑتے ہیں۔دوسرے شہروں میں بھیجنے والی کئی کمپنیوں کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا۔

گھر سے دوری کی بڑی وجوہات میںبے روزگاری ،ٹرانسفر ،والدین یا شوہر کا تبادلہ، شادی،علاج یا اچھی تعلیم کا حصول ہے۔ حکومت لوگوں کو ان کے علاقے میں اچھی تعلیم دلوانے کے انتظامات کرسکی ہے اور نہ ہی وہاں ملازمتیں دلوا سکی ہے۔پڑھالکھا طبقہ روزگار کی تلاش میں ہے۔ ایم اے اور ایم فل کی ڈگری بے وقت ہو کر رہ گئی ہے۔ایک چوتھائی انجینئرز سسٹم سے باہر ہیں۔ ایم بی اے پاس نوجوانوں کا بھی یہی حال ہے۔ایم بی بی ایس کے سوا باقی تمام ڈگریاں بے اثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ بے روزگاری سے لاکھوں افراد کی نیندیں حرام ہیں۔تلاش روزگار یا تبادلوں کے باعث لاکھوں بچے ممتا کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بچے کی شخصیت ماں باپ کے بغیر مکمل ہی نہیںہوتی مگر ہمارے ہاںکئی لاکھ بچے ماں یا باپ کے بغیر پروان چڑھ رہے ہیں۔ اس سے ذہنی نشوونما تومتاثر ہو ہی رہی ہے۔ کئی امراض بھی جنم لے رہے ہیں۔

 مردو خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد یا تو اپنے اضلاع میں نہیں رہتی یا پھر اپنے صوبے سے باہر کام کر رہی ہے۔ زیادہ تر افراد دیہات سے شہروں میں منتقل ہوتے ہیں اور یہ تناسب 15فیصد ہے۔ یعنی ہر ساتواں شخص اپنے گھر میں نہیں رہتا۔ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 8 فیصد ،سندھ میں 16فیصد ، بلوچستان میں 0.6 فیصداور پنجاب میں تقریباً7.5فیصد گھرانے کسی نہ کسی وقت اپنے سربراہ سے محروم رہے۔ اسے کرائے کا مکان لینا پڑتا ہے یا کسی کے ساتھ روم شیئر کرتا ہے۔ ان میں مردزیادہ ہیں۔ دیہات سے شہروں میں نقل مکانی کا تناسب پنجاب میں 14فیصد ، خیبر پختونخوا میں 38فیصدتک ، سندھ میں 6.5 فیصد اوربلوچستان میں 14فیصد تک ہے ۔دیہات سے شہر میں آنے والوںمیں خیبر پختونخوا سب سے آگے ہے ۔جس کی بڑی وجہ قبائلی ڈھانچہ ہے جہاں نوکریوں کی کمی ہے۔ 

 پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں میں دیہات سے شہروں میں نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں کافی کمی آئی۔ 2014ء میں 22.5فیصد افراد نے شہروں کی جانب نقل مکانی کی مگر 2018ء میں یہ تعداد محض 15 فیصد رہ گئی۔ پنجاب میں دیہات سے شہروں کی جانب آنے والوں کی تعداد25سے کم ہو کر14فیصد رہ گئی جبکہ سندھ میں 14فیصد سے کم ہو کر6.5فیصد اور خیبر پختونخوا میں 21فیصد سے بڑھ کر 37.6فیصد ہو گئی۔ یہی بلوچستان میں دیہات سے شہروں میں آنے والوں کی تعداد 44فیصد سے کم ہو کر 14فیصد رہ گئی۔ حکومت کو چاہئے کہ لوگوں کے اضلاع میں انہیں روزگار مہیا کر کے انہیں اس معاشی بے چینی سے نجات دلائے۔ اس ساری نقل مکانی کے پیچھے روزگار کی تلاش ہے۔ 2015ء میں 5.8فیصد 2018ء میں 5.7فیصد افراد نے تلاش روزگار میں گھر بار کو چھوڑا۔تاہم سب سے زیادہ مرد اور عورتیں شادی یا والدین کی وجہ سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہوئیں۔ یقین کیجئے ،تقرر و تبادلے ، تعلیم یا ایسی دوسری وجوہات کی بنا پر بھی بے شمار لوگ نقل مکانی کرتے ہیں۔ حکومت مختلف علاقوں کو یکساں ترقی دے کر اس سماجی المیے کو ختم کر سکتی ہے۔ اگلی نسل کی نشوونما کیلئے بھی ایسا کرنا ضروری ہے۔ 

ہم نئے رشتوں کی تلاش میںپرانے رشتوںکوکھو دیتے ہیں!

لوگوں کوبہت بڑی تعداد میں رشتوں کی تلاش میں دوسرے علاقوں میںجانا پڑتاہے۔شادی کے بعد بھی بہت زیادہ نقل مکانی ہوتی ہے جس سے خاندان کے خاندان ٹوٹ جاتے ہیں۔ لڑکیاں والدین سے بچھڑ جاتی ہیں ، ان کی تعداد مختلف اضلاع میں 10فیصد تک ہے،کہیں کہیں اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس تبدیلی کاشکار لڑکیاں ہوتی ہیں جن کی نفسیات بری طرح متاثر ہوتی ہے۔اگر انہیں دوسرے گھر میں پیار نہ ملے تو گھر تو تباہ ہوتے ہی ہیں، بچیوں کی زندگی بھی برباد ہو جاتی ہے ۔ لوگ نہیں جانتے کہ دوسرے شہر میںجانے والی بچیوں پرکیا گزرتی ہے ۔اپنے ہی رشتے داروں میںبیاہنے کی خواہش بھی لڑکیوں کو والدین سے جدا کر دیتی ہے ، کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اچھے رشتوں کی تلاش میںہم کتنے رشتے کھو دیتے ہیں، رشتوں کی یہ ٹوٹ پھوٹ عورت کو اندر سے کتنا توڑ دیتی ہے؟یہ کبھی ہم نے جانا ہے؟ ہر گز نہیںیہ بات ہم نے کبھی نہیں سوچی ہو گی ،ہماری نظر لڑکی کے محفوظ مستقبل پر ہوتی ہے جس کے لئے کچھ قربانیاں دینا پڑتی ہیں ۔کبھی کبھی یہ قربانیاں مہنگی پڑ جاتی ہیں۔ہر گھر میں کوئی نہ کوئی بچی رشتوں کو قائم و دائم رکھنے کی قیمت ادا کر رہی ہوتی ہے ۔اس کا کرب اور دکھ ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔ جس سے لڑکے اور لڑکی کی نفسیاتی کیفیت متاثر ہوئی ۔

ایک رپورٹ کے مطابق شادی شدہ خواتین کی تعداد 53.5فیصد اور بیوگان کی تعداد 3.9فیصد ہے ۔بلوچستان میں 2014ء میں101 لڑکوں کے مقابلے میں 115 لڑکیاں تھیں لیکن اب 101 لڑکوں کے مقابلے میں وہاں 119 لڑکیاں ہیں۔ سندھ میں 113 ، پنجاب میں 99 اور خیبر پختونخوا میں یہ تناسب 98ہے۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں جہاں پہلے 100 لڑکوں کے مقابلے میں 103لڑکیاں تھیں وہاں اب 102ہیں ۔جبکہ شہری علاقوں میںیہ تناسب جوں کا توں ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ خیبر پختونخوا میں 5برس پہلے 1سو لڑکوں کے مقابلے میں 101لڑکیاں تھیں۔ مگر اب محض 99رہ گئی ہیں۔ اس سماجی تبدیلی سے بھی معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔شہری اور دیہی علاقوں میں بھی صورتحال قدرے مختلف ہے۔ 

دوسرے ممالک کی تعمیر میں مگن لوگوں کا دکھ

 مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 76لاکھ کے قریب پاکستانی دسرے ممالک میںمقیم ہیں۔ زیادہ تر مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں روزگار کی خاطر’’ بھٹک‘‘ رہے ہیں ۔ بھٹک اس لئے رہے ہیں کہ زندگی کہیں بھی پھولوں کی سیج نہیں،خواب کسی بھی ملک میں پورے نہیں ہورہے ۔دنیا کے ہر کونے میں آگ ہی آگ ہے، ایک بے چینی ہے جس نے ہر ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ بہت سے پاکستانی اپنے ملک میںاتنا کام نہیں کرتے جتنا دل لگا کر وہ دوسرے ممالک میں محنت کرتے ہیں، اسی لئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو محنت کش تصور کیا جاتا ہے مگر ہم میں سے کئی ایک کی رائے اپنے بارے میں مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ہمارے دوست اپنے ملک میں جاب میںدل نہیں لگاتے لیکن بیرون ملک جا کر ان کے انداز ہی بدل جاتے ہیں۔ بیرون ملک جانے والے دو وقت کی روٹی کے لئے دن رات ایک کر دیتے ہیں، جسے ہمار ے کچھ پاکستانی بے دردی سے پھونک دیتے ہیں،بیرون ملک محنت کی کمائی پاکستان کی ترقی میں اس اچھے طریقے سے کام نہیں آتی جس طرح سے آنا چاہیے۔ یہ پاکستانی 22ارب ڈالر کے لگ بھگ بھجوا رہے ہیں ۔اس سے ملک کی معیشت کو چار چاند لگ سکتے تھے مگراس کا بڑا حصہ جائیدادوں میںپھنسا ہواہے۔ جن کی خرید و فروخت دوبارہ شروع ہونے کی کوئی امید نہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے سرمائے کے بہتر سے بہتر استعمال کے لئے جائیدادوں میں جکڑے ہوئے ڈالروں کو نکالنے کا بندوبست کرے تاکہ یہ پیسہ بھی گردش میں آئے۔

دنیا کے 35ممالک میںپاکستانیوں کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔ ترکی ہمارا بڑا اچھا دو ست سے مگر وہاں جانے والوں کی تعداد چار سو سے زیادہ نہیں،اس سے زیادہ تعداد تو بھارت میں بتائی جارہی ہے ،و ہاں 761افراد موجود ہیں ۔یہ لوگ کیسے گئے ہیں، کیوں گئے ہیں؟ یہ رپورٹوں میں نہیں بتایا گیا۔سروے کے مطابق2800سوئٹزر لینڈ میں4575،نیوزی لینڈ میں9000،چین میں 14ہزار، بیلجیم میں 14500، ایران میں 18500،ناروے میں 42ہزار،آسٹریلیا میں64ہزار،تھائی لینڈ میں65ہزار،جرمنی میں 72ہزار،جنوبی افریقہ میں ایک لاکھ،بحرین میں 1.12لاکھ،سعودی عرب میں 22 لاکھ، کینیڈا میں2.21لاکھ،امریکہ میں4لاکھ،اومان میں سوا دو لاکھ،کویت میں 1.09 لاکھ ،یوکرائن میں2.5لاکھ،چلی میں2.2ہزار،آئر لینڈ میں 13ہزار،آسٹریا میں6ہزار،فن لینڈ میں 3.75 ہزار،فرانس میں 1.20لاکھ،پرتگال میں3.2ہزاراورپولینڈ میں 1.3ہزاراومیکسیکو اور برازیل میں و دو سو پاکستانی کام کی غرض سے گئے ہوئے ہیں ۔

پچھلے دنوں بیرون ملک جانے والے کچھ لوگوں سے بات ہوئی، ان کی الگ ہی کہانی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک یورپ میں مقیم عام پاکستانی بہت زیادہ آرام میں نہیں ہے ۔وہ خود ہی مالک بھی ہیں اور نوکر بھی۔ دھوبی بھی ہیںاور درزی بھی۔موچی بھی ہیں اورباروچی بھی۔برتن دھونے والا نوکر بھی ہے اور گھر میں صفائی کرنے والی نوکرانی بھی۔ یہ سب کچھ اسے کئی طرح کے ذہنی اور جسمانی عوارض کا شکار کر دیتا ہے۔انہوں ے مزید بتایاکہ ’’ عرب ممالک میں کافی حد تک محفلیں میسر ہیں۔ پاکستانی دوسروںکے گھر آ جا سکتے ہیں مگر یورپ میںوقت ہی سب کچھ ہے ،وہاںوقت اس قدرمہنگا ہو گیاہے کہ لوگ اپنوں پر بھی وقت خرچ نہیں کر سکتے‘‘ ۔وہاں سے آنے والے کئی افراد نے اپنا دکھ روتے ہوئے کہا کہ ’’بیرون ملک زندگی قلعے میں محصور قیدی کی مانند ہو گئی ہے۔ کہیں آنے جانے کا وقت ہی کہاں ملتا ہے ۔ آپ کا دل گھبرائے اور آپ کسی کو فون گھما دیں تو وہ مائنڈ بھی کر سکتا ہے، غصے میں بھی آ سکتا ہے، اگر زیادہ ناراض ہو تو آپ کے خلاف کارروائی بھی کر سکتا ہے ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان اور ہندوستان دو ایسے ترقی پذیر ملک ہیں جو ایٹمی ہتھیار کے مالک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس سینکڑوںایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ترقی ی ...

مزید پڑھیں

ٹی بی،ہیپاٹائٹس اور سڑکوں پر حادثات سے لاکھوں افراد سالانہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ مگر انسانوں کا ایک اور قاتل خاموشی سے ہر سال لاک ...

مزید پڑھیں

بھارت خود کو ایک کامیاب جمہوری ریاست قرار دیتا ہے مگر حقیقت میںیہ جمہوریہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔اس وقت بھارت میں 67 آزادی و علیحدگی کی تحری ...

مزید پڑھیں