☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل رپورٹ سنڈے سپیشل
بھارت کا’’ آلودگی بم‘‘

بھارت کا’’ آلودگی بم‘‘

تحریر : صہیب مرغوب

11-10-2019

ٹی بی،ہیپاٹائٹس اور سڑکوں پر حادثات سے لاکھوں افراد سالانہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ مگر انسانوں کا ایک اور قاتل خاموشی سے ہر سال لاکھوں بچوں اور بڑوں کو مار رہا ہے، وہ ہماری نظروں میں بھی نہیں ہے، ہم اس سے غافل ہیں۔برطانوی جریدہ ’’لانسٹ‘‘(Lancet) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں65 لاکھ افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ایشیا ئی اور سب صحرائی ممالک میں ’’سموگی ماحول ‘‘ کو انسانی صحت کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے عالمی ادرہ صحت نے میعار سے زیادہ گندگی پیدا کرنے والے ممالک کو جرمانے کرنے پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔ 10فیصد آلودگی زیادہ ہونے پر جرمانوں کا عمل 2040ء سے شروع ہوجائے گا۔ہمیں ابھی سے تیاری کر لینا چاہیے کہ ہم بھارتی آلودگی کا سامنا کررہے ہیں ۔بھارت اپنا گند اپنے پاس رکھے۔ہمیں سرحد پار سے آنے والی آلودگی کی روک تھام کا مسئلہ یو این او میں بھی اٹھانا چاہیے کیونکہ بھارتی کاشت کاری سے ہمارے ہاںبھی صحت عامہ کے سنگین مسائل رونما ہورہے ہیں اور موسم بھی بدل رہا ہے۔اس ضمن میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تمام ڈیٹاتیار کر سکتی ہے۔

 

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت کا شمار گندے ترین ممالک میںہوتا ہے۔دنیا کے 20گندے ترین شہروں میں سے 17شہر بھارت میں واقع ہیں،یوں سب سے بڑی جمہوریت کو گندی ترین جمہوریت کے لقب سے بھی پکارا جا سکتا ہے۔بھارتی شہر ’’گڑگائوں‘‘ پہلے اور غازی آباد دوسرے نمبر پر ہیں۔تیسرے نمبر پر فیصل آباد ہے،اس ایک بریک کے بعد کئی گندے ترین شہر بھارت ہی میں واقع ہیں جن میں فرید آباد، بھوونڈی،نوئوڈا، پٹنہ،ہوتان (چین) اور لکھنئو شامل ہیں ۔فہرست میں10ویں پوزیشن پر لاہور ہے۔بھارتی میڈیا لاہور کو پہلے نمبرپر ہونے کا پروپیگنڈا کر رہا ہے مگر دنیا کی کوئی ایسی رپورٹ میری نظر سے نہیں گزری جس میں لاہور پہلے نمبر پر ہو۔ لاہور کے بعد پھر گندے بھارتی شہروں کی لائن لگ گئی ہے جن میںدہلی ، جودھ پور،مظفر پور ، ورارنسی،مراد آباد اور آگرہ،شامل ہیں ۔17ویں نمبر پر بنگلا دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ کے بعد (Gaya، بھارت)،کاشغر (چین)اور جنڈ(Jindبھارت) شامل ہیں۔ ہمارالاہور گڑگائوں اور فرید آباد سے کہیں نیچے ہیں۔ ان17بھارتی شہروںمیںسانس لینا دشوار ہو گیا ہے، بھارت یہ مصیبت ہمارے ہاں ’’سمگل‘‘ کر رہا ہے، اسے ’’کراس بارڈ رآلودگی‘‘ (Cross Border Pollution) کہتے ہیں۔

 اس ضمن میںشہباز شریف نے 15نومبر 2017ء کوامریندر سنگھ کے نام ایک خط بھی لکھا تھاجس کے مندرجات اسی قسم کے تھے کہ ’’ہمیں ہر سال اکتوبر اور نومبر میں سموگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں نہ ہم مل جل کر یہ مسائل حل کر لیں‘‘۔ انہوں نے امریندر سنگھ کو مذاکرات کی دعوت دی مگر اس کے جواب میں ہندو انتہا پسندوں نے یہ مورچہ سنبھال لیا۔ہمارے سابق وزیر اعلیٰ کے ایک ٹوئٹ کے جواب میں ہندوانتہا پسندوں نے ٹوئٹس کا رنگ ہی بدل دیا۔ انہوں نے گجرات کے قاتل نریندر مودی کو ذہن میں لاتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں پہلے ان دہشت گردوں سے بھی نمٹ لینا چاہیے جنہوں نے بھارت میں چلتی ریل گاڑی کو بم سے اڑا کر 76 مسلمانوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ یہ دنیا بھر کے قوانین میں سب سے بڑا جرم ہے۔اس کے بعد نریندر مودی ہی وزیر اعلیٰ تھے جب سرکاری افسروں کی رہنمائی اور حفاظت میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے گجرات میں قتل عام کیا۔اس خوں ریزی کو تحفظ مہیا کرنے والاافسرگریش چندر مرمو(Girish Chandra Murmu) کشمیر کا لیفٹینٹ گورنر بنا دیا گیا ہے ۔ وہ گجرات میںہونے والے دو ہزار سے زائد مسلمانوںکے سینکڑوں قاتلوں کو نہ پکڑ سکے اسی لئے اب انہیں مقبوضہ کشمیر میں ہندو قاتلوں کی پردہ پوشی کے لئے بھیجا جا رہا ہے ۔ بہر کیف اس دور میںپاکستان کی جانب سے شروع کی گئی بحث بھارتی سیاست کی نظر ہو گئی لیکن یہ ایک سنجید مسئلہ ہے جس میں ہمیں عالمی قوانین کا بھی سہارا لے لینا چاہیے ورنہ اگلی نسلوں کو ہم کیا جواب دیں گے؟ 

پاکستان اور بھارت کے سائنسد انوں کے مابین کھٹمنڈو میں ایک ملاقات طے تھی ،جو نہ ہو سکی ۔اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے ماہرین نے اپنا اپنا ڈیٹاشیئر کرنا تھا تاکہ معاملات کوسائنسی انداز میں ہی حل کیا جا سکے ۔اس ملاقات کا انتظام (The International Centre for Integrated Mountain Development)نے کیا تھا۔افغانستان، پاکستان، بھارت،نیپال،سری لنکا، چین، میانماربھوٹان اور بنگلہ دیش کے ماحول پر نظر رکھنے والی اس تنظیم کاصدر مقام کھٹمنڈو میں ہے ۔تنظیم کا کہنا ہے کہ الہ آباد،پٹنہ،ڈیرہ ڈون،دہلی، لدھیانہ ،امرتسر، آگراور جے پور میں آلودگی معیارسے 10 گنا زیادہ ہے۔اسی ادارے نے راولپنڈی اور نرائن گنج کو بھی گندے شہروں میںشامل کیا تھا۔تنظیم کے سربراہ آرنیکو ۔کے ۔پانڈے(Arnico K. Panday) نے کہا تھاکہ کئی ممالک کو ایک دوسرے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے لیکن ان مسائل کو مل جل کر حل کیا جا سکتا ہے۔ دونوںممالک کے سائنس دان مشترکی حکمت عملی تیار کرنے پر متفق ہیں مگر’’ مودی سرکار ۔۔اب کے پھر انکار‘‘ کے مصداق میز پر نہیں آئی۔

اس بحث کا آغاز 2017ء میں اس وقت ہوا تھا جب سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے ایک ٹوئٹ میں بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ کو سموگ کے خاتمے کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔

بھارت میںلکشمی دیوی کی پوجا ایک لاکھ مائوں سے ان کے جگرگوشوں کو چھین لیتی ہے۔عالمی اداروں نے اہم ہندوانہ رسم دیوالی کو بھی آلودگی کے حوالے سے اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم نے حالیہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ۔۔’’ اگر دیوالی کے موقع پر آپ کودہلی میں ہونے کا اتفاق ہوا ہے تو آپ کے سامنے آتش بازی سے چمکتا دمکتا آسمان ہو گا۔یہ ہندو لکشمی دیوی کی جانب سے کچھ دینے کا دن ہے ۔ دولت کی دیوی کے لئے ہونے والی آتش بازی سے ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے ایک لاکھ بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ دیوالی کامطلب یہ ہوا کہ بغیر کسی کنٹرول کے ہونے والی آتش بازی نے نے بڑی مقدار میں زہریلے کیمیائی مادے خارج کئے اسی عرصے میں کٹائی بھی ختم ہونے کے بعد کاشتکاروں نے بڑی مقدار میں فاضل اشیاء کو آگ لگائی، یہ مادہ بھی ہوا میں جمع ہو گیا۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے صرف دہلی میں23ہزار افراد سالانہ ہلاک ہوں گے۔۔ورلڈ اکنامک فورم کو توقع تھی کہ مون سون میں یہ گند صاف ہو جاے گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔درجہ حرارت میں کمی کے باعث آلودگی یعنی گندے ذرات آسمان میں نچلی سطح پر جمع ہوگئے ہیں۔لکشمی دیوی کے لئے منائی جانے والی دیوالی کی وجہ سے دہلی کا درجہ حرارت مستقبل میں1.5درجے اوپر چلا جائے گا۔ 

 ورلڈ اکنامک فور م کا کہنا ہے کہ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ دہلی کی فضا ترقی کی وجہ سے خراب ہو رہی ہے،کیونکہ ترقی اور انسانی صحت اور ماحول کا کوئی مقابلہ نہیں۔یہ دن وہ ہندو منا رہے ہیں جنہوں نے 80لاکھ کشمیریوں کو تین مہینوں سے ان کے گھروں میں قیدی بنا کے عید منانے سے بھی روک دیا ہے۔ لکشمی دیوی کی دیوالی وہ ہندو منا رہے ہیں جنہوں نے ہزاروں مسلمانوں اور عیسائیوں کو جبراََ ہندو بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ،حال ہی میں 25ہزار مسلمانوں اور عیسائیوں کوہندو بنانے کی دعویٰ منظر عام پر آیا ہے ، اس دعوے کی صداقت کا تو علم نہیںمگر یہ مذہبی آزادیوں سے متعلق عالمی قوانین کی صریحاََخلاف ورزی ہے۔دیوالی فضائی آلودگی کا سبب بنتی جا رہی ہے،دہلی میںآلودگی عالمی معیار سے 300فیصد اوپر جا چکی ہے، یعنی لکشمی دیوی کی دیوالی نے دہلی کو گیس چیمبر بنا دیا ہے، ایسا گیس چیمبر جس میں ہٹلر نے لاکھوں افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیاتھا۔دہلی کے حکمرانوں بھی لاکھوں افراد کی جانوں سے کھیل رہے ہیں ۔ان کے لئے یہ بڑی بات نہیں ،یہ لوگ بے حس ہوچکے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر، کیرالہ، مہاراشڑا اور جنوبی اور شمالی ریاستوں میں عوام کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد انہیں عدادت سی پڑ گئی ہے، خون ریزی ، انسانیت کا خاتمہ اب نہیں برا نہیں لگتا،یہ باتیں سماعت پر ناگوار نہیں گزرتیں۔ایک موسمیاتی ماہر نے بتایا کہ 

بھارت میں لاکھوں ایکڑ رقبے پر ہندوئوںنے دانستہ طور پرایسے وقت میں آگ لگائی جب ہوا کا رخ پاکستان کی جانب تھا،آلودگی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔ماہرین اسے کراس بارڈر آلودگی سمجھتے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق بھارت کے’’ سنٹرل کنٹرول بورڈ ‘‘نے اعتراف کیا ہے کہ ہندوئوں نے دیوالی کے بعد12ہزار مرتبہ پنجاب اور ہریانہ میں کھیتوں میںبچے کھچے مواد کو آگ لگائی ۔ یہ سارا گند ہماری فضا میںبھی جمع ہو گیا۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اب جو گندگی فضا میںپھیل رہی ہے اس کا ہمارے کھیتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں اس موسم میں کسی فضلے کو آگ نہیں لگائی جا رہی۔اس وقت فضا میںموجود آلودگی کا تعلق بھارت سے ہے۔دہلی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ گڑگائوں کے بعد بھارت کے گندے ترین شہروں میں بھی شامل ہو گیا ہے ۔

لاری ویسٹ (Larry West)نے 10فروری 2019ء کو اپنے مضمون ’’کراس بارڈر آلودگی،بڑھتا ہوا عالمی مسلہ‘‘ (Cross-Border Pollution: A Growing International Problem)۔ یہ مضمون لکھتے وقت لاری ویسٹ کے ذہن میں بھارت ہی ہو گا۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’ہماری یہ عادت سی بن گئی ہے کہ ہم دوسروں کی حدود کا احترام نہیں کرتے۔کسی ایک ملک کی آلودگی تیزی کا ساتھ دوسرے ملک میں ماحولیاتی اور معاشی بحران پیدا کر سکتی ہے۔ دوسرے ملک میںپیدا ہونے والے اس مسلے کے حل اک پہلا مرحلہ ڈپلومیسی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کینیڈا، روس،جاپان اور چین کی صنعتی ترقی آلودگی کا سبب بن رہی ہے۔چین کے صوبہ شانزہ میں واقع کیمیکل فیکٹریوں کی وجہ سے جاپان کے ساحلی علاقوں میں سلفر کی آندھیاں چلنے لگی ہیں۔ جاپان کے ان ساحلی علاقوں میں سکول بند کر دئے جاتے تھے۔صحرائے گوبی سے ریت کے طوفان اور سموگ کی سے بھری آندھیاں اٹھتی رہتی ہیں۔

 جاپان نے معاشی طاقت بننے کے لئے دوسرے ممالک کی صاف فضا کو قربا ن کر دیا تھا، فضا اور سمندر کو آلودہ کرنے میںاس ملک نے بھی کوئی کوئی کسر نہ چھوڑی۔لیکن دوسرے ممالک نے اس کا حل تلاش کروا لیا۔اسی طرح چین ہے۔ چین نے اپنی فضا کو صاف کرنے کے لئے 2006سے2010تک 175ارب ڈالر خرچ کرنے کے منصوبے بنائے تھے ۔وہ ان منصوبوں پر عمل درآمد کاعلم نہیں۔ لیکن چین آلودگی پرقابو پانے بہت سنجیدہ ہے،اسی لئے کئی کارخانے مکمل طور پر بند کر دیئے گئے ہیں۔بڑے یورپی اداروں(Climate Action Network Europe)، (Health and Environment Alliance) اور(World Wildlife Fund's European Policy Office) اور (Sandbag)نے مشترکہ تحقیق میں بتایا کہ کوئلے سے بجلی بنانے سے فضائی آلودگی کی شکل میں 62.3ارب پائونڈ سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔زہریلے کیمیکلزدوسرے ،ممالک کا ماحول بھی خراب کر رہے ہیں۔فرانس میں کوئلہ کم ہی استعمال ہوتا ہے مگر چیک ری پبلک،جرمنی،پولینڈ،سپین اور برطانیہ میںجلنے والاکوئلہ 1200 فرانسیسی بچوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار خطرناک حد تک بڑھنے کے باعث نارویجین حکومت نے بذریعہ ایس ایم ایسا(Pasvik valley) کے تمام رہائشیوں کو گھر میں ہی رہنے کی ہدایت دی۔یہ کیمیکلز روس کے زیراثر ایک نکل پلانٹ سے خارج ہورہے تھے ۔ناروے نے 19فروری کو روسی وزیر ماحول و قدرتی وسائل کے ساتھ ملاقات میںبھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔میسکیو اور کینیڈا سمندر میںگندا پانی پھینک رہے تھے جس سے امریکیوں کی صحت متاثر ہو سکتی تھی۔ چنانچہ امریکہ اور میکسیکو کے مابین1990میں ہونے والے معاہدے کے بعد سے کینیڈانے ٹریٹمنٹ کے بغیر اپنی سمندر میں پھینکنا بند کر دیا۔معاہدے کی رو سے کینیڈا گندا پانی پہلے دریائے(Tijuana River) میں ڈالے گا ، وہاں ٹریٹمنٹ کے بعد ہی اسے سمندر میں شامل کیا جائے گا۔ اگر دوسرے ممالک اپنے شہروں کی حفاظت کے لئے اپنے مسائل دوسرے ممالک کے سامنے اٹھا سکتے ہیں تو ہمیںبھی بھارت سے بات چیت کرنے میںکوئی حرج نہیں ہے ہم یہ مسئلہ کو اقوام متحدہ میں بھی اٹھا سکتے ہیں۔ جب ہم آگے بڑھیں گے تو راستے خود بخود بنتے جائیں گے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

انسانی حقوق کا عالمی منشور 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا۔ جسے Universal Declearation of Humam Rights کہتے ہیں۔ یوں 10 دسمبر کا دن پو ...

مزید پڑھیں

ٹڈی سے مراد حشرات کی وہ قسم ہے جو بعض اوقات جھنڈ کی شکل میں اکٹھی اڑتی ہوئی آتی ہیں اور جس کھیت یافصل پر بیٹھ جائیں اسے چٹ کر جاتی ہیں ،در ...

مزید پڑھیں

پاکستان اور ہندوستان دو ایسے ترقی پذیر ملک ہیں جو ایٹمی ہتھیار کے مالک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس سینکڑوںایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ترقی ی ...

مزید پڑھیں