☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
10 دسمبر، انسانی حقوق کا عالمی دن

10 دسمبر، انسانی حقوق کا عالمی دن

تحریر : محمد شاہنواز خان

12-08-2019

انسانی حقوق کا عالمی منشور 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا۔ جسے Universal Declearation of Humam Rights کہتے ہیں۔ یوں 10 دسمبر کا دن پوری دنیا میں انسانی حقوق کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

یہ دن اقوام متحدہ سے انسانی حقوق کے اسی عالمی منشور کی منظوری کی یاد میں منایا جاتا ہے ،پاکستان سمیت ممبر ممالک نے اس پر دستخط کر کے عمل درآمد کی ضمانت دی تھی۔ اس سال پاکستان میں انسانی حقوق کا دن جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے دنیا کو آگاہ کرنے کے حوالے سے منایا جا رہاہے۔

 

 انسانی حقوق وہ حقوق ہیں جو ہر فرد، مرد ہو یا عورت، لڑکا ہویا لڑکی، بچہ ہو یابوڑھا سب کے ہوتے ہیں، صرف اس بنیاد پر کہ وہ انسان ہیں۔ انسانی حقوق کی حیثیت ہمہ گیر ہوتی ہے۔ انسانی بنیادی حقوق کسی کی بخشش نہیں ہوتے بلکہ ہر انسان پیدا ہوتے ہی ان حقوق کا دعویدار بن جاتا ہے۔ آپ جب تک انسان ہیں یہ حقوق کھو نہیں سکتے انسانی حقوق کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔حقوق کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور اس کی بنیاد مختلف مذہبی، ثقافتی، فلسفیانہ اور قانونی نظریات پر ہے۔ بہت سی قدیم دستاویزات اور بعد میں آنے والے مذاہب اور فلسفوں میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں، جنھیں انسانی حقوق کہا جاسکتا ہے۔ کسی قوم کے حقوق بنیادی طور پر تین چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں جان، مال اور مذہب ان کے علاوہ باقی حقوق ان کے تحت آجاتے ہیں۔اسلام نے شہریوں کے حقوق کو مکمل تحفظ دیا ہے۔ شہری سے مراد کسی ملک یا ریاست میں رہنے والا ہر وہ شخص ہے جسے اس ملک میں رہائش کے حقوق قانونی طورپر حاصل ہوں۔ اگرچہ شہری کا لفظی مطلب شہر کا رہنے والا ہے لیکن اصطلاح میں شہری کسی ملک میں رہنے والے ہر شخص کو کہا جاتا ہے۔ چاہے وہ شہر میں رہتا ہو یا قصبے اور دیہات میں، یا خانہ بدوش ہو، یہ تمام شہری کہلاتے ہیں اس میں نہ رنگ اور نسل کا فرق ہے نہ مذہب اور عقیدہ کا، بلکہ ہر وہ شخص جو ایک ملک یا ریاست کی حدود میں رہتا ہو اور حکومت کے قوانین کو تسلیم کرتا ہو وہ اس ملک کا شہری ہے اگر وہ حکومت کی اجازت سے عارضی طور پر کسی دوسرے ملک میں چلا جائے تب بھی وہ اپنے ملک کا شہری ہے۔ یہ وضاحت اس لیے کرنا پڑی کہ جب یہ کہا جائے کہ اسلام نے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ تو کہیں ذہن میں نہ آجائے کہ پھر دیہاتی لوگوں کے حقوق کا تذکرہ کیوں نہ ہوا۔ لہٰذا لفظ شہری کا مفہوم خوب واضح کر دیا گیا۔اسلام نے ہر شہری کے ہر طرح کے حق کا تحفظ کیا ہے۔ شہریوں کے حقوق کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (۱) مذہبی حقوق ، (۲) سیاسی حقوق، (۳) معاشی حقوق، (۴) معاشرتی حقوق۔جس حق کے بارے میں ہم یہاں بات کر رہے ہیں یعنی کسی شہری کی جان کے تحفظ کا حق تو اس حق کا تعلق معاشرتی حقوق ہے‘ بلکہ معاشرتی حقوق میں سب سے اہم حق ہے۔ ایک اسلامی ریاست اپنے ہر شہری کی جان کی حفاظت کی ذمہ دار ہے، اسلام نے جان کے تحفظ کے لیے باقاعدہ قوانین بنائے اورسخت سزائیں مقرر فرمائیں۔ مزید وضاحت کے لئے حضورﷺ کے آخری خطبے (حجتہ الوداع) سے اقتباس ملاحظہ کیجئے۔یہ خطبہ حضورپاک ﷺ نے 9ذوالحج 10ء؁ (بمطابق 623ء؁ ) کو مکہ میں حج کے موقعہ پر دیا تھا ۔خدا کی حمد و ثنا کے بعد آپﷺ نے فرمایا :۔

’’اے لوگو! میری بات دھیان سے سنو کیونکہ یہ بات میں بھی نہیں جانتا کہ آئندہ سال میں تمہارے درمیان رہوں گا یا نہیں ۔ جو بھی میں کہتا ہوں وہ غور سے سنو اور ہر بات انہیں سنائو جو آج یہاں موجود نہیںہیں ۔اے لوگو ! جس طرح تم اس دن کو اس مہینے کو اور اس شہر کو قابل احترام سمجھتے ہو ایسے ہی ہر مسلمان کے جان و مال کو محترم جانو ۔ جن کی امانتیں تمہارے پاس ہیں وہ حق داروں کو لوٹا دو کسی کو تکلیف مت دو تا کہ کوئی تمہیں تکلیف نہ پہنچائے یاد رکھو کہ تم کو بالآخر اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ صرف تمہارے اعمال کو شمار کرے گا ۔اللہ نے سود خوری سے منع فرمایا ہے چنانچہ آج کے بعد سود حرام کیا جاتا ہے ۔ ہاں سرمایہ تمہارا ہے اور تم رکھ سکتے ہو ۔ تم کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرو گے نہ تمہارے ساتھ زیادتی ہو گی ۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ سود نہیں ہو گا چنانچہ عباس ابن آل مطلب کا واجب الادا سود معاف کیا جاتا ہے۔ظہور اسلام سے قبل کیے جانے والے ہر قتل کا کوئی دعویٰ نہیں ہوگا چنانچہ سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کے قتل کے دعویٰ سے دستبردار ہوتا ہوں۔ شیطان سے خبردار رہو کیونکہ وہ تمہارے دین کا دشمن ہے وہ مایوس ہے کہ اب بڑے بڑے معاملات میں تم کو گمراہ نہیںکر سکتا مگر چھوٹے چھوٹے معاملا ت میں اس کی گمراہی سے خبردار رہو ۔اے لوگو ! اس پر کوئی شک نہیں کہ عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیںمگر ان کے بھی تم پر حقوق ہیں ۔ یاد رکھو کہ تم نے اللہ کی مرضی اور منشا کے مطابق اپنے نکاح میں لیا ہے ۔ اگر وہ تمہارے حقوق ادا کریں تو ان کی خوراک اور لباس کا خیال رکھو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئو اپنی بیویوں کے ساتھ مہربانی کا برتائو کرو کیونکہ وہ تمہاری شریک حیات اور معاون و مدد گار ہیں ۔ یہ تمہارا حق ہے کہ جس سے تم نہ چاہو اس سے وہ نہ ملیں اور کبھی آلودہ دامن نہ ہوں ۔تمام انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں کسی عربی کو کسی عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ۔ سفید فام کو حبشی پر یا حبشی کو سفید فام پر کوئی فوقیت حاصل نہیں سوائے تقوی اور پرہیزگاری کے جان لو کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اور مسلمانوں کے درمیان اخوت کا رشتہ ہے کسی مسلمان کے مال پر دوسرے مسلمان کا اس وقت تک کوئی حق نہیں جب تک یہ مال اسے رضا مندی سے نہ دیا جائے ۔آپس میں نا انصافی مت کرو۔کہ ایک دن تمہیں اپنے اعمال کے لئے اللہ کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں میرے دنیا سے جانے کے بعد حق کی راہ سے مت بھٹکنا ۔ جو لوگ میری بات سن رہے ہیں یہ بات دوسروں سے کہیںگے اور وہ آگے سنائیں گے۔ ہو سکتا ہے جو سب کے بعد سنے وہ میری بات ان سے بہتر سمجھے‘‘ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’تمام انسان آدم کی اولاد ہیں۔تمام انسان برابر ہیں اور کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ہر انسان کی زندگی ،جائیداد اور عزت دوسرے کے لئے مقدس ہے‘‘۔

1945ء لیگ آف نیشنز کی جگہ اقوامِ متحدہ (United Nations) نے لے لی۔ اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اقوامِ متحدہ اور ان کے ممبران نے بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین سے متعلق مواد اور قواعد و ضوابط تیار کیے۔انسانی حقوق کے عالمی منشور Universal Declearation of Humam Rights کے اہم نکات درج ذیل ہیں ۔

٭تمام انسان پیدائشی طور پر آزاد اور برابر ہیں۔ برابر ہی عزت اور وقار کھتے ہیں ۔

٭نسل ، رنگ، مذہب ، زبان، جنس، سیاسی سوچ یا قومی شناخت ، غربت یا کسی پیدائشی فرق 

کے بغیر اس منشور میں دے گئے تمام حقوق حاصل ہیں۔ 

٭ہر شخص کو زندگی، آزادی اور اپنے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ 

٭ہر شخص کو انفرادی یا اجتماعی ملکیت کا حق حاصل ہے۔ 

٭ہر شخص کو اپنے ضمیر کے مطابق فکری اور مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ وہ اپنے مذاہب پر عمل کرنے اس کی تبلیغ کرنے اور اس کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی حاصل ہے ۔

٭ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔ 

٭ہر شخص کو اس معیار زندگی کا حق حاصل ہے جس میں اس کی صحت کے لئے اچھی خوراک، رہائش، لباس ، طبی سہولیات اور دیگرسماجی خدمات شامل ہیں ۔

٭زچہ و بچہ کے لئے خصوصی نگہداشت کو ایک حق تسلیم کیا گیا ہے۔

٭ہر شخص کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے۔ ابتدائی تعلیم مفت اور لازمی ہو گی۔

٭ہر شخص کو اپنے معاشرے کی ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق ہے۔ 

٭ہر شخص کی اس معاشرے میں کچھ ذمے داریاں ہیں جس میںاس کی شخصیت کی مکمل اور آزادانہ تشکیل ہوتی ہے ۔

٭حقوق و فرائض کے معاملے میں ہر شخص کی آزادی کی کچھ حدود ہوںگی جن کا مقصد صرف دوسروںکے حقوق اور آزادی کاتحفظ ہو ۔

عالمی منشور کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے آئین میں بنیادی حقوق کے باب کو شامل کیا۔پاکستان کے 1973 ء کے آئین میں پاکستانیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیاآئین پاکستان میں دفعہ آٹھ سے اٹھائیس میں انسانی حقوق کی گارنٹی دی گئی ہے ۔

1973 ء کے آئین کے تحت انسانی حقوق کے حوالے سے جو اہم نکات آئین میں شامل ہیں اُن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

٭ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کسی کو آزادی اور زندگی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ۔

٭ واضح اسباب بتائے بغیر کسی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا ۔ وہ اپنی مرضی سے وکیل کرنے کے لئے آزاد ہوگا۔

 اسے چوبیس گھنٹے کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ ثبوت حاصل کرنے کے لئے اس پرکسی قسم کا تشدد نہیں ہو گا ۔

٭ غلامی ممنوع ہے اور کسی انسان کو خریدنا یا بیچنا اور اس پر جبر کرنا منع ہے ۔

٭ چودہ سال سے کم عمر کے بچوں سے کوئی مشقت نہیںلی جا سکتی ۔

٭ ہر شخص کو پر امن احتجاج کا حق حاصل ہے۔

٭ ہر شخص کو انجمن سازی کا حق حاصل ہے۔

٭ ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے اور پریس آزاد ہے۔ ٭ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق حاصل ہے ۔ 

٭ کسی شخص سے جبراً ایسا ٹیکس نہیں لیا جا سکتا جو دوسرے مذہب کے فائدے کے لئے ہو ۔ کسی کو دوسرے مذہب کی تعلیم حاصل کرنے یا اس کے عقائد پر عمل کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جا سکتا تمام مذاہب کو اپنے اداروں میں اپنی مذہبی تعلیم دینے کا حق حاصل ہے ۔

٭ ہر شخص کو جائیداد رکھنے کا حق حاصل ہے اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر اس کو جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ 

٭قانون کے مطابق تمام شہریوں کو تحفظ کا حق مساوی طور پر حاصل ہے۔ ملازمت کے لئے کسی کو مذہب ، ذات ، جنس، مقام ، پیدائش یا رہائش کی بنیاد پر ترجیح نہیں دی جائے گی۔

٭ تما م شہریوں کو اپنی زبان اور اپنے کلچر کے فروغ کے لئے ادارے قائم کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

اس تمام بحث سے ایک بات سامنے آئی ہے کہ ہمیں ہمارے مذہب ،بین الاقوامی قوانین اور ملک کے آئین نے ہمیں بہت سارے حقوق دیے ہیں۔اب ذرا حقوق پر عمل درآمد کا جائزہ لیں تو گزشتہ کچھ سالوں میں پاکستان نے انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے نمایاں اقدمات اٹھائے ہیںجس کی وجہ سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔پنجاب میں انسانی حقوق کے حوالے سے اٹھائے گئے اہم اقدمات درجہ ذیل ہیں۔

٭پنجاب حکومت نے 2018میں انسانی حقوق کی پالیسی کو منظور کیا اور اس کے نفاذ کے لئے ایک ایکشن پلان کا اعلان بھی کیا اور اس پر عمل دارمد کے لئے صوبائی ٹاسک فورس برائے انسانی حقوق قائم کی اور ضلع کی سطح پر انسانی حقوق کمیٹیوں کا نوٹییفیکشن جاری کیا ۔جس میں سرکاری اداروں کے ساتھ سول سوسائٹی کو بھی نمائیدگی دی گئی۔ یہ ضلعی انسانی حقوق کمیٹیاں مقامی سطح پر انسانی حقوق کی نگران ہیں۔

٭سرکاری افسران کو تربیت فراہم کرنے والی تمام اکیڈمیوں اور ٹریننگ سینٹرز میں انسانی حقوق کی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔تاکہ ہر سرکاری ملازم ان حقوق سے آگاہ ہو۔

٭نصاب میں انسانی حقوق کے حوالے تبدیلیاں لائی گئی ہیں اور پنجاب یونیورسٹی نے اپنے گریجویشن کے کورس میں 30نمبرز انسانی حقوق کے شامل کیے ہیں۔

٭پاکستانی حکومت نے انسانی حقوق کے جتنے بھی عالمی معاہدے کیے ہیں اٹھارویں ترمیم کے بعدان پر عمل درآمد صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے لحاظہ ٹریٹی عمل درآمد سیل بنایا گیا ہے جوکہ جی ایس پی پلس کی رپورٹ کے لئے بنایا گیا تھا۔انسانی حقوق کے حوالے سے یورپی یونین نے اس اقدام کو سراہا ہے بلکہ حکومت کو باقی صوبوں میں بھی اس سیل کو بنانے کی ہدایت کی ہے۔ 

٭حکومت پنجاب نے انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے اور پسماندہ طبقات کے لئے پنجاب کی لیبر پالیسی،سوشل ویلفئیر کی پالیسی،گھریلوں کام کرنے والے ورکرز کے لئے پالیسی اورپنجاب کی واٹر پالیسی کا اجراء کیا ہے۔

٭ حکومت پنجاب نے خواتین ،بچوں ،اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی کے لئے کچھ نئے قوانین بھی متعارف کرائے ہیں۔

٭ حکومت پنجاب کے محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امورکی جانب سے) Minorty Empowerment Package (

 اقلیتی امپاورمنٹ پیکیج کا اجرا ء کیا ہے جس کے تحت اقلیت کو تعلیمی اداروں میں کوٹہ کی فراہمی کی جارہی ہے اور ان کے لئے وظیفوں کا اجراء جاری ہے۔

٭نومبر میں انسانی حقوق کی وفاقی وزیر کی جانب سے عالمی معاہدوں کی رپورٹنگ کو موثر بنانے کے لئے ایک ویب پورٹل کا بھی افتتاح کیا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ حکومت کے ان اقدمات کے اثرات عام آدمی تک کیسے پہنچتے ہیںاور ہمارے ملک کے شہریوں کو آئین میں دیے گئے حقوق کب حاصل ہوتے ہیں۔تاہم ہمیں اپنے حقوق مطالبے کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کو بھی پورا کر نا ہوگا۔تب ہی معاشرہ متوازن ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ ملک سے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کیلئے زرعی اصلاحات کو نافذ کرنا ہوگا ۔ملک سے دوہر امعیار تعلیم ختم کرنا ہوگا تاکہ تمام طبقات کو برابری کی بنیاد پر ترقی کے مواقع حاصل ہوسکیں اور ایک ایسا سماج قائم کیا جاسکے جس میں تمام افرادکو آزادی اور بنیادی حقوق حاصل ہوں ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بوسیدہ لباس میں ملبوس بنت حوا سر پر بھاری چھابہ اُٹھائے مٹی اور کاغذوں کے کھلونے لیکر صدا بصحرا ہے، گلی گلی اس کی صدائوں کی گونج سنائی دی ...

مزید پڑھیں

2019ء صوبائی حکومتوں کے لئے گہما گہمی کا باعث بنا رہا۔کئی برس کے بعد کراچی میں امن لوٹ آیا ، بدامنی کی وجہ سے30سال تک میراتھن ریس نہیں ہو سک ...

مزید پڑھیں

سالِ نو نئی امیدوں، امنگوں اور مسرتوں کے ساتھ طلوع ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی گزرے برس گزر جانے والوں کی یاد دلاتا ہے۔ آئیے ادب اور فن کی دنیا ...

مزید پڑھیں