☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سپیشل رپورٹ(صہیب مرغوب) رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) عالمی امور(نصیر احمد ورک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین( محمدشاہنوازخان) خواتین(نجف زہرا تقوی) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) دنیا کی رائے(شکیلہ ناز) دنیا کی رائے(تحریم نیازی) دنیا کی رائے(مریم صدیقی)
سوانا اگلتی کانیں، کوئلے جیسی کان کن کی زندگی!

سوانا اگلتی کانیں، کوئلے جیسی کان کن کی زندگی!

تحریر : پروفیسر عثمان سرور انصاری

03-08-2020

 ضلع خوشاب کو شعبہ زراعت معدنیات اور صنعت میں خصوصی اہمیت حاصل ہے ،اس ضلع کا شمالی علاقہ پہاڑوں پر مشتمل ہے ان پہاڑوں میں مختلف معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور نمک کا سب سے بڑا پراجیکٹ ضلع خوشاب کے قصبہ(رکھلہ )میں وڑچھہ نمک ہے۔

یہ 1872میں قائم کیا گیا تھاجہاں سے نمک بیرون ملک بھیجا جاتا ہے ۔کسی دور میں یہاں سے 2500ٹن روزانہ کی پروڈکشن اور سالانہ 36 لاکھ ٹن نمک نکلتا تھامگر 2008سے یہ کان دانستہ طور پر بند کی گئی ہے،اس میں تین حصہ پانی بھر چکا ہے ۔پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے کارپردازان نے پانی نکالنے کے بجائے بند کرنا مناسب سمجھا۔ مزدوروں کا یہ موقف ہے کہ یہاں ایک کیمیکل یونٹ قائم ہے وہاں سے پانی لیا جا سکتا تھا۔ سوڈا واٹر کی شکل میں یہ بہت قیمتی پانی ہے،ہر قیمتی چیز پر ملک کی اشرافیہ صرف اپنا ہی حق مانتی ہے اور حکومت بھی خدمت کی خصوصیات کا اظہار صرف انہی کے لئے کرتی ہے ،باقی رہے عوام ،وہ توحکومت کی گاڑی کا پہیہ گھمانے میں ایندھن کا کام دیتے ہیں ۔اس سے زیادہ اہمیت نظر نہیں آتی ۔اس کان میں بھی ہزاروں مزدوروں کو نظر انداز کر کے صرف مخصوص گروہ کی خدمت کی جا رہی ہے مزدوروں کا استحصال اس طرح ہورہا ہے کہ 2000میں سے صرف200مزدور رجسٹرڈ ہیں یہاں سے پانچ اقسام کا نمک نکلتا تھا جن میں اول جسے ’’کرسٹل ‘‘کا نام دیا جاتا ہے، یہ شیشے کی طرح ہوتا ہے جو 8003روپے ٹن اس کے بعد اے کوالٹی کا موٹا نمک جس کی قیمت 3853روپے پھر بی کوالٹی کا نمک جسے ’’گٹی ‘‘کہا جاتا ہے اس کی قیمت 2353روپے پھر اس سے کم تر میعار کے نمک کی قیمت 1803 روپے اور ’’کیرا‘‘کی قیمت 1753روپے تھی۔ انگریز دور میں جاری ہونے والی ’’مائنر بک ‘‘ میں مزدوروں کا اندراج ہو رہا ہے اس میں مزدوروں کے بیج نمبر درج ہوتے ہیں ،جو اب اگلی نسل کو منتقل ہوچکے ہیں۔دو عشرے سے بھی کم عرصہ ہوا، ریل گاڑی کے ذریعے نمک ’’قائد اعظم ؒ‘‘ کے نام پر بننے والے شہر ’’قائد آباد ‘‘ شہر میں پہنچتا تھا ۔اس شہر کاسنگ ِ بنیاد ’قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھی سردار عبدالرب نشتر نے رکھا ۔نمک یہاں سے دیگر شہروں کو سپلائی ہوتا تھا ۔ریل کی یہ پٹڑیاں تک اکھیڑ دی گئی ہیں۔ ’’وڑچھہ ‘‘کسی دور میں ایک ریاست تھی جس کا آخری فرمانروا نواب سرخرو خان اعوان تھا ،اس ریاست کو سردار ہری سنگھ نے بھی فتح کیا ۔

پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن نے 1982میں کوڑیاں قائد آباد ضلع خوشاب میں نمک کی لیز کے حصول کیلئے محکمہ مائینز اینڈ منرلز کو درخواست گزاری مگر 14 برس بعد 502ایکڑ کے کثیر رقبہ میں سے 121ایکڑ رقبہ جہاں عالمی معیار کا نمک نکل رہا تھا قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیر کر سفارش کی بنیاد پر پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کو الاٹ کرنے کے بجائے ایک منظور ِ نظر فرم کو دے دی گئی ۔اسے لائسنس نمبر ML.KHB.ROCK SALT 3 الاٹ کردیا گیا ،پنجاب حکومت کے اس رول کو بھی بائی پاس کیا گیا جس کے تحت پہلے درخواست دہندہ کو ہی یہ ایریا الاٹ کیا جاسکتا ہے ۔یہ 121 ایکڑ ایریانہ صرف ناقابل استعمال شدہ تھا بلکہ پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کا اپلائی شدہ تھا۔ کرپشن کی اس داستان کا پس منظر یہ ہے کہ اس غیر آئینی الاٹمنٹ کا سہرا کمپنی کے بزنس پارٹنرسابق ایڈیشنل ڈائریکٹر مائنز اینڈ منرلز عظمت بیگ کی اہلیہ ،راشدالقمر سابقہ چیف انسپکٹر آف مائنز خالد پرویز جو ایک کارپوریشن میں آن دی ریکارڈ بزنس پارٹنر ز ہیں، اُن کے لائسنس بھی اس کرپشن کی واضح نشاندہی کرتے ہیں ۔ایک لائسنس نمبر ML KHB ROCK SALT 3اوردوسرا لائسنس نمبر ML KHB ROCK SALT 2ہے سابقہ ایڈیشنل ڈائریکٹر مائنز اینڈ منرلز عظمت بیگ کی اہلیہ بھی کی ڈائریکٹر ہیں۔خلاف ضابطہ الاٹ کئے گئے ایریا سے روزانہ 700ٹن سالٹ کی پروڈکشن ہوتی ہے جس کی قیمت 1200روپے فی ٹن سے لیکر5900روپے فی ٹن ہے، روزانہ 21لاکھ روپے کا نمک نکالا جارہا ہے مگرپیداوار کم ظاہر کی جارہی ہے ۔ 
کوئلہ اور سلیکا سینڈ کو بھی ضلع خوشاب سے نکالی جانے والی اہم معدنیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ جپسم اور آتشی مٹی کے قیمتی ذخائر بھی وسیع مقدار میں اس کوہستانی سلسلہ میں موجود ہیں ۔قائد آباد تحصیل سے شمال کی جانب کوہستانی سلسلہ میں جپسم کے وسیع ذخائر ہیں جو زراعت میں پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس پہاڑی سلسلہ سے نکلنے والی ریت ’’سلیکا سینڈ ‘‘ کا شمار دنیا کی بہترین ریت میں ہوتا ہے ،سلیکا سینڈ برقی سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 
پاکستان میں گزشتہ دہائی میں شیشے کی صنعت کو فروغ حاصل ہوا ہے اس صنعت کو درکار ٹنوں کے حساب سے سلیکا سینڈ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں یہاں سے بھجوائی جاتی ہے مگر ضلع خوشاب میں شیشے کی صنعت ابھی تک قائم نہیں کی جاسکی ۔ضلع خوشاب کی پہاڑیوں میں خوب صورت قیمتی پتھر بھی موجود ہے۔مغل عمارتوں میں شان و شوکت کا مظہر دکھائی دینے والے سرخ پتھر بھی بڑی مقدار میں ضلع خوشاب کی پہاڑیوں میں موجود ہے ۔ یہ پتھر اسلامی سربراہ کانفرنس لاہور کی یادگار میں بھی استعمال ہوا ہے ،اس پتھر کی نکاسی ٹھوس منصوبہ بندی کے بغیر ہی کی جا رہی ہے اسے مائننگ کے قوائدو ضوابط میں لانے کی ضرورت ہے۔
ضلع جنوبی پنجاب میں سنگ ِ مر مر کے ذخائر بھی ہیں جنہیں کئی بار نکالنے کی کوشش کی گئی مگر مائننگ کی صنعت آگے نہ بڑھ سکی۔
یہاں100سے زائد فرمیں کوئلہ نکال رہی ہیں جن میں تقریباً 50 ہزار کان کن کام کرتے ہیں۔
 27فرمیں نمک نکال رہی ہیں جن میں سات ہزار مزدور کام کرتے ہیں۔
 20فرمیں جپسم نکالنے میں مصروف ہیں جن میں مزدوروں کی تعداد 500ہے ۔
12فرمیں پتھر نکال رہی ہیں جن میں تقریباً 550مزدور کام کر رہے ہیں ،
20فرمیں سلیکا سینڈ نکال رہی ہیں جن میں تقریباً 200مزدور کام کر رہے ہیں ،
اس طرح ضلع خوشاب میں 46 ہزار کان کن معدنیات کی صنعت سے منسلک ہیں۔
 کوئلہ کی کان کنی کوجدید دور کی صنعت بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔یہاں آج بھی گدھو ں کے ذریعے کوئلہ باہر نکالا جاتا ہے ،یہ جانوروں پر ظلم کے مترادف ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جانوروں کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کی جگہ چھوٹی گاڑیاں استعمال کی جائیں مائنز میں کام کرنے ولے مزدوروں کو کان کن کہا جاتا ہے جو زندگی کی بنیادی سہولیات سے یکسر محروم ہیں روزانہ موت کے منہ میں جاکر زندگی کی جانب پلٹنے والے محنت کش کان کن حکومت کی طرف سے کم معاوضہ ایوارڈ سے اس ترقی یافتہ دور میں بھی محروم ہیں اور انہیں حکومتی سطح پر صنعتی مزدور آج تک تسلیم نہیں کیا گیا جو اس محنت کش طبقہ کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے ۔
خالد حسین خوشاب کے گائوں رکھلہ کا باسی ہے، 80سالہ خالد حسین کے ہاتھ کام کرتے ہوئے کانپتے ہیں لیکن وہ پھر بھی زندہ رہنے کے لیئے کام کرنے پر مجبور ہے، خالد حسین چالیس برسوں سے نمک کی کان میں کام کرتا رہا ہے،اب اس تسلسل کو بیٹے جاری رکھے ہوئے ہیں جب کان میں مزدوری ملنے کاکام اس کے بڑھاپے کی وجہ سے اس کی پہنچ سے دور ہوگیا تو اس نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے کان کے مزدوروں کیلئے چائے کا ہوٹل بنایا۔ یہی اس کا روزگار تھا ۔پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن سے 25x16کا پلاٹ کھلی بولی پر حاصل کیا جس میں تین دکانیں اور ایک بڑا ہال تھا۔ لاکھ 1.30روپے پی ایم ڈی سی کو ادا کئے مگر اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کے باوجود مذکورہ ادارے نے اس کا روزگار چھین لیا۔ یوں اس درد ناک حقیقت سے پردہ چاک کیا کہ غریب جینے کے لیئے آخری سانس تک بھی محنت کرے گا تو بھی اداروں کی بے حسی اس کی راہ میں رکاوٹ بنی کھڑی ہو گی۔
 پانچ بچوں کے اس باپ نے انصاف کیلئے انصاف کے ہر دعویدارکے درپر دستک دی مگر انصاف سراب ثابت ہوا یہ کہانی ایک خالد حسین کی نہیں اور نہ ہی ظلمت کی داستاں محض اتنا سا دل دکھاتی ہے اس سے مزید بات روح کو کپکپا جاتی ہے کہ لیاقت حسین ولد فرید ،لیاقت حسین ولد حاجی نور محمد ،محمد سلیم ولد محمد ایوب ،خلیق ولد حاجی رفیق ،محمد حسین ولد نیروز نمک کی کان میں کام کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے ان کی بیوائوں کو نہ تو پنشن ملی نہ بڑھاپا الائونس اور نہ ہی حکومتی امداد ان کے دکھوں کا مداوا بن سکی۔ گزشتہ روز مزدوروں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کیا ۔ای او بی آئی کے لئے 15برس چاہیں، مگر وڑچھہ نمک میں 40سال سے کام کرنے والے مزدوروں کاای او بی آئی میں نام تک درج نہیں۔
 کان کنوں کے مطابق مائینز انہیں پینے کے پانی سے لیکر رہائش اور طبی سہولتیں بھی نہیں ملتیں،کان کنوں کی انشورنس بھی نہیں کی جاتی چونکہ اس خطہ میں بیروز گاری عام ہے اس لئے انتہائی کم معاوضہ پر بھی یہاں کے باسی دو وقت کی روٹی کیلئے کام کرنے پر مجبور ہیں ۔آئے دن حادثات میں زخمی ہونے والے مزدوروں کیلئے مذکورہ ضلع میں ایک مائینز ہسپتال تو قائم ہے مگر یہاں ادویات کی کمی کے ساتھ ساتھ آرتھو پیڈک سرجن کی ایک اور آسامی کی ضرورت ہے ۔کان کے اندر کام کرنے والے مزدوروں کیلئے پینے کے صاف پانی کا انتظام وقت کی ضرورت ہے ۔ خالی آسامیوں کو پر کرنے کی بھی ضرورت ہے جبکہ اُجرت کے مسائل حل کرنے کیلئے فی ا لفور قدم اُٹھایا جاناضروری ہے ۔
مذکورہ ضلع کی پہاڑیوں میں لائم سٹون وسیع مقدار میں میسر ہے ،اس خام مال کی وجہ سے ضلع خوشاب میں سیمنٹ کے دوبڑے کارخانے کام کر رہے ہیں ۔ ایک بڑا کار خانہ زیر تعمیر ہے، سیمنٹ میں خام مال کے طور پر استعمال ہونے والا چونے کا پتھراعلیٰ میعار اور وسیع مقدار کے باعث کارخانہ داروں کیلئے انمول تحفہ ہے اس پتھر کی نکاسی زیادہ مشکل نہیں نہ ہی اس کیلئے زیادہ دور تک پہاڑ کے اندر سرنگ بنانی پڑتی ہے پھر بھی اس پتھر کو نکالنے والے مزدوروں کی حالت دوسری مائینز کی صنعتوں سے بہتر نہیں اس چونے کے پتھر کو مہاڑ کے علاقہ میں اکٹھا کرکے بھٹیوں میں جلا کر چونہ تیار کیا جاتا ہے جو سفیدی کیلئے پاکستان بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے افسو س ناک بات یہ ہے کہ ان بھٹیوں میں پہاڑوں سے حاصل کی گئی کاہے اور پھلاہی جیسی قیمتی لکڑی کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جو ملکی معیشت کیلئے انتہائی نقصان دہ اور قابل تشویش ہے ان بھٹیوں میں قیمتی لکڑی کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جانا بھی ضروری ہے اور علاوہ ازیں مالکان کو پابند کیا جائے کہ ان چونے کی بھٹیوں میں پہاڑی کوئلہ استعمال کریں جوکالے سونے کے نام سے وسیع مقدار میں ضلع خوشاب میں پہاڑیوں سے نکالا جا رہا ہے اور دور دراز علاقوں تک بھٹہ خشت میں استعمال ہو رہا ہے مائینز میں ہونے والے حادثات سے نبرد آزما ہونے کیلئے مذکورہ ضلع میں ریسکیو سٹیشن تو قائم کر دیئے گئے جہاں پر کان کنوں کو ریسکیو کی خصوصی ٹریننگ بھی دی جانا تھی مگر یہ سٹیشنز فعال کردار ادا نہیں کر رہے۔ کان کنوں کو مسائل کا سامنا ہے مائنز لیبر ویلفیئر کمشنریٹ کا ادارہ کا غذی کارروائی تک محدود ہے۔ کان کنوں کی فلاح و بہبود کیلئے ممکن اقدامات کرنے سے یہ ادارہ قاصر نظر آتا ہے مائنز میں کام کرتے ہوئے مہلک حادثات میں جاں بحق و معذور ہونے والے کان کنوں کے ورثاء کو ڈیتھ گرا نٹ کی شکل میں رقم نہیں مل پاتی اگر کوئی تھوڑی بہت رحم دلی دیکھائی بھی جاتی ہے تو ان کی دی ہوئی رقم انتہائی قلیل ہوتی ہے جبکہ مائینز مالکان کی طرف سے بھی اتنا معاوضہ مل پاتا ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوتا ہے مائنز قوانین کی خلاف ورزی مائینز مالکان کی روایت بن چکی ہے۔ چالان لیبر کورٹ میں دائرکرنے سے مزدور قاصر ہوتے ہیں کہ ان کی روزی اسی شعبہ سے جڑی ہوتی ہے اگر کوئی مزدور اپنے حق کی خاطر لیبر کورٹ کا رخ کرتا بھی ہے تو مالکان اثر و رسوخ کی بنا پر انہیں ختم کرا لیتے ہیں نمک کی کانوں میں کام کرنے ولے محنت کش اور مزدور جن کی آواز بارودی دھماکوں میں پہاڑ کی سرنگوں میں دب کر رہ جاتی ہے کے حقوق کیلئے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے نیز لیبر قوانین کے تحت انہیں یونین سازی کا حق دیا جانا بھی ضروری ہے۔ 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

فضائی آلودگی سے متعلق تشویشات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ قدیم ایتھنز اور روم کے شہریوں نے انسانی صحت اور تعمیر شدہ ماحول پر اس کے اثرات کے بارے میں شکایات کا ذکر کیا۔ سموگ کی اصطلاح سب سے پہلے ڈاکٹر ہنری انٹون ڈیس ویکس نے1905میں اپنے مقالے \'\'فوگ اینڈ سموگ" میں استعمال کی ،اس کے بعد 1900 کی دہائی میں لندن میں سموگ کو دھواں اور دھند کے مرکب کے طور پر بیان کیا گیا

مزید پڑھیں

بوسیدہ لباس میں ملبوس بنت حوا سر پر بھاری چھابہ اُٹھائے مٹی اور کاغذوں کے کھلونے لیکر صدا بصحرا ہے، گلی گلی اس کی صدائوں کی گونج سنائی دیتی ہے جن کی بازگشت اکثر ہماری ! فضائوں میں معلق رہتی ہے ،دور کھلے صحرا میں کپڑوں کی کٹیا میں زندگی کی سانسیں گننے والوں سے ہمارا روز پالا پڑتا ہے ،دہلیز پار کرتے بچے اس آواز کے منتظر ہوتے ہیں کہ کب وہ سماعت سے ٹکرائے اور اس سے گھگھو گھوڑے خرید پائیں۔

مزید پڑھیں

2019ء صوبائی حکومتوں کے لئے گہما گہمی کا باعث بنا رہا۔کئی برس کے بعد کراچی میں امن لوٹ آیا ، بدامنی کی وجہ سے30سال تک میراتھن ریس نہیں ہو سکی تھی ۔

مزید پڑھیں