☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
وہ لمحہ آن پہنچا

وہ لمحہ آن پہنچا

تحریر : ایم ابراہیم خان

04-26-2020

 پاکستانی معاشرہ بھی دوسرے پس ماندہ معاشروں جیسا ہی ہے یعنی چند خوبیاں اور بہت سی خرابیاں۔ خرابیاں ہیں کہ بڑھتی جاتی ہیں اور خوبیاں نہ صرف یہ بڑھ نہیں رہیں بلکہ ’’غیر متعلق‘‘ بھی ہوتی جارہی ہیں۔ کسی بھی پس ماندہ معاشرے کے باشندوں میں جو الجھنیں اور پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں وہی سب ہم میں بھی پائی جاتی ہیں … اور خاصی نمایاں حد تک! 

 

 

خرابیوں میں ایک بہت بُری عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ ایک دوسرے میں محض جمع نہیں ہوتیں بلکہ ایک دوسرے کو ضرب دیتی چلی جاتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جب کوئی معاشرہ معقولیت کی ڈگر سے ہٹتا ہے تو ہٹتا ہی چلا جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی تو ہوا ہے۔ 14 اگست 1947 کے بعد سے اب تک ہم نے معقولیت کا دامن تھامنے کی سنجیدہ کوشش سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ دنیا بدلتی رہی مگر ہم وہی کے وہی اور وہیں کے وہیں رہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ اب دنیا کہیں سے کہیں پہنچ چکی ہے اور ہم کولہو کے بیل کی مانند وہیں کے وہیں گھوم رہے ہیں، اور وہ بھی آنکھوں پر پٹی باندھے۔ 
کم و بیش ڈیڑھ ماہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں کورونا وائرس کا غلغلہ ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس نے وہی کھیل کھیلا ہے جو کسی بھی پس ماندہ معاشرے میں اس نوعیت کی وباء کھیل سکتی ہے۔ وبائیں پہلے بھی بہت آئی ہیں مگر اب کے کچھ عجب ہی ہوا ہے۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے نام پر ہمیں لاک ڈاؤن جیسی سنگین نوعیت کی کیفیت سے گزرنا پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے ہاتھوں ہمارے حواس ٹھکانے پر نہیں رہے ہیں۔ ڈیڑھ ماہ سے پوری پاکستانی قوم شدید نوعیت کی کوفت یا خلجان سے دوچار ہے۔ ایسا ہونا ہی چاہیے تھا۔ لاک ڈاؤن جیسی کیفیت کے لیے ہم ذہنی، جسمانی، معاشرتی اور سب سے بڑھ کر معاشی طور پر تیار نہ تھے۔ یہ خیال کبھی ہمارے ذہن کو چُھوکر بھی نہیں گزرا تھا کہ ایک وائرس اچانک نمودار ہوگا اور وباء بن کر ہمارے انفرادی و اجتماعی وجود پر چھا جائے گا۔ 
پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی بہت سے خرابیوں نے کورونا وائرس کے ہاتھوں مزید بگڑنے کی ’’تحریک‘‘ پائی ہے۔ سوال صرف گھروں میں بند ہونے کا نہیں تھا۔ معاش کے ذرائع بھی ہاتھ سے جاتے رہے۔ آج بھی پاکستانی معاشرہ ڈھنگ سے کام کرنے والی معیشت میں تبدیل نہیں ہوسکا ہے۔ معیشت منظم حالت میں نہیں۔ لوگ باضابطہ یعنی ’’ڈاکیومینٹیڈ‘‘ انداز سے کام کرنے کے عادی نہیں۔ کسی بھی کامیاب معیشت کے لیے جن اصولوں پر عمل لازم ہوا کرتا ہے اُنہی اصولوں پر عمل کرنا ہمارے لیے بھی لازم ہے۔ یہ الگ بات کہ ہم نے اِن اصولوں کو اب تک کماحقہ درخورِ اعتناء نہیں سمجھا۔ 
کورونا وائرس کے ہاتھوں اہلِ پاکستان کو جس پریشان کن کیفیت سے دوچار ہونا پڑا ہے وہ کسی بھی اعتبار سے انوکھی نہیں۔ اِس وقت پوری دنیا میں صرف کورونا وائرس کی بات ہو رہی ہے۔ کون سا ملک ہے جو لاک ڈاؤن یا اِس سے ملتی جلتی کیفیت سے دوچار نہیں؟ امریکا اور چین کے درمیان عالمی امور پر بالا دستی کی جنگ چھڑ چکی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے مگر ساتھ ہی ساتھ یہ حقیقت بھی ناقابلِ تردید ہے کہ دونوں بڑی طاقتیں بھی کورونا وائرس کے طلسم کدے میں بھٹکنے سے محفوظ نہیں رہ سکی ہیں۔ یورپ کا حال چین سے کہیں زیادہ بُرا ہے۔ اٹلی اور اسپین میں کورونا وائرس کی وباء نے قیامت سی ڈھادی ہے۔ کورونا کے ہاتھوں موت کے گھات اترنے کے معاملے میں اب امریکی اِن دونوں سے ’’بازی‘‘ لے گئے ہیں۔ 
کورونا وائرس کے ہاتھوں لاک ڈاؤن جیسی انتہائی کیفیت کو بھگتنا صرف پاکستان کا نصیب نہیں۔ بھارت جیسا تکنیکی اور معاشی طور پر خاصا مضبوط ملک بھی شدید الجھا ہوا ہے۔ فیصلہ نہیں ہو پارہا کہ اِس پار اُترے یا یا اُس پار۔ بھارت میں غیر معمولی نوعیت کا لاک ڈان متعارف کرایا گیا ہے۔ معاشرت اور معیشت دونوں کا پہیہ تھم گیا ہے۔ ہر شعبۂ زندگی ’’جیسا ہے، جہاں ہے‘‘ کی بنیاد پر ساکت و جامد ہے۔ 
پاکستان کو جو کچھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے وہ اور بہت سوں کا بھی نصیب ہے۔ یہ سوچ کر دل کو کچھ سکون سا ملتا ہے کہ پریشانی اور بیزاری صرف ہمارا مقدر نہیں۔ کورونا وائرس کو دعا دیجیے کہ الجھن، پریشانی اور تکلیف کے معاملے میں کم و بیش تمام ریاستوں کو، سبھی خطوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے۔ جو ممالک ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتے وہ بھی کورونا وائرس کے ہاتھوں یکساں مقدر کے حامل ہیں۔ 
کورونا وائرس نے جس لاک ڈاؤن کو راہ دی ہے وہ ہمارے لیے کیا مفہوم رکھتا ہے؟ معاشی پریشانی اپنی جگہ مگر اِس سے ہٹ کر بھی تو بہت کچھ ہے جو سامنے ہے مگر پورا دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو کورونا وائرس عالمگیر نوعیت کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ مبصرین اور تجزیہ کاروں نے ابھی سے ’’کورونا سے پہلے کی دنیا‘‘ اور ’’کورونا کے بعد کی دنیا‘‘ کا راگ الاپنا شروع کردیا ہے۔ معاملہ اپنی اصل میں یعنی پس پردہ خواہ کچھ ہو، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والا کوئی بھی شخص اِس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ کورونا وائرس کے ہاتھوں پیدا ہونے والی صورتِ حال ہمارے لیے حقیقی لمحۂ فکریہ ہے۔ اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ کچھ سوچا جائے یا نہ سوچا جائے۔ 
کورونا وائرس کیا ہے، کس حد تک ہے یعنی اِس کے ہاتھوں پیدا ہونے والی بے حواسی کی کیفیت ہم ہر کس حد تک اثر انداز ہو رہی ہے … یہ سب کچھ اپنی جگہ اور یہ حقیقت اپنی جگہ کہ قدرت نے شر پر مبنی ہر حقیقت کے بطن میں کچھ نہ کچھ خیر بھی رکھ چھوڑا ہے۔ بُری سے بُری خبر کسی نہ کسی درجے میں اچھی خبر بھی ہوتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس صرف بصارت ہے یا بصیرت بھی ہے۔ 
ڈیڑھ ماہ کے دوران پاکستانی قوم لاک ڈاؤن کے ہاتھوں جس عذاب سے دوچار ہوئی ہے وہ ایک خاص تناظر میں تھوڑی سی خیر و برکت کا بھی وسیلہ ثابت ہوا ہے۔ قوم کے لیے یہ لمحہ اپنے معاملات پر غور کرکے اُنہیں درست کرنے کا بھی تو ہے۔ معاشی اور معاشرتی الجھنوں نے خطرے کی گھنٹی بھی تو بجائی ہے۔ بے ہنگم انداز سے جیے جانے کا چلن ترک کرکے اب منظم سوچ کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا وقت آگیا ہے۔ 
ہم اپنی تاریخ یعنی سات عشروں پر خواہ کسی پہلو یا زاویے سے غور کریں، پہنچیں گے اِسی نتیجے پر کہ ہم نے ہمیشہ حالات کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے ایسی طرزِ زندگی اپنائی جو کسی بھی اعتبار سے ہمارے لیے موزوں تھی نہ مفید۔ ان سات عشروں میں دنیا اِتنی بدل گئی ہے کہ پہچانی نہیں جاتی مگر ہم نہیں بدلے۔ اگر معاملہ اپنی اقدار کو سلامت رکھتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا ہوتا تو نہ بدلنے پر فخر کیا جاسکتا تھا۔ معاملہ یہ نہیں۔ دنیا نے ترقی کی اور ہم ترقی معکوس کی منزل میں اٹک کر رہ گئے۔ 
کورونا وائرس کے ہاتھوں پیدا ہونے والی صورتِ حال نے ہماری بہت سی خرابیوں کو پھر بے نقاب کردیا ہے اور جو چند ایک خوبیاں ہیں وہ بھی سورج کی روشنی کی طرح واضح ہوکر سامنے آگئی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں معاشی الجھنوں سے دوچار افرا دکا بے حواس ہو جانا فطری امر تھا۔ اس پر کسی کو حیرت نہ ہوئی ہوگی۔ ہاں، دکھ ضرور ہوتا ہے کہ وہ بھی فطری ہے۔ معاشی سرگرمیوں کا پہیہ رک جانے سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے، ہر شعبے کے لیے مسائل بڑھے ہیں۔ ایک طرف عام آدمی پریشان ہے اور دوسری طرف بڑے، چھوٹے اور درمیانے ہر سطح کے تاجر بھی الجھے ہوئے ہیں۔ صنعت کار الگ پریشان ہیں کہ برآمدی آرڈرز کی تکمیل کے لیے مال تیار کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ معیشت کو مکمل طور پر روک دینے سے جو مسائل پیدا ہوا کرتے ہیں وہ دوسروں کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، پاکستانی معاشرہ بھی لاک ڈاؤن کے شدید منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ 
ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے لاک ڈاؤن کو بہت بڑی مصیبت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان جیسے ممالک کا معاملہ یہ ہے کہ دو چار دن کی بندش سے معیشت کا حال بُرا ہو جاتا ہے۔ ایسے میں باضابطہ لاک ڈاؤن! ریاستی پالیسی اپنی جگہ اور قوم کے مسائل اپنی جگہ ۔ 
اب سوال یہ ہے کہ قوم کو لاک ڈاؤن کی شکل میں، بظاہر قدرت کی طرف سے، نازل ہونے والے لاک ڈاؤن کے بطن سے خیر کا کوئی پہلو کس طور برآمد کرنا چاہیے۔ بات کچھ یوں ہے کہ ہر قوم کسی بھی بڑے بحران سے نمٹتی ہے تو بہت کچھ سیکھتی بھی ہے، بہت کچھ پاتی بھی ہے۔ قدرت کسی سے نا انصافی نہیں کرتی۔ کسی بھی حالت سے کیا پانا ہے، یہ متعلقہ فرد یا قوم کو طے کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں بھی طے کرنا ہے کہ ہم لاک ڈاؤن کے ہاتھوں پیدا ہونے والے خلجان سے کچھ سیکھیں گے یا نہیں۔ 
پاکستانی معاشرہ قدرے غیر منظم ہے۔ معاملہ عوام کا ہو یا حکومت کا … ہر سطح پر بے نظمی عام ہے۔ کسی بھی شعبے میں جو حقیقی نظم و ضبط دکھائی دینا چاہیے وہ دکھائی نہیں دے رہا۔ یہ سب کچھ ہمارے لیے ہر دور میں سوہانِ روح ثابت ہوتا رہا ہے مگر ہم نے اِس سے گلوخلاصی کے حوالے سے سنجیدہ ہونا نہیں سیکھا۔ ایک طرف سرکاری اداروں کی کرپشن ہے اور دوسری طرف نجی شعبے کی لُوٹ مار۔ عوام کرپشن کی چکی میں پستے آئے ہیں۔ اور اِس سے بڑا ستم یہ ہے کہ کوئی اور راستہ نہ پاکر عوام ایک دوسرے کو لُوٹ کر دل کی تسلّی کا سامنا کیا کرتے ہیں! 
دنیا بھر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ترقی یافتہ معیشتوں کا تو خیر کہنا ہی کیا، ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو کسی نہ کسی حد تک بدل رہے ہیں۔ ایسے میں ہمارے پاس بھی حقیقی تبدیلی کے سوا کوئی آپشن نہیں رہا۔ 
انفرادی سطح پر ہر انسان کے لیے لازم ہوا کرتا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں جو کچھ بھی حاصل کرے اُس کا ایک معتدبہ حصہ بچاکر رکھے تاکہ مصیبت کی گھڑی میں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ کورونا وائرس کی وباء کے بطن سے پیدا ہونے والی صورتِ حال اور بالخصوص لاک ڈاؤن نے ہمیں سُجھایا ہے کہ کسی بھی ہنگامی کیفیت کے لیے ہمارے پاس کچھ نہ کچھ ضرور ہونا چاہیے۔ یعنی زندگی اِس طور بسر کی جائے کہ صرف آج ہی آج کا نہ سوچا جائے بلکہ آنے والے زمانے کی بھی تھوڑی بہت فکر لاحق رہے۔ یہ فکر ایک خاص حد تک لاحق رہنی چاہیے ورنہ آج کا سارا لطف بھی غارت ہوسکتا ہے۔ 
معیشت اب تک غیر منظم ہے۔ لوگ صرف کمانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ریاستی مشینری اور انتظامات کی مدد سے جو کچھ کمایا جاتا ہے اُس میں سے عوام اور ریاست کے لیے کچھ نکالنے کو قبیح سمجھا جاتا ہے۔ ٹیکس چوری کی عادت نے نفسی ساخت میں جڑ پکڑ لی ہے۔ ایک طرف تو ریاستی مشینری ہے جس میں کرپشن کی جڑ بہت گہری ہے اور دوسری طرف ٹیکس نہ دینے کی ’’تابندہ روایت‘‘ کے ہاتھوں وسائل کی شدید کمی ہے جس نے مسائل کی سنگینی بڑھادی ہے۔ ایسے میں سوچ کو بدلے بغیر چارہ نہیں۔ 
کورونا وائرس کی وباء کے پھیلنے اور لاک ڈاؤن کے نافذ کیے جانے سے پاکستانی قوم کی ایک بڑی خوبی نمایاں ہوکر سامنے آئی ہے۔ ہر مشکل گھڑی میں اہلِ وطن ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا رجحان کل بھی قوی تھا اور آج بھی قوی ہے، بلکہ اب تو اِسے قوی تر کہیے۔ اس مشکل گھڑی میں بہت سوں نے اپنے مسائل کو کسی حد تک نظر انداز کرتے ہوئے بھی دوسروں کی مدد کرتے رہنے کو ترجیح دی ہے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ بہت اچھا ہے مگر اس حوالے سے بھی منظم سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ امدادی سرگرمیاں بھی باضابطہ ہونی چاہئیں تاکہ لوگوں کے دلوں کا  حقیقی اور من چاہے نتائج پیدا کرے۔ 
کورونا کے پھیلاؤ نے بہت سے پیغامات دیئے ہیں۔ ایک بڑا پیغام یہ بھی ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان کچھ چل رہا ہے جس کے نتیجے میں پوری دنیا کی معاشی اور معاشرتی ساخت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوال ہر معاملے میں نظریۂ سازش تلاش کرنے کا نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں کو سمجھنے اور اُن سے بہ طریقِ احسن نمٹنے کا بھی ہے۔ پاکستان جیسی ریاستوں کے لیے کورونا وائرس جیسی صورتِ حال اگر بار بار رونما ہو تو شدید نوعیت کی الجھنوں کا پیغام ہی سمجھی جائے گی۔ جو کچھ بڑی طاقتیں طے کرتی ہیں وہ تو ہمیں ہر حال میں بھگتنا ہی ہے۔ اِس سے بڑا مسئلہ اپنے آپ کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کا بھی تو ہے۔ اب لازم ٹھہرا ہے کہ ہم ایک ریاست اور معاشرے کی حیثیت سے اپنی کمزوریوں کو شناخت کرکے دور کریں اور مختلف معاملات میں طاقت بڑھائیں۔ ڈیڑھ ماہ کی بحرانی کیفیت نے ہمیں بہت کچھ کرنے کی تحریک دینے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے ہمارا ریسپانس ہی طے کرے گا کہ ہمیں یہاں سے کہاں جانا ہے اور کسی بھی معاملے کو کس حد تک سمجھنا اور برتنا ہے۔ ایک طرف تو ریاست کو بہت کچھ سوچنا ہے تاکہ آنے والے ادوار میں کسی بھی شدید بحرانی کیفیت سے نمٹنے کی صلاحیت و سکت ہم میں باقی رہے اور دوسری طرف عام آدمی کو بھی اپنی اصلاح پر متوجہ ہونا ہے۔ فی الحال یہی ایک راستہ بحران سے نکلنے اور بچنے کا ہے۔ 
 
 
 
 
 
 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے امراء نے ہمیشہ عید پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفلسوں اور ناداروں کی مالی امداد کی ہے لیکن اس بار عید پر صاحب حیثیت لوگوں کو پہلے سے کچھ زیادہ غربا ء اور مساکین کی امداد کرنا ہوگی کیونکہ اس بار خوفناک وباء کورونا کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں جبکہ مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور بے روزگاری نے بھی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ایسے میں غریب کیسے عید کی خوشیاں منائیں گے ۔

مزید پڑھیں

  عالمی وباء کورونا وائرس کے خطرناک اور جان لیوا اثرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ملک کے دیگر حصوں کی طرح لاہور میں جاری سمارٹ لاک ڈاؤن کوڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ مکمل ہو گیا۔ لاہور پولیس نے اس دوران انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں شہر میں جرائم کے تدارک کے ساتھ شہریوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات یقینی بنا ئے۔ محدود وسائل اور نفری میں کمی کے باوجود لاہورپولیس کورونا کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  دنیا بدستور کوویڈ ۔19کے عذاب میں گھری ہوئی ہے ، اس کا ہر اقدام اورہر فیصلہ اسی وباء اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے گر دگھومتا دکھائی دیتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کسی کے پاس بھی اس کے علاوہ اور کوئی موضوع ہی نہیں ہے ،

مزید پڑھیں