☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
زندگی پھر سے لوٹتی دکھائی دے رہی ہے

زندگی پھر سے لوٹتی دکھائی دے رہی ہے

تحریر : سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد

05-10-2020

  دنیا بدستور کوویڈ ۔19کے عذاب میں گھری ہوئی ہے ، اس کا ہر اقدام اورہر فیصلہ اسی وباء اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے گر دگھومتا دکھائی دیتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کسی کے پاس بھی اس کے علاوہ اور کوئی موضوع ہی نہیں ہے ،

متاثرین اور اموات ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں جن کو کوئی بھی متاثرہ ملک روکنے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکا ۔ جسکی وجہ اس معاملے میں ان کا بے اختیار ہونا ہے یعنی قدرت خداوندی نے پوری انسانیت کواس بیماری کے ذریعے یہ باور کرادیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اس کے آگے کسی کا کوئی اختیار نہیں چل سکتا ، اختیار چلنے کی صورت میں بھی مرضی اسی کی شامل ہوتی ہے ورنہ انسان کی کیامجال کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی کام کر سکے۔ یہاں ہماری حکومت ہے کہ وہ اپنے عوام خصوصاً غریب ، مزدور ، دیہاڑی دار طبقے کو اس بیماری کے اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات اٹھائے چلی جا رہی ہے ، وزیر اعظم عمران خان کی فکر صرف اورصرف یہی طبقہ ہے ، ان کی کوشش ہے کہ ملک کا کوئی بھی شہری اس وباء کے باعث بھوکا نہ سوئے اور ان کی حکومت ایک فلاحی ریاست ہونے کا ہر ممکن ثبوت دے ،

ان کی یہ کوشش 100فیصد نہیں تو 60سے 70 فیصد ضرورکامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ کہ نہ صرف ضرورت مند طبقے تک ان کی جانب سے جاری کردہ امداد پہنچ رہی ہے بلکہ رفتا ، رفتا کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے کے باعث دیہاڑی دار وں کیلئے روزگار کے مواقعے بھی کھلتے چلے جا رہے ہیں ، یعنی زندگی پھر سے لوٹتی دکھائی دے رہی ہے ، ورنہ دنیا کے دیگر ممالک کا یہ عالم ہے کہ وہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ ہی نہیں کر پارہے کہ انہوں نے کیا کرنا اور کس طرح سے اپنے عوام کو زندگی کی طرف واپس لوٹنے میں مدد دینی ہے ، ان کے پاس تو مرنے والوں کا بھی کوئی حساب تک نہیں ہے ۔اس حوالے سے امریکہ جیسے ملک کا یہ حال ہے کہ اس کے اکثرمردہ خانے مرنے والوں سے بھرے ہوئے ہیں بلکہ اب تو ان کیلئے جگہ ہی ختم ہوتی جا رہی ہے جس کا اندازہ امریکہ ریاست نیویارک کے علاقے بروکلین کے اس دل دہلا دینے والے واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں ایک مردہ خانے میں جگہ نہ ہونے کے باعث لاشوں سے بھرے 3 ٹرک کئی روز تک اس کے باہر ہی کھڑے رہے ، ان میں لاشوں کی موجودگی کا اس وقت پتہ چلا جب لوگوں نے ان سے اٹھانے والی بدبو کو نوٹ کیا، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکومت کو سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ وہ اس عذاب سے نمٹنے کے لیے کیا کرے کس طرح اپنے عوام کو موت کے منہ میں جانے سے روکے ، اسے انسان کی بے بسی نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے یہ وہی امریکہ ہے جس نے دنیا میں کسی بھی جگہ مسلمان کا خون بہانے میں کبھی کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا لیکن جب قدرت نے اس سے انتقام لینا چاہا تو ایسا بے بس کیا کہ اب اپنے ہاں اسے لاشوں کو سنبھالنے کی جگہ نہیں مل رہی ۔ اس حوالے سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں ہر 10لاکھ لوگوں میں سے 175افراد موت کا شکار ہو رہے ہیں ،امریکہ میں مثبت کیسز کی شرح 17فیصد ہے اور اگر اسی حوالے سے برطانیہ کودیکھا جائے تو وہاں مثبت کیسز کی شرح 21فیصد ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ میں اموات کی تعداد دگنی ہونے کی شرح 2سے 3 دن ہے، یعنی اتنے عرصے میں اموات کی شرح دگنی ہوجاتی ہے ۔ آخری خبریں آنے تک امریکہ میں کورونا کے مثبت کیسز کی کل تعداد 12لاکھ سے زائد تھی جن میں سے مرنے والوں کی تعداد66ہزار سے بھی تجاوز کر چکی تھی جن میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہی نوٹ کیا جا رہا ہے ۔ایک طرف تو امریکہ میں انسانی المیے کی یہ صورتحال ہے تو دوسری جانب سے امریکی صدراپنے عوام پر توجہ دینے کی بجائے چین سے الجھنے میں مصروف ہیں ، انہوں نے چین پر یہ الزام لگایا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر کورونا وائرس امریکہ میں پھیلایا تاکہ میں اگلا الیکشن ہار جائوں ظاہر ہے کہ اگر امریکی عوام کورونا کے باعث اسی تیزی سے لقمۂ اجل بنتے رہے تو ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے اگلا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا ، مگر اس کا یہ حل بھی نہیں کہ صدر ٹرمپ چین سے کورونا پر لڑائی لڑنا شروع کر دیں ، کورونا کسی نے بھی پھیلایا ہو یا یہ قدرتی آفت کے طور پر پھیلا ہو اس وقت ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑے اور ان کے دکھ درد میں شریک نظر آئیں تو وہ الیکشن اس طرح بھی جیت سکتے ہیں ۔ گذشتہ چند روز سے صد ٹرمپ کی جانب سے جو بیانات سامنے آ رہے ہیں انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے انہیں یہ یقین ہے کہ کورونا وائرس چین نے جان بوجھ کر پھیلایا ہے جس پر انہوں نے یہ تہیہ کر لیا چین کو ایسا کرنے پرسبق سیکھایا جائے ، دوسری جانب چین کا ا س وائرس کو پھیلانے کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دے رہا ہے۔ اس بیان بازی کی وجہ سے دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے جو وہ آگے چل کر خطرناک صورت بھی اختیار کر سکتی ہے ۔ چین کا کہنا ہے کہ اس کی تیاری امریکی لیبارٹریوں میں ہوئی اور اس کو چین کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلایا گیا ۔مگر امریکہ کی جانب سے اس حوالے سے شور شرابہ کچھ زیادہ ہی ہے شاید اس کی وجہ اگلا صدارتی شکل ہے ، اس لیے صدر ٹرمپ انتخابی حربے کے طور پر اس کو زیادہ ہوا دینے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں اور اطلاعات یہ ہیں کہ انہوں نے کہ چین کو سزا دینے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے ۔ ان کی جانب سے یہ سوچا جا رہا ہے کہ سفارتی ، معاشی ، تجارتی او ر اقتصادی محاذوں پر چین کو نقصان سے دوچار کر کے اسے سبق سکھایا جائے اور کسی طرح چین سے الجھ کر اپنے عوام کو مطمئن کر سکیں کہ انہوں نے چین سے کورونا کے باعث ہلاکتوں کا بدلا لے لیا ہے ۔چین کیخلاف صدر ٹرمپ کی مخاصمت کوئی نئی بات نہیں لیکن کورونا کی صورت میں چین کو زیر کرنے کیلئے شاید کوئی بڑا ہتھیار ان کے ہاتھ آ گیا ہے جس کا وہ پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ چین کو جنوری میں یہ پتا لگ گیا تھا کہ کورونا ایک خطرناک وائرس ہے جس سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں لیکن اس کی جانب سے اس بات کو چھپایا گیا ۔حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے چین پر واضح طور پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے وہ شواہد دیکھے ہیں جن کے باعث وہ یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری میں تیار ہوا۔تاہم وہ اس حوالے سے موجود ثبوتوں کی تفصیل نہیں بتا سکتے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یا تو چین نے جان بوجھ کر اس وائرس کو پھیلنے دیا تاکہ امریکہ کو اس حال میں پہنچایا جا سکے جس سے وہ اس وقت دوچار ہے ۔یا پھر وہ اسے قابو نہیں کر سکا ، ان کے مطابق دونوں میں سے ایک کام ضرور ہوا ہے ۔لیکن یہاں یہ بات اہم ہے کہ یہ رائے صرف صدرٹرمپ کی ہے اور خود امریکہ کے اندر اس پر اتفاق رائے موجود نہیں اور امریکہ کی فوج اور خفیہ ادارے اپنے صدر کی رائے سے عدم اتفاق کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی صدر اس بحران سے سیاسی فائدہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے جلد ہی الیکشن کی طرف جانا ہے اور انہیں اس بات کا یقین ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ اگر امریکہ میں یہی صورتحا ل رہی تو ان کا الیکشن جیتنا مشکل ہے کیونکہ یہ بات واضح طور پر نظرآ رہی ہے کہ وہ کورونا وائرس سے امریکہ کو ہونے والے جانی اور مالی نقصان کو روکنے اور عوام کے علاوہ امریکی مفادات کو تحفظ دینے میں وہ ناکام رہے ہیں بلکہ انہوں نے تو ہاتھ ہی کھڑے کر دئیے ہیں کہ معاملات ان کے قابو سے باہر ہو گئے ہیں لہٰذا اب ان کے پاس یہی ایک راستہ ہے کہ وہ چین کے خلاف ایک ایسا بیانیہ کھڑا کر یں جو ان کے عوام کو مطمئن کر سکے ۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہی وجہ ہے کہ صدرٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں پر دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس بات کے ثبوت تلاش کریں کہ کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری میں ہی تیار ہو ا تھا۔مگر اخبارات کے مطابق کسی دبائو میں آنے کی بجائے انٹیلی جنس اداروں کے ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ایک بیان جاری ہو ا جس میں واضح طور پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ ادارے کورونا وائرس کے قدرتی طور پرپیدا ہونے کے حوالے سے سائنسدانوں میں پائے جانے والے اتفاق رائے سے متفق ہیں یہ بیان امریکی صدر کی ایک بڑی نا کام ی تھی البتہ اس بیان میں یہ کہا گیا کہ وہ سامنے آنے والی اس معلومات کی بھی کڑی جانچ پڑتال جا رہی رکھیں گے کہ کیا یہ وبا ء متاثرجانوروں کی وجہ سے پھوٹی یاووہان میں کسی حادثے کی وجہ سے شرو ع ہوئی ،یہی نہیں بلکہ اس سے قبل امریکہ کے جوائنٹ چیف آف سٹاف بھی ایک پریس کانفرنس میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وائرس ایجاد نہیں کیا گیا بلکہ قدرتی طور پر سامنے آیا ہے ۔جب امریکی میڈیا کی ایک نمائندہ نے جوائنٹ چیف آف سٹاف سے یہ سوال کیا کہ کیا آپ کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے جس سے یہ پتہ لگ سکے کہ اس وائرس کا آغاز چین کی ایک لیبارٹری سے ہوااور یہ حادثاتی طور پر باہر آ گیا ہو۔توجوائنٹ چیف آف سٹاف کا یہ کہنا تھا کہ اس مرحلے پر وہ یہ بات کہیں گے کہ یہ بات غیر حتمی ہے ، اب تک جو ثبوت سامنے آئے ہیں وہ اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس وائرس کو ایجاد نہیں کیا گیا بلکہ یہ قدرتی طور پر سامنے آیا ہے لیکن ہم حتمی طور پر نہیں جانتے ۔ مگر صدر ٹرمپ کا یہی خیال انہیں الیکشن ہروانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور کورونا کی وبا ء کو بے قابو ہونے دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے ۔ اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی جس کا چین ان سے بدلا لینا چاہتا ہے ۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں بھی یہ کہا کہ ہم اس بات کی سنجیدہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ چین نے کس طرح کورونا کی وباء کو ہینڈل کیا ،

ایسے کئی عوامل ہیں جو چین کو قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں ، ہم چین سے خوش نہیں ہیں۔کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وبا ء کو روکا جا سکتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ہم ہرجانے کے طور پر چین سے بہت بڑی رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں لیکن ہم نے ابھی اس کا رقم کا حتمی تعین نہیں کیا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کو 14جنوری کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ یہ وائرس خطرناک ہے ،جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں پھیل سکتا ہے مگر چینی حکومت نے 20جنوری تک اسے چھپا کر رکھا ۔یہاں تک چین میں سالانہ چھٹیوں کی وجہ سے سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے ووہان یا دیگر چینی شہروں سے بیرون ملک سفر کر کے اس وائرس کو دنیا بھر میں پھیلا دیا ۔ چین میں ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ کی کو کورونا وائرس کا سورس کے پھیلائو کا سورس سمجھا جا تا ہے ،لیکن چین نے ان سب باتوں کو مسترد کیا ہے ۔جبکہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ بھی چین کے مؤقف کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا وائرس گذشتہ سال کے آخر میں ایک چمگادڑ میں پیدا ہوا تھا یہ وائرس کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا ۔اس وائرس کو تیار کرنے کے کہیں سے کوئی شواہد نہیں ملے ۔اب جبکہ امریکی صدر چین کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں تو خود امریکی صدرپر یہ الزام لگ رہا ہے کہ انہوں نے اپنے خفیہ اداروں کی وارننگز پر توجہ نہیں دی جن میں انہیں اس وائرس کے خطرناک ہونے کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا تھا اور وہ اب اپنے آپ پر سے توجہ ہٹانے کیلئے چین پر الزام لگا رہے ہیں حالانکہ انہیں خفیہ اداروں کی جانب سے جنوری اور فرووری میں ہی کورونا وائرس کے خطرے سے آگا ہ کر دیا تھا ۔انہیں اس بارے میں کئی بریفنگ بھی دی گئی تھیں اور انہیں یہ بتا دیا گیا تھا کہ اس وائرس کے خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں ۔مگر انہوں نے ان بریفنگز کو پڑھنے کی بھی زحمت تک نہیں کی اور اس حوالے سے خطرات کی شدت کا احسا س تک ہی نہیں کیا اوربعد میں 13مارچ کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے امراء نے ہمیشہ عید پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفلسوں اور ناداروں کی مالی امداد کی ہے لیکن اس بار عید پر صاحب حیثیت لوگوں کو پہلے سے کچھ زیادہ غربا ء اور مساکین کی امداد کرنا ہوگی کیونکہ اس بار خوفناک وباء کورونا کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں جبکہ مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور بے روزگاری نے بھی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ایسے میں غریب کیسے عید کی خوشیاں منائیں گے ۔

مزید پڑھیں

  عالمی وباء کورونا وائرس کے خطرناک اور جان لیوا اثرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ملک کے دیگر حصوں کی طرح لاہور میں جاری سمارٹ لاک ڈاؤن کوڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ مکمل ہو گیا۔ لاہور پولیس نے اس دوران انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں شہر میں جرائم کے تدارک کے ساتھ شہریوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات یقینی بنا ئے۔ محدود وسائل اور نفری میں کمی کے باوجود لاہورپولیس کورونا کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں

 کورونا وائرس دیکھتے ہی دیکھتے ایک ناگہانی وبا ء کی صورت اختیار کر چکا ہے اور آناً فاناً پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔    

مزید پڑھیں