☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر فیض احمد چشتی ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) تجزیہ(خالد نجیب خان) فیشن(طیبہ بخاری ) شوبز(مروہ انصر چوہدری ) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کھیل(طیب رضا عابدی ) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
کورونا : خوف اور بھوک میں غریبوں کی عید

کورونا : خوف اور بھوک میں غریبوں کی عید

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

05-24-2020

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے امراء نے ہمیشہ عید پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفلسوں اور ناداروں کی مالی امداد کی ہے لیکن اس بار عید پر صاحب حیثیت لوگوں کو پہلے سے کچھ زیادہ غربا ء اور مساکین کی امداد کرنا ہوگی کیونکہ اس بار خوفناک وباء کورونا کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں جبکہ مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور بے روزگاری نے بھی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ایسے میں غریب کیسے عید کی خوشیاں منائیں گے ۔

  
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ لاک ڈائون اور مہنگائی کے سیلاب میں درمیانے طبقے کی خوشیاں بہہ گئی ہیں اور اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ ان کے لئے عید کی خریداری بھی نہایت مشکل ہو گئی ہے۔ ان حالات میں درمیانے طبقے سے یہ امید وابستہ کرنا کہ وہ غربا ء کی عید کے حوالے سے مالی امداد کریں، ایک نامناسب بات ہے۔

ان کے تو اپنے حالات اتنے ناگفتہ بہ ہیں کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بھی عید کی خوشیاں پہلے کی طرح منانے کے قابل ہیں یا نہیں۔ اس لیے اب صرف دولت مند طبقہ ہی رہ جاتا ہے جس سے یہ توقع لگائی جا سکتی ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ ایثار کا مظاہرہ کریں۔ ہمارے صاحب ثروت لوگوں کی اکثریت کا دل انسانیت کے درد سے معمور ہے اور وہ اس حقیقت سے اچھی طرح آشنا ہیں کہ ناداروں کی زیادہ سے زیادہ امداد کرنا ان کا نہ صرف اخلاقی فرض بلکہ دینی فرض بھی ہے۔
عیدالفطر اور عیدالاضحی میں فرق یہ ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر غربا ء اور مساکین میں قربانی کی کھالیں اور قربانی کا گوشت وافر مقدار میں تقسیم کیا جاتا ہے لیکن عیدالفطر کے موقع پر غربا ء کی امداد انہیں نئے کپڑے دینے اور نقد رقوم تقسیم کرنے کے حوالے سے ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ ان کی امداد کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اس مرتبہ چونکہ کورونا کی بھیانک وباء اور مہنگائی کی لہر ہے جس نے نہ صرف نچلے طبقے کو بلکہ درمیانی طبقے کے لیے بھی بے حد مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ کیا یہ ہمیں اچھا لگے گا کہ ہمارے علاقے میں اچھی خاصی تعداد میں لوگ عید منانے سے محروم رہیں۔ کیا اب وہ وقت تو نہیں آ گیا کہ غربا ء قرض کی رقم سے عید کی خوشیاں منائیں؟ ویسے تو قرض لے کر بہت سی ضرورتیں پوری کی جا رہی ہیں۔ باقی ضروریات زندگی کو چھوڑیں یہاں تو اب یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کیلئے بھی قرض لیے جا نے کا اندیشہ ہے۔ یہ تمام حقائق کس بات کی غمازی کر رہے ہیں۔

اگر غور کیا جائے تو اس بات سے انکار شائد مشکل ہو کہ ہم لوگ معاشرتی انتشار کی طرف تیزی سے گامزن ہیں اور اس انتشار کی علامات نظر بھی آنا شروع ہو گئی ہیں۔ طبقاتی تضادات بڑھتے جا رہے ہیں اور لوگوں کی اکثریت تہواروں سے بے نیاز ہو کر دال روٹی کے چکر میں پڑ گئی ہے۔ ایک عام آدمی تو اپنی مجبوریوں کا غلام ہے اور وہ ضبط کیے جاتا ہے لیکن آخر کب تک؟ آخر ضبط کی زنجیریں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ اب عید کی آمد آمد ہے تو غرباء کو اپنے سے زیادہ اپنے بچوں کی فکر دامن گیر ہے۔ وہ یہی سوچتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کیسے سمجھائیں کہ انہیں وہ خوشیاں نہیں مل سکتیں جن کی وہ آرزو کر رہے ہیں۔ طبقاتی فرق جب حد سے زیادہ ہو جاتا ہے تو سنگین احساس محرومی پیدا ہونے کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے۔ یہ احساس محرومی بچوں کی نفسیات بری طرح تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے 2 راستے نکلتے ہیں یا تو وہ خاموش رہ کر اپنی قسمت کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں یا پھر ان کے دل میں بغاوت کی چنگاریاں بھڑکنا شروع ہوجاتی ہیں اور انجام کار یہ چنگاریاں شعلوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
آخری نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ صرف اور صرف یہ کہ جرائم میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے اور معاشرتی انتشار پر قابو پانا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اگر عوام کی ایک بڑی اکثریت کو دن رات روٹی کے لالے پڑے رہیں تو وہ عید جیسا مذہبی تہوار کیا منائیں گے۔ ظاہر ہے جب آمدنی کم اور اخراجات بہت زیادہ ہوں اور اس کے علاوہ وسائل میں اضافے کی بجائے کمی کا سامنا ہو تو صورتحال کی زبوں حالی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ منطقی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ یہی کہ عید سادگی سے منائی جائے۔ اب یہاں سادگی سے کیا مراد ہے؟ سادگی سے یہی مراد لی جا سکتی ہے کہ عید نہ ہی منائی جائے۔ پرانے کپڑے اور پرانے جوتے خود بھی پہنیں اور بچوں کو بھی قائل کیا جائے کہ وہ حالات کے ساتھ سمجھوتہ کریں۔ بچوں کی شعوری سطح اگرچہ اتنی بلند نہیں ہوتی لیکن والدین کی مجبوریوں کو وہ دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں اور سمجھ بھی رہے ہوتے ہیں لیکن جب ان کے والدین خود ہی بے بسی کی تصویر بن جائیں تو وہ بے چارے کیا کر سکتے ہیں۔ اپنی حسرتوں کا لہو ہی پی سکتے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

غم زمانہ ہو اور چند حسرتوں کا لہو
یہی غذائیں ضروری ہیں زندگی کے لیے


راقم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس بار سحر و افطار کا صحیح اہتمام کرنے سے بھی قاصر رہی ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف کورونا وباء ، طویل لاک ڈائون اورمہنگائی کا وہ عفریت ہے جس نے سب کچھ ختم کر دیا ہے۔ صبرو تحمل سے کام لیتے ہوئے جب وہ یہ سوچتا ہے کہ عید کی مسرتیں کیسے سمیٹی جائیں اور خاص طور پر بیوی بچوں کی آرزوئوں کی تکمیل کیسے ہو تو یقینا کئی سوالات ہتھوڑے کی طرح اس کے ذہن پر برسنے لگتے ہیں۔
اب ذرا غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ غربا ء کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ اول تو سرکاری سکولوں کی حالت زار ہی ایسی ہے کہ کوئی ذی شعور شخص وہاں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کا خواہاں نہیں اور اگر ہے تو وہ اس کی مجبوری ہے۔ تعلیمی اخراجات کے علاوہ مکان کا کرایہ اور روزمرہ کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کسی تفریحی مقام پر بھی نہیں لے جا سکتا۔حالت یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جونہی قریب آتا ہے غربا ء خوش تو ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ فکر دامن گیر ہو جاتی ہے کہ ماہ رمضان میں ہونے والے اخراجات کے بعد اگلامرحلہ عیدالفطر کا ہے۔ ماہ رمضان کے دوسرے عشرے کے دوران ہی عید کی خریداریاں شروع ہو جاتی ہیں۔

ظاہر ہے عید جب قریب آ رہی ہو تو ہر چیز مہنگے داموں فروخت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اب یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ نچلے طبقات کے لوگ اول تو بڑی مارکیٹوں کا رخ ہی نہیں کرتے کیونکہ ان کی معاشی حالت انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اونچی دکانوں کا رخ کریں۔ اپنی مالی حالت کے پیش نظر وہ سستے بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ ہم جنہیں سستے بازار کہتے ہیں دراصل وہ غرباء کے لئے سستے بازار نہیں رہے۔ وہاں خریداری کرنے سے پہلے یہ لوگ وہاں جا کر اشیاء کے دام پوچھتے ہیں۔ پھر واپس آ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں یہاں جانا چاہئے یا نہیں اور اگر جانا چاہیے تو کس چیز کی خریداری کرنا چاہئے۔
یہاں ایک اور پہلو کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ لاتعداد لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی بھی صورت عید کی خریداری کرنے کے قابل نہیں۔ وہ یہ رسک بھی نہیں لے سکتے کہ عید کی خوشیاں خریدنے کیلئے دوستوں یا عزیز و اقارب سے قرض لے لیں کیونکہ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ اس قرض کو واپس بھی کرنا ہے۔ یہی فکر ان کو عید کے روز بھی لاحق رہتی ہے کہ قرض کی رقم کیسے واپس کی جائے گی تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرض کی رقم سے عید کی مسرتیں حاصل کرنے کا کیافائدہ؟ لیکن نچلے طبقے کے سارے لوگ ان خطوط پر نہیں سوچتے۔ ان میں خاصی بڑی تعداد میں لوگ یہ سوچ کر قرض لیتے ہیں کہ عید تو بہرحال منانی ہے۔ معاشی تنگدستی کی آڑ میں یہ مناسب نہیں کہ عید کی خوشیاں قربان کر دی جائیں اور پھر عید کونسی روز روز آتی ہے۔ مفلوک الحال طبقات کے وہ لوگ جو ایسی سوچ نہیں رکھتے وہ عید نہ منانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ عید کے روز سویوں پر گزارا کرتے ہیں۔ بچوں کو عیدی کے طور پر تھوڑے سے نقد پیسے دے دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
اب نچلے طبقے کے سرکاری ملازمین کی طرف آئیے۔ ان کا شمار بھی غرباء اور مساکین میں ہوتا ہے۔ کچھ محکموں کے ایسے ملازمین ’’دیگر ذرائع‘‘ سے یہ اخراجات پورے کر لیتے ہیں لیکن نچلے درجے کے ان سرکاری ملازمین کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہوتی جو ایمانداری کو اپنا شعار سمجھتے ہیں۔ ان کیلئے دہرا عذاب ہے۔ ایک تو تنخواہ قلیل اور دوسرا ایماندار ہونا۔ جن ملازمین کی بیویاں بھی نوکری پیشہ ہیں وہ تو گزارا کر لیتے ہیں لیکن جہاں معاشی معاملات کی ذمہ داری صرف شوہر پر ہی ہو وہاں مسائل کا پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ یہ لوگ بھی اپنے دفتر کے ساتھیوں سے ادھار رقم لیتے رہتے ہیں اور پھر واپس کرنے میں بھی ایک عرصہ لگا دیتے ہیں۔ مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں ایسے حکومتی ادارے نہیں جو مذہبی تہواروں کے موقع پر ناداروں کی امداد کرتے ہیں۔ کچھ پرائیویٹ ادارے البتہ ایسے ہیں جو یہ نیک کام کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ لیکن اصلی کام تو ان صاحب ثروت اور لوگوں کا ہے جو دل کھول کر نادارں کی امداد کرتے ہیں۔

لیکن اس سال ہمارے ان لوگوں کو پہلے کی نسبت زیادہ فیاضی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا کیونکہ غرباء اور مساکین کی حالت اس بار زیادہ دگرگوں ہے۔ کورونا اور خوفناک مہنگائی نے ان کی سوچ کے دروازے بھی بند کر دئیے ہیں۔ ان میں چونکہ سفید پوشوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اس لئے ان کی امداد بھی اس طریقے سے کرنی چاہئے کہ ان کی سفید پوشی کا بھرم رہ جائے اور انہیں عید کی مسرتیں بھی مل جائیں چاہے وہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہوں۔ امید واثق ہے کہ ہمارا دولت مند طبقہ اپنے دینی فرائض کیساتھ ساتھ اخلاقی فرائض کی تکمیل میں بھی کوئی دقیقہ فردگزاشت نہیں کرے گا۔
اصل ذمہ داری تو حکومت کی ہے کہ غرباء اور مساکین کو عید کی خوشیاں کیسے دی جائیں لیکن حکومت تو خود معاشی گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اسے دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے۔ حکومتی اہلکار بار بار اور وزیراعظم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر سخت تشویش ہے اور اس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ نچلے طبقے کے لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں لیکن ان بیانات سے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ غربا ء اور مساکین کو عید کی مسرتیں حاصل ہو جائیں گی۔ اصل فرض ہمارے ان مخیر حضرات کا ہی ہے کہ وہ پسے ہوئے طبقات کی کتنی زیادہ مدد کرتے ہیں۔ اس بات کا تو انہیں بھی ادراک ہوگا کہ غربا ء کے معاشی مسائل پہلے سے بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں اور اس دفعہ انہیں نچلے طبقے کے لوگوں کی پہلے سے زیادہ مالی امداد کی ضرورت ہے۔
افتادگان خاک تو پہلے ہی خاک چاٹ رہے ہیں۔ وہ مذہبی تہواروں سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔ ہر تہوار منانے کیلئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پیسہ ہی ان کے پاس نہیں۔ غربا ء کے بچے تو باآواز بلند یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ عید آ رہی ہے یا ہم جوش و خروش سے عید منائیں گے۔ پنجابی میں کہتے ہیں ’’پلے نہیں دھیلا تے کردی اے میلا میلا‘‘
باقی رہی حکومت تو اس نے کیا کرنا ہے۔ یہ بھی میڈیا کے ذریعے صاحب ثروت لوگوں سے ہی اپیل کرے گی کہ غرباء اور مساکین کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کریں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اب عید اور دیگر ایسے تہواروں کا نام سنتے ہی غرباء اور مساکین پر گھبراہٹ طاری ہونے لگتی ہے یا وہ بالکل بے نیازی سے کام لیتے ہیں۔ ہمارا ملک کوئی فلاحی ریاست تو ہے نہیں۔ پھر بھلا مجموعی طور پر عوامی مفاد کی بات کیسے کی جا سکتی ہے۔ایسے حالات میں غریب آدمی عید کی خوشیاں کیسے منا سکتا ہے اس کا سبب صرف اور صرف طبقاتی تقسیم ہے۔ جب تک معاشی نظام تبدیل نہیں ہوگا‘ غربا ء اور مساکین مسرتوں کیلئے ترستے رہیں گے۔ باقی رہا یہ کہ دولت مند طبقہ پسے ہوئے طبقات کی مدد کرے تو وہ تو ہمیشہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے مخیر حضرات بڑی فراخدلی سے یہ فرض ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن یاد رکھیے کہ اس سے بھی غربت کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس سے غربت و افلاس کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 چاند پر ہونے والا ایٹمی دھماکہ زمین پر دکھانے کے لئے سوڈیم کی مقدار بڑھا نے پر غور ہوا چاند اور سورج گرہن ہمارے توہمات کا ہی حصہ نہیں ،ان پر متعدد فلموں کے علاوہ ایک اربوں ڈالر سے ایک فوجی بستی قائم کرنے کی کوششیں بھی ہو چکی ہیں

مزید پڑھیں

 لگ بھگ ایک دہائی قبل دسمبر 2009 میں ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ادارہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اپنی ایک تحقیق مکمل کرتا ہے اور چند ماہ کے جائزے کے بعد آخر کار مئی 2010میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کر دیتا ہے اس ادارے کا نام راکفیلر فاؤنڈیشن Foundation) Rockefeller) ہے اور وہ رپورٹ اس ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

مزید پڑھیں

  عالمی وباء کورونا وائرس کے خطرناک اور جان لیوا اثرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ملک کے دیگر حصوں کی طرح لاہور میں جاری سمارٹ لاک ڈاؤن کوڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ مکمل ہو گیا۔ لاہور پولیس نے اس دوران انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں شہر میں جرائم کے تدارک کے ساتھ شہریوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات یقینی بنا ئے۔ محدود وسائل اور نفری میں کمی کے باوجود لاہورپولیس کورونا کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں