☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(نگہت ہاشمی ) غورطلب(محمد مرتضیٰ صدیقی) رپورٹ(حسن کمال فاروقی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ابوصباحت(کراچی)) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) متفرق(خان فہد خان) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کھیل(عبدالحفیظ ظفر) دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) ثقافت(صابر بخاری) ادب(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
کورونیت

کورونیت

تحریر : حسن کمال فاروقی

05-31-2020

 لگ بھگ ایک دہائی قبل دسمبر 2009 میں ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ادارہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اپنی ایک تحقیق مکمل کرتا ہے اور چند ماہ کے جائزے کے بعد آخر کار مئی 2010میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کر دیتا ہے اس ادارے کا نام راکفیلر فاؤنڈیشن Foundation) Rockefeller) ہے اور وہ رپورٹ اس ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

اس رپورٹ کا نامScenario for the Future of Technology and International Developmentہے اور جیسا کہ اس رپورٹ کے نام سے واضح ہے، اس رپورٹ کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ مستقبل میں مختلف منظر ناموں scenarios کی صورت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کیسے اپنا کردارادا کرے گی۔
اب دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں چار منظر نامے تصور کیے گئے ہیں اور سب سے پہلا منظر نامہ یہ ہے کہ دنیا میں ایک عالمی وباء (Pandemic) پھیل جاتی ہے۔
اب اس تصوراتی منظر نامے میں جو واقعات بیان کئے گئے ہیں وہ ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ دنیا میں ایک عالمی وبا پھیل جاتی ہے جو دنیا کی 20 فیصد آبادی کو متاثر کرتی ہے اور تقریباً 80 لاکھ لوگوں کو ہلاک کر دیتی ہے۔
2۔ اس وباء کی وجہ سے انسانوں کی بین الاقوامی آمدورفت اور اشیائے خورد ونوش کی درآمدات و برآمدات پر پابندی لگ جاتی ہے۔
3- سیاحت (Tourism)کی انڈسٹری تباہ ہو جاتی ہے اور بین لاقوامی رسد و طلب کو روک دیا جاتا ہے۔
4۔ دنیا کی چمکتی دمکتی عمارتیں اور کاروبار ویران ہو جاتے ہیں اور لاکھوں افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
5۔ افریقہ، ساؤتھ ایشیا، اور سینٹرل امریکہ میں یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے کیونکہ وہاں lockdown پر باقاعدہ عمل نہیں ہوتا۔
6- ترقی یافتہ ممالک کے لئے بھی شہریوں کو (lockdown)کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اور امریکہ میں ابتداء میں نرمی کی وجہ سے یہ وائرس بہت تیزی سے پھیل کر ہزاروں افراد کو لقمہ اجل کا نشانہ بنا دیتا ہے۔
7- چائنا China انتہائی سخت پابندیوں (mandatory lockdown) پر عمل کرتا ہے اور باقی ممالک کے نسبتًا بہت جلد اس وبا ء پر قابو پا لیتا ہے۔
8۔ اس عالمی وبا ء کی وجہ سے دنیا کے تمام ممالک کے حکمران اپنے اپنے طریقے سے طبی اصول و ضوابط پر عمل درآمد شروع کر دیتے ہیں۔
9۔ تمام ممالک میں فیس ماسک (Face Masks) پہننا لازمی قرار دیدیا جاتا ہے اور جگہ جگہ داخلی جگہوں پر بخار (Temperature) چیک کرنا عام ہو جاتا ہے۔
10- مختلف ممالک کے حکمران اس وبا ء کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اقتدار کو اور مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہاں تک کہ کئی ممالک میں قانون سازی کے ذریعے اس lock down کو اور موثر بنانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔
11۔ انڈیا میں (Air Quality Level)بہت تیزی سے تبدیل ہو جاتا ہے۔
12۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس لاک ڈائون میں لوگوں کی رضامندی شامل ہونا شروع ہوتی ہے اور وہ اپنی خودمختاری پر سمجھوتا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہرحال ایک وقت آتا ہے جب دنیا اس کورنٹائن (Quarantine) سے تنگ آ جاتی ہے اور اس وقت حکومتوں کو شدت سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
13۔ ترقی یافتہ ممالک میں موجودہ IT regulations کو روک دیا جاتا ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوط حکمران سائنس اور ٹیکنالوجی اداروں کو اپنی ترجیحات کے مطابق ایجادات کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
14- یہ نئی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایجادوں کا وجود و اطلاق زیادہ تر صرف ترقی یافتہ ممالک میں ہی ہوتا ہے اور ترقی پذیر ممالک ان کو صرف اختیار کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
15۔ امریکہ اور یورپ کو اتنی جلدی یہ ٹیکنالوجی بنانے پر دنیا بھر سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے کچھ چیزیں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ہوائی اڈوں پر FMRI scanners لگا دئیے جاتے ہیں، اسمارٹ پیکجنگ smart packaging کا اطلاق ہوتا ہے، متعدی اور وبائی بیماریوں کیلئے نئے آلاتِ تشخیص diagnostics وجود میں آتے ہیں اور ایک دوسرے منظر نامے کے تحت vaccines بنائی جاتی ہیں۔
ایک منٹ رکئے یاد رہے کے ان اوپر دئیے گئے بیانات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تو بس ایک منظر نامہ ہے جو دس سال پہلے کھینچا گیا تھا۔
آئیں اب ایک اور کہانی سنتے ہیں۔ مائکروسوفٹ Microsoft کمپنی کا مالک بل گیٹس Bill Gates دنیا کا امیر ترین شخص ہے یا رہ چکا ہے۔ اوپر دی گئی تحقیق کے مکمل ہونے سے کچھ عرصہ پہلے سن 2008 میں Bill Gates نے اپنی کمپنی مائیکرو سافٹ سے استعفیٰ دیدیا تھا کیونکہ وہ اپنے تحقیقاتی فلاحی ادارے Bill Gates & Malinda Foundation) (کو وقت دینا چاہتا تھا. اس ادارے کا یہ دعوی ہے کہ یہ دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر vaccines مہیا کرتے ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے تشخیصی آلات بھی بناتے ہیں۔
برطانیہ میں ایک اور فلاحی Wellcome Trust کے نام سے کام کرتا ہے جسے دنیا کا چوتھا بڑا فلاحی ادارہ کہا جاتا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد اس شعبے میں کام کرنا ہے جو انسان کے زندہ رہنے اور خلافِ معمول کام کرنے کی استعداد سے تعلق رکھتا ہے -(Bio-Medical Science)
2015ء میں ان دونوں اداروں یعنی Bill Gates Foundation اور Wellcome Trust کے اتحاد سے ایک Global Health Innovation Fund کا قیام ہوتا ہے جس کا مقصد ان دونوں اداروں کے مقاصد کیلئے فنڈز مہیا کرنا ہوتا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں بل گیٹس معتدد مواقع پر عالمی وباؤں کے پھیل جانے کے خدشات کا اظہار کرتا ہے اور یو ٹیوب پر اسکی درجنوں وڈ یوز با آسانی دیکھی جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر اسکی ایک وڈیومیں وہ دنیا کا سب سے بڑا خطرہ ہی وائرس virus کو قرار دیتا ہے۔
جنوری 2017ء میں ایک اور ادارہ CEPI(Coalition for Epidemic Preparedness Innovations) کے نام سے وجود میں آتا ہے اور اس کے قیام کا مقصد عالمی وباؤں کے لئے نئی vaccines بنانا ہوتا ہے۔ یہ ادارہ سیویٹزرلینڈ Davos, Switzerland) World Economic Forum) میں قائم ہوتا ہے اور اس کے بنانے والے کوئی اور نہیں بلکہ بل گیٹس Foundation and Wellcome Trust ہی ہیں۔ یورپین یونین اور برطانیہ (European Union and Great Britain) بھی 2019 اور 2020 میں اس ادارے کے ممبرز بن جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ آج وباء آ جانے کے بعد پوری دنیا vaccines کیلئے اسی ادارے کی طرف ہی دیکھ رہی ہے۔
یہ8 اکتوبر 2019 ء کی صبح ہے جب نیویارک کے ایک ہوٹل میں ایونٹ 201 (Event 201) کے نام سے ایک تقریب ہوتی ہے جس میں دنیا کے چند بڑے اداروں کے افسران شرکت کرتے ہیں۔ اس تقریب کو بھی بل گیٹس فائوندیشن منعقد کرواتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تقریب میں فرضی (Pre-recorded videos) دکھائی جاتی ہیں کہ دنیا میں وائرس آ چکا ہے تو ہم نے کیا تیاری کرنی ہے۔ یہ ساری وڈیوز videos یو ٹیوب پر آن لائن دیکھی جا سکتی ہیں۔
او ر اب اتفاق دیکھے کہ اس تقریب کے تقریباً 2 ماہ بعد ہی دنیا میں وائرس آجاتا ہے اور وہی سب کچھ ہونے لگتا ہے جو ان وڈیوز میں دکھایا گیا ہے۔ شاید یہ ایک اتفاق ہی ہو مگر ان وڈیوز کو دیکھنے کے بعد بہت حد تک ممکن ہے کہ آپ کو یہ اتفاق نا لگے۔
اور اب چلتے ہیں تیسری اور آخری کہانی کی طرف!
مئی 2016 ء کا مہینہ ہے اور اقوام متحدہ(United Nations) کے ہیڈ کواٹرز (Head Quarters) میں ایک سمٹ (Summit) وجود میں آتی ہے جس کا نام ID-2020 رکھا جاتا ہے۔ اس ادارے کی ویب سائٹ www.id2020.org ہے۔ اس ادارے کے وجود کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں ہر انسان کی بین الاقوامی شناخت ہونی چاہیے اور اسے Digital Identity کا نام دیا گیا۔
اس ادارے کا کہنا یہ ہے کے اس Digital Identity کو vaccines کے ذریعے تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ اس ادارے کو بنانے والے بھی آپ کیلئے نئے نام نہیں ہیں بلکہ وہی Microsoft, Bill Gates and Melinda Foundation, Wellcome Trust, اور Rockefeller Foundation ہیں۔ یہ ادارہ اپنا کام شروع کر چکا ہے اور بنگلا دیش میں حکومت کی رضا مندی سے اس ڈیجیٹل آئڈنٹتی Digital Identity کو اپنا بھی لیا گیا ہے۔
یہ تینوں کہانیاں سن کر آپ اتنا تو با آسانی سمجھ گئے ہونگے کہ ان اداروں کی یہ دس سالوں کی کوششیں اب رنگ لانے کو ہی ہیں اور شاید جلد ہی دنیا میں وہ ویکسینز (Vaccines) مہیا کر دی جائیں گی جو دراصل وہ نسخہ کیمیا ہے جس سے اس دنیا کو قابو کیا جا سکے یا ایک نظام نو کی بنیاد رکھی جا سکے۔اس عالمی وبا ء کی حقیقت تو شاید میڈیکل سائنس سے وابستہ لوگ بہتر سمجھ سکیں مگر محترم قارئین سے میرا صرف ایک سوال ہے کہ آپ کو اس وبا ء میں کورونیت کا عنصر کم اور فرعونیت کا عنصر زیادہ نظر نہیں آتا؟

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 چاند پر ہونے والا ایٹمی دھماکہ زمین پر دکھانے کے لئے سوڈیم کی مقدار بڑھا نے پر غور ہوا چاند اور سورج گرہن ہمارے توہمات کا ہی حصہ نہیں ،ان پر متعدد فلموں کے علاوہ ایک اربوں ڈالر سے ایک فوجی بستی قائم کرنے کی کوششیں بھی ہو چکی ہیں

مزید پڑھیں

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے امراء نے ہمیشہ عید پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفلسوں اور ناداروں کی مالی امداد کی ہے لیکن اس بار عید پر صاحب حیثیت لوگوں کو پہلے سے کچھ زیادہ غربا ء اور مساکین کی امداد کرنا ہوگی کیونکہ اس بار خوفناک وباء کورونا کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں جبکہ مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور بے روزگاری نے بھی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ایسے میں غریب کیسے عید کی خوشیاں منائیں گے ۔

مزید پڑھیں

  عالمی وباء کورونا وائرس کے خطرناک اور جان لیوا اثرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ملک کے دیگر حصوں کی طرح لاہور میں جاری سمارٹ لاک ڈاؤن کوڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ مکمل ہو گیا۔ لاہور پولیس نے اس دوران انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں شہر میں جرائم کے تدارک کے ساتھ شہریوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات یقینی بنا ئے۔ محدود وسائل اور نفری میں کمی کے باوجود لاہورپولیس کورونا کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں