☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(عبدالمجید چٹھہ) عالمی امور(صہیب مرغوب) فیشن(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خواتین(نجف زہرا تقوی) رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) فیچر(ایم آر ملک)
چاند پر ایٹمی دھماکہ کرنے کا امریکی منصوبہ

چاند پر ایٹمی دھماکہ کرنے کا امریکی منصوبہ

تحریر : محمد ندیم بھٹی

06-28-2020

 چاند پر ہونے والا ایٹمی دھماکہ زمین پر دکھانے کے لئے سوڈیم کی مقدار بڑھا نے پر غور ہوا
چاند اور سورج گرہن ہمارے توہمات کا ہی حصہ نہیں ،ان پر متعدد فلموں کے علاوہ ایک اربوں ڈالر سے ایک فوجی بستی قائم کرنے کی کوششیں بھی ہو چکی ہیں

 21جون 2020ء کو سورج گرہن نے ہمارے عوام کو خوب ستایا،کوئی صبح سات آٹھ بجے تمام کام مکمل کر کے گھر میں دبک گیا۔اسے کسی نے کہہ دیاتھا کہ سورج کی کرنوں سے سرطان کا خدشہ تھا۔باہر نکلا تو موذی مرض میں جکڑا جائے گا۔ کو ئی سرطان تو کوئی جلدی امراض پیدا ہونے کے ڈر سے گھر میں ہی چھپا رہا۔ہندوئوں نے آخری حد تک جاتے ہوئے سورج گرہن کو دنیا کا آخری دن قرار دے دیا۔ لداغ میں چین سے بار بار ماریں کھانے کے بعد انڈینز کو روزانہ دنیا ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ بے شک سورج گرہن اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک ہے،اگر وہ سورج کوبے نور کر دے تو نسل انسانی منٹوں میں نپید ہو جائے ۔
سورج گرہن اور فلم انڈسٹری
سورج گرہن اور سورج کی توانائی کے خاتمے پر مبنی کئی فلمیں ہم دیکھ چکے ہیں۔ تمام قصے کہانیوں نے ان فلمی کہانیوں سے ہی جنم لیا ہے۔ ایک اہم فلم تھی ’’سورج کا آنسو‘‘(Tear of The Sun) ۔ فلم ’’سورج کی روشنی کا خاتمہ‘‘(Sunshine end) کی کہانی بھی سورج کے گرد گھومتی تھی۔جس میں سورج گرہن کو پس منظر میں رکھتے ہوئے یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ وہ دن بھی آنے ولا ہے جب سورج کی توانائی ختم ہو جائے گی۔فلم سورج کی روشنی ‘‘(Sunshine)،فلم’’ شمس ‘‘ (Sun A)،’’سورج بھی ایک ستارہ ہے‘‘،سورج کا جھلسا یاہوا‘‘ (Burnt by the Sun)اور’’سورج کی تاریک سمت‘‘ (Dark side of the Sun) بھی ان میں شامل ہیں۔
فلم ’’سن شائن ‘‘کی حیرت انگیز کہانی
’’سن شائن ‘‘میں فلم ساز کو پتہ چلتا ہے کہ سورج کی شعاعیں ختم ہونے والی ہیں، جس سے پہلے دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے گی ا ور پھر ملیا میٹ ہو جائے گی۔دنیا بچانے کے لئے عالمی سائنس دان سرجوڑ کر بیٹھتے ہیں ، انہیں بالآخر سورج پر ایٹمی دھماکہ کے ذریعے اسے توانا کرنے کی سوجھی۔
فلم میں سورج کی زہریلی کرنیں
ایک فلم کی کہانی نہایت سنسنی خیز ہے۔ کہانی کار کو پتہ چلتا ہے کہ سور ج کی کرنوں میں انسانوں کو مارنے والی شعاعیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ سورج کی روشنی پڑتے ہی انسانیت مٹ رہی ہے۔یہ خبر ناسا سے منسلک ایک میجر کو ملتی ہے۔ وہ محفوظ مقام پر پہنچنے کے لئے تقریباََ 20 مسافربردار جہاز کو ہائی جیک کر لیتا ہے،اس کی منزل ایک ایسی جگہ ہے جہاں سورج کبھی نہ چمکے۔ اس نے ایسی کسی جگہ کے بارے میں سن رکھا تھا لیکن اب یاد نہیں۔اس بات سے ناسا کے ایک دو سائنس دان ہی آگاہ تھے۔ وہی جانتے تھے کہ سورج سے بچنے کے لئے دنیا کی محفوظ ترین جگہ کون سی ہے۔ دیگر مسافر اسے سمجھنے کی بجائے الجھ پڑتے ہیں، مسلح ہونے کے باوجود پائلٹ بھی قابو نہیں آتا، تمام مسافر اسے رسیوں میں جکڑ کر باتھ رو م میں بند کردیتے ہیں۔
اسی اثنا میں پائلٹ لینڈنگ کے لئے کنٹرول ٹاور اور ٹریفک افسروں کو کئی پیغامات دیتاہے ، جواب نہ ملنے پر وہ غفلت سمجھتے ہوئے جہاز کے لینڈنگ گیئر کھول دیتا ہے، پائلٹ او رمسافروں کو جہاز کے رن وے پر ٹیکسی کرنے کے دوران ہر طرف لاشیں بکھری نظر آتی ہیں۔ جہاز اتارنے میں مدد گار عملہ بھی اوندھے منہ مرا پڑا ہوتاہے ، دور دور آگ کے شعلے اٹھ رہے تھے۔ سورج کی شعاعوں نے سب کوہلاک کر دیا۔پائلٹ لمحہ ضائع کئے بغیر جہاز دوبارہ ہوا میں اٹھا لیتا ہے۔ تب انہیں فوجی کا خیال آتا ہے ،سب مل کر جیسے لاک کرتے ہیں ویسے ہی لاک کھول دیتے ہیں۔ سچائی سب پر عیاں ہو جانے سے میجر کو بھی سکون ملتا ہے۔اسے قید سے نکالنے کے بعد عزت افزائی کی جاتی ہے۔وہ دوبارہ من مانی پر اتر آتا ہے،اور اپنے تعلقات استعمال کرکے جہاز کو بچانے میں لگ جاتا ہے، اسے یاد آتا ہے کہ ناسا کے ساتھ کام کرتے ہوئے اسے ایک ایسے علاقے کا پتہ چلا تھا جہاں سورج نہیں چمکتا،ورنہ کوئی خطہ محفوظ نہیں، موت ہر جگہ منڈلا رہی ہے، حتیٰ کہ غاروں کے اندر اور سمندر ی تہ میں بھی کوئی زندہ نہیں بچا۔
ناسا میں کئی سائنس دانوں سے رابطے قائم کرنے سے اس کے علم میں آتا ہے کہ سورج کی زہریلی شعاعوں سے آدھی دنیامٹ چکی ہے جہاں جہاں بھی صبح کی پہلی کرن پڑے گی وہاں موت کے سوا کوئی نہیں بچے گا۔صرف موت کا رقص ہوگا۔ ناسا والے بتاتے ہیں کہ ایک دو سائنس دان اس خطے سے واقف ہیں۔ صرف ایک جگہ سورج کی کرنیں نہیں پہنچیں گی ،وہیں حیات بچے گی، فوجی ناسا کو فون ملاتا ہے ،ان سے خبر لینے کی کوشش ہے۔ یہ سن کر تمام مسافروں کے منہ لٹک جاتے ہیں،جہاز میں مایوسی پھیل جاتی ہے ،کیونکہ یہ معلوما ت رکھنے والا افسر زندہ نہیں بچا۔
پائلٹ اپنی من مانی میں لگ جاتا ہے ، بات بات پر کہتا ہے ،’’ میں پائلٹ ہوں ،میں جہاز اپنی مرضی سے اڑائوں گا‘‘۔مسافر نہیں مانتے۔کون سی کمپنی، کون سا پائلٹ ‘‘۔۔وہ سب ہم آواز ہوتے ہیں ، ’’تو اب پائلٹ نہیں رہا، جس کمپنی کے تم پائلٹ تھے نہ وہ کمپنی بچی ہے اور نہ تمہیں لائسنس دینے والے زندہ ہیں۔یہ سب موت کا تر نوالہ بن چکے ہیں‘‘۔یوں مسافر پائلٹ سے اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی موت سے فرار چاہتا ہے۔ یہ ہے موت کا خوف ۔ اتنے میں پائلٹ ایندھن ختم ہونے کی دل دہلا دینے والی خبر دیتا ہے، مسافروں کو موت سامنے منڈلاتی نظر آنے لگتی ہے ۔پائلٹ کے ایک اور اعلان نے بھی مسافروں کی روح ہی جیسے کھینچ لی ہو۔وہ تیل ختم ہونے کی خبر سناتا ہے۔ایک مسافر زیر زمیں تیل کے صاف اور قابل استعمال ذ خیرہ سے آگاہ تھا۔ پائلٹ جہاز کو اسی ذخیرے کی جانب اتارتا ہے۔ تیل بھرنے کے بعد جہاز اڑان بھرتا ہے،لیکن کچھ ہی دیر میں فضاء میں ڈولنے لگتا ہے۔ سب گھبرا کر پوچھتے ہیں کیا ہوا؟پائلٹ بتاتا ہے کہ تیل کی توانائی ختم ہوتی جا رہی ہے، سورج کی کرنوں نے تیل سے جلنے کی طاقت چھین لی ہے جہاز ڈولتا رہتا ہے مگر گرتا نہیں۔’’اب تو ہمیں اللہ ہی بچا سکتا ہے‘‘۔تمام ہی مسافروں کے دل یاد اللہ سے بھر جاتے ہیں۔
مسافروں کو بھوک لگتی ہے، جہاز میں کھانے پینے کا سامان وافر مقدار میں موجود تھا ،خوب انجوائے کرتے ہیں،پیٹ بھر کھانے کے باوجود بھوک نہیں مٹتی، جسم کو توانائی نہیں ملتی۔ لگتا ہے کہ پھوک کھا رہے ہیں ، کھانے میں موجود پروٹین، کاربوہائیڈریٹس سمیت ہر معدنیات کی توانائی ضائع ہو چکی ہے۔ جسم توانائی مانگتا رہتاہے۔اس عرصے میں پائلٹ کمال ہوشیاری سے ڈولتا ہوا جہاز ایک ایسے خطے میں اتارنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جہاں سورج کی کوئی کرن نہیں پڑتی۔ فلم میں دنیا میں جہاز کے یہ مسافر ہی زندہ بچتے ہیں ،چرند پرند درخت اور کیڑے مکوڑے سب ختم ہو جاتے ہیں۔
سورج پر ایٹمی دھماکہ کرنے سے متعلق فلم
ایک اور فلم میں سائنسدانوں کو پتہ چلتا ہے کہ سورج کی کم ہوتی ہوئی توانائی کرہ ارض پر موجود حیات کی موت کا پیغام ہے ،یہ زہر سے بھی خطرناک ہے۔ اس سے حیات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔سائنس دان سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں۔ سورج کو ’’توانا‘‘کرنے کے لئے اس پر ایٹمی دھماکہ کرنے کے سوا کوئی اور ذریعہ نہیں ملتا۔ کہانی کے مطابق سائنس دانوں کا ایک گروپ 2057میں سورج کی شعاعوں کو بحال کرنے کے لئے سورج پر بھیجا گیا ہے، جو وہاں نیوکلیئر بم کا دھماکہ کر کے سورج کی توانائی لوٹا دیں گے ۔یہ کہانی زمانے سے کئی برس آگے چل رہی ہے ،اور آپ کو 2057ء میں لے جائے گی۔
دنیا کی تباہی کی پیش گوئی
ان فلموں سے متاثرہ ذہن نے 21جون 2020کو دنیا کا آخری دن قرارد ے دیا تھا۔ عالمی جریدوں میں شائع ہونے والی تحریروں کے مطابق ’’دنیاکے خاتمے کی سابقہ پیش گوئیاں حساب کتاب میں گڑبڑ کے باعث سچی ثابت نہ ہو سکیں ۔سب سے پہلے کہا گیاکہ جون 2012کو دنیا نہیں بچے گی۔21دسمبر 2012دنیا کا آخری دن ہو گا،اس دن بھی خوب شور شرابہ ہوا،لیکن دنیا قائم و دائم رہی۔ہندو نجومیوں نے 21 جون 2020ء کو دنیا کا آخری دن قرارد ے دیا۔ کہتے ہیں اب پکا حساب ہے ، دنیا 21جون 2020کو ہی تباہ ہو جائے گی ۔مایاں کیلنڈر کو ماننے والوں کے نزدیک تاریخیں ختم ہونا خاتمے کے سوا کوئی علامت نہیں۔ اسی کو لے کر ماہرین انڈین ماہرین نے بے تکے تبصرے شروع کر دیئے ۔ کچھ نے یو ٹیوب اور دوسرے سوشل میڈیا پر مورچہ سنبھال لیا۔ان سب کے پیش نظر میں 2020ء کے بعد کوئی تاریخ نہیں آتی۔ ان نجومیوں اور ہندوئوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس کیلنڈر میں 1582ء سے پہلے کی بھی کوئی تاریخ درج نہیں ،تو کیا دنیا کا پہلا سال 1582تھا؟اللہ ہم سب کو زندگی دے لیکن قیامت برحق ہے وہ کب اور کیسے آئے گی ؟یہ بات اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
چاند پر ایٹمی دھماکہ کرنے کا امریکی فیصلہ
یہ کسی فلم کی کہانی نہیں،نہ ہی کسی نجومی کی پیش گوئی سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ یہ ایک تاریخی اور سائنسی حقیقت ہے کہ امریکہ نے دنیا بھر پر اپنی دھاک بٹھانے کی خاطر چاند پر ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد فوجی اڈا قائم کرنے کے لئے سائنس دانوں کی ایک ٹیم بھی بنا دی تھی ،اس ٹیم کامقصد چاند پر بیٹھ کر روسی حملے کا جواب دینا تھا۔ایٹمی قوت چاندپر منتقل کرکے امریکی فوج اپنے ملک اور عوام کو حفاظت میں لے سکتی تھی۔ امریکہ کی جانب سے جاری کردہ اور ابھی تک خفیہ دستاویز میں لکھا ہے کہ امریکہ نے روس سے بچنے اور نیچادکھانے کے لئے چاند پر ایٹم بم بنانے اور وہاں سے روس پر حملہ کرنے کی پلاننگ کی تھی۔
امریکہ نے جنگ عظیم کے زمانے میں چاند پر ایٹمی دھماکہ کرنے کا فیصلہ کیاتھا ، یہ منصوبہ 1959میں آرتھی ۔جی۔ٹروڈو نامی ایک فوجی افسر کے ذہن کی اختراع تھا۔وہ ایک فوجی اڈے سے منسلک تھے اور خود کو روس سے بچانے کے جتن کر رہے تھے۔ دنیا پر قبضہ کرنے کے خفیہ امریکی مشن کا کوڈ نیم “Project A119”تھا
یہ ایٹمی دھماکہ اس قدر طاقت ور ہوتا کہ اس کی شعاعیں زمین سے بھی نظر آتیں۔ ایٹمی دھماکے کی روشنی بڑھانے کے لئے سوڈیم کی مقدار بڑھانے کی تجویز بھی سامنے رکھی گئی تھی ۔ چاند پر قائم ہونے والے فوجی اڈے کا ڈیزائن اور فوجیوں کی وردی بھی بنا لی گئی تھی۔ان فوجیوں کے لئے خاص قسم کا ’’لونر سوٹ‘‘ بھی بنایا گیا تھا۔خفیہ امریکی دستاوزات میں بھی منصوبے کی تباہی و بربادی کا اعتراف کیا گیا ۔
منصوبے کی دستاویزات کو عیاں کرتے ہوئے ’’سیکرٹس فرام دی بلیک والٹ‘‘نامی کتاب کا مصنف جان گرین والڈ اسے سائنس اور حکومت کی تاریخ کا احمقانہ ترین پروگرام قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’سائنسدان کی سوچ پررونا آتا ہے۔مصنف نے 21لاکھ خفیہ اور ڈی کلاسی فائیڈ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ احمقانہ پلان ہونے کے باعث ہی اسے دنیا کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کی گئی۔
مصنف گرین والڈ نے انفارمیشن ایکٹ کے تحت الگ سے دستاویزات حاصل کی ہیں جن میں یہ منصوبہ مذکور ہے۔ امریکی سائنس دانوں نے اس موقع پر اڑن طشتریوں اور ایسے دوسرے عناصر پر کو بھی تحقیق میں شامل کیا تھا‘‘۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 لگ بھگ ایک دہائی قبل دسمبر 2009 میں ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ادارہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اپنی ایک تحقیق مکمل کرتا ہے اور چند ماہ کے جائزے کے بعد آخر کار مئی 2010میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کر دیتا ہے اس ادارے کا نام راکفیلر فاؤنڈیشن Foundation) Rockefeller) ہے اور وہ رپورٹ اس ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

مزید پڑھیں

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے امراء نے ہمیشہ عید پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفلسوں اور ناداروں کی مالی امداد کی ہے لیکن اس بار عید پر صاحب حیثیت لوگوں کو پہلے سے کچھ زیادہ غربا ء اور مساکین کی امداد کرنا ہوگی کیونکہ اس بار خوفناک وباء کورونا کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں جبکہ مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور بے روزگاری نے بھی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ایسے میں غریب کیسے عید کی خوشیاں منائیں گے ۔

مزید پڑھیں

  عالمی وباء کورونا وائرس کے خطرناک اور جان لیوا اثرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ملک کے دیگر حصوں کی طرح لاہور میں جاری سمارٹ لاک ڈاؤن کوڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ مکمل ہو گیا۔ لاہور پولیس نے اس دوران انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں شہر میں جرائم کے تدارک کے ساتھ شہریوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات یقینی بنا ئے۔ محدود وسائل اور نفری میں کمی کے باوجود لاہورپولیس کورونا کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں