☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
کیا تعلیم میں سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے؟

کیا تعلیم میں سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے؟

تحریر : سید وقاص انجم جعفری

04-28-2019

’’پاکستان تعلیمی اعدادا شمار‘‘ (PESR)کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جو اکیڈمی آف ایجوکیشن پلاننگ اینڈ مینجمنٹ وفاقی وزارتِ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت حکومت پاکستان کی تیارکردہ ہے میںسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کی تعداد 2.284کروڑ بتائی گئی۔

عالمی سطح پر نائیجیریا کے بعد یہ دوسری بڑی تعداد ہے۔یعنی 44 فیصد بچے اسکول سے باہر تھے۔’’اثر‘‘کی 2018ء کی رپورٹ کے مطابق 6 سے 18 سال کی درمیانی عمر کے 83 فی صد بچوں نے سکول میں داخلہ لیا۔ 2016ء میں یہ تعداد 81فی صد تھی گویا 2 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا جو کم ہونے کے باوجود بہتری کی جانب ایک قدم ہے۔رپورٹ کے مطابق 11 ہزار رضا کاروں ، شہریوں نے 154 اضلاع میں 4527 دیہاتوں کا دورہ کیا۔ یہ معلومات 89966 گھرانوں اور 3 سے 16 سال کی عمر کے 260069 بچوں سے حاصل کردہ اطلاعات کی بنیاد پر اکھٹی کی گئیں۔ سال 2018ء کے لیے دیہی علاقوں کے سروے میں 196253 ایسے بچوں کی جانچ اور تشخیص کی گئی جن کی عمر 5 سے 16 سال کے درمیان تھی۔ یہ بچے انگریزی اور ریاضی کے مضامین میں ہم جماعت یا ہم گروہ تھے۔

آئین کی آرٹیکل 25-A کے تحت ہونے والے کام کی کمی یا اضافے کی نشان دہی کرنے کے لیے ایسی رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں۔آئین کی یہ شق 5 سے16 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم کو ان کا بنیادی حق قرار دیتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2016ء کے مقابلے میں مدرسہ چھوڑ دینے والے بچوں کی شرح ڈراپ آئوٹ ریٹ کم ہوا ہے۔ 2012-13ء میں 11.2لاکھ لڑکوں اور7.6لاکھ لڑکیوں کی High Stage Education میں انرولمنٹ ہوئی۔ پانچ سال گزرنے پر اگلی کلاس میں2016-17ء میں 12.5 لاکھ لڑکوں اور 9.3لاکھ لڑکیوں کی انرولمنٹ ہوئی۔

اس طرح لڑکوں کی انرولمنٹ میں 11.3 فیصد اور لڑکیوں کی انرولمنٹ میں 17.7 فیصد اضافہ ہوا۔ 2.28کروڑ بچوں کے اسکول سے باہر رہنے کے حوالے سے ایک توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں یہ تعداد سب سے پہلے غیر ملکی اداروں کی جانب سے سامنے آئی اس کے بعد ہمارے مختلف ادارے اس تعداد کو بے چون و چرا قبول کرتے رہے ، کچھ حلقوں کی جانب سے اس تعداد کے صحیح ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ۔ اب نئی رپورٹ میں 44 فی صدسکول سے باہر بچوں کی تعداد کا کم ہوکر 17 فی صد پر آجانا خوش آئند ہے۔بیان کیا گیا ہے کہ قومی سطح پر سکول سے باہر رہ جانے والے بچوں میں صنفی خلیج (جینڈر گیپ ) ابھی تک برقرار ہے۔ ابھی تک سکول میں داخل نہ ہوسکنے اورسکول چھوڑنے والوں میں لڑکیوں کی تعدادزیادہ ہے۔ 2014

ء میں پری پرائمری میں انرولمنٹ 39 فی صد ریکارڈ کی گئی تھی جو 2015ء میں کم ہو کر 37 فی صد پر آگئی۔ 2016ء میں 36 فی صد ، 2018ء میں پھر سے بڑھ کر 37فی صد ہو گئی۔ اس ضمن میں آخری اضافہ 2014ء میں 39 فی صد تھا جو 2018ء میں بھی بڑھ کر 39 فی صد نہیں ہو سکا۔ مجموعی طور پر گورنمنٹ سکولوں میں پری پرائمری تعلیم کے داخلوں میں 8 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جبکہ نجی سکولوں میں داخلے کی شرح 29 فی صد تک چلی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی کی نسبت تعلیم کے معیار میں بھی بہتری آئی۔جہاں تک اعدادوشمار کے حوالے سے تعلیم کے شعبے میں بہتری کا تعلق ہے تو ہر دور حکومت میں بہتری کی جانب بڑھتے ہوئے اعدادوشمارظاہر کرنا ایک روایت چلی آرہی ہے۔ لیکن بہتری کی جانب بڑھتے چلے جانے کے باوجود ہم ہر مرتبہ دئیے گئے اہداف سے پیچھے ہی ہوتے ہیں۔

ایک اچھے نظام تعلیم کی نشوونما کے لیے ایک اچھے سیاسی سماجی اور صحت مند معاشی ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی بھی ایسے آئیڈیل حالات نہیں رہے جو تعلیم یا دیگر بڑے معاشی منصوبوں کے لیے سازگار ہو سکیں۔ مزید المیہ یہ ہے پاکستان میں کوئی بھی حکومت تعلیم کے معاملے میں سنجیدہ نہیں رہی۔ سنجیدہ ہونے کے پہلے اور فوری معنی یہ ہیں کہ لیڈر شپ کو یہ معلوم ہو کہ دراصل کرنا کیا ہے۔

کام شروع کہاں سے کرنا ہے اور مجموعی حدوجہد کا اصل ہدف اور منزل کیا ہے۔یہ بات درست ہے کہ ہمیں اس دنیا میں رہتے ہوئے زمانے کی رفتار کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے اقوام عالم میں اپنے عالمی کردار کا تعین کرنا ہے، اور اس کے مطابق راستہ بناتے ہوئے آگے کی جانب بڑھتا ہے، اور بحیثیت قوم خود کو منوانا ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر لمحہ تبدیل ہوتی ہوئی اس دنیا اور اس کے چیلنجز پر گہری نظر رکھیں۔ ہمیں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی حصہ بننا ہے اور اپنے عالمی کردار کوبہ احسن و خوبی سے نبھانا ہے۔

سکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کو سکول بھیجنا، ترک سکول کی شرح کی کم سے کم سطح پر لانا، سکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی تربیت، کتابوں کی ترسیل یہ تمام معاملات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان کی اہمیت ثانوی ہے یہ انتظامی نوعیت کے معاملات ہیں جبکہ فوقیت یہ ہونی چاہیے کہ پہلے یکساں نصاب تشکیل دیا جائے۔ غیر ملکی این جی اوز، عالمی مالیاتی ادارے سول سو سائٹی کی مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر جس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ان پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔

بین الاقوامی ادارے یا ایجنسیاں اپنے ایجنڈے پر ایشیائی اور خاص طور پر مسلم معاشروں کو جس طرح اپنے لیے سازگار بنانا چاہتی ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ایجنڈا ہمارے لیے بھی سازگار ہو۔ اس حوالے سے بہت سارے پہلوئوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً ایک صنفی برابری (gender equality) کے مسئلے ہی کو لے لیجیے۔ اس ضمن میں مغرب کا اپنا ایک مقصد اور مفہوم ہے۔

ہم مسلمان نہ صرف یہ کہ عورتوں کی تعلیم کے حامی ہیں بلکہ اس کے بہت بڑے داعی ہیں۔ عورتوں کو مردوں کے مساوی تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے، اس میں کچھ شبہ نہیں۔ اس بات کا تعلق تعلیم کے مساوی مواقع سے ہے۔ اس حد تک ہم مغرب سے متفق ہو سکتے ہیں لیکن اس کا تعین ہم نے کرنا ہے کہ ہماری بیٹیاں کیا تعلیم حاصل کریں اور کس طریقہ کار کے ساتھ حاصل کریں۔ طرز و طریق تدریس کا تعین کیسے ہو۔

مغرب نے تعلیم کو ترقی کے اس محدود تصور کے ساتھ وابستہ کر دیا کہ لوگوں کو روزگار ملے ٹیکنالوجی میں ترقی ہو اور معیشت بہتر ہو بلاشبہ یہ تعلیم کے اہم مقاصد میں سے ہیں لیکن نظام ونصاب تعلیم کے ذریعے اچھا مہذب اور پر امن انسان بنانا پہلی ضرورت ہے۔ ایک ایسا انسان جو آخرت میں اپنے رب کے حضور خود کو جواب دہ سمجھتے ہوئے زندگی گزارے۔ مغرب کی یہ ضرورت ہو یا نہ ہو ہماری بہر حال یہ ضرورت ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ جب تک ہم بیرونی فنڈنگ پر اپنے نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے، ہم اپنے ایجنڈے پر کام کر ہی نہیں سکتے۔ ٭…٭…٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 چاند پر ہونے والا ایٹمی دھماکہ زمین پر دکھانے کے لئے سوڈیم کی مقدار بڑھا نے پر غور ہوا چاند اور سورج گرہن ہمارے توہمات کا ہی حصہ نہیں ،ان پر متعدد فلموں کے علاوہ ایک اربوں ڈالر سے ایک فوجی بستی قائم کرنے کی کوششیں بھی ہو چکی ہیں

مزید پڑھیں

 لگ بھگ ایک دہائی قبل دسمبر 2009 میں ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ادارہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اپنی ایک تحقیق مکمل کرتا ہے اور چند ماہ کے جائزے کے بعد آخر کار مئی 2010میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کر دیتا ہے اس ادارے کا نام راکفیلر فاؤنڈیشن Foundation) Rockefeller) ہے اور وہ رپورٹ اس ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

مزید پڑھیں

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے امراء نے ہمیشہ عید پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفلسوں اور ناداروں کی مالی امداد کی ہے لیکن اس بار عید پر صاحب حیثیت لوگوں کو پہلے سے کچھ زیادہ غربا ء اور مساکین کی امداد کرنا ہوگی کیونکہ اس بار خوفناک وباء کورونا کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں جبکہ مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور بے روزگاری نے بھی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ایسے میں غریب کیسے عید کی خوشیاں منائیں گے ۔

مزید پڑھیں