☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل فیشن صحت دین و دنیا متفرق خواتین کیرئر پلاننگ ادب
45لاکھ بھٹہ مزدور،ملک میں غلامی باقی ہے ابھی!

45لاکھ بھٹہ مزدور،ملک میں غلامی باقی ہے ابھی!

تحریر : طاہر اصغر

05-26-2019

اکیسویں صدی میں بھی بھٹہ مزدور استحصال کا شکار ہیں اور نسل درنسل غلامی کی چکی میں پس رہے ہیں۔بھٹہ مالکان غریب مزدوروں کی کمزورمعاشی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر قرضوں کا اتنا بوجھ ڈال دیتے ہیں کہ وہ ساری زندگی ادا ہی نہیں کرسکتے اوربھٹہ مالکان کے ’غلام‘ بن کر رہ جاتے ہیں۔

اس تمام تر صورتحال میں غلطی مزدوروں کی بھی ہوتی ہے کہ وہ جانتے ہوئے بھی کہ قرض کا بوجھ نہیں اتار سکتے بھٹہ مالکان سے قرض لے لیتے ہیں۔سخت گرم اور ٹھنڈے موسم میں بھی مزدور صبح سویرے کام پر پہنچ جاتے ہیں۔ گارے سے اٹے ہاتھ اوربھٹی کی حدت، جس سے بھٹہ مزدور کا دن شروع ہوتا ہے اوراسی پراختتام پذیربھی ہوجاتا ہے۔ بھٹہ مالکان مزدوروں کو سال بھر کی یکمشت ادائیگی کے عوض اپنا غلام بنالیتے ہیں اورمزدوروں سے مرضی کا کام کروایا جاتا ہے۔

 

وطن عزیز میں اس وقت تقریباً 18سے20ہزار تک اینٹوں کے بھٹے موجودہیں۔ جہاں سالانہ تقریباً 35سے 45 ارب اینٹیں تیارہوتی ہیں۔ جہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 40سے 45 لاکھ بھٹہ مزدور کام کر رہے ہیں جن میں مرد ، خواتین ، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔ مزدوروں کو ایک اینٹ بنانے کے تقریباً 50 پیسے ملتے ہیں۔ لیکن چونکہ اجرت بہت کم ملتی ہے اس لیے ان کے معاوضے کا 50 فیصد کٹوتی کی نذر ہو جاتا ہے اور یوں پیشگی لینے کی ضرورت روز افزوں ہوتی جاتی ہے اور بھٹہ مزدور ہر گذرتے ہوئے دن کے ساتھ جبری مشقت کی سخت تر زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں اور کوئی مزدور اگر اس حالت میں دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو پیشگی قرض اس کے خاندان کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور اس طرح ان کی حیثیت یر غمالیوں کی سی ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسے مزدوروں کو اجتماعی طور پر دوسرے مالکان کو فروخت کر دینے کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ان کے ہاںپیدا ہونے ولا بچہ مقروض ہوتا ہے۔ سخت سردی، موسم گرما کی تپش کے علاوہ زہریلی مئی ناخوشگوار آ ب و ہوا میں کام کرنے والے ان زرد پیلے چہروں اور چلتی پھرتی لاشوں اور وہ بھی زندہ لاشوں کا اگر معائنہ کروایا جائے تو98 فیصد مزدور متعدد بیماریوں میں مبتلا پائے جائیں گے۔

فیصل آباد میں کئی سڑکوں پر ایک سے زیادہ بھٹے موجود ہیں لیکن حیران کن بات ہے کہ محکمہ لیبر اینڈ ویلفیئر کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ عدالت عظمیٰ کے حکم کے باوجود موجود نہیں تھا۔جس سے اندازہ ہو سکے کہ فیصل آباد کے بھٹوں پر جو مزدور کام کر رہے ہیں، ان کی تعداد کتنی ہے اور اس میں کتنے بچے شامل ہیں۔ بھٹہ مالکان کا یہ طریقہ واردات ہے کہ وہ کسی خاندان کو چند ہزار روپے ایڈوانس دے کر اسے اپنا غلام بنا لیتے ہیں اور اگر بھٹہ مزدور کسی اور مقام پر بہتر محنت کے عوض کام کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس میں چوری کا جھوٹا مقدمہ اندراج کرا دیتے ہیں۔

شیخوپورہ کے قریبی علاقے میںپاس چالیس سال سے اینٹیں بنانے کے بھٹہ پر کام کرنے والے بوڑھے نذیر مسیح نے بتایا تھا کہ وہ خدا سے دھوپ اور گرمی کی دْعا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بارش اور سردی میں اْن کا کام بند ہوجاتا ہے اور اْن کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔شیخوپورہ سے فیصل آباد جاتے ہوئے ایک گاؤں میں اپنی بیوی اور بچوں سمیت کام کرنے والا ستر سالہ نذیر پندرہ ہزار آبادی کے اس گاؤں کی اس نصف آبادی میں شامل ہے جو دہکتے ہوئے سورج کے نیچے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرتی ہے۔نذیر مسیح کا خاندان بھٹہ پر ایک سو روپے روزانہ اْجرت پر کام کرتا ہے کیونکہ ان کی اْجرت کے نوے روپے اس پیشگی ادائیگی میں سے کاٹ لیے جاتے ہیں جو انہوں نے بیماری، شادی اور موت کے مختلف موقعوں پر ٹھیکیدار سے لی تھی اور سود ملا کر جس کی رقم اب ایک لاکھ روپے تک جا پہنچی ہے۔ ٹھیکیدار ایک ہزار اینٹیں بنانے کے ایک سو نوے روپے اجرت دیتا ہے۔پیشگی ادائیگی کے نظام میں جکڑا ہوا نذیر مسیح، اس کی بیوی، دو بیٹیاں اور چار بیٹے ایک بھٹہ سے دوسرے بھٹے پر فروخت ہوتے رہتے ہیں۔

ملتان میں کام کرنے والے ڈاکٹر الون نے بتایا کہ ملتان کی تین تحصیلوں، ملتان، جلالپور پیروالا اور شجاع آباد میں دو سو کے لگ بھگ بھٹے ہیں جن کے مزدور بھٹوں پر بنی ہوئی جھگیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور وہاں پر ہی ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ بھٹے عام طور سے شہر سے باہر بنائے جاتے ہیں اور ان پر کام کرنے والے شہر سے آنے جانے کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے جس وجہ سے وہ بھٹوں کے گرد ہی جھونپڑیوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ڈاکٹر الون کے مطابق یہ بندشی مزدور ایک بھٹہ سے دوسرے بھٹے پر فروحت ہوتے رہتے ہیں اور وہ اینٹیں بنانے کے لیے جس پانی سے مٹی گوندھتے ہیں وہ بھی زیادہ تر گندہ گٹر کا پانی ہوتا ہے۔ ان کے سروے کے مطابق ملتان میں ایک بھٹہ مزدور کا خاندان سال میں اوسطاً دو سو ساٹھ دن کام کرتاہے جس کی اسے سالانہ دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے اجرت ملتی ہے جس میں سے آدھی رقم پیشگی کی سود سمیت واپسی کے طور پر کاٹ لی جاتی ہے اور یوں پورے خاندان کو اٹھہتر روپے روزانہ کی اجرت پر زندگی کاٹنا ہوتی ہے۔

جبری مشقت کے خلاف سپریم کورٹ کے مشہور فیصلہ کے بعد1992ء میں جبری مزدوری کے خاتمہ کا قانون منظور کیا گیا تھا جس میں تمام بھٹوں کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن سروے کے مطابق ملتان ضلع میں صرف بیس فیصد بھٹے محکمہ محنت کے پاس رجسٹرڈ ہیں اورباقی غیر رجسٹرڈ۔ محمود بٹ کے مطابق لاہور کے نواح میں ڈھائی سو بھٹے ہیں جن میں سے صرف ایک بھٹہ رجسٹرڈ ہے۔ ایک سروے کے مطابق ہر بھٹہ پر ایک سو تیس سے ڈیڑھ سو مزدور کام کرتے ہیں لیکن بھٹہ کا مالک ان کی تعداد آٹھ سے دس ظاہر کرتا ہے کیونکہ باقی لوگ ٹھیکیدار کے ذریعے کام کرتے ہیں۔

اس طرح جو بھٹے رجسٹرڈ بھی ہیں تو ان کے مزدور رجسٹرڈ نہیں ہوتے جس سے انہیں قانون کے مطابق مراعات مل سکیں۔ملتان ضلع کے پونے آٹھ ہزار بھٹہ مزدوروں میں سے صرف ڈیڑھ سو لوگوں کے شناختی کارڈ بنوائے جا سکے، ان لوگوں کے پاس نہ تو پیدائش کی سند ہوتی ہے نہ کوئی سرکاری دستاویز۔ جس سے ان کی پاکستانی شہریت ثابت ہو سکے۔ پنجاب میں یہ معاملہ اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے کیونکہ بھٹہ مزدور یونین کے مطابق ستر فیصد جبری مزدور مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

قیام پاکستان سے لے کر 2019ء تک طاقت ور لوگ بھٹہ مزدوروں کے حقوق پر ڈاکہ مارتے رہے، حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔ مختلف تنظیموں نے بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے لئے عدالتوں کے دروازے پر دستک بھی دی ۔ بالاآخر عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک فیصلہ میں بھی دیگر محنت کشوں کی طرح انہیں بھی محنت کش طبقہ میں شامل کرنے کے لئے صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ جس طرح صنعتی، تجارتی، کاروباری اداروں کے محنت کشوں پر لیبر ایکٹ نافذ ہوتا ہے اور اس لیبر ایکٹ کے تحت ان کی رجسٹریشن کی جاتی ہے محکمہ لیبر اینڈ ویلفیئر بھٹہ مزدوروں کی رجسٹریشن کرے اور انہیں بھی لیبر سوشل ویلفیئر سیکورٹی فراہم کی جائے۔

جبری مشقت کی مختلف صورتیں

 

 الف۔۔۔کسی قرض یا پیشگی رقم (جو متعلقہ شخص یا اسکے خاندان نے لیا/لی ہو)کے عوض جبری مشقت انجام دینا

ب۔۔۔کسی سماجی یا رواجی ذمہ داری کی ادائیگی کیلیئے(جاگیرداری نظام کے تحت اپنے علاقے کے غریب لوگوں سے کام لینا)۔ ج۔۔۔کسی معاشی فائدے (جو مزدور یا اسکے خاندان نے قرض خواہ سے لیا ہو) کے عوض جبری مشقت انجام دینا د۔۔۔ضامن کا جبری مشقت انجام دینا (اگر مقروض وقت پر قرض واپس نہ کر سکے اور ضامن کے پاس بھی قرض لوٹانے کو رقم نہ ہو)۔

جبری مشقت پاکستان میں زیادہ تر زرعی شعبہ، اینٹ کے بھٹوں (بھٹہ خشت)، گھریلو کام کرنے والوں اور بھکاریوں میں پائی جاتی ہے۔ 

آیاکوئی کام جبری مشقت کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، اسے کیسے معلوم کیا جا سکتا ہے؟ 

نیچے دیئے گئے اشارہ جات کو سامنے رکھتے ہوئے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کوئی کام جبری مشقت تصور کیا جا سکتا ہو یا نہیں

ہمیں جبری مشقت کا تعین کرنے کے لئے ایک مزدور کے حالات کار کو دیکھنا ضروری ہے جن میں یہ چیزیں شامل ہیں۔

لف۔۔۔اجرت کے ریٹس۔۔۔۔اگر یہ مزدور ،کم از کم اجرت یا اتنی اجرت جو اسطرح کے دوسرے مزدوروں کو عام طور پر ملتی ہے، لے رہا ہے تو وہ جبری مشقت انجام نہیں دے رہا۔ مزید یہ کہ اگر کسی مزدور کا آجر اسکی اجرت میں سیزیادہ کٹوتیاں کر رہا ہے تو وہ بھی جبری مشقت کے زمرے میں آئے گا۔ 

ب۔۔۔کیا اسکی اجرت براہ راست اسے ہی دی جاتی ہے یا کوئی اور شخص اسکی اجرت وصول کر کے اپنے پاس رکھ لیتا ہے؟

ج۔۔۔اوقات کار۔۔۔کیا اسکے روزانہ کے اوقات کار قانون کے مطابق ہیں (یعنی آٹھ گھنٹے روزانہ اور اڑتالیس گھنٹے ایک ہفتہ میں)۔ اگر اسکا آجر اسے قانون میں دیئے گئے اوورٹائم کے گھنٹوں سے اوپر کام کرنے کیلئے مجبور کر رہا ہے تو یہ بھی جبری مشقت ہے۔ 

د۔۔۔نقل وحرکت اور پیشے کی آزادی۔۔۔کیا وہ مزدور اپنی مرضی سے (نوٹس دینے کے بعد)یہ کام چھوڑ سکتا ہے اور کسی اور جگہ جا کر اپنی مرضی سے کوئی نیا پیشہ اختیار کر سکتا ہے؟

ہ۔۔۔کاروبار اور تجارت کی آزادی۔۔۔۔کیا وہ مزدور اپنی اور اپنے خاندان کی محنت سے پیدا کردہ مصنوعات کو مارکیٹ میں اور مارکیٹ کے بھاؤ پر بیچ سکتا ہے؟

و۔۔۔کیا وہ مزدور کسی پیشگی یا قرضہ جاتی غلامی کے تحت کام کر رہا ہے کیونکہ پیشگی لینے یا دینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر اس سے قرضہ جاتی غلامی اور جبری مشقت پیدا نہ ہو۔ اور مزدور عام طور پر اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیئے اپنے آجروں سے پیشگی کے طور پر رقم لیتے ہیں لیکن ہر پیشگی سے جبری مشقت پیدا نہیں ہوتی۔

ز۔۔۔کیا وہ مزدور اپنے اصلی شناختی کاغذات/دستاویزات (جنمیں پاسپورٹس، شناختی کارڈ، ڈومیسائل اور تعلیمی اسناد) اپنے پاس رکھتا ہے یا اسکے آجر نے یہ کاغذات اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔ 

پاکستان میں جبری مشقت کے متعلق کون کون سے قوانین موجود ہیں؟ 

جبری مشقت کا نظام دراصل ان غریب مزدوروں کا استحصال کرتا ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیئے اپنے آجروں، زمینداروں سے قرض لیتے ہیں اور اس قرض کی ادائیگی کیلئے انکو اپنی بنیادی آزادی بھی گروی رکھنا پڑجاتی ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل3 کے مطابق یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ کو یقینی بنائے نیز بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کرے کہ ہر کسی سے کام اسکی اہلیت کے مطابق اور معاوضہ اسکے کام کے مطابق ہی دیا جائیگا۔ ایک شخص کو جبری مشقت تلے رکھنے سے مراد اسکو تمام بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے جن میںنقل وحرکت کی آزادی، اجتماعات اور نظریات سے وابستگی کی آزادی انجمن سازی کی آزادی،شخصی آزادی، کاروبار/پیشے کی آزادی، اظہاررائے کی آزادی اورشہریوں کے درمیان مساوات کے حقوق شامل ہیں۔

بھٹہ مزدوروں کے آئینی حْقوق

آئین کا آرٹیکل 11 خصوصی طور پر جبری مشقت اور غلامی سے ہی متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ:۔الف۔۔۔غلامی (فی الواقع اور قانوناً)معدوم اور ممنوع ہے اور پاکستان میں کوئی بھی قانون اسے پاکستان میں رواج دینے کی اجازت نہیں دے گا اور اسے کوئی حمایت فراہم نہیں کرے گا۔ب۔۔۔بیگار / جبری مشقت اور انسانوں کی سمگلنگ (یعنی خریدوفروخت) ممنوع ہے۔ آئین میں دی گئی ہدایات کے علاوہ، حکومت پاکستان نے جبری مشقت کے خاتمے کیلئے قوانین کا بھی اجرا کیا ہے:۔

الف۔۔۔بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ/جبری مشقت کے خاتمے کا قانون 1992۔ب۔۔۔بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ/جبری مشقت کے خاتمے کے قواعد 1995۔اس قانون کی دفعہ چار کے تحت ، اس ایکٹ کے اجرا پر ملک میں جبری مشقت کا نظام منسوخ کر دیا گیا ہے اور جبری مشقت کرنے والے تمام مزدور آزاد ہیں اور قرض خواہ کیلئے کسی بھی قسم کی مشقت/خدمت ادا کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔مزید یہ کہ اس ایکٹ کے اجرا سے قبل طے کیا گیا کوئی معاہدہ، رسم ورواج یا ریت جو کسی سے جبری مشقت لینے کے متعلق ہو تمام کالعدم ہیں۔ جبری قرض کی واپسی کیلئے کسی عدالت میں درخواست دائر نہیں کی جا سکتی اور جبری قرض کی وصولی کیلئے جاری کیا گیا ہر حکم کالعدم ہے اور یہ قرض وصول شدہ ہی تصور ہوگا۔ اس ایکٹ کے تحت جبری مشقت کرنے والے مزدوروں کو انکی جائیداد (جو انکے قرض خواہوں نے قرض واپس نہ کرنے کی صورت میں اپنے قبضہ میں لے لی تھی یا گروی رکھی ہوئی تھی) بھی واپس کرنے کا حکم ہے۔نیز قانون کے تحت قرض خواہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس جبری قرض کے بدلے میں اس قانون کے اجرا کے بعد کوئی رقم بطور قرض کی ادائیگی کے نہ لے۔

جبری مشقت کے خاتمے کیلئے ایک فنڈ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے اس فنڈ کی رقم کو جبری مشقت کے آزادہ کردہ مزدوروں کو ٹریننگ دینے اور انہیں اور انکے خاندانوں کو قانونی اور مالی امداد فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر ایک آجر (یا کوئی اور شخص) اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو اسکو کیا سزا ہوسکتی ہے؟

اس قانون کے تحت اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو جبری مشقت یا بیگار کیلئے مجبور کرتا ہے تو اسے کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا دی جاسکتی ہے یا اسے کم از کم پچاس ہزار روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہے ،یا دونوں سزائیں بیک وقت بھی دی جا سکتی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے حکم کے باوجود بھٹہ مزدوروں کو نہ علاج معالجہ کی کوئی سہولت محکمہ لیبر اینڈ ویلفیئر کے تمام ہسپتالوں میں فراہم کی جاتی ہے اور نہ انہیں سوشل سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔کیونکہ پاکستانی قوانین ہی بین الاقوامی معیار بشمول آئی ایل او کنونشن پر پورے نہیں اترتے۔ موجودہ ملکی قوانین کے سختی سے نافذ کرنے سے بھی مزدوروں کے حقوق کی حفاظت میں بڑی پیش قدمی ہو سکتی ہے۔ انسپکٹرز اوردوسرے حکام پر بوجھ سے یا پھر وہ ساز باز میں شریک ہو کر زیادتیوں کے عمل کو جاری رہنے دیتے ہیں۔ 14سال سے کم بچوں سے مشقت کروانا قانوناً جرم ہے۔ 2016 ء میں چائیلڈ لیبر آرڈیننس پاس کیا گیا۔ جس میں بھٹہ مزدوروں کے بچوں کی جبری مشقت کے خاتمہ کے علاوہ انھیں مفت تعلیم دینے کے حوالے سے اقدامات کئے گئے۔لیکن بعد ازاں وہ صرف کاغذی کارووائی تک محدود رہے۔اس لئے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متعلقہ لیبر قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں۔ پاکستان انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2012 اورصوبائی قوانین بین الاقوامی لیبر تنظیم (آئی ایل او)بشمول کنونشن نمبر 87 برائے آزادی انجمن سازی۔ کنونشن نمبر 98 حقوق برائے اجتماعی سودا کاری و تنظیم جن کی پاکستان نے توثیق کی ہوئی ہے کہ معیار پر پورے نہیں اترتے۔مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری حکومت پاکستان پر ہے۔ 

 

 

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دنیا کو لا حق خطرات میں سے ایک بڑا خطرہ منشیات کا خطرہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا غیر ترقی یافتہ، سب کے سب اپنے شہریوں کو منشیات س ...

مزید پڑھیں

جہاں ہسپتالو ں کافضلہ تلف کرنے کی بجائے نیلا م کیا جائے جہاں صاف پانی کے نام پر زہر ملتا ہو جہاں ملاٹ شدہ غذا کھلے عام فروخت ہوتی ہے وہاں خ ...

مزید پڑھیں

قیام پاکستان کے بعد سے فاٹا میں برطانوی نو آبادیاتی دور کے قوانین نافذ تھے۔تاج برطانیہ نے انہیں عدالتی نظام تک رسائی بھی نہیں دی تھی۔ ی ...

مزید پڑھیں