☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن کیرئر پلاننگ دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل عالمی امور دین و دنیا کچن کی دنیا روحانی مسائل ادب کھیل رپورٹ خواتین
منشیات کا پھیلتا ہو ا زہر

منشیات کا پھیلتا ہو ا زہر

تحریر : طاہر اصغر

07-14-2019

دنیا کو لا حق خطرات میں سے ایک بڑا خطرہ منشیات کا خطرہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا غیر ترقی یافتہ، سب کے سب اپنے شہریوں کو منشیات سے بچانے کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں۔ منشیات نے ایک و با کا روپ اختیار کر لیا ہے جو تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ اس وبا کا اصل منبع ہمارا پڑوسی ملک افغانستا ن ہے۔

67 لاکھ نشہ کرنے والوں میں 60فیصد کی عمر 15تا 30سال کے درمیان ہے۔ 16 لاکھ افراد ادویات کو بطور نشہ استعمال کرتے ہیں۔ منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت کس طرح ہماری نوجوان اور آنے والے نسلوں کے لئے زہر قاتل ثابت ہورہی ہے۔

یہ لوگ زیادہ تر چرس ،کیمیائی ادویات ،ہیروئن اور گٹکا وغیرہ کا استعمال ہوتے ہیں۔ کثیر تعداد ٹیکہ کے ذریعے ادویات کا استعمال کرتی ہے۔ بعض لوگ ایک ہی سرنج کا استعمال کرتے ہیں جس سے یرقان اور ایڈز کے امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔ ایک لاکھ کے قریب ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں میں سے 27فیصد ٹیکہ کے ذریعہ نشہ آور ادویات کا استعمال کرنے والے ہیں۔ٹیکے کا استعمال گردہ اورجگر وغیرہ کو بھی متاثر کرتا ہے،یہ نشئی معمول کی زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتے۔ کوئی بھی شخص پیدائشی طور پر منشیا ت کا عادی نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ برے دوستوں کی صحبت میں اس کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ یہ برے دوست اکثر فیشن کے طور پر منشیات کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ ذہنی پریشانی، دبا ئو ، ڈپریشن وغیرہ بھی بعض اوقات انسان کو نشے کے استعمال کی جانب لے جاتی ہیں۔ وہ لوگ جو فلموں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور نفسیاتی طور پر اس کے اچھے یا برے کرداروں کی پیروی کرتے ہیں ، وہ بھی نشے کی لت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ بہت سے مما لک میں نشہ آور ادویات ، اور منشیات کا استعمال ناقابلِ معافی جرم ہے جب کہ متعدد ممالک کے قوانین میں اس میں لچک موجود ہے۔ نشے کی عام دستیابی بھی اس کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔

بعض اوقات طبی نقطہ ضروریات کے مطابق بہت سی نشہ آوار ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیکل سٹورز پر سختی سے اس بات پر عمل کروانا چاہیے کہ یہ نشہ آور ادویات عوام الناس تک نہ پہنچیں۔ بچوں کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے۔ بری صحبت انسان کو نشے کی جانب کھینچ سکتی ہے جس سے اس میں غصہ ، امتحانات میں فیل ہونا، غیر حاضر رہنا،جسمانی ساخت میں اور سونے کی عادات میں تبدیلی اوررقم کی طلبی وغیرہ اس کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔

نئی چیزوںکے بارے میں تجسس ہونا فطری بات ہے اسی لئے منشیات کا استعمال بہت بڑھتا جارہا ہے۔تمباکو نوشی اور دوسری منشیات کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل بطور فیشن سگریٹ نوشی کرتی ہے ۔اس سے نوجوان اپنا تعلق اونچے گھرانے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔اونچے خاندانوں کی کچھ خواتین بھی منشیا ت کی عادی بنتی جا رہی ہیں۔پہلے تو ان سب چیزوں کا فلموں کو دیکھ کر پتہ چلتا تھا ،پر آجکل نوجوان کھلے عام نشہ کر رہے ہیں۔ منشیات، تمباکو نوشی وغیرہ بنانے والی کمپنیاںلاکھوں ڈالر خرچ کرتی ہیں۔وہ ان اشیاء کے استعمال کو ایک شاندار کام کے طور پر پیش کرتی ہیں۔اور نشے سے منافع کماتی ہیںلہٰذا اگر آپ اپنے دوستوں سے متاثر نہیں ہوتے تب بھی ان فنکارانہ ترکیبوں سے محتاط رہیں،جن کا مقصد آپ کو نشے کی طرف راغب کرنا ہے۔

نشے کی ابتداء کس طرح ہوتی ہے ؟اس کا سب سے بڑاسبب یہ ہے کہ ساتھیوں کا دبا ئو ،بالغ نظر آنے کی خواہش،یا پھر خاندان میں کوئی نشہ آور ہو اور آپ اسے آزما کر دیکھنا چاہتے ہو کہ اس سے کیا ہوتا ہے اور یہ کیسالگتا ہے۔بہت سے لوگ نوعمری میں نشہ شروع کردیتے ہیں۔ انہیں یہ توقع نہیں ہوتی کہ وہ اس کے عادی ہو جائیں گے۔اس کو شروع کرنا تو بہت آسان ہے مگر چھوڑنا انتہائی مشکل۔ شیشہ ،منشیات، تمباکو نوشی ،شراب نوشی وغیرہ جان لیوا ہیں۔ پھیپھڑوں کی بیماری اور دل کے امراض کا بھی سبب بنتی ہیں۔ اس عادت کی وجہ سے ہزاروںروپے بھی خرچ ہوجاتے ہیں۔شیشے کے مشترکہ استعمال سے اضافی خطرات بھی پیش آتے ہیںمثلاًٹی بی اور ہیپاٹائٹس کی منتقلی ۔شیشے کے دھویں میں کاربن مونو آکسائڈ جیسی زہریلی دھاتیں شامل ہوتی ہیں ۔ان سب کی مقدار زیادہ ڈالی ہوتی ہیں۔

منشیات کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ دیگر نئے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔جیسے کہ خراب جلد،خراب سانس،کپڑوں اور بالوں میں خراب بدبو،کھیلنے کی صلاحیت میں کمی،زخمی ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور صحت یاب ہونے میں تاخیر ہوتی ہے۔یہ نشہ جوڑوں کو آپس میں باندھنے والے ریشوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔شراب نوشی سے جسم کی اعضاء کی ہم آہنگی ختم ہونے لگتی ہے ،اندازہ کرنے کی صلاحیت میں کمی آجاتی ہے ،جسم میں سستی آجاتی ہے،نگاہ اور یاداشت میں کمی آجاتی ہے اور کچھ نہ یاد رہنے جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

منشیات کے خاتمے میں خصوصاًلڑکیوں کو اس سب بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیئے سب سے اہم کردار والدین ادا کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے اور بچیوں کا د یہان رکھیں کہ وہ اسکول ،کالج سے غیر حاضر تو نہیں،کہیں امتحان میں فیل تو نہیں،رقم کی طلب یا معمول سے زیادہ رقم تو پاس نہیںوغیرہ وغیرہ پر ضرور توجہ دیںاور چھان بین کریں کہ ہمارا بچہ یا بچی غلط کاموںمیں تو نہیں۔

پاکستان میں افیون پیدا نہیں کی جا تی ہے، مگر اس کے پڑوسی ملک افغانستان سے پاکستان اور کراچی کے ذریعے دنیا بھر میں بڑی مقدار میں منشیات فروشی کا ناجائز کاروبار جاری ہے۔نوجوان طبقہ کا یوں منشیات جیسی لعنت کی جانب راغب ہونا ہمارے اداروں کی کہیں نہ کہیں سے کمزوریوں کو ظاہر کر رہا ہے۔ہمسایہ ملک چین میں منشیات کی سزا موت ہے جبکہ اس کے ساتھ جڑے ملک افغانستان کے بارے میں یہی تاثر سامنے آ رہا ہے کہ کراچی کے راستے چمن اور خیبر سے منشیات کی سب سے زیادہ اسمگلنگ پاکستان ہوتی ہے حالانکہ افغانستان سے قریبی ممالک میں چائنہ،بنگلہ دیش،انڈیا اور ایران بھی ہیں مگر وہاں نشہ اس طرح عام نہیں جس طرح ہمارے ہاں منشیات کا کھلے عام دہندہ ہو رہا ہے،منشیات کے خاتمے کیلئے ذمہ داروں کو اپنا مناسب و اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اگر قبل از وقت کچھ نہ کیا گیا تو مستقبل تباہ ہوسکتاہے،کیونکہ ملک عزیز پاکستان کو لا حق خطرات میں سے ایک بڑا خطرہ منشیات کا خطرہ ہے،

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا غیر ترقی یافتہ، سب کے سب اپنے شہریوں کو منشیات سے بچانے کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں، منشیات نے ایک وبا کا روپ اختیار کر لی ہے ۔ منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے اب حکمت عملی ترتیب دینے کی بجائے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ چونکہ ہمارے قانون نافذکرنے والے ادارے اور ایجنسیاں گلیوں اور بازاروں میں عام لوگوں تک نشہ آور ادویات کی سپلائی کو کنٹرول نہیں کرسکے اس لئے ہم اور کمیونٹی کا فرض بنتاہے کہ وہ اپنے علاقہ اور قرب وجوار میںنشہ کی ترسیل اور استعمال کرنے والوں پر نگاہ رکھیں اور اس کی خرید و فروخت کو روکیں۔

ہمارے مذہب اسلام میں نشہ حرام ہے، اس لئے علماء حضرات کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔علماء حضرات خطبوں کے ذریعے اس پیغام کو عوام تک پہنچا کر ہماری نوجوان نسل کو نشہ کے مضر اثرات سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔وہ والدین کو متنبہ فرمائیں کہ وہ اپنے بچوں کی طرف توجہ دیں۔اور کچھ وقت ان کے ساتھ بھی گزاریں تاکہ وہ راہ ِراست پر رہیں اور اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں۔اس لئے قوانین کوسخت سے سخت بنایا جائے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کہا جاتا ہے کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر نہیں ہے، اسے عالمی طاقتوں نے بھلا دیا ہے مگر گزشتہ دو برسوں سے اقوام متحدہ بھارتی مقبوضہ کش ...

مزید پڑھیں

ورلڈ کپ کے عالمی میچوں میںمقبوضہ کشمیری بھی فریق ہوتے ہیں۔ہر گلی سے ایک ہی آواز اٹھتی ہے۔۔۔۔۔جیتے گا بھئی جیتے گا۔۔پاکستان جیتے گا۔۔ذر ...

مزید پڑھیں

جہاں ہسپتالو ں کافضلہ تلف کرنے کی بجائے نیلا م کیا جائے جہاں صاف پانی کے نام پر زہر ملتا ہو جہاں ملاٹ شدہ غذا کھلے عام فروخت ہوتی ہے وہاں خ ...

مزید پڑھیں