☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
بھارت نے تیس سال میں ایک ماورائے عدالت قتل کی انکوائری نہیں کی

بھارت نے تیس سال میں ایک ماورائے عدالت قتل کی انکوائری نہیں کی

تحریر : محمد ندیم بھٹی

07-28-2019

کہا جاتا ہے کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر نہیں ہے، اسے عالمی طاقتوں نے بھلا دیا ہے مگر گزشتہ دو برسوں سے اقوام متحدہ بھارتی مقبوضہ کشمیر پر رپورٹیں جاری کر رہی ہے، دوسرے ممالک کی طرح بھارت بھی اقوا م عالم کی نظروں میں ہے۔اس سلسلے کی پہلی رپورٹ مئی 2018ء میں شائع ہوئی تھی اور دوسری رپورٹ اسی سال سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے اجراء سے کچھ عرصہ قبل مقبوضہ کشمیر میں منتخب ادارے برطرف کر کے ریاست کو براہ راست مرکز کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔جسے گورنر راج بھی کہا جاتا ہے۔اقوام متحدہ نے رپورٹ میں پلوامہ حملے کا ذکر ضرور کیا مگر اس کا ذکر بھارتی فوج کی دستوں کی بھاری تعداد کی موجودگی سے جوڑ دیا۔اقوام متحدہ نے اس امر پربھی افسوس کا اظہار کیا کہ پہلی رپورٹ کے اجراء کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میںاصلاح احوال کی تدبیر کرنے کی بجائے صوبائی حکومت برطرف کر کے صدر راج لگا دیا،مرکز کے حکم پر 21نومبر 2018ء کے روز گورنر ستیہ پال ملک نے ریاستی اسمبلی برطرف کر کے نئے انتخابات کی عمل شروع کرنے کا دعویٰ کیا۔اگرچہ بھارت میں نئے انتخابات اپریل اور مئی کے درمیان مکمل ہو گئے مگرمقبوضہ کشمیر کے لئے اب تک کسی تاریخ کا اعلان تک نہیں کیا گیا۔یہ نتیجہ پہلی رپورٹ کا نکالا ہے۔ریاست کو براہ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں دینے سے ریاستی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ اکتوبر2018ء سے دسمبر کی درمیانی مدت دھونس، دھمکیوں اور تشدد کے دوران شہروں میں بلدیاتی اداروں اور دیہات میں پنچایتی اداروں کے انتخابات مکمل ہو گئے ہیں۔جموں و کشمیر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔یہ جماعت بھی آئین کے آرٹیکل 35اے کے اخراج کی مزاحمت کر رہی ہے۔دو مقامی جماعتوں نے بھی پنچایتی انتخات کا بائیکات کیا تھا۔دو سیاسی جماعتوں کے چھ کارکن موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے۔جس کے پیش نظر ٹرن آئوٹ انتہائی کم رہا۔

28فروری کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی مذہبی جماعت ،جماعت اسلامی کو ’’Unlawful Activities (Prevention) Act 1967‘‘کی دفعہ 3(1)کے تحت غیر قانونی قرار دے دیا۔تقریباََساڑھے تین ہفتے بعد، 22مارچ کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کی آزادی کی حامی جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (یاسین گروپ)کو کالعد م قرار دے کر تمام سرگرمیاں روکنے کا حکم جاری کیا۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا کہ کشمیری رہنمائوں نے نظر بندیوں اور گرفتاریوں پر کڑی تنقید کی ہے۔اور انہیں شہری آزادیوں کے منافی قرار دیتے ہوئے دوررس اثرات کا حامل قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے اثرات دیر تک قائم رہیں گے۔

اقوام متحدہ نے بتایا کہ ’’ جموں و کشمیر سول رائٹس سوسائٹی (JKCCS)کے مطابق 2018ء میں 160سویلین شہید کر دیئے۔گزشتہ دوس برسوں میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو شہید نہیں گیا گیا۔مسلح تنظیموں سے منسلک افراد کی شہادتیں 267اورسکیورٹی فورسز کی ہلاکتیں159ہیں۔بھارت نے اقوام متحدہ کے ان اعدا و شمار سے اختلا ف کیا ہے ۔ بھارت نے دسمبر 2018ء تک مقبوضہ کشمیر میںسکیورٹی فورسز کے 86افراد کے مارے جانے اور 37سویلین اورمسلح جدوجہد آزادی سے منسلک 238کی شہادتوںکا اعتراف کیا ہے۔اقوام متحدہ کو اس خوبصورت خطے میں2008ء سے2018تک 1081افراد کے ماورائے عدالت قتل اس امر پہ گہری تشویش ہے ۔ اقوام متحدہ کو بڑی تعدا دمیں سویلین کی شہادتوں کے باوجود انکوائری نہ ہونے پر تشویش ہے۔ رپورٹ کے مطابق اختیارات کے ناجائز استعمال سے ہونے والی شہادتوں کی انکوائری کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔2016ء میں شروع کی جانے والی ماورائے عدالت قتل کی پانچ انکوائریوں کے نتائج کا بھی علم نہیں۔پلوامہ میں ایک سکول کا پرنسپل رضوان دوران حراست تشدد سے 18اور 19مارچ کو جان کی بازہی ہار گیا اس پر کوئی انکوائری نہیں ہوئی۔16جولائی 2018ء کے روز بھارتی فوج نے عید کی نماز پڑھنے کے بعد گلے ملنے والوں پر فائرنگ کر دی ۔گردن اور گلے میں گولی لگنے سے ایک شہری شہید ہو گیا۔اس کی انکوائری کا بھی کچھ پتہ نہیں۔ 2017ء میں بھی ہلاکتوںاور مارائے عدالت قتل کی انکوائری نہیں کی گئی۔اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں جلوسوں کو کنٹرول کے لئے شاٹ گنوں کے استعمال پر بھی اظہار افسوس کیاہے۔مظاہرین کو قابو کرنے کے لئے شاٹ گنوں کو بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،بارہ بور کی پمپ ایکشن شاٹ گن پیلٹ گولیاں چلانے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔انسانی جان کے تحفظ کی خاطراورحق اجتماع کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت سکیورٹی فورسز کم نقصان دہ ہتھیار ہی استعمال کر نے کی مجاز ہیں۔اسی لئے دنیا شاٹ گنوں کے بلا اشتعال اور غیر ضروری استعمال پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکی ہے لیکن اس کا استعمال بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ شاٹ گنوں سے بڑے پیمانے پر شہریوں کی شہادتیں ہوئی ہیں۔اقوام متحدہ کو سری نگر سے اطلاع ملی تھی وہاں کے ایک ہری سنگھ نامی ہسپتال میں زخمیوں کا علاج کیا جاتا ہے،اس ہسپتال کے ذرائع کے مطابق لویئے کے چھروں سے 2016ء 2018ء تک 1253(کم از کم)افرادبینائی سے محروم ہو گئے۔غیر انسانی سلوک کے الزامات تو 1990ء کی دہائی سے ہی لگ رہے ہیں مگر بھارتی حکومت نے کسی ایک الزام پر بھی انکوائری کا حکم جاری نہیں کیا۔ایسا ایک مقدمہ بھی سول کورٹ میں نہیں چلایا گیا۔

 اگرچہ بھارتی سکیورٹی فورسز مختلف ریاستوں میں1990 ء کی دہائی سے ہی نام نہاد محاصرے اور سرچ آپریشنز جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔محاصرہ اور سرچ آپریشنز بہت زیادہ اعتراضات کا نشانہ بننے والی بھارتی حکمت عملی ہے۔ ا طریقے 2017ء میں وادی کشمیر پر بھی مسلط کر دیئے گئے۔ان حملوں کے دوران جسمانی تشدد،انسانی حقوق کی خلاف ورزی،غیر قانونی اور یک طرفی نظر بندی،اجتماعی سزا،اور جائیداد کی بربادی جیسے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے گئے۔فوج مظاہرین، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو نظر بند کرنے سے بھی نہیں چوک رہی۔ستمبر 2017ء میں اسلامی سربراہ کانفرنس نے بھی اس پر گہری تشویش ظاہر کی تھی۔نوجوانوں کو خاص طور پر اس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔JKCCSنے ایسے120مکانات اور جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں بھارتی سکیورٹی فورسز نے تباہ کر دیا تھا۔ان میں سے 31 نجی گھروں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔قوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کو بتا یا گیا کہ ’’اگرچہ ہائی کورٹ نے متعدد مرتبہ جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندیوں کوغیر قانونی قرار دے کر لوگوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کئے ہیںلیکن اس پھر بھی اس کا استعمال رکنے کا نام نہیں لے رہا۔کئی مرتبہ پہلی نظر بندی کی مدت ختم نہیں ہوتی، فرد ابھی جیل میں ہی ہوتا ہے کہ نظر بندی کے تازہ احکامات جاری کر دیئے جاتے ہیں۔یوںسیاسی مخالفین جیلوں میں رہتے ہیں۔اقوام متحدہی کا اشارہ کشمیری قائدین کی جانب ہے۔ جو طویل عرصہ سے جیلوں میں ہیں حتیٰ کہ عیدین بھی کئی لیڈروں نے جیل میں ہی گزاری ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں’’پبلک سیفٹی ایکٹ ‘‘کا اندھا دھند استعمال کیا جا رہا ہے۔جولائی 2018کی مثال لے لیجئے،بھارتی حکومت نے پبلک سیٹی ایکٹ میں ترمیم کے تحت جموں و کشمیر کے رہنمائوں کو دوسری ریاستوں کی جیلوں میں ڈالنے کا اختیار بھی حاصل کر لیاتھا۔

 مارورائے عدالت قتل اورسکیورٹی فورسزکی سرگرمیوں احتساب میں سب سے بڑی رکاوٹ ’’The Armed Forces Jammu & Kashmir Special Powers Act 1990‘‘ ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی بھی سکیورٹی اہل کار کے خلاف انکوائری ہو ہی نہیں سکتی ۔اس قانون کے نفاذ کو تین دہایاں بیت گئیں مگر اب تک بھارتی حکومت نے ایک ماورائے عدالت قتل کی انکوائری کی اجازت نہیں دی۔سکیورٹی فورسز فوجی عدالتوں کی کارروائی کو خفیہ ہی رکھتے ہیں اور اقوام وعالم کو کبھی کچھ نہیں بتایا گیا۔اقوام متحدہ کے علم میں یہ با ت بھی آئی کہ نچلی فوجی عدالت نے اگر کسی سکیورٹی اہلکار کو مجرم قرا ردے جیل بھیجنے کا حکم دیا تو بڑے فوجی ٹریبونل نے ماورائے عدالت قتل کرنے والے سکیورٹی اہل کاروں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں انٹر نیٹ سروس بند کر رکھی ہے لہٰذا عوام اس سروس سے محروم ہیں۔یونیسکو کے مطابق ۱پریل 2017ء سے مئی 2018ء تک سب سے زیادہ انٹی نیٹ سروس جنوبی ایشیا میں بند رہی۔اور انٹر نیٹ بند کرنے والے ممالک میں بھارت دنیا بھر میں ٹاپ پر ہے۔بھارت میں نصف سے زیادہ پابندیاں مقبوضہ کشمیر میں لگائی گئیں۔ انٹر نیٹ کی بندش پر نگاہ رکھنے والی تنظیم کے مطابق بھارت میں پابندیوں کے واقعات میں سے 134میں سے 65 مقبوضہ کشمیر پیش آئے ۔2019کے پہلے چار مہینوںمقبوضہ کشمیر میں25مرتبہ انٹر نیٹ سروس بند ہوئی ۔

بھارتی سپریم کورٹ میں آئین کر آرٹیکل 35اے کے بارے میں ایک درخواست زیر سماعت آنے سے سیاسی گرمی اپنے عروج پر ہے ۔اس آرٹیکل کے تحت کشمیری کی شہریت کا فیصلہ کشمیر حکومت کی بجائے بھارتی حکومت کرے گی۔ اس حق کے ذریعے ہی کوئی شخص وہاں نوکری ، جائیداد کی خریداری کا حق رکھتا ختم ہو جائے گا۔بھارت نے مسلمانوں کی شہریت بھی منسوخ بھی کی ہے، انہیں ’’غیر ملکی ‘‘ قرار دے کر ان کی جائیدوں پر قبضہ کا جا رہا ہے اور اصل کشمیریوں کو وہاں دے نکال کر کرہندوئوں کو آبادی کر انہیں شہریت دے کر مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔اسی لئے بھارتیہ جنتا پارٹی یہ اختیار مرکز کو دینا چاہتی ہے۔ جس طرح پورے بھارت میں 33لاکھ مسلمانوں کی شہریت کی تنسیخ کا عمل جاری ہے اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی دوسرے علاقوں ہندو لا کروہاں آباد کئے جائیں گے ۔ انہیں شہریت دے کر اصل کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کوعملی جامہ پہنایا جائے گا۔ بھارت ایسے اقدامات پہلے بھی اٹھا تا رہا ہے ۔ پنڈتوں کی آڑ میں سول ڈریس میں فوجیوں کو بھیجتا رہا ہے، ان میں سے کچھ تو آباد ہو گئے اور کچھ واپس چلے گئے۔اقوام متحدہ کے مطابق ’’بھارتی کشمیر کی سیاسی قیادت حکومت کی اس کارروائی کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی حکومت نے بھی درخواست مسترد کرنے کی استدعاکی ہے۔ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں یہ موقف اختیا کیا ہے کہ دو مرتبہ عدالت پہلے ہی اسے حل کر چکی ہے۔‘‘ اب مزید بحث کی گنجائش نہیں۔یونین حکومت نے معاملے کو انتہائی حساس قرار دے کرسماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی ہے۔فروری 2019ء میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے پبلک سیٹی ایکٹ(PSA) کے تحت گرفتار شدگا ن کی دوسری ریاستوں میں منتقلی کو خلاف قانون قرار دے دیا تھا ،مگر اس پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا۔اقوام متحدہ نے کہا کہ ’’بھارت کسی بھی شہری کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کر کے دوسری ریاست میں بھیجنے سے پہلے انہیں وکیل کی خدمات کے حصول، اور اپنے قانونی دفاع کی تیاری کے لئے مناسب وقت دینے کی بھی پابند ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے پبلک سیفٹی ا یکٹ کے تحت نظربندیوں کو ’’Lawless Law‘‘سے تعبیر کیا ہے، یکطرفہ نظر بندیوں کے لئے اس سے بہترالفاظ نہیں ہیں۔2018 اور 2019میں متعدد آزادی پسند رہنمائوں کو اسی قانون کے تحت جیلوں میں دڈال دیا گیا۔حکومت پہلے انہیں تین مہینے کے لئے نظر بند کرتی ہے اور پھر ٹھوس وجہ بتائے بغیر ہی نظربندی کی میعاد میں توسیع کر دی جاتی ہے۔انسانی حقوق کے کمیشن کو یہ بھی پتہ چلا کہ بھارتی ہائی کورٹ کی جانب سے رہائی کا حکم جاری ہونے کے باوجود رہنمائوں اور کارکنوں کو حراست میں رکھا جاتا ہے۔ہائی کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔اسی لئے اقوام متحدہ نے بھارت سے پبلک سیفٹی ایکٹ میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ’’The United Nations Treaty Bodies and Special Procedures‘‘ کے ذریعے سے جاری کی گئی ہے۔انسانی حقوق کی پاسداری کے لئے بھارت متعدد عالمی معاہدوںپر عمل درآمد پابند ہے۔

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

انسانی حقوق کا عالمی منشور 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا۔ جسے Universal Declearation of Humam Rights کہتے ہیں۔ یوں 10 دسمبر کا دن پو ...

مزید پڑھیں

ٹڈی سے مراد حشرات کی وہ قسم ہے جو بعض اوقات جھنڈ کی شکل میں اکٹھی اڑتی ہوئی آتی ہیں اور جس کھیت یافصل پر بیٹھ جائیں اسے چٹ کر جاتی ہیں ،در ...

مزید پڑھیں

پاکستان اور ہندوستان دو ایسے ترقی پذیر ملک ہیں جو ایٹمی ہتھیار کے مالک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس سینکڑوںایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ترقی ی ...

مزید پڑھیں