☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل

تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

11-03-2019

پریشانیاں دور

مجھے تعجب ہے اس شخص پر جسے کوئی خوف لاحق ہو اور وہ دعا نہ پڑھے جو صحابہ کرام ؓنے خوف کے وقت پڑھی تھی ۔وہ دعا یہ ہے :

{ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ} (سورۃ آل عمران : آیت ۱۷۳)

ترجمہ:’’ کافی ہے ہم کو اللہ اور کیا خوب کارساز ہے !‘‘

اس کا فائدہ قرآن پاک میں یہ بیان کیاگیا ہے :

{ فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْ ئٌ }

ترجمہ: ’’ پس لوٹے وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ اور ان کوکوئی پریشانی نہیں ہوئی۔‘‘ (سورئہ آل عمران : آیت ۱۷۴) مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو دشمنوں کے مکرو فریب میںمبتلا ہو اور وہ دعا نہ پڑھے جو فرعون کے خاندان کے ایک مومن نے پڑھی تھی … وہ دعا یہ ہے :

{ اُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللّٰہِ ۱ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ ۶بِالْعِبَادِ }

ترجمہ:’’ میں سونپتا ہوں اپنا کام اللہ کو ، بے شک اللہ کی نگاہ میں ہیں سب بندے ۔‘‘ (سورئہ مومن : آیت ۴۴)

اس کا فائدہ قرآن میںیہ بیان کیا گیاہے :

{ فَوَقٰہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَامَکَرُوْا} (سورئہ مومن : آیت ۴۵)

ترجمہ:’’ پس اللہ نے اس کو ان کے برے مکرو فریب سے بچالیا۔‘‘

 

 

 حصول نعمت 

﴿ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیْدِ اللّٰہِ ۸ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ۱ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۰ یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ۱ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴾ (سورۂ آل عمران : ۳۷، ۴۷)

اگرآپ کو اﷲ کی ہر نعمت حاصل کرنی ہے تو یہ دعا صبح وشام روزانہ سات (۷) دفعہ پڑھیں اور ہر حال میں اﷲ کا شکر کرتے رہیں۔

جنت اور دوزخ 

حضرت ابو ہریرہ ؓکہتے ہیں کہ رسول خدا ﷺنے فرمایا: ’’جانتے ہو لوگوں کو عام طور پر کون سی چیز جنت میں داخل کرتی ہے ؟ ‘‘ وہ تقویٰ (یعنی اﷲ سے ڈرنا) اور اچھا خلق ہے اور جانتے ہو!لوگوں کو عام طور پر کون سی چیز دوزخ میں لے جاتی ہے ؟ وہ ہیں زبان کا غلط استعمال اور پاکبازی ترک کرنا‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ)

 پتھری میں آرام 

حضرت ابودردا ء ؓکے پاس ایک آدمی آیا اور یہ کہا کہ اس کے والد کے گردے میں پتھر ی آگئی ہے ۔ انہوں نے در ج ذیل دعا سکھائی جو انہوں نے رسول پاک ﷺ سے حاصل کی تھی ۔ 

(رَبُّنَا الَّذِیْ فِی السَّمَآ ءِ تَقَدَّسَ اسْمُکَ اَمْرُکَ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ کَمَارَحْمَتُکَ فِی السَّمَآءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتُکَ فِی الْارْضِ وَاغْفِرْلَنَا حَوْبَنَا وَ خَطَایَانَا اَنْتَ رَبُّ الطَّیِّبِیْنَ فَاَنْزِلْ شِفَآ ءً شِفَآپکَ وَرَحْمَۃً مِّنْ رَّحْمَتِکَ عَلٰی ھٰذَا الْوَجْہِ)

ترجمہ:’’ ہمارا رب جو آسمان میں ہے ، مقدس ہے تیرا نام، تیرا حکم زمین وآسمان میں ہے جس طرح تیری رحمت آسمان میں ہے ، پس ڈال دے اپنی رحمت زمین میں ، ہمارے گناہ اور ہماری خطائیں معاف فرما، تو ہی پاکیزہ ہستیوں کا ربّ ہے ، اپنی شفاء سے شفاء اور اپنی رحمت سے رحمت اپنی بیماری پرنازل فرما۔‘‘امام نسانیؒنے بیا ن کیا کہ دو شخص عراق سے اسی طرح کی شکایت لے کر آئے ،لوگوں نے حضرت ابودرداء ؓکی نشانی دہی کی تو حضرت ابوداؤد ء ؓنے فرمایا کہ میں نے رسول پاک ﷺ سے سناہے کہ جسے یا جس کے بھائی کو یہ شکایت ہوا سے پڑھے۔ فائدہ:بیمار اس دعا کو پڑھتا رہے یہ نہ ہوسکے تو کوئی دوسرا شخص پڑھ کر اس پر دم کرے یا کاغذ پر لکھ کر اس کاپانی پلایا جائے ۔ (الدعاء المسنون : ص ۹۳۳)

 

کام میں آسانی 

’’ یَا سُبُّوْحُ یَا قُدُّوْسُ یَا غَفُوْرُ یَا وَدُوْدُ ‘‘ حاکم کے سامنے یا جس سے کام ہو یا جو پریشان کرتا ہو اس کے سامنے جانے پر اس سے بات چیت پر چپکے چپکے پڑھیں۔ بلا قید تعداد پڑھیں۔ 

حفاظت کرنے والی آیات 

وَ رَ بُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ ۰(سورۂ سبا : ۱۲) 

 ترجمہ : ’’ اور آپ کا رب ہرچیز کا نگران ہے۔‘‘

اَللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ وَ مَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ۰ (سورۂ شوریٰ: ۶)

ترجمہ : ’’ ان کی حفاظت صرف اﷲ کرتا ہے ان کی نگرانی کرنا آپ کی ذمہ داری نہیں۔‘‘ 

وَعِنْدَنَا کِتٰبٌ حَفِیْظٌ ۰(سورۂ قٓ : ۴ )

ترجمہ : ’’ہمارے پاس حفاظت کا دستور لکھا ہوا موجود ہے۔ ‘‘ 

وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ۰ (سورۂ انفطار : ۰۱ ) 

ترجمہ : ’’اور بے شک تم پر حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر ہیں۔ ‘‘

وعدہ کالحاظ 

حضرت عبداﷲ بن ابی حمساء رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺکے نبیؐ ہونے سے پہلے (ایک مرتبہ)میں نے آپ ﷺ سے ایک چیز خریدی اور کچھ قیمت کی ادائیگی مجھ پر باقی رہ گئی،میں نے آپ ﷺسے وعدہ کیا کہ میں بقیہ قیمت لے کر اسی جگہ آپ ؐکی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں۔لیکن میں اس وعدہ کو بھول گیا اور تین دن کے بعد یہ بات یاد آئی (تو آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا)تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ﷺ اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے او ر (مجھے دیکھ کر) فرمایا:کہ تم نے مجھے زحمت میں مبتلا کردیا، میں تین دن سے اسی جگہ بیٹھا ہوا تمہارا انتظار کررہا ہوں۔ (ابوداؤد)

شیطان

ایک مرتبہ دو شیاطین میں ملاقات ہوئی ۔ایک خوب موٹا تازہ تھا دوسرا بالکل دبلا پتلا۔ صحت مند نے پوچھا :بھائی آخر تم اتنے کمزور کیوں ہو؟ اس نے کہا: میں ایک بہت دیندار بندے کے ساتھ ہوں ،وہ کھاتے پیتے وقت بسم اﷲ پڑھتا ہے ،مجھے اس سے دور بھاگنا پڑتا ہے۔ یار یہ تو بتاؤ کہ تم نے اتنی جان کیسے بنا رکھی ہے؟موٹا تازہ شیطان بولا:میں ایک غافل شخص پر مسلط ہوں جو گھر میں بسم اﷲ پڑھے بغیر داخل ہو جاتا ہے اور کھاتے وقت بھی بسم اﷲ نہیں پڑھتا۔ لہٰذا میں اس کے تمام کاموں میں شریک ہو جاتا ہوں۔

) پھوڑے پھنسی کے لئے 

﴿ یَامَالِکُ ، یَاقُدُّوْسُ، یَاسَلَامُ ﴾

ہر شخص کو چاہیے کہ سرطان یا طاعون یا پھوڑے پھنسی کی بیماری سے بچنے کے لیے اس دعا کو صبح و شام گیارہ (۱۱) مرتبہ پڑھیں۔ انشاء اﷲ آپ محفوظ رہیں گے۔ 

 غافل کو راہِ راست پر لانا

﴿ وَاَھْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فتَخْشٰی ﴾ (سورۂ ناز عات : ۹۱)

جو سیدھی راہ سے بھٹک گیا ہو یا برے افعال میں پڑ گیاہو ، یا اﷲ کی یاد سے غافل ہوگیا ہو تو اس آیت کو روزانہ ایک سو ایک (۱۰۱) مرتبہ پانی پر دم کرکے اسے پلائیں۔

بخار کی تیزی 

﴿ یٰنَارُ کُوْنِیْ بَرْدً اوَّ سَلٰمًا عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ ﴾ (سورۂ انبیاء : ۹۶)

بخار کی تیزی ختم کرنے کے لیے یہ دعاء بار بار پڑھ کر مریض پر دم کریں ،ا ور غصہ اور ضد کو ختم کرنے کے لیے بھی اس دعا کا استعمال کریں۔ 

 جنت 

قیامت کے دن ایک ایسے شخص کو حاضر کیاجائے گا جس کے میزان کے دونوں پلڑے نیکی اور بدی کے برابر ہوں گے ۔ اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت سے فرمائیں گے کہ کسی سے نیکی لے لو جس سے تم کو جنت میں پہنچاؤں۔ اسے سب یہی کہیں گے کہ ’’مجھے اپنے بارے میں ڈر ہے کہ میری نیکی کا پلڑا ہلکا نہ ہوجائے ‘‘۔ اتنے میں ایک شخص پوچھے گا تجھے کیا چاہیے؟ وہ کہے گا: مجھے ایک نیکی چاہیے ۔ وہ شخص کہے گا، میرے پاس ایک ہی نیکی ہے ، تو اس کو میری طرف سے ہدیہ لے جا ۔وہ شخص اس کی نیکی کو لے کر بہت مسرت کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوگا۔ پھر اﷲ تعالیٰ اس شخص کو حاضر کرے گا جس نے اس کو نیکی دی تھی، اور اس سے اﷲ تعالیٰ کہے گا آج کے دن میری سخاوت کہیں زیادہ ہے ، لہٰذاتم دونوں جنت میں جاؤ۔ 

دسترخوان مناسب جگہ پر جھاڑا جائے 

حضرت مفتی محمد شفیع ؒایک مرتبہ مولانا سید اصغر حسین ؒ کے یہاں مہمان ہوئے۔ کھانے سے فراغت پر مفتی صاحب نے دسترخوان سمیٹناچاہا۔ مولانا اصغرؒ نے پوچھا:کیا کرنا چاہتے ہیں ؟ بتایا کہ دسترخوان جھاڑدوں۔ پوچھا: دسترخوان جھاڑ نا آتا بھی ہے ؟ مفتی صاحب حیران ہوئے کہ اس میں جاننے والی کون سی بات ہے۔ لہٰذا یوں پوچھا کہ آپ بتا دیجئے کیسے جھاڑتے ہیں ؟ فرمایا: یہ بھی ایک فن ہے۔ پھر ہڈیوں کو، گوشت لگی بوٹیوں کو، روٹی کے ٹکڑوں کواور چھوٹے ذرات کو الگ الگ کیا۔ پھر ہڈیوں کو ایسی جگہ پھینکا جہاں کتے کھا سکیں۔ گوشت لگی بوٹیوں کو ایسی جگہ پھینکا جہاں بلی کھا سکے۔ روٹی کے ٹکڑوں کو دیوار پر رکھ دیا تاکہ پرندے کھا سکیں۔چھوٹے چھوٹے ذرات کو ایسی جگہ ڈالا جہاں چیونٹیوں کا بل قریب تھا۔ پھر فرمایا: یہ اﷲ کا رزق ہے اس کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہونا چاہئے۔

%تلاوت قرآن کے آداب

قرآن مجید کی تلاوت کے آداب دو طرح کے ہیں۔ ایک آداب ظاہری اور دوسرے آداب باطنی۔ دونوں طرح کے آداب کی تفصیل درج ذیل ہے:

با وضواور قبلہ رو ہو کر بیٹھے اگر خوشبو لگا لے تو بہتر ہے۔

تلاوت کرتے وقت لباس بھی پاکیزہ ہونا چاہئے۔

 ایسی جگہ نہ بیٹھے جہاں آنے جانے والوں کو تنگی ہو یا ان کی پشت ہونے کا امکان ہو۔

قرآن مجید کو تکیہ، رحل یا اونچی جگہ پر رکھے۔

 تلاوت قرآن کا آغاز تعوذ اور تسمیہ سے کرے۔

جب دوران تلاوت کوئی سورت آجائے، تو تعوذ پڑھنے کی ضرورت نہیں صرف تسمیہ پڑھا جائے۔

 دل و دماغ کا سکون 

﴿ ھُوَ الَّذِیْ اَ نْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَا نِھِمْ ۱ وَ لِلّٰہِ جُنُوُدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۱ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۰﴾(سورۂ فتح : ۴ )

﴿وَ قَالَ لَــھُمْ نَبِیُّھُمْ اِ نَّ اٰ یَۃَ مُلْکِہٖٓ اَ نْ یَّاْ تِیَــکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّ بِّکُمْ وَ بَقِیَّــۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَ اٰلُ ھٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓپکَۃُ اِ نَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْ مِنِیْنَ۰﴾( سور ۂ بقرہ : ۷۴۲)

﴿ اِ ذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃ۔ الْجَاہِلِیَّۃِ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَــــہٗ عَلٰی رَسُوْ لِہٖ وَ عَلَی الْمُؤْ مِنِیْنَ وَالْزَ مَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَکَانُوْا اَ حَقَّ بِھَا وَ اَ ھْلَھَا ۱ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۰﴾ (سورۂ فتح : ۶۲)

-حفاظت کرنے والی آیات 

لَـــہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ ۶ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہ ٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ۰(سورۂ رعد : ۱۱)

ترجمہ :’’ اﷲ نے ہر شخص کے آگے پیچھے لگے ہوئے چوکیدار مقرر کر دیئے ہیں جو اﷲ کے حکم سے آدمی کی حفاظت کرتے ہیں۔ ‘‘

 اِنَّا نَحْنُ نَزَّ لْنَا الذِّ کْرَ وَ اِنَّا لَہ ٗ لَحٰفِظُوْنَ ۰(سورۂ حجر: ۹)

ترجمہ : ’’بے شک اس نصیحت نامہ کو ہم نے نازل فرمایا ہے اور یقینا ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ ‘‘

وَ کُنَّا لَھُمْ حٰفِظِیْنَ ۰(سورۂ انبیاء : ۲ ۸ ) 

 ترجمہ : ’’اور ان سب کے لیے حفاظت کرنے والے ہم تھے۔ ‘‘ 

) باتوں سے خوشبو آئے

زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیاجائے تو پھاڑ کھائے۔ 

نیک عمل کرو تمہاری عمر میں برکت ہو گی۔ 

جس گھر میں تعلیم یافتہ نیک ماں ہوتی ہے وہ گھر تہذیب اور انسانیت کی یونیورسٹی ہے۔ 

انسانوں میں سب سے اچھا انسان وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ 

دنیاکی عزت مال سے ہے اور آخرت کی عزت اعمال سے ہے۔ 

خوش کلامی ایک ایسا پھول ہے جو کبھی نہیں مر جھاتا۔

 خوش رہنا چاہتے ہو تو دو سروں کو خوش رکھو۔ 

اپنا انداز ِ گفتگو نرم رکھو ، کیونکہ لہجہ کا اثر الفاظ سے زیادہ ہوتا ہے۔ 

کسی سے بدلہ لینے میں جلدی نہ کرو اور کسی سے نیکی کرنے میں تاخیر نہ کرو۔ 

انسان کے اچھے اعمال ہی اسے احسان عطا کرتے ہیں۔ 

قیامت کے دن میزان ِ عمل میں سب سے زیادہ وزن دار چیز جو رکھی جائے گی وہ اچھے اخلاق ہوں گے۔ 

دن بر روزہ رکھنے اور رات بھر عبادت کرنے سے انسان جو مرتبہ حاصل کرتا ہے وہی درجہ وہ اچھے اخلاق سے حاصل کر لیتا ہے۔

+بیٹے یا بیٹی کا نکاح 

﴿ وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَہ ٗ نَسَبًا وَّصِھْرًا ۱ وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا﴾(سورۂ فرقان : ۴۵)

اگرآپ کے بیٹے یا بیٹی کا عقد نہ ہوتا ہو تو آپ اپنی اس مراد کے لیے یہ آیت اکیس (۱۲) دن تک تین سو تیرہ (۳۱۳) دفعہ پڑھیں۔

 تہمت سے نجات 

﴿ وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ﴾ (سورۂ یونس: ۲۸)

اگر کوئی جھوٹے مقدمہ میں پھنس گیا ہو یا کسی نے کسی پر جھوٹی تہمت لگائی ہو یا کسی کی عزت پر کوئی حرف آیا ہو وہ اس آیت کو اٹھتے بیٹھتے کثرت سے پڑھے۔ انشاء اﷲ اسے کامیابی حاصل ہوگی۔ 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دعا

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا : جب تم جنت کی دعا مانگو تو جنت الفردوس کی دعا مانگو۔ک ...

مزید پڑھیں

اولاد کی اصلاح

حضرت یوسف ؑکے برادران سے کبیرہ اور شدید گناہ سرزد ہوئے ۔حضرت یعقوبؑ نے صاحبزادوں ...

مزید پڑھیں

توبہ کی اہمیت

 

درود شریف تین بار ، سورئہ فاتحہ تین بار ، آیت الکرسی تین بار ، سورئہ اخلاص ...

مزید پڑھیں