☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سپیشل رپورٹ(طاہر محمود) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) ثقافت(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ و عجیب(انجنیئررحمیٰ فیصل) صحت(سید عبداللہ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک) دنیا کی رائے(راحیلہ سلطان)
روحانی مسائل اوران کا حل

روحانی مسائل اوران کا حل

تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

01-19-2020

گراں فروش کی سزا

امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ مسجد سے نکلے تواناج پھیلا ہوا دیکھا۔ پوچھا یہ غلہ کہاں سے آیا ہے۔ لوگوں نے کہا: بکنے کے لیے آیا ہے۔آپ ؓنے دعاکی یا اللہ ! اس میںبرکت دے ۔ لوگوں نے کہا یہ غلہ گراں بھائو پر بیچنے کے لیے پہلے سے جمع کرلیاگیاتھا؟ پوچھا کس نے جمع کیا تھا؟لوگوں نے کہا: ایک تو فروخ نے، اور دوسرے آزاد کردہ غلام نے۔ آپ ؓ نے دونوں کو بلوایا اور فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ جواب دیا کہ ہم اپنے مالوں سے خریدتے ہیں ، لہٰذا جب چاہیں بیچیں۔ ہمیں اختیارہے۔ آپ ؓ نے فرمایا : سنو! میں نے حضرت رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص مسلمانوں میں مہنگا بیچنے کے خیال سے غلہ روک رکھے ۔اسے اللہ تعالیٰ مفلس کردے گا یا جذامی۔یہ سن کر وہ کہنے لگے کہ ۔۔میری توبہ ہے اللہ تعالیٰ سے ۔ آپ ؓسے عہد کرتاہوں کہ پھر یہ کام نہیں کروں گا۔ لیکن غلام نے کہا کہ۔۔ ہم اپنے مال سے خریدتے ہیں اور نفع اٹھا کر بیچتے ہیں۔ اس میں کیا حرج ہے؟ راوی حدیث حضرت ابویحییٰ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے پھر دیکھا کہ اسے جذام ہوگیا اور جذامی بنا پھرتا تھا۔ (تفسیر ابن کثیر جلد ۱ صفحہ ۳۷۲)

والدین کا حق 

’’ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ رَ بِّ الْعٰلَمِیْنَ رَ بِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَ بِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَــہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وِالْاَرْضِ وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ لِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَ بِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ لَہُ الْعَظْمَۃُ فِی السَّمٰوٰتِ وَِالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ھُوَ الْمَلِکُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَرَبُّ الْاَرْضِ وَ رَ بُّ الْعٰلَمِیْنَ وَ لَہُ النُّوْرُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ ھُوَ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمُ ‘‘ ۔علامہ عینیؒنے شرح بخاری میں ایک حدیث شریف نقل کی ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ مذکورہ بالا دعاء پڑ ھے اور اس کے بعد یہ دعا کرے کہ یا اللہ اس کا ثواب میرے والدین کو پہنچا دے ، اس نے والدین کا حق ادا کر دیا اور تین مرتبہ قل ہو اللہ ، تین مرتبہ الحمد للہ شریف اور تین مرتبہ درو د شریف بھی شامل کر لیں تو والدین کا فرمانبر دار نہ ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ آدمی اگر کوئی نفل صدقہ کر ے تو اس میں کیا حرج ہے کہ اس کا ثواب والدین کو بخش دیا کرے بشر طیکہ وہ مسلمان ہوں اس صورت میں ان کو ثواب پہنچ جائے گا اور صدقہ کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ 

 گھر میں سلامتی 

گھر میں سلامتی کے لئے آپ جب بھی کوئی نماز پڑھیں فرض ہو ، واجب ہو ، نفل ہو ، اس کی آخری التحیات میں (یعنی دو رکعت کی تو ایک ہی التحیات ہوتی ہے لیکن چار رکعت میں تو دو مرتبہ التحیات میں بیٹھتے ہیں ) تو آخری التحیات جس میں آپ کو سلام پھیرنا ہوتا ہے اس میں جب آپ ربنا اتنا … الخ یا اللّٰھم انی ظلمت نفسی الخ یا کوئی بھی دعا پڑھتی ہیں اور سلام پھیرنے لگتی ہیں اس وقت سلام پھیرنے سے پہلے آپ یہ دعا بھی پڑھا کریں :

{ رَ بَّــنَــاھَبْ لَنَا مِنْ اَ زْ وَ ا جِنَا وَ ذُ رِّ یّٰتِنَا قُرَّ ۃَ اَعْیُنٍ وَّا جْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا۰ } (سورئہ فرقان: ۷۴)

اس دعا کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ آپ کے گھر کے سارے افراد کو آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دیں گے ، اس کی اجازت ان تمام عو رتوں کو ہے جو یہ آ واز سن رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ برکتیں عطا کر ے اور گھروں میں سکھ و سکون کی زندگی نصیب ہو۔ 

قاضی کا امتحان

حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ نے انہیں قاضی بنانا چاہا۔ مگرآپ ؓ نے معذرت کرتے ہوئے فرمایا: میں نے حضرت رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک نجات پائے گااور دو دوزخ میں جائیں گے۔ جس نے ظالمانہ فیصلہ کیا یا اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کیا وہ ہلاک ہو گا اور جس نے حق کے مطابق فیصلہ کیا وہ نجات پائے گا۔ 

 ثواب 

حضرت رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓسے فرمایا کہ ’’ کیا تم میں سے کوئی آدمی اس کی قدرت نہیں رکھتا کہ ہر روز قرآن کی ایک ہزار آیتیں پڑھا کرے۔‘‘ صحابہ کرامؓنے عرض کیا کہ روزانہ ایک ہزار آیتیں پڑھنا مشکل ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ تم میں کوئی {اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ} نہیں پڑھ سکتا۔ ‘‘ مطلب یہ ہے کہ {اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ}روزانہ پڑھنے کا بڑا ثواب ہے ۔

کام میں آسانی 

بسا اوقات لوگ کسی بڑے افسرکے پاس جاتے ہوے گھبراتے ہیں، اس صورتحال میںحاکم یا جس سے کام ہو یا جو پریشان کرتا ہو ،اس سے بات چیت سے پہلے چپکے چپکے پڑھیں۔ بلا قید تعداد پڑھیں۔ ’’ یَا سُبُّوْحُ یَا قُدُّوْسُ یَا غَفُوْرُ یَا وَدُوْدُ ‘‘ ۔اللہ کی رحمت سے پریشانی میںکمی آسکتی ہے۔ 

اعتماد

اسلام کا ایک سبق یہ ہے کہ دوست آپ پراعتماد کرکے دل کی بات کہہ دے تو اس کے راز کی حفاظت کیجئے اور کبھی دوست کے اعتماد کوٹھیس نہ لگایئے ۔ اپنے سینے کو رازوں کا محفوظ دفینہ بنایئے تاکہ دوست بغیر کسی جھجک کے ہرمعاملہ میںآپ سے مشورہ طلب کرے اور آپ دوست کو اچھے مشورے دے سکیں اور تعاون کرسکیں۔

چند اہم تجارتی اصول 

اونٹوں کے بازار میں حضرت علیؓ نے فرمایا’’سامان کی فروخت کے لئے قسم نہ کھائو،اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے ‘‘۔

آپؓنے دیکھا کہ ایک خادمہ رورہی ہے ۔ پوچھا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا اس نے مجھے ایک درہم کی کھجوریں دیں لیکن میرے آقا نے انہیںلینے سے انکار کردیا۔ حضرت علی ؓنے کھجور والے سے کہا تم اس سے کھجوریں واپس لے لو ۔ اسے درہم دے دو کیونکہ یہ اپنے مالک کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتی، وہ لینے سے انکار کرنے لگا ۔ وہاں موجود حضرت ابومطر ؓنے کہا ،کیا تم جانتے ہو یہ کون ہیں ؟۔ اس آدمی نے کہا نہیں ۔ انہوں نے کہا آپؓ حضرت علی امیرالمومنین ؓہیں۔ اس نے فوراً کھجوریںواپس لے لیں ۔اور کہا اے امیرالمومنینؓ ! میں چاہتا تھا کہ آپؓ مجھ سے راضی رہیں ۔ حضرت علی ؓنے فرمایا’’ جب تم لوگوںکو پورا دو گے تو میں تم سے بہت زیادہ راضی رہوں گا‘‘۔ آپؓ نے کھجوروالوں کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا’’ مسکینوں کو کھلایا کرو، اس سے تمہاری کمائی بڑھ جائے گی ۔‘‘پھر آپؓنے مچھلی والوںسے فرمایا ’’ ہمارے بازار میںوہ مچھلی نہیں بکنی چاہیے جو پانی میںمر کر اوپر تیرنے لگ گئی ہو۔ آپ ؓنے کپڑے کے بازار میں ایک دکاندار سے کہا ! مجھے اپنی قمیص تین درہم کی دے دو۔ اس دکاندار نے حضرت علی ؓکو پہچان لیا تو اس سے قمیص نہ خریدی، پھر دوسرے دکاندار کے پاس گئے جب اس نے بھی پہچان لیا تو اس سے بھی نہ خریدی ، پھر ایک نوجوان لڑکے سے تین درہم کی قمیص خریدی ( وہ آپ ؓکو نہ پہچان سکا) ۔ اصل دکاندار کپڑوں کا مالک آگیا تو اسے لوگوں نے بتایا کہ تیرے بیٹے نے امیرالمومنین کے ہاتھ تین درہم میں قمیص بیچی ہے ۔ تو اس نے بیٹے سے کہا تم نے آپ ؓ سے دو درہم کیوں نہ لیے۔ چنانچہ وہ دکاندار ایک درہم لے کر حضرت علی ؓکی خدمت میں آیا اور عرض کیا یہ درہم آپ ؓ ہم سے واپس لے لیں ۔ حضرت علی ؓنے فرمایا کیا بات ہے ؟۔ اس نے کہا کہ اس قمیص کی قیمت دو درہم تھی میرے بیٹے نے آپؓ سے تین درہم لے لیے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا’’ اس نے اپنی رضا مندی سے تین درہم میں بیچی اور میں نے اپنی خوشی سے تین میں خریدی ہے ۔‘‘ 

گناہ سے بچنا

عموماً گناہ کرنے کی چند بڑی وجوہات ہوتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے ان تمام وجوہات کے جوابات قرآنِ مجید میں ارشاد فرما دیئے ہیں۔گناہ کرنے کی ان وجوہات کا جواب قرآنِ مجید میں دینے کی وجہ یہ تھی کہ انسان گناہوں سے بچ جائے اور اپنے پروردگار کا فرمانبردار بندہ بن جائے، شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ انسان کو گناہوں میں مست رکھے اور رحمن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ انسان ظاہر ہو یا پوشیدہ جو بھی گناہ کرتا ہے اس کو چھوڑ دے۔ اب بندے کو چاہئے کہ اپنے پروردگار کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے گناہوں بھری زندگی کو چھوڑ دے اور نیکیوں والی زندگی کو اختیار کرے۔ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ مجھے گناہ کرتے وقت کوئی نہیں دیکھ رہا ، پروردگارِ عالم نے اس کا جواب یوں دیا ہے: ’’اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ‘‘ کہ تیرا ربّ تیری گھات میں لگا ہوا ہے۔‘‘ (سورۃ الفجر: آیت ۱۴) دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ میرے پاس کوئی نہیں ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ جب تم تین ہوتے ہو تو وہ چوتھا ہوتا ہے: ’’وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ‘‘کہ وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو۔ (سورۃ الحدید: آیت ۴)تیسری وجہ گناہ کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ میری حرکتوں کا کسی کو پتا نہیں چلا۔ جبکہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ‘‘ قنیہ وہ جانتا ہے تمہاری آنکھوں کی خیانت کو اور جو تمہارے دلوں میں چھپا ہوا ہے۔ (سورۃ مومن: آیت ۱۹)چوتھی وجہ گناہ کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ آدمی یہ کہتا ہے کہ میں اگر یہ برائی کرتا بھی ہوں تو کوئی میرا کیا کر لے گا۔ جی ہاں! جب انسان باغی ہو جائے اور گناہ پر جرأت بڑھ جائے تو وہ بے شرم ہو کر ایسی باتیں کہہ دیتا ہے۔ اﷲ ربّ العزت اس کا بھی جواب دیتے ہیں۔ فرمایا: ’’اِنَّ اَخْذَہٗ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ‘‘ اس پروردگار کی پکڑ بڑی درد ناک اور بڑی شدید ہے۔ (سورۃ الھود: آیت ۱۰۲) ’’وَلاَ یُوْثِقُ وَثَاقَہٗ اَحَدٌ‘‘ ایسے باندھے گا کہ تمہیں ایسے کوئی دوسرا باندھ نہیں سکتا۔ (سورۃ الفجر: آیت ۲۶) ’’فَاِنِّیْ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لاَّ اُعَذِّبُہٗ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِیْنَ‘‘ میں پروردگار وہ عذاب دوں گا کہ جہانوں میں کوئی دوسرا عذاب دے نہیں سکتا۔ (سورۃ المائدہ: آیت ۱۱۵)

پریشانی میں کمی 

حضرت جعفر الصا دقؒ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے تعجب ہے چار قسم کے آدمیوں پر جو چار باتوں سے غافل ہیں : مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو مصیبت میں پھنساہو اہو اور ’’یٰٓاَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ‘‘ نہ پڑھتا ہو ، حالانکہ قرآن پاک میں حضرت ایوبؑ کے بارے میں ارشاد ہے:

{وَاَیُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰ حِمِیْنَ}(سورئہ انبیاء : آیت ۸۳)

ترجمہ:’’اور ایوب ؑنے جب اپنے رب کو پکارا کہ میں مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں آپ ’’یٰٓاَ رْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ‘‘ ہیں۔‘‘

اس دعا کا فائدہ خود قرآن کریم میںیہ بیان کیاگیا ہے کہ :

 { فَاسْتَجِبْنَا لَہ ٗ فَکَشَفْنَا مَا بِہٖ مِنْ ضُرٍّ } (سورئہ انبیاء : آیت ۸۴)

ترجمہ:’’ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی تکلیف دور فرمائی ۔‘‘

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

آندھی میں دعا کیجئے    جب تیز ہوا چلتی یا آندھی آتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَ خَیْرَمَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ ’’اے اللہ میں تجھ سے مانگتاہوں وہ بھلائی (جو طبی طور پر) اسمیں تو نے رکھی ہے، اور وہ بھلائی جو اس میں پوشیدہ ہے، یعنی منافع،اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتاہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں رکھی گئی ہے،اور اس چیز کی برائی سے جس کے لئے اس کو بھیجا گیا ہے۔ ‘‘     

مزید پڑھیں

’’العظیم ‘‘ کی تاثیر اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات فہم و شعور کی رسائی سے بھی زیادہ بزرگ و برترہے۔ یعنی اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے اس کی بزرگی و بڑائی اور عظمت اتنی زیادہ ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی فہم و شعور اس کی عظمت و بڑائی کا ادراک بھی نہیں کر سکتا۔اس اسم کو پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ عظمت الٰہی کے آگے کونین کو بھی حقیر جانے، دنیا کے لئے کسی کے آگے اپنا سر نہ جھکائے۔ اپنے نفس کو حقیر جانے اور اﷲ تعالیٰ نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم کیا ہے ان کو اختیار کر کے اور جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ان سے اجتناب کرے اور جو چیزیں خدا کو محبوب ہیں ان میں مشغول رہے۔ تاکہ خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔خاصیت:جو شخص اس اسم پاک کو پڑھنے پر مداومت و ہمیشگی اختیار کرے وہ مخلوق خدا کی نظروں میں عزیز و مکرم ہو گا۔     

مزید پڑھیں

 شر سے حفاظت   اول و آخر درود شریف گیارہ گیارہ مرتبہ : { حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ} حفاظت از شر ور و فن ۳۴۱ مرتبہ  برائے وسعت رزق و ادائے قرض ۳۴۱ مرتبہ  برائے تکمیل خاص کام ۱۱۱مرتبہ  برائے کفالت از مصائب و پریشانی ۱۴۰مرتبہ  

مزید پڑھیں