☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
روحانی مسائل اور انکا حل

روحانی مسائل اور انکا حل

تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

02-02-2020

/چند مزید آیات ِ حفاظت 
وَ یُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً۰(سورۂ انعام : ۱۶)
ترجمہ : ’’ اور اﷲ تم پر حفاظت کرنے والے پہریدار بھیجتا ہے۔ ‘‘ 
اِنَّ رَ بِّیْ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ ۰ (سورۂ ہود : ۷۵ )
ترجمہ : ’’ بے شک میرا رب ہر چیز پر خود ہی نگہبان اور حفاظت فرمانے والا ہے۔ ‘‘ 
لَـــہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ ۶ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہ ٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ۰(سورۂ رعد : ۱۱)
ترجمہ :’’ اﷲ نے ہر شخص کے آگے پیچھے لگے ہوئے چوکیدار مقرر کر دیئے ہیں جو اﷲ کے حکم سے آدمی کی حفاظت کرتے ہیں۔ ‘‘
 اِنَّا نَحْنُ نَزَّ لْنَا الذِّ کْرَ وَ اِنَّا لَہ ٗ لَحٰفِظُوْنَ ۰(سورۂ حجر: ۹)
ترجمہ : ’’بے شک اس نصیحت نامہ کو ہم نے نازل فرمایا ہے اور یقینا ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ ‘‘
وَ کُنَّا لَھُمْ حٰفِظِیْنَ ۰(سورۂ انبیاء : ۲ ۸ ) 
 ترجمہ : ’’اور ان سب کے لیے حفاظت کرنے والے ہم تھے۔ ‘‘ 
وَ رَ بُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ ۰(سورۂ سبا : ۱۲) 
 ترجمہ : ’’ اور آپ کا رب ہرچیز کا نگران ہے۔‘‘
 

 

 پتھری کا علاج 
حضرت ابودردا ؓء سے ایک آدمی نے کہا کہ اس کے والد کے گردے میں پتھری آگئی ہے ۔ انہوں نے در ج ذیل دعا سکھائی جو انہوں نے رسول پاک ﷺ سے حاصل کی تھی ۔اﷲ کی رحمت سے اس دعا سے تکلیف میں کمی آ سکتی ہے 
(رَبُّنَا الَّذِیْ فِی السَّمَآ ءِ تَقَدَّسَ اسْمُکَ اَمْرُکَ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ کَمَارَحْمَتُکَ فِی السَّمَآءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتُکَ فِی الْارْضِ وَاغْفِرْلَنَا حَوْبَنَا وَ خَطَایَانَا اَنْتَ رَبُّ الطَّیِّبِیْنَ فَاَنْزِلْ شِفَآ ءً شِفَآپکَ وَرَحْمَۃً مِّنْ رَّحْمَتِکَ عَلٰی ھٰذَا الْوَجْہِ)
ترجمہ:’’ ہمارا رب جو آسمان میں ہے ، مقدس ہے تیرا نام، تیرا حکم زمین وآسمان میں ہے جس طرح تیری رحمت آسمان میں ہے ، پس ڈال دے اپنی رحمت زمین میں ، ہمارے گناہ اور ہماری خطائیں معاف فرما، تو ہی پاکیزہ ہستیوں کا ربّ ہے ، اپنی شفاء سے شفاء اور اپنی رحمت سے رحمت بیماری پرنازل فرما۔‘‘امام نسانیؒ نے بیا ن کیا کہ دو شخص عراق سے اسی طرح کی شکایت لے کر آئے ،لوگوں نے حضرت ابودرداء ؓکی نشان دہی کی تو آپ ؓنے کہا کہ میں نے رسول پاکﷺ سے سناہے کہ جسے یا جس کے بھائی کو یہ شکایت ہوا سے پڑھے۔بیمار اس دعا کو پڑھتا رہے یہ نہ ہوسکے تو کوئی دوسرا شخص پڑھ کر اس پر دم کرے یا کاغذ پر لکھ کر اس کاپانی پلایا جائے ۔
 
 عذاب 
ایک مرتبہ حضرت رسولِ خدا ﷺ اپنے صحابہ ؓکی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے ، ایک چھوٹا سابچہ راہ میں کھیل رہاتھا۔ اس کی ماں نے جب دیکھا کہ ایک جماعت کی جماعت آرہی ہے تو اسے ڈرلگا کہ بچہ روندن میں نہ آجائے ۔ میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اُٹھا لیا ۔ اس پر صحابہؓ نے کہا: حضورؐیہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی ۔آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اﷲ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہر گز جہنم میں نہیں لے جائے گا۔ ‘‘ 
آخری کلمات 
اگر مریض ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے تو اس کے ساتھ بار بار باتیں مت کر و ۔ اس کا آخری کلام کلمہ ہی رہنے دیں۔ ایسا نہ ہو کہ بہن آ کر کہے ، مجھے پہچان رہے ہو، میں کون ہوں ؟۔ اس وقت اس سے اپنی پہچان مت کر وائیں اور خاموش رہیں تاکہ اس کا پڑھا ہوا کلمہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جائے۔ یہ چیزیں صاحب دل لو گوں کے پاس بیٹھ کر سمجھ میں آ تی ہیں ورنہ اکثر رشتہ دار اس پر ظلم کر تے ہیں اور اسے اس وقت کلمہ سے محروم کر دیتے ہیں۔ اﷲ کرے کہ موت کے وقت کوئی صاحب دل پاس ہو جو بندے کو اس وقت کلمہ پڑھنے کی تلقین کر دے۔ 
1لفظ’’اﷲ‘‘ کا ورد کیجئے
اللّٰہُ جَلَّ جَلَالُـــہ  ……(یہ ذاتی نام ہے ، معبود برحق ، خداتعالیٰ ، معبود حقیقی )اسے روزانہ ایک ہزار با رپڑھنے سے کمال یقین نصیب ہوتاہے۔ نماز جمعہ سے پہلے پاک وصاف ہوکر خلوت میں پڑھنے سے مقصود آسان ہوجاتاہے ۔ جس مرض کے علاج کے لئے پڑھاجائے تو وہ اچھا ہو جاتا ہے،بشرطیکہ موت کا وقت نہ آگیا ہو۔ ہر نماز کے بعدایک سو بار پڑھنے والاصاحب ِ باطن وصاحب ِ کشف ہوجاتاہے۔چھیاسٹھ بار لکھ کر دھو کر مریض کو پلانے سے اﷲ تعالیٰ شفاء عطا فرماتا ہے ، خواہ آسیب کا اثر کیوں نہ ہو۔آسیب زدہ کے لیے کسی برتن پر ﴿اَللّٰہُ﴾اس برتن کی گنجائش کے بقدر لکھ کر اس کا پانی آسیب زدہ پر چھڑکیں تو اس پر مسلط شیطان جل جاتاہے۔جو شخص ﴿اَللّٰہُ﴾ کا محبت الٰہی کی وجہ سے ذکر کرے گا اور شک نہیں کرے گا وہ صدیقین میں سے ہوگا۔جو ہر نماز کے بعد سات (۷) بار ﴿ھُوَ اللّٰہُ الرَّحِیْمُ ﴾پڑھتا رہے گا اس کا ایمان سلب نہیں ہوگا، اور وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا۔جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز پڑھ کر قبلہ رُخ بیٹھ کر مغرب تک ﴿یَااَللّٰہُ یَا رَحْمٰنُ﴾ پڑھتا رہے گا، پھر اﷲ تعالیٰ سے جو چیز مانگے گا اﷲ تعالیٰ اس کوعطا فرمائیں گے۔
%گھر والوں کی حفاظت 
ایک صحابیؓ نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ ! مجھے اپنی جان اور اپنی اولاد اور اپنے اہل وعیال اور مال کے بارے میں خوفِ ضرر رہتاہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا صبح وشام یہ پڑھ لیاکرو:
(بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی دِیْنِیْ وَنَفْسِیْ وَوَلَدِیْ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ)
چند دن کے بعد یہ شخص آئے تو آپﷺ نے دریافت فرمایا: اب کیا حال ہے؟ عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث فرمایا ، میرا سب خوف غائب ہوگیا۔(کنزالعمال)
)عیادت اور مزاج پرسی 
 آپ ﷺکی ایک ایک سنت اﷲ کو محبوب ہے، اور جو اس کو اختیار کرے گا یقینا وہ اﷲ کا محبوب ہوگا: ’’فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اﷲُ ‘‘ (سورۃ العمران، آیت ۱۳) 
حضرت رسول اﷲ ﷺمسلمان اور غیر مسلم مریضوں کی عیادت فرمایا کرتے تھے۔ جو بڑا منافق تھا، یعنی عبداﷲ بن ابی، اس کی بھی آپﷺ نے عیادت فرمائی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک یہودی لڑکا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا اور کبھی کبھار آپ ﷺاس سے کوئی کام بھی لے لیا کرتے تھے، وہ بیمارہوگیا۔ سرکارِ دو عالم ﷺاس کے پاس عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور آپ ﷺاس کے سر کے قریب بیٹھ گئے۔ اس لڑکے کا آخری وقت تھا، آپ ﷺنے ازراہِ شفقت اور اپنے حق رسالت کو ادا کرتے ہوئے اس لڑکے کو اسلام کی تبلیغ فرمائی، لڑکے نے اپنے یہودی باپ کی طرف دیکھا۔ باپ دین محمدی ﷺ کی حقانیت سے واقف تھا اس لئے قبول اسلام کی اجازت دے دی اور وہ لڑکا مشرف بہ ا سلام ہوگیا اور اسلام پر اس کا خاتمہ ہوا۔ رسول اﷲ ﷺکو بے حد مسرت اور خوشی ہوئی اور اﷲ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْقَذَہُ مِنَ النَّارِ‘‘ غرض یہ کہ آپ ﷺکی عادتِ مبارکہ کو اہل علم سے معلوم کر کے ہمیں اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانا چاہیے۔ 
اَلشَّھِیْدُ کے معنی اورخواص
اَلشَّھِیْدُ جَلَّ جَلَالُـــہ ٗ (حاضر وناظر ، حاضر وباخبر جس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہ ہو)
خواص تین ہیں :جس شخص کی بیوی یا اولاد نافرمان ہو وہ صبح کے وقت اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اکیس (۱۲) مرتبہ ﴿یَاشَھِیْدُ﴾ پڑھ کر دم کرے ، انشاء اﷲ فرمانبردار ہوجائے گی۔ بعض علماء کے نزدیک اکیس (۱۲) کے بجائے اکتیس (۱۳) بار پڑھنا مفید ہے۔ 
جو اس اسم کو پابندی سے پڑھے گا اسے انشاء اﷲ گناہوں سے پرہیز گاری نصیب ہوگی۔ اہل مراقبہ اور شہادت کے متمنی حضرات کے لیے یہ اسم بہت مناسب اور مفید ہے۔
/اَلْوَکِیْلُ کے کے خواص
اَلْوَکِیْلُ جَلَّ جَلَالُـــہ ٗ (بڑا کارساز) کے سات ہی اہم خواص اس طرح ہیں:
جو کوئی کسی بھی آسمانی آفت کے خوف کے وقت ﴿یَاوَکِیْلُ﴾کا ورد کرے گا اور اس اسم کو اپنا وکیل بنالے گا وہ انشاء اﷲ ہر آفت سے محفوظ رہے گا۔جو کوئی ہر روز عصر کے وقت سات (۷) بار یہ اسم مبارک پڑھے گا، وہ اﷲ کی پناہ میں رہے گا۔ 
جو بُرے کاموں سے نہ بچ سکے دس (۰۱) بار یہ اسم مبارک پڑھ کر اپنے اوپر دم کرے اور لکھ کر اس کا پانی پئے انشاء اﷲ بُرے کام سے نجات ملے گی۔ جو اسے بہت پڑھے گا، اﷲ تعالیٰ اس کے کاموں کا ذمہ دار ہوگا، اور اس کو اس کی خواہشوں کے حوالے نہیں فرمائے گا۔ جو کوئی اس اسم کو ایک سو چھیانوے (۶۹۱) بار ہر روز پڑھ لے ظالم کے ظلم سے انشاء اﷲ بچارہے گا اور کسی سے نہیں ڈرے گا۔یہ اسم ’’ اسم اعظم‘‘ کے مطابق ہے۔ ہر حاجت کے لیے اس کی کثرت مفید ہے۔ 
پریشانی میں کمی
مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو غم میں پھنسا ہو اہو اور وہ یہ دعا نہ پڑھے جو حضرت یونس ؑنے مچھلی کے پیٹ میں پڑھی تھی ۔وہ دعا یہ ہے:﴿لَا ٓاِلٰہَ اِلاَّ ٓاَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴾ترجمہ:’’ تیرے سوا کوئی حاکم نہیں ، تو بے عیب ہے ، میں گناہگار ہوں ۔‘‘ (سورۂ انبیاء : آیت ۷۸)
اس کا فائدہ قرآن پاک میں یہ بیان کیاگیاہے :﴿ فَا سْتَجَبْنَا لَہ ٗ۵وَ نَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ۱وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ﴾(سورۂ انبیاء : آیت ۸۸ )ترجمہ:’’ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو غم سے نجات دی، اور اسی طرح ہم مومنین کونجات دیا کرتے ہیں ۔‘‘
مجھے تعجب ہے اس شخص پر جسے کوئی خوف لاحق ہو اور وہ دعا نہ پڑھے جو صحابہ کرام ؓنے خوف کے وقت پڑھی تھی ۔وہ دعا یہ ہے :﴿ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ﴾ (سورۃ آل عمران : آیت ۳۷۱) ترجمہ:’’ کافی ہے ہم کو اﷲ اور کیا خوب کارساز ہے !‘‘
اس کا فائدہ قرآن پاک میں یہ بیان کیاگیا ہے :﴿ فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْ ءٌ ﴾ترجمہ: ’’ پس لوٹے وہ اﷲ کی نعمت اور فضل کے ساتھ اور ان کوکوئی پریشانی نہیں ہوئی۔‘‘ (سورۂ آل عمران : آیت ۴۷۱)
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 بلا کاخوف مسند بزار میں اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص شروع دِن میں آیۃ الکرسی اور سورئہ مؤمن (کی پہلی تین آیتیں حٰمٓ سے اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ تک ) پڑھ لے گا تو وہ اس دن ہر برائی سے اور تکلیف سے محفوظ رہے گا۔ اس کو ترمذی نے بھی روایت کیا ہے جس کی سند میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر جلد ۴صفحہ ۶۹۔ معارف القرآن جلد ۷صفحہ ۵۷۱)    

مزید پڑھیں

آندھی میں دعا کیجئے    جب تیز ہوا چلتی یا آندھی آتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَ خَیْرَمَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ ’’اے اللہ میں تجھ سے مانگتاہوں وہ بھلائی (جو طبی طور پر) اسمیں تو نے رکھی ہے، اور وہ بھلائی جو اس میں پوشیدہ ہے، یعنی منافع،اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتاہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں رکھی گئی ہے،اور اس چیز کی برائی سے جس کے لئے اس کو بھیجا گیا ہے۔ ‘‘     

مزید پڑھیں

’’العظیم ‘‘ کی تاثیر اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات فہم و شعور کی رسائی سے بھی زیادہ بزرگ و برترہے۔ یعنی اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے اس کی بزرگی و بڑائی اور عظمت اتنی زیادہ ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی فہم و شعور اس کی عظمت و بڑائی کا ادراک بھی نہیں کر سکتا۔اس اسم کو پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ عظمت الٰہی کے آگے کونین کو بھی حقیر جانے، دنیا کے لئے کسی کے آگے اپنا سر نہ جھکائے۔ اپنے نفس کو حقیر جانے اور اﷲ تعالیٰ نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم کیا ہے ان کو اختیار کر کے اور جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ان سے اجتناب کرے اور جو چیزیں خدا کو محبوب ہیں ان میں مشغول رہے۔ تاکہ خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔خاصیت:جو شخص اس اسم پاک کو پڑھنے پر مداومت و ہمیشگی اختیار کرے وہ مخلوق خدا کی نظروں میں عزیز و مکرم ہو گا۔     

مزید پڑھیں