☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا خواتین(نجف زہرا تقوی)

تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

03-22-2020

آندھی میں دعا کیجئے   
جب تیز ہوا چلتی یا آندھی آتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَ خَیْرَمَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ
’’اے اللہ میں تجھ سے مانگتاہوں وہ بھلائی (جو طبی طور پر) اسمیں تو نے رکھی ہے، اور وہ بھلائی جو اس میں پوشیدہ ہے، یعنی منافع،اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتاہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں رکھی گئی ہے،اور اس چیز کی برائی سے جس کے لئے اس کو بھیجا گیا ہے۔ ‘‘ 
 

 

 

 

محنت

 دعا اور محنت میں موافقت ضروری ہے۔ بان نبیوں والی دعا میں مصروف ہے۔کہتا ہے {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } اور بازار میں بدن {الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِّــیْــنَ} والے طریقے پر حرکت کرتا ہے، تو دعااور محنت میں موافقت کی جائے۔ {وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا } اللہ کے راستے کی محنت کرو،راستہ دور سے بند نظر آتا ہے۔ چلنا شرو ع کروکھلتا جائے گا۔ دعا اور محنت میں موافقت ہو جائے گی اور نیک ثمرات مرتب ہوں گے۔

 
 

 بت پرستی

  اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہ ٗ ھَوٰ ٹہُ   (سورئہ فرقان : ۴۳)

ترجمہ: ’’ اے پیغمبر! آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی ہے جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنارکھا ہے۔ ‘‘اس آیت میں اس شخص کو جو اسلام وشریعت کے خلاف اپنی خواہشات کا پیرو ہو یہ کہا گیا ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو معبود بنالیا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ خلاف ِ شرع خواہشا ت نفسانی بھی ایک بت ہے جس کی پرستش کی جاتی ہے ، پھر استدلال میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔
 

 

7برائیاں 

 مخلوق خدا میں محبت کا ہونا ضروری ہے۔ حدیث شریف میں ہے :ترجمہ، بدگمانی سے بچو، کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ ،جاسوسی نہ کیا کرو۔ ایک دوسرے پر بے جابڑھنے کی ہوس نہ کرو۔حسد نہ کرو۔ بغض نہ رکھو اورایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔یہ سات زہریلے رذائل ہیں جو اُمت کی صفوں کو منتشر کرتے ہیں ، اجتماعیت پارہ پارہ ہوجاتی ہے ، ان سے بچنا نہایت ضروری ہے۔  اچھی صفت جس کو اپنا نے سے محبت عام ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ : 

 ترجمہ :’’ اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہو۔‘‘ (معارف الحدیث : ۲/ ۲۱۲)
 
’’العظیم‘‘کا ورد کیجئے   
اللہ کے اس پاک نام کا مطلب ہے کہ وہ فہم و شعور کی رسائی سے بھی زیادہ بزرگ و برتر ہے۔ یعنی اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے اس کی بزرگی و بڑائی اور عظمت اتنی زیادہ ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی فہم و شعور اس کی عظمت و بڑائی کا ادراک بھی نہیں کر سکتا۔اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ عظمت الٰہی کے آگے کونین کو بھی حقیر جانے، دنیا کے لئے کسی کے آگے اپنا سر نہ جھکائے۔ اپنے نفس کو حقیر جانے اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم کیا ہے ان کو اختیار کرے اور جن چیزوں سے بچنے کا حکم کیا ہے ان سے اجتناب کرے اور جو چیزیں خدا کو محبوب ہیں ان میں مشغول رہے۔ تاکہ خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔ 
خاصیت:جو شخص اس اسم پاک کو پڑھنے پر مداومت و ہمیشگی اختیار کرے وہ مخلوق خدا کی نظروں میں عزیز و مکرم ہو گا۔ 
 
 دعا کی قبولیت
 
حضرت سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے قرآن کریم کی ایک ایسی آیت معلوم ہے کہ اس کو پڑھ کر آدمی جو دعا کرتاہے قبول ہوتی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: 
{ قُلِ اللّٰھُمَّ فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ اَنْتَ 
تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَاکَانُوْافِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ } (سورئہ زمر: ۴۶)
ترجمہ :’’ آپ کہئے اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! چھپی اور کھلی باتوں کے جاننے والے ! آپ ہی اپنے بندوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ فرما دیں گے جن میں باہم وہ اختلاف کرتے تھے۔‘‘ (قرطبی ، معارف القرآن جلد ۷ صفحہ ۵۶۶)۔مشائخ وعلماء نے {حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ}پڑھنے کے فوائد میں لکھا ہے کہ اس آیت کو ایک ہزار مرتبہ جذبہ ایمان وانقیاد کے ساتھ پڑھا جائے اور دُعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتے۔ ہجوم افکار ومصائب کے وقت {حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ} کا پڑھنا مجرب ہے۔(معارف القرآن جلد ۲ صفحہ ۲۴۴)
 
 عدل کاتقاضہ
 
قیامت کے دن خدا کامعاملہ فضل کاہوگا یا عدل کا،رابطہ کاہوگا یا ضابطہ کا،مہربانی کا ہوگا یا قانون کا۔اگر مسلمانوں کے ساتھ عدل کا معاملہ ہوا، تو گناہوں کے بقدر جہنم میں رکھا جائے گا تاکہ گناہوں سے پاک صاف کردیئے جائیں اوراگر فضل کامعاملہ ہوا، تو سیدھا جنت میں بھیج دیا جائے گا۔ عدل کاتقاضہ ہے کہ نیکیوں کو زیادہ کیا جائے۔ عدل کا حاصل خوف ہے اور فضل کا حاصل امید ہے۔ خوف اس قدر بھی مفید نہیں ہے جو ہلاکت کا باعث بنے اور امید بھی اس قدر مفید نہیں ہے کہ گناہوں پرجری کردے، بلکہ امید اور خوف کے درمیان کا نام ایمان ہے، الایمان بین الخوف والرجاء۔
 
قید یوں کے بارے میں 
 
( محمد: ۴)
ترجمہ:(پھر یاتو احسان (کرکے رہا ) کرو یا فدیہ (لیکر چھوڑو) یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار پھینک دے) ۔
قید یوں کے لئے بلا معاوضہ چھوڑنے اور فدیہ لیکر چھوڑنے کی اس آیت کریمہ سے اجازت دی گئی ہے ۔امیر المؤ منین اہل اسلام کی مصلحت کے مطابق جیسی صور ت حال مناسب سمجھے فیصلہ کرسکتا ہے ۔ ابتدا ء میں فدیہ لیکر بدر کے قیدیوں کو چھوڑ نے پر سخت تنبیہ آئی تھی ۔لیکن سورۃ محمد کی اس آیت سے وہ سابقہ حکم منسوخ ہو گیا اور اب اجازت عام ہو گئی ۔
 
پریشانی کی صورت میں
 
مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو دشمنوں کے مکرو فریب میں مبتلا ہو اور وہ دعا نہ پڑھے جو فرعون کے خاندان کے ایک مومن نے پڑھی تھی … وہ دعا یہ ہے :
{ اُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللّٰہِ ۱ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ ۶بِالْعِبَادِ }
ترجمہ:’’ میں سونپتا ہوں اپنا کام اللہ کو ، بے شک اللہ کی نگاہ میں ہیں سب بندے ۔‘‘ (سورئہ مومن : آیت ۴۴)
اس کا فائدہ قرآن میں یہ بیان کیا گیاہے :
{ فَوَقٰہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَامَکَرُوْا} (سورئہ مومن : آیت ۴۵)
ترجمہ:’’ پس اللہ نے اس کو ان کے برے مکرو فریب سے بچالیا۔‘‘
ترجمہ:’’ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو غم سے نجات دی، اور اسی طرح ہم مومنین کونجات دیا کرتے ہیں ۔‘‘
 
والدین کے حق کی ادائیگی   
 
’’ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ رَ بِّ الْعٰلَمِیْنَ رَ بِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَ بِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَــہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وِالْاَرْضِ وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ لِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَ بِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ لَہُ الْعَظْمَۃُ فِی السَّمٰوٰتِ وَِالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ھُوَ الْمَلِکُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَرَبُّ الْاَرْضِ وَ رَ بُّ الْعٰلَمِیْنَ وَ لَہُ النُّوْرُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ ھُوَ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمُ ‘‘ 
حضرت علامہ عینیؒ نے شرح بخاری میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ مذکورہ بالا دعاء پڑ ھے اور اس کے بعد یہ دعا کرے کہ یا اللہ اس کا ثواب میرے والدین کو پہنچا دے ، اس نے والدین کا حق ادا کر دیا اور تین مرتبہ قل ہو اللہ ، تین مرتبہ الحمد للہ شریف اور تین مرتبہ درو د شریف بھی شامل کر لے تو والدین کا فرمانبر دار ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ آدمی اگر کوئی نفل صدقہ کر ے تو اس میں کیا حرج ہے کہ اس کا ثواب والدین کو بخش دیا کرے بشر طیکہ وہ مسلمان ہوں اس صورت میں ان کو ثواب پہنچ جائے گا اور صدقہ کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ ( کنز )اوزاعی ؒکہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جو شخص اپنے والدین کی زندگی میں نا فرمان ہو پھر ان کے انتقال کے بعد ان کے لیے استغفار کرے۔ اگر ان کے ذمہ قرض ہو تو اس کو ادا کرے اور ان کو برا نہ کہے تو وہ فرمانبرداروں میں شمار ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص والدین کی زندگی میں فرمانبردار تھا لیکن ان کے مرنے کے بعدان کو برا بھلا کہتا ہے ، ان کا قرض بھی ادا نہیں کر تا ان کے لیے استغفار بھی نہیں کرتا وہ نا فرمان شمار ہوتا ہے۔ 
 
آیات ِ حفاظت 
 
وَلَا یَئُوْدُ ہٗ حِفْظُھُمَا وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۰(سورئہ بقرہ : ۶۵۵)ترجمہ : ’’ اور ان سب کی حفاظت کرنے میں کبھی تھکتا نہیں ، وہ بہت عالی شان اور عظیم الشان ہے۔ ‘‘ 
فَا للّٰہُ خَیْرٌ حٰفِظًا وَّ ھُوَا اَ رْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۰(سورئہ یوسف : ۶۴)ترجمہ : ’’ بہتر حفاظت کرنے والا تو بس اللہ ہی ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ ‘‘ 
وَ حِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِ دٍ ۰(سورئہ صفٰت : ۷ ) ترجمہ : ’’ اور آسمان کو ہم نے ہر مر دو د شیطان کے شر سے محفوظ کر دیا۔ ‘‘ 
وَ حِفْظًا ذٰ لِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۰(سورئہ حم السجدہ: ۱۲)ترجمہ : ’’ اور مکمل حفاظت ہے۔ یہ اندازہ باندھا ہوا ہے غالب علم والے کا۔‘‘ 
 
آداب 
 
٭اکڑ اکڑ کر اتراتے ہوئے نہ چلیے۔
٭کوئی مرد عورتوں کے درمیان نہ چلے۔ (ابوداؤد)
٭اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا (جاندارکی) تصویریں ہوں۔(بخاری) 
٭جب کسی کا دروازہ کھٹکھٹاؤ اور اندر سے پوچھیں کون ہو،تو یہ نہ کہو کہ میں ہوں (بلکہ اپنا نام بتاؤ)۔ (بخاری)
٭چھپ کر کسی کی باتیں نہ سنئے۔ (بخاری) 
٭جب کسی کو خط لکھو تو شرو ع میں اپنا نام لکھ دو۔ (بخاری) 
٭جب کسی کے گھر جاؤ تو پہلے اجازت لو پھر داخل ہو۔ (بخاری)
٭تین مرتبہ اجازت مانگنے پر بھی نہ ملے تو واپس ہوجاؤ۔ (بخاری)
٭اجازت لیتے وقت دروازہ کے سامنے کی بجائے دائیں یا بائیں جانب کھڑے رہو۔
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 بلا کاخوف مسند بزار میں اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص شروع دِن میں آیۃ الکرسی اور سورئہ مؤمن (کی پہلی تین آیتیں حٰمٓ سے اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ تک ) پڑھ لے گا تو وہ اس دن ہر برائی سے اور تکلیف سے محفوظ رہے گا۔ اس کو ترمذی نے بھی روایت کیا ہے جس کی سند میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر جلد ۴صفحہ ۶۹۔ معارف القرآن جلد ۷صفحہ ۵۷۱)    

مزید پڑھیں

’’العظیم ‘‘ کی تاثیر اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات فہم و شعور کی رسائی سے بھی زیادہ بزرگ و برترہے۔ یعنی اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے اس کی بزرگی و بڑائی اور عظمت اتنی زیادہ ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی فہم و شعور اس کی عظمت و بڑائی کا ادراک بھی نہیں کر سکتا۔اس اسم کو پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ عظمت الٰہی کے آگے کونین کو بھی حقیر جانے، دنیا کے لئے کسی کے آگے اپنا سر نہ جھکائے۔ اپنے نفس کو حقیر جانے اور اﷲ تعالیٰ نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم کیا ہے ان کو اختیار کر کے اور جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ان سے اجتناب کرے اور جو چیزیں خدا کو محبوب ہیں ان میں مشغول رہے۔ تاکہ خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔خاصیت:جو شخص اس اسم پاک کو پڑھنے پر مداومت و ہمیشگی اختیار کرے وہ مخلوق خدا کی نظروں میں عزیز و مکرم ہو گا۔     

مزید پڑھیں

 شر سے حفاظت   اول و آخر درود شریف گیارہ گیارہ مرتبہ : { حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ} حفاظت از شر ور و فن ۳۴۱ مرتبہ  برائے وسعت رزق و ادائے قرض ۳۴۱ مرتبہ  برائے تکمیل خاص کام ۱۱۱مرتبہ  برائے کفالت از مصائب و پریشانی ۱۴۰مرتبہ  

مزید پڑھیں