☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
روحانی مسائل

روحانی مسائل

تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

05-10-2020

 بلا کاخوف

مسند بزار میں اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص شروع دِن میں آیۃ الکرسی اور سورئہ مؤمن (کی پہلی تین آیتیں حٰمٓ سے اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ تک ) پڑھ لے گا تو وہ اس دن ہر برائی سے اور تکلیف سے محفوظ رہے گا۔ اس کو ترمذی نے بھی روایت کیا ہے جس کی سند میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر جلد ۴صفحہ ۶۹۔ معارف القرآن جلد ۷صفحہ ۵۷۱)
 

 

  نجات
نجات کے لئے ضروری ہے کہ ہر انسان سِرًّا وعَلاَنیہ’’ظاہر و باطن‘‘ میں اﷲ تعالیٰ کا خوف (اتنا زیادہ کہ خلوت و جلوت میں اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے)۔تنگدستی و خوشحالی میں میانہ روی (ایسا نہ ہو کہ خوشحالی میں اسراف میں مبتلا ہو جائے)۔رضامندی و ناراضگی میں عدل و انصاف (ایسا نہ ہو کہ کسی سے ناراض ہو تو اس کے بارے میں انصاف بھی نہ کرے جیساکہ عموماً ہوتا ہے)۔

ظلم کی تین قسمیں
ظلم کی ایک قسم وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز نہ بخشیں گے۔ دوسری قسم وہ ہے جس کی مغفرت ہوسکے گی۔ا ور تیسری قسم وہ ہے کہ جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ لیے بغیر نہ چھوڑیں گے۔
پہلی قسم کا ظلم شرک ہے۔ دوسری قسم کا ظلم حقوق اللہ میں کوتاہی ہے۔ اور تیسری قسم کا ظلم حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے۔ (معارف القرآن جلد ۲ صفحہ ۵۵۰)
 

قیامت کی نشانی
ظلم کو فخر سمجھاجائے گا۔انصاف بکنے لگے گا ۔ قرآن کی تلاوت اس کو سمجھنے یا اس کے ذریعہ اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے نہیں کی جائے گی۔ موسیقی کی لے میں قرآن پاک کی تلاوت کی جائے گی ۔پوشاکوں میں درندوں کی کھال استعمال ہو گی۔گانے والی عورتوں کو بلند مرتبہ دیا جائے گا۔ موسیقی کے آلات سنبھال کر رکھے جائیں گے۔
 

ذکرخدا
کام شروع کرتے وقت کہے بِسْمِ اللّٰہِ
کسی کام کے کرنے کا وعدہ کرتے وقت کہیے اِنْ شَآئَ اللّٰہُ
کسی چیز میں موجود خوبی کی تعریف کرتے وقت کہے سُبْحَانَ اللّٰہ
دکھ تکلیف پیش آئے تو کہے یَـــآ اَ للّٰہُ
کسی کا شکر یہ ادا کرے تو کہے جَزَاکَ اللّٰہُ
نیند سے بیدار ہو تو کہے لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ
چھینک آئے تو کہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
دوسرے کو چھینکتا ہو ا دیکھے تو کہے یَرْحَمُکَ اللّٰہُ
گناہ سر زد ہوجائے تو کہے اَسْتَغْفِرُ اللّٰہِ
کچھ خیرات کرے تو کہے فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
رخصت کرے تو کہے فِیْ اَ مَانِ اللّٰہِ
مصیبت یا مشکل در پیش ہو تو کہے تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ
نا پسندیدہ ، ناز یبا کلمات کہے ہوں تو کہے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ
کوئی دل پسند بات کہے یا سنے تو کہے فَتَبَرٰکَ اللّٰہُ
دعا میں شریک ہو تو کہے آ مِیْن
موت کی خبر ملے تو کہے اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ

پریشانی کی صورت میں
{ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ}
(سورۃ آل عمران : آیت ۱۷۳)
ترجمہ:’’ کافی ہے ہم کو اللہ اور کیا خوب کارساز ہے !‘‘
اس کا فائدہ قرآن پاک میں یہ بیان کیاگیا ہے :
{ فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْ ئٌ }
ترجمہ: ’’ پس لوٹے وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ اور ان کوکوئی پریشانی نہیں ہوئی۔‘‘
(سورئہ آل عمران : آیت ۱۷۴)

دشمن سے حفاظت
ابودائود اور ترمذی میں حضرت مہلب بن ابی صفرہؓ سے روایت ہے ، آپ ؓ نے فرمایا کہ مجھ سے ایسے شخص نے روایت کی جس نے خودحضرت رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ آپﷺ (کسی جہاد کے موقع پر رات میں حفاظت کے لیے ) فرمارہے تھے کہ اگر رات میں تم پر چھاپہ مارا جائے تو تم ’’حٰمٓ لَا یُنْصَرُوْنَ‘‘ پڑھ لینا۔ جس کا حاصل لفظ حٰمٓ کے ساتھ یہ دعا کرنا ہے کہ ہمارا دشمن کا میاب نہ ہو اور بعض روایت میں ’’ حٰمٓ لَا یُنْصَرُوْا‘‘ بغیر نون کے آیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تم حٰمٓ کہوگے تو دشمن کامیاب نہ ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ حٰم ٓدشمن سے حفاظت کا قلعہ ہے۔ (ابن کثیر ، معارف القرآن جلد ۷صفحہ ۵۸۲)
 

بدتمیزی کا علاج
حضرت ابونعیم ؓنے حضرت حذیفہ ؓکی یہ روایت نقل کی ہے کہ میںنے حضور اکرمﷺ سے اپنی زبان کی تیزی کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم استغفار سے کہاںغفلت میں پڑے ہو؟ ! میں تو روزانہ سو (۱۰۰) مرتبہ استغفار کرتاہوں۔ ابونعیم ؓکی دوسری روایت میںہے کہ میںنے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! میری زبان گھر والوں کے بارے میں تیز ہوجاتی ہے جس سے مجھے ڈر ہے کہ یہ مجھے آگ میںداخل کردے گی ، آگے پچھلی حدیث کے مضمون جیسے ذکر کیا ہے کہ ’’ میں روزانہ سو (۱۰۰) مرتبہ استغفار کرتاہوں ، تم بھی استغفار کرو! استغفار کی کثرت سے ز بان کی تیزی زائل ہوجائے گی۔ (حیاۃ الصحابہ جلد ۳صفحہ ۳۴۹)

آداب
٭اپنی والدہ کے پاس جانا ہو تب بھی اجازت لے کر جاؤ۔ (مالک)
٭کسی کی چیز مذاق میں لے کر نہ چل دو۔ (ترمذی)
٭اسی طرح چھری، چاقو وغیرہ کا حکم ہے۔ اگر ایسا کرنا پڑے تو پھل اپنے ہاتھ میں رکھو اور دستہ ان کو پکڑاؤ۔ (ترمذی)
٭زمانہ کو برا مت کہو کیونکہ اس کی اُلٹ پھیر اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔ (مسلم)
٭ہوا کو برامت کہو۔ (ترمذی)
٭بخار کو بھی برامت کہو۔(مسلم)
٭جب رات کا وقت ہوجائے تو بسم اللہ پڑھ کر دروازہ بند کر دو کیونکہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا۔ پھر بسم اللہ پڑھ کر مشکیزوں کے منہ تسموں سے باندھ دو۔ برتنوں کو ڈھانپ دو۔
٭جب رات کو گلی کوچوں میں آمدو رفت بند ہو جائے تو ایسے وقت میں باہر کم نکلو۔ (شرح السنہ)
٭عام لوگوں کے سامنے انگڑائی اور ڈکار لینا تہذیب کے خلاف ہے۔

بداخلاق
جس کی عادت خراب ہوجائے ، خواہ انسان ہو یا جانور، اس کے کان میں بھی اذان دی جائے ، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:(مَنْ سَآئَ خُلُقُــہٗ مِنْ اِنْسَانٍ اَوْ دَ آ بَّۃٍ فَاَذِّنُوْا فِیْ أُذُنِہٖ)
ترجمہ:’’ جو بداخلاق ہوجائے ، خواہ انسان ہو یا چوپایہ اس کے کان میں اذان دو۔‘‘

3بری چیزیں
یہ تین چیزیں انسان کو برباد کر سکتی ہیں ۔شدتِ بخل (اتنی زیادہ کہ حقوق واجبہ بھی ادا نہ کرے)۔ہوائے نفسانی (اتنا زیادہ کہ ہوائے نفسانی میں حدود شرع کی بھی پرواہ نہ کرے)۔خودپسندی (اتنی زیادہ کہ دوسروں کو حقیر سمجھنے لگے)۔

کندذ ہن
{ وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ۱ وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا} (سورئہ نساء: ۱۱۳)
اگرآپ کا بچہ یاکوئی طالب علم کندذہن ہو تو ایک سو اکیس (۱۲۱) مرتبہ یہ آیت پانی پر دم کرکے روزانہ پلائیں ، انشاء اللہ اس کی برکت سے عالم فاضل ہوجائے گا۔
 

پریشانی میں کمی
حضرت جعفر الصادقؒ ایک مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ ان سے علمی استفاد ہ کے لیے آئے ۔ آپ ؒنے لوگوں سے کہا کہ مجھے تعجب ہے چار قسم کے آدمیوں پر جو چار باتوں سے غافل ہیں :
مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو مصیبت میں پھنساہو اہو اور ’’یٰٓاَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ‘‘ نہ پڑھتا ہو ، حالانکہ قرآن پاک میں حضرت ایوب ؑکے بارے میں ارشاد ہے:
{وَاَیُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰ حِمِیْنَ}(سورئہ انبیاء : آیت ۸۳)
ترجمہ:’’ اور ایوب ؑنے جب اپنے رب کو پکارا کہ میں مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں آپ ’’یٰٓاَ رْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ‘‘ ہیں۔‘‘
اس دعا کا فائدہ خود قرآن کریم میں یہ بیان کیاگیا ہے کہ :
{ فَاسْتَجِبْنَا لَہ ٗ فَکَشَفْنَا مَا بِہٖ مِنْ ضُرٍّ } (سورئہ انبیاء : آیت ۸۴)
ترجمہ:’’ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی تکلیف دور فرمائی ۔‘‘
مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو غم میں پھنسا ہو اہو اور وہ یہ دعا نہ پڑھے جو حضرت یونس ؑنے مچھلی کے پیٹ میں پڑھی تھی ۔وہ دعا یہ ہے:
لَا ٓاِلٰہَ اِلاَّ ٓاَنْتَ سُبْحٰنَک اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِینْ
ترجمہ:’’ تیرے سوا کوئی حاکم نہیں ، تو بے عیب ہے ، میں گناہگار ہوں ۔‘‘ (سورئہ انبیاء : آیت ۸۷)
اس کا فائدہ قرآن پاک میں یہ بیان کیاگیاہے : فَا سْتَجَبْنَا لَہ وَ نَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(سورئہ انبیاء : آیت ۸۸ )
 

گناہ
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ نے ایک دن فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے کہ پانی پر چلے ، اور اس کے پائوں نہ بھیگیں؟ عرض کیا گیا حضرت ! ایسا تو نہیں ہوسکتا۔
آپ ؐ نے فرمایا : اسی طرح دنیا دار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ دنیا دار سے مراد وہی شخص ہے جو دنیا کو مقصود ومطلوب بناکر اس میں لگے ، ایسا آدمی گناہوں سے کہاں محفوظ رہ سکتاہے۔ لیکن اگر بندہ کا حال یہ ہو کہ مقصود و مطلوب اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت ہو اور دنیا کی مشغولی کو بھی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح کا ذریعہ بنائے تو وہ شخص دنیادار نہ ہوگا اور دنیا میں بظاہر پوری مشغولی کے باوجود گناہوں سے محفوظ بھی رہ سکے گا۔ (معارف الحدیث جلد ۲ صفحہ ۷۰)
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

آندھی میں دعا کیجئے    جب تیز ہوا چلتی یا آندھی آتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَ خَیْرَمَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ ’’اے اللہ میں تجھ سے مانگتاہوں وہ بھلائی (جو طبی طور پر) اسمیں تو نے رکھی ہے، اور وہ بھلائی جو اس میں پوشیدہ ہے، یعنی منافع،اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتاہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں رکھی گئی ہے،اور اس چیز کی برائی سے جس کے لئے اس کو بھیجا گیا ہے۔ ‘‘     

مزید پڑھیں

’’العظیم ‘‘ کی تاثیر اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات فہم و شعور کی رسائی سے بھی زیادہ بزرگ و برترہے۔ یعنی اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے اس کی بزرگی و بڑائی اور عظمت اتنی زیادہ ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی فہم و شعور اس کی عظمت و بڑائی کا ادراک بھی نہیں کر سکتا۔اس اسم کو پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ عظمت الٰہی کے آگے کونین کو بھی حقیر جانے، دنیا کے لئے کسی کے آگے اپنا سر نہ جھکائے۔ اپنے نفس کو حقیر جانے اور اﷲ تعالیٰ نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم کیا ہے ان کو اختیار کر کے اور جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ان سے اجتناب کرے اور جو چیزیں خدا کو محبوب ہیں ان میں مشغول رہے۔ تاکہ خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔خاصیت:جو شخص اس اسم پاک کو پڑھنے پر مداومت و ہمیشگی اختیار کرے وہ مخلوق خدا کی نظروں میں عزیز و مکرم ہو گا۔     

مزید پڑھیں

 شر سے حفاظت   اول و آخر درود شریف گیارہ گیارہ مرتبہ : { حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ} حفاظت از شر ور و فن ۳۴۱ مرتبہ  برائے وسعت رزق و ادائے قرض ۳۴۱ مرتبہ  برائے تکمیل خاص کام ۱۱۱مرتبہ  برائے کفالت از مصائب و پریشانی ۱۴۰مرتبہ  

مزید پڑھیں