☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا حافظ زبیر حسن اشرفی) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) عالمی امور(محمد ندیم بھٹی) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(فاطمہ خان) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) طنزومزاح(حسین احمد شیرازی) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
روحانی مسائل

روحانی مسائل

تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

07-07-2019

نیند نہ آنا

ابودائود ، ترمذی ،نسانی اورمسند احمد میں یہ حدیث شریف لکھی ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ یہ دعا سکھاتے تھے کہ اگر کسی کی نیند اچاٹ ہو جائے اور وہ اسمرض سے نجات پانا چاہتا ہو تو سوتے وقت یہ دعا پڑھا کرے :

 

(بِسْمِ اللّٰہِ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِہٖ وَعِقَابِہٖ وَمِنْ شَرِّ عِبَادِہٖ وَمِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَّحْضُرُوْنِ)۔حضرت ابن عمرو ؓ کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے ان کو یہ دعا سکھادیا کرتے تھے اور جو چھوٹے نا سمجھ ہوتے یادنہ کرسکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکادیتے۔

نعمتیں

 

{ مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ۱فِیْھَآ اَنْھٰرٌ مِّنْ مَّآ ئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ ۸ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَِّۃٍ لِّلشّٰرِِبِیْنَ ۸۰ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ۱ وَلَھُمْ فِیْھَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ ۱} (سورئہ محمد: ۱۵)

اگرکوئی شخص چاہتا ہو کہ دنیا میںبھی وہ ہر نعمت سے نواز ا جائے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ اس کو نعمت سے محروم نہ کریں تو وہ اس آیت کو صبح وشام تین مرتبہ پڑھے۔ انشاء اللہ وہ دین ودنیا کی نعمتوں سے مالا مال رہے گا۔ 

ایک نصیحت 

 

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے :

اَللّٰھُمَّ اِ نِّیْ أَ عُوْ ذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ ، وَ اَ عُوْ ذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَ اَ عُوْ ذُ بِکَ مِنْ أَنْ أُ رَ دَّ اِلٰٓی أَ رْ ذَلِ الْعُمُرِ ، وَ أَ عُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا ، وَ اَ عُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ (صحیح بخاری )

ترجمہ :’’ اے اللہ ! میں بخل سے تیری پناہ پکڑتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ پکڑتا ہوں اور یہ کہ میں رذیل عمر میں ڈال دیا جاؤں ، اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں اور دُنیا کی آزمائش اور عذاب ِ قبر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ ‘‘ (منہاج المسلم )

 

 کسی مسلمان کاتن ڈھانپنا 

حضرت ابن عباس ؓ کے پاس ایک سائل آیا ( اور اس نے کچھ مانگا) حضرت ابن عباس ؓنے اس سے کہا:’’ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں‘‘ ؟۔

 اس نے کہا: جی ہاں۔ حضرت ابن عباس ؓنے پوچھا:’’رمضان کے روزے رکھتے ہو‘‘؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا:’’ تم نے مانگا ہے اور مانگنے والے کا حق ہوتاہے ، اور یہ ہم پر حق ہے کہ ہم تمہارے اوپر احسان کریں‘‘۔ پھر حضرت ابن عباس ؓ نے اسے کپڑا دیا اور فرمایا:’’ میں نے حضوراکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان بھی کسی مسلمان کو کپڑا پہناتاہے تو جب تک اس کے جسم پر اس کپڑے کا ایک ٹکڑا رہے گا اس وقت تک وہ پہنانے والا اللہ کی حفاظت میں رہے گا۔ ‘‘

 

وظیفہ 

تفسیر روح المعانی میںحضرت علامہ آلو سی ؒ لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف ؑنے بھائیوں کو معاف کردیا اور لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ(سورئہ یوسف : آیت ۹۲) کااعلان کردیا تو بھائیوں نے کہا اے اباجان! اور اے ہمارے بھائی ! آپ لوگوں نے معاف کردیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو معاف نہ فرمایا تو آپ حضرات کا عفو ہم کو کچھ مفید نہ ہوگا اس لیے آپ حضرات اللہ تعالیٰ سے دعا فرمایئے کہ ہماری خطائوں کی معافی بذریعہ وحی ناز ل فرمادیں ۔ چونکہ انبیاء علیہم السلام ارحم الخلائق ہوتے ہیں اس لیے حضرت یعقوب ؑنے فرمایا : {سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّی اِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ} عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا، بے شک وہ غفورو رحیم ہے۔پھر حضر ت یعقوب ؑآگے قبلہ رو دعا کے لیے کھڑے ہوئے اور حضرت یوسف ،ؑآپ ؑکے پیچھے کھڑے ہوئے اور نہایت خشوع کے ساتھ دعا کی لیکن بیس سال تک دعا قبول نہ ہوئی۔ پھر حضرت جبرئیل ؑ تشریف لائے اور یہ دعا سکھائی : 

’’یَارَجَآئَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَا تَقْطَعْ رَجَآئَ نَا‘‘:ترجمہ:’’ اے ایما ن والوں کی اُمید! ہماری امیدوں کو قطع نہ فرمایئے ۔‘‘

’’ یَاغِیَاثَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَغِثْنَا‘‘ : ترجمہ:’’ اے ایمان والوںکے فریاد رس ! ہماری مدد فرما۔‘‘

’’ یَا مُعِیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِنَّا ‘‘ ترجمہ:’’ اے ایمان والوںکے مدد گار! ہماری مدد کیجئے ۔‘‘

’’ یَا مُحِبَّ التَّوَّابِیْنَ تُبْ عَلَیْنَا ‘‘:ترجمہ:’’ اے توبہ کرنے والوں سے محبت کرنے والے ! ہمارے اوپر توجہ فرما۔‘‘

 

 نیک نامی 

{فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } (سورئہ جاثیہ : ۳۶، ۳۷)

اگر آپ کو عزت وآبر واوروقار حاصل کرنا ہو یا بخار کو دور کرنا ہو ، یا زخم کو ٹھیک کرنا ہو ، یا اچھے کاموں میں نام پیدا کرنا ہو، یا عمل کا وزن بھاری کرنا ہو تو روزانہ مذکور ہ آیت سات (۷) دفعہ پڑھیں۔

عذاب قبر سے حفاظت

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’ جو مسلمان جمعۃ المبارک کے دن یا شب جمعہ کو فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبر کے فتنے (عذاب) سے محفوظ فرما لیتے ہیں‘‘۔ 

 

 معافی

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کیا یارسول اللہﷺ ! میں اپنے خادم ( غلام یا نوکر) کا قصور کتنی دفعہ معاف کروں؟ آپﷺ خاموش رہے۔ اس نے پھر وہی عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ ! میں اپنے خادم کو کتنی دفعہ معاف کروں؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ہر روز ستر دفعہ‘‘۔ (جامع ترمذی)۔حضو رکریم ﷺکا مطلب یہ تھا کہ قصور کا معاف کرنا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی حد مقرر کی جائے بلکہ حسن اخلاق اور ترحم کا تقاضا یہ ہے کہ اگر بالفرض وہ روزانہ ستر دفعہ بھی قصور کرے تو اس کو معاف ہی کردیا جائے۔جیسا کہ بار بار لکھا جاچکاہے ستر کا عدد ایسے موقعوں پر تحدید کے لیے نہیں ہوتا بلکہ صرف تکثیر کے لیے ہوتاہے اور خاص کر اس حدیث میںیہ بات بہت ہی واضح ہے۔ 

 

 

 

نماز سے رغبت 

ارشا دباری تعالیٰ ہے،

 قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ۰ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ۰ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِمُعْرِضُوْنَ ۰ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ۰ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ۰ اِلاَّ عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ ۰ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ۰ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَ فَنٰتِھِمْ وَعَھْدِ ھِمْ رٰعُوْنَ ۰ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوٰتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ۰ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْوٰرِثُوْنَ۰ اَلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدُوْسَ ۱ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ۰ }(سورئہ مؤمنون : ۱، ۱۱)

رات کو سوتے وقت مذکورہ آیتیں ضرور پڑھیں۔ کیونکہ یہ آیتیں عزت کی حفاظت کرتی ہیں، بے نمازیوں کو نماز کی رغبت دلاتی ہیں،بری باتوں سے روکتی اور صراط مستقیم پر لاتی ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں جانے کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ 

 

 

چھ ’’غ‘‘ سے بچنا ضروری ہے

غلوسے بچنا:لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ (سورئہ مائدہ : ۷۷۔ ترجمہ:’’ تم اپنے دین میں ناحق غلومت کرو۔‘‘

غل (کینہ) سے بچنا:وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (سورئہ حشر: ۱۰)۔ترجمہ:’’ اورہمارے دلوں میںایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ ہونے دیجئے۔‘‘

غرور سے بچنا: لَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ (سورئہ لقمان : ۱۸) ترجمہ:’’ لوگوں سے اپنا رُخ مت پھیرو۔‘‘

غفلت سے بچنا: لاَ تَــــکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ (سورئہ اعراف : ۲۰۵) ترجمہ:’’تو غفلت کرنے والوں میں سے مت ہو۔‘‘

 

 

پانچ نصیحتیں

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت نبی کریمﷺ نے پانچ باتوں کی وصیت کی ہے۔ فرمایا:

’’اے انس! کامل وضو کرو تمہاری عمر بڑھے گی۔جو میرا اُمتی ملے سلام کرو نیکیاں بڑھیں گی۔گھر میں سلام کرکے جایا کرو گھر کی خیریت بڑھے گی۔چاشت کی نماز پڑھتے رہو تم سے اگلے لوگ جو اللہ والے بن گئے تھے ان کا یہی طریقہ تھا۔ اے انس! چھوٹوں پر رحم کر، بڑوں کی عزت وتوقیر کر، توقیامت کے دن میرا ساتھی ہوگا‘‘۔ 

 غصے میں کمی 

{ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ۱ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ}(سورئہ آل عمران : ۱۳۴)

اگر آپ کا غصہ شدید ہے اور آپے سے باہر ہوجاتے ہیں تو ایک سو ایک(۱۰۱) دفعہ مذکورہ آیت اکیس (۲۱) دن تک چینی یا شکر پر پڑھیں پھر اس کو چائے یا پانی میں ڈال کر پی جائیں۔ 

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 بلا کاخوف مسند بزار میں اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص شروع دِن میں آیۃ الکرسی اور سورئہ مؤمن (کی پہلی تین آیتیں حٰمٓ سے اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ تک ) پڑھ لے گا تو وہ اس دن ہر برائی سے اور تکلیف سے محفوظ رہے گا۔ اس کو ترمذی نے بھی روایت کیا ہے جس کی سند میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر جلد ۴صفحہ ۶۹۔ معارف القرآن جلد ۷صفحہ ۵۷۱)    

مزید پڑھیں

آندھی میں دعا کیجئے    جب تیز ہوا چلتی یا آندھی آتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَ خَیْرَمَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ ’’اے اللہ میں تجھ سے مانگتاہوں وہ بھلائی (جو طبی طور پر) اسمیں تو نے رکھی ہے، اور وہ بھلائی جو اس میں پوشیدہ ہے، یعنی منافع،اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتاہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں رکھی گئی ہے،اور اس چیز کی برائی سے جس کے لئے اس کو بھیجا گیا ہے۔ ‘‘     

مزید پڑھیں

’’العظیم ‘‘ کی تاثیر اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات فہم و شعور کی رسائی سے بھی زیادہ بزرگ و برترہے۔ یعنی اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے اس کی بزرگی و بڑائی اور عظمت اتنی زیادہ ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی فہم و شعور اس کی عظمت و بڑائی کا ادراک بھی نہیں کر سکتا۔اس اسم کو پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ عظمت الٰہی کے آگے کونین کو بھی حقیر جانے، دنیا کے لئے کسی کے آگے اپنا سر نہ جھکائے۔ اپنے نفس کو حقیر جانے اور اﷲ تعالیٰ نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم کیا ہے ان کو اختیار کر کے اور جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ان سے اجتناب کرے اور جو چیزیں خدا کو محبوب ہیں ان میں مشغول رہے۔ تاکہ خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔خاصیت:جو شخص اس اسم پاک کو پڑھنے پر مداومت و ہمیشگی اختیار کرے وہ مخلوق خدا کی نظروں میں عزیز و مکرم ہو گا۔     

مزید پڑھیں