☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل خواتین کچن کی دنیا سفر نامہ دین و دنیا فیشن متفرق کیرئر پلاننگ ادب
بڑی ہی غم انگیز ہے داستان سپین جانے کی!

بڑی ہی غم انگیز ہے داستان سپین جانے کی!

تحریر : سلمٰی اعوان

05-05-2019

طمانیت سے بھر اپڑا لمباسانس تھا جو ہمارے سینوں سے نکل رہا تھا۔ بلندوبالا اور خوبصورت سیاہ آہنی جنگلوں سے سجی بالکونیوں والی عمارتیں جن کے قدموں میں بچھی اودے رنگی پتھروں والی گلی لشکارے مارتی تھی اور جنہیں ہماری مسافر آنکھوںنے ستائش سے دیکھا تھا۔میڈرڈ کے جس ہوٹل کے سامنے ہمارا خیر سے ڈولا اُترا تھا وہ وی آنا میں واقع تھا۔جس کی شان و شوکت کو ہمارے دل نے سراہتے ہوئے کہا تھا۔’’ارے یہ تو ہماری توقع سے بھی بڑھ کر ہے۔بڑا شان دار سا اور گلی بھی بڑی من موہنی سی ہے۔‘‘سو ٹیکسی والے کو فارغ کیا۔اٹیچی کیس گھسیٹتے گئے۔شیشے کے خود کار دروازوںنے یکے بعد دیگرے کُھل کر مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔’’آئیے آئیے مہارانیوں آپ کا ہی انتظار ہورہا تھا۔‘‘

جولڑکا کائونٹر پر کھڑا تھا وہ نرا انڈین اداکار ششی کپور کا چھوٹا بھائی دِکھتا تھا۔بس فرق دو رنگے بالوں کا تھا جو اس کے سر پر نفاست سے جمے ہوئے تھے۔ جس نے ہمارے ہاتھوں سے ریزویشن لیٹر پکڑتے، کمپیوٹر سکرین پر نظریں جماتے اور پھر اپنی چمکدار آنکھیں اٹھاتے ہوئے بے نیازی سے کہا۔’’آپ کی ریزویشن توسولہ نومبر کی ہے۔‘‘

’’سولہ نومبر ۔‘‘سیما چلائی تھی ۔’’عقل گھاس چرنے چلی گئی ہے شاید اس کی۔‘‘ پھٹکار تو یہ ہماری مادری زبان میں ہورہی تھی۔مگر وہ جوان تھا تو کیا؟ہر روز رنگ رنگ کے لوگوں کو برتتاتھا۔فوراً سمجھ گیا۔جھٹ سے کاغذہمارے منہ پر مارتے ہوئے بولا۔’’یہ دیکھ لیں۔کچھ غلط کہہ رہا ہوں میں۔‘‘ اب جو آنکھیں پھاڑیں تو سولہ نومبر کسی دہکتے آگ اگلتے پہاڑ کی مانند نظرآیا تھا۔ جس سے نکلتے آتشی لاوے کے ذرے بھاگ بھاگ کردوڑ دوڑ کر ہمیں اپنی بارش میں نہلانے لگے تھے۔ ہونٹ خشک ،چہرہ بدحواس اور سارے جسم کا خون سر کی جانب دوڑتا محسوس ہوا۔’’پانی پانی۔‘‘

دائیں دیکھا، بائیں دیکھا ۔ذرا دور میز پر دھرا پانی سے بھرا ڈھنپا جگ اور گلاس پر نظر پڑی۔دھڑکی لگائی۔تین گلاس پی کر حواس ذرا بحال ہوئے تو موبائل پر اپنے ایجنٹ سے بات کرنی چاہی۔ دو دن پہلے کے سیکھے ہوئے وائی فائی کے طریقہ کار نے بڑا کام کردکھایا تھا۔لڑکے نے پن کوڈ کا اندراج کیا اور لاہور بات کروائی ۔بادلوں کی طرح برسنے ورسنے اور کڑکنے سے اجتناب کیا۔مصلحت کوشی کا راستہ اپنایا۔ گھنٹے بھر کی بک بک جھک جھک والی تگ و دو کا نتیجہ یہ تھا کہ لڑکا صرف اُس دن کی بکنگ کے لیے راضی ہوا کہ ایک کمرہ خالی تھا۔مگر اگلے دن کے لیے یکسرمنکر کہ بکنگ شیڈول ہائوس فل کا اعلان کرتا تھا۔

چلو خیر ۔ہم نے بھی اپنے جذبہ ایمانی کوللکارا۔آج کی روٹی ہے تو کل کا اللہ مالک۔مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔مگر بات یہاں تک جاکر بھی حل ہونے میں نہ آرہی تھی کہ اس کا تقاضا تھا کہ ادائیگی تو صرف کریڈٹ کارڈ سے ہوگی۔اب لاکھ سرکھپا رہے ہیں کہ یہ جو بدحواس اڑی اڑی رنگت والی تین عورتیں تم دیکھ رہے ہو، قطعی کوئی ٹُٹی پجّھی فقیر فقری قسم کی نہیں ہیں۔ تمہارے رائج الوقت سکے کا خاصا زادِ راہ لے کر آئی ہیں۔ گُتھلی کا منہ کھلے گا تو ڈھیر لگ جائے گا۔مگر اُس اُلٹی کھوپڑی والے کو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی۔ایک ہی رٹ تھی۔کریڈٹ کارڈ نکالو۔اب خود کو وہی کہنا لازم ٹھہرا تھا نا۔ بڑی پڑھی لکھی دنیا گھومنے والیاں۔ رہیں گی وہی اُوت کی اُوت۔

اب اس سے بھی بڑا اُوت ہونے کا اور ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ کسی ایک نے کاغذ کھول کر پڑھنے کی تکلیف نہیں کی۔یوں کہنے کو ہم بڑی ہوشیار بنتی اور ظاہر کرتی ہیں۔اپنے باس سے بات کرائو۔مسکینی سے کہا۔بہرحال اُس نے خود ہی کِسی سے گٹ پٹ کی۔121یورو اور سو ڈالر ضمانتی ۔چلو خدا کا شکر شکر کرتے سامان اٹھایا کہ اب میڈرڈ کی اِس سنسان سی گلی سے سامان اٹھا کر کہاں دھکے کھاتے پھرتے۔آج تو کٹے کل کا اللہ بیلی۔وہ تو کلّ جو درویشوں کی میراث ہوتا ہے اس کا معمول کی طرح زبانی کلامی مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار کہا۔

’’اللہ مسبب اسباب ہے۔‘‘مگر لگتا تھا یہ اظہار یہ روح سے خالی تھا کہ اضطراب اور بے چینی کے حملے بیکل کرتے تھے۔باہر نکلنے ،کہیں گھومنے رات کا کھانا کھانے یا کچھ دیکھنے کا تو ہوش ہی نہ تھا۔ ٹریول ایجنٹ کا تقریباً بارہ بجے کا آخری پیغام مایوسی سے بھرا ہوا تھا۔تکیئے پر سررکھتے ہوئے میں نے چند لمحوں کے لیے آنکھیںموندلیں اور خود سے پوچھا کہ یہ سب پریشانیاں کیا ہماری نا لائقیوں یا ہماری فضول سی انائوں کا نتیجہ تھیں۔

سچی بات ہے سپین جانے اور اُندلیسیہ کو دیکھناسالوں پرانا خواب تھا۔ نہ صرف میرا بلکہ میرے خیال میں ہرلکھنے والے کا خواب ہے۔خواب کو تعبیر ملنے کا وقت آیاتوساتھیوں کے ناموں پر غور وخوض شروع ہوا۔ بڑی وڈی جاگیردارنی بُشری اعجاز بھی سپین کے لیے مری جاتی تھی۔’’دیکھو جب بھی وہاں جانے کا ارادہ کرو۔مجھے نہیں بھولنا۔بہت بار کا یہ تکراری جملہ سب سے پہلے یاد آیا۔سوچا فون کروں۔

ہندسے ابھی 0300تک ہی دبے تھے کہ آگے بڑھنے کی بجائے رُک گئی ۔ سوچ نے کچھ کہا تھا۔’’اری او مُور کھ رُک جا۔جذباتی مت بن۔ بُشریٰ بہت رکھ رکھائو اور لیے دئیے والی ہے۔سفر وہ بھی بیرون ملک کا ،اس پر طرّہ ذاتی اور مہار بھی تم جیسی کوچجّی جدید ٹیکنالوجی سے بے بہر ہ اور قدرے صوم رن کے ہاتھ میں ۔کہیں اونچ نیچ ہوگئی تو؟ بڑا سا سوالیہ نشان سامنے تھا۔’’ارے تم ٹپر واسنی کا کیا ہے؟اپنی ننھی مُنی سی دو جوڑوں والی بقچی سرہانے رکھ کر کہیں کسی پھٹے ،بینچ اور فرش پر بھی سو جائو گی ۔

پر وہ تو پکی پکی ڈیرے دارنی ہے۔اب دل سے ہوک سی اٹھی۔مگر ہائے بشری، میری سویٹ ہارٹ بہت پیاری لگتی ہے وہ مجھے ۔جب سپین جانے کا سُنے گی تو گلہ شکوہ نہیں باقاعدہ ناراضگی کا اظہار ہوگا۔یوں کہنے کو سیما بھی پوری بیگم ہے۔مگر پکی گوڑی سہیلی ہے۔ کچھ سفر ساتھ کربیٹھی ہے مزاج آشنا ہے۔قہر درویش برجان درویش والا کام کرلیتی ہے۔

خلاف مزاج بات پر منہ پھلائے تو کچھ دیر بعد نارمل بھی ہوجاتی ہے۔سُناتی ہے تو دس سُن بھی لیتی ہے۔نعیم فاطمہ علوی بہت خوبصورت افسانہ نگاراسلام آبادی اُدھیڑ عمر کی خاتون پارے کی طرح متحرک، گھر میں ٹکنا محال۔بچوں کی ذمہ داریوں سے فارغ شوہر ڈاکٹر ایوب علوی کے حوالے کرتے ہوئے خود سارا دن تتلی کی طرح اڑتی پھرتی ،کبھی موسیقی کے پھولوں پر بیٹھتی ،کبھی رفاعی اداروں کے پھولوں جیسے بچوں کی دلداری کرتی اور کبھی قیصرہ علوی کی سنگت میں اسلام آباد کی خواتین کی محفلیں منعقد کروانے جیسے شغل میں جی جان سے مصروف رہتی ہے۔

سیر سپاٹے کی دلدادہ کئی بار ساتھ جانے کا اظہار کربیٹھی تھی۔ تین چوہیاں گھر سے نکلیں۔فارم ہاتھوں میں تھامے ٹریولرایجنسی کے پاس جا پہنچیں۔ کاونٹر پر بیٹھی لڑکی نے میر ا پاسپورٹ تو میرے منہ پر مارتے ہوئے کہا۔ ’’پاسپورٹ کو تو دیکھنا تھا۔ ایکسپائر ہوگیا ہے۔‘‘ میں نے بھونچکی سی ہو کر بے اعتباری سے اسے دیکھا اور جھپٹنے کے سے انداز میں اُس سے گویا چھینا۔ ’’لو کرلو گل۔ بی بی بیگم چلی ہیں ،سپین اور جانتی ہی نہیں کہ خیر سے یہ مدت پوری کیے بیٹھا ہے۔‘‘بحرحال ارجنٹ کا راستہ کھلا تھا۔ چلو کاغذات کی خانہ پُری،ٹکٹ اور میڈرڈ کے لئے فرضی ہوٹل کوئی نو ہزار روپوں کے عوض سارے بکھیڑوں سے نپٹ نپٹا کر کورئیر کمپنی کی راہ پکڑی۔ پاسپورٹ بننے کے بعدغرناطہ کی بکنگ میں نے اپنی مرضی سے کروالی اور الحمرا کا کیس بحث مباحثوں میں اُلجھ گیا۔پہلا پڑائو استنبول تھا۔ بھئی لینڈنگ کے وقت یہ شہر جس انداز میں لمحہ بہ لمحہ سامنے آتا ہے اس کی مثال دینی مشکل ہے۔

سچی بات ہے آخر ہماری بھی زندگی گزر گئی ہے اِن اترنے اور چڑھنے کے تقابلی جائزوں میں۔ ائیرپورٹ کی رنگ رنگیلی دنیا، دو گھنٹے کا قیام۔ہم نے کھانے پینے، ونڈوشاپنگ اور پروردگار کی بھانت بھانت کی مخلوق کو دیکھنے اور تبصرے کرنے جیسے دلچسپ شغل میں گزاری۔اوقات تو ہماری بالخصوص میری یہ تھی کہ پرفیوم کی قیمت کا ہی سُن کر سانس سینے میں اٹک گیا۔’’بھئی آپ ہمیں کنجوسی منجوسی کے طعنے تو مت دیں۔ہم کیا کریں ۔

اپنی فطرت سے لڑ تو نہیں سکتے۔بچے بھی جب ایسی چیز یں لاتے ہیں تو ماں کو دیتے ہوئے قیمت ڈیڑھ گنا گھٹا کر بتاتے ہیں کہ بیچاری ماں کو کہیں ہارٹ اٹیک ہی نہ ہوجائے۔تازہ مالٹے اور پائن ایپل کے جوس کو پیئے ابھی آدھ گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ طبیعت کچھ مزید کھانے پر مچلنے لگی تھی۔دراصل ہم بھی کیا کرتے جگہ جگہ شوکیسوں میں سجی ون سونی چیزیں طبیعت للچاتی تھیں۔نہ نام آتے تھے ،نہ شکلوں سے شناسائی۔بس آنکھوں کو بھلی لگتیں اور انگلیوں سے اشارے شروع ہوجاتے۔پھر ایک عراقی خاتون سے ملاقات ہوئی ۔تعلق اور ناطہ عراق سے جوڑتی تھی۔

سیٹل امریکہ میں تھی۔ہلکی پھلکی جیولری نے حُسن دو آتشہ کررکھا تھا۔ شُستہ الفاظ میں توپ قسم کی پراپرٹی ڈیلر تھی۔مسلمانیت کے حوالے سے کِسی قسم کے تبصرے کی ضرورت ہی نہیں کہ وسطِ ایشیا ، مشرقی وسطیٰ اور یورپ کو جن حال حلیوں میں دیکھا ہے۔وہ ہماری قلبی تسکین کے لیے ٹانک کا کام دیتا تھا۔ایئرپورٹ کی رنگینیوں میں بھی یہی چنتا کہ کہیں جہاز ہی نہ نکل جائے۔ بڈھے طوطے کی طرح خدا خدا کرکے فلائٹ بورڈ ہمیں پڑھنا آگیا ہے۔یہ بھی جانکاری ہوگئی ہے کہ خیر سے جہاز ہمارے بغیر نہیں اڑے گا۔مگر کیا کریں خود پر اعتبار ہی نہیں۔فقیروں کی طرح رُک رُک کر’’ ذرا مائی نو ں دس جاوے سوہنیا‘‘جیسی صدائیں لگانے کی عادت پڑگئی ہے۔ ٹرمینل کہیں شہر کے پچھواڑے تھا۔ وہیل چیئر کی سہولت کا ٹکٹ کے ساتھ لکھوایا ضرور تھا، پر اس کے لیے کہنا یا تقاضا کرنا تینوں میں سے کسی کو یقینا اچھا نہیں لگا ہو گا۔

دوسروں کے دل کا کیا کہوں اپنی گواہی تو دے سکتی ہوں کہ اندر خانے نے ہرگز پسند نہیں کیا تھا کہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر بڑھاپے پر سکہ بند سی مہر لگوائوں۔اوراب آٹے دال کا بھائو پتہ چل رہا تھا۔ قریب سے گزرتی خالی وہیل چیئر کو دیکھ وہی حال ہوا تھا کہ جس کے لیے کہتے ہیں گڈی دیکھ کر پیر بھاری ہوگئے۔مزے سے چڑھ بیٹھی ۔سیما نے حسرت سے دیکھا ۔کہا کچھ نہیں۔خود ہی شرم آئی کہ وہ بے چاری دل کی مریض ۔کچھ آگے جاکر اُسے بیٹھا دیا۔پر یہ بندہ کیسا بیبا نکلا۔کلیرنس سے لے کر بیک ڈور سے ہمیں لفٹ کے ذریعے سیدھا جہاز میں سوار کروادیا۔

واہ بھئی واہ موجیں ہوگئیں۔پل جھپکتے میں وی آئی پی سلوک مل گیا۔کھانا مزے کا تھا۔ اِس رغبت ، چاہت، اطمینان اور سکون سے کبھی کھانا کھانا نصیب نہیں ہوا۔دراصل میں دو گھنٹے کے اس سفر کے ہر ہر لمحے سے لُطف اٹھانا چاہتی تھی۔ اُترے تو وہیل چیئر منتظر تھے۔ شاباش ۔ ترک بچے نے اگر آنکھ جھپکتے میں زمین سے اٹھا کر جہاز میں پہنچا دیا تو اسپینش پورٹروں نے بھی حق خدمت ادا کردیا کہ ہمیں کرسیوں پر بٹھااور کنوئیر بیلٹ سے ہمارا سامان اُتروا کرہمیں چیک آئوٹ کے مرحلوں سے گزار کر ٹیکسی میں لا بٹھایا ۔منہ سے تو ذرا نہ پھوٹے پر کہیں آنکھوں میں خاموش سی التجا ضرور تھی کہ ’’دے جائو کچھ ۔اللہ بھلا کرے گا۔‘‘ شام کا حُسن سُورج کی سونے رنگی کرنوں میں غضب ڈھا رہا تھا۔

ہوائوں کی شوخی ،عمارتوں کی بلندی اور سڑکوں کی فراخ دلی سب توجہ کھینچے تھے۔مگر میڈرڈ پہنچ کر بک کردہ ہوٹل میں ہمارے ساتھ جو ہوا اس کی مختصراً تفصیل سے آپ آشنا ہوچکے ہیں۔ بھئی اب آپ سے کیا پردہ۔ شیشوں سے باہر آسمان کو دیکھتے ہوئے میںنے کوئی پانچ بار تو شُکراً شُکراً کہا ہوگا۔ احسان ہے مولا تیرا’’ بُشری ‘‘ ساتھ نہیں تھی۔چلو لعنت بھیجو جو ہوا سو ہوا۔رات تو بہرحال کٹ ہی گئی۔کچھ سوتے اور کچھ جاگتے۔صبح کی نماز ،قبلہ کا تعین مہرالنساء نیچے جاکر پوچھنے کے لیے بے قرار۔میں نے کہا ’’اے بائولی ہوکیا؟ لڑکے کو چیچو کی ملیاں کا محمد رمضان سمجھا ہے تو نے۔تیرے کعبہ کے رخ سے اُسے کیا سروکار۔کمپاس دیکھ کر سجدہ دے‘‘۔ ناشتے بارے پتہ چلا کہ چالیس یورو فی کس فی رات کا کرایہ بھر کر بھی ناشتہ نہیں ملے گا۔اگر طلب ہے تو نو یورو فی کس ادائیگی ہوگی۔مرتا کیا نہ کرتا۔رات کے بھوکے بے حال غریب الوطن ۔’

’چلو چلو ناشتے کے لیے ۔ بھاڑ میں جائیں یورو۔مشترکہ صدا لگی۔کوئی ڈائننگ ہال نہیں تھا۔وہی ویٹنگ لائونج اب کھانے کے کمرے میں بدل گیا تھا۔ بڑی کاروباری ذہنیت ہے بھئی اِن اسپین والوں کی۔دودھ دہی تازہ اور ڈبے کا جوس ۔ نو یورو میں دودھ بھی پیا۔دہی بھی کھالیا۔جوس پر زبان للچائی نہیں مگر 133 روپوں کا احساس اُکسا رہا تھا کہ خیر صلّا چڑھا جا گلاس ۔ پس تو مُنے چُنے سے ایک چھوڑ دو گلاس چڑھا لئیے۔ساتھ میں دعا بھی کرلی۔سردار کی طرح لمبا ڈکار مارا۔تینوں سکھیوں نے اپنی اپنی گھتلیاں کھولیں۔کائونٹر پر جاکر ہر ایک نے دس دس یورو کا نوٹ دیا اور اپنی اپنی ریزگاری سنبھالی۔

اب کیا کرنا ہے؟غرناطہ کے لیے ٹرین کی بکنگ کروانی ہے۔ریلوے سٹیشن جانا ہے پر پہلے اِس سیاپے سے تو نپٹ لیں۔کہیںنیا ٹھور ٹھکانا تو ڈھونڈ لیں۔چلو شکر کائونٹر پر کھڑا منحوس مارا بدمزاج لڑکا غائب تھا۔کائونٹر اب دو عورتوں کے قبضے میں تھا۔نوجوان اور اُدھیڑ عمر۔ دونوں بڑی ہی معقول اور ہمدرد نظر آئیں۔ہماری مشکل سے آگاہ ہو چکی تھیں۔نیٹ پر آس پڑوس میں ہماری درخواست پر تانکا جھانکی بھی کر بیٹھی تھیں۔اُن کے چہروں پر سجے نوNoکے پوسٹر ہمارے لئے شدید پریشانی کا باعث تھے کہ دفعتاً ٹریول ایجنٹ کے فون نے کچھ امید دلائی۔اس نے قریب ہی ہوٹل کی خوشخبری سُنا دی تھی۔پتہ بھی سکرین پر چمک رہا تھا۔چلو ٹیکسی منگوائی اور دَوری ڈنڈا اٹھا کر اُن پیاری عورتوں کے ساتھ تصاویر بنوا ئیں اور سو یورو کا ضمانتی نوٹ واپس لے کر باہر نکلے۔یوں یہ سفر تمام ہوا۔ ٭٭٭٭