☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سپیشل رپورٹ(طاہر محمود) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) ثقافت(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ و عجیب(انجنیئررحمیٰ فیصل) صحت(سید عبداللہ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک) دنیا کی رائے(راحیلہ سلطان)
چرخہ۔۔دیہاتی کلچر کی ایک نشانی

چرخہ۔۔دیہاتی کلچر کی ایک نشانی

تحریر : ایم آر ملک

01-19-2020

سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی گھوک ماہی مینوں یاد آوندا۔۔۔۔

اس گانے کے بول ہی ایسے تھے ،سینما روڈ پر ڈیک پر گونجتی عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کی آواز نے ظہور کے قدموں کو جیسے جامدو ساکت کردیا،یہ آواز اسے حال سے نکال کر ماضی کے دھندلکوں میں لے گئی جب وہ سن بلوغت میں تھا۔

بنولے کی کپاس سے نکلی ہوئی روئی کی پو نی کو اس کی دادی چرخہ لے کر اپنے بازو کو سر سے اوپر لے جاکردھاگے میں تبدیل کردیا کرتی تھی اور وہ یہ عمل دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سماتا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، یہی کوئی دس بیس سال پرانی بات ہے ،گھر گھر عورتیں چر خا کاتا کرتی تھیں کیونکہ چرخہ بیٹھ کر کاتا جاتا ہے اور اس پر کم طاقت صرف ہوتی ہے ۔گھر کے کام کاج کے ساتھ ساتھ چرخہ کاتنے کا تسلسل بھی جاری رکھتیں ۔

 

چرخہ فارسی زبان کے لفظ ’’چرخ سے ماخوذ ہے اردو میں ’’ہ ‘‘کا لاحقہ لگانے سے چرخہ بنا جو اسم مستعمل ہے ۔پرانے وقتوںمیں ’’ماپے ‘‘اپنی ’’دھی رانی‘‘کے جہیز میں چرخہ ضرور دیا کرتے تھے تب چرخہ لڑکی کے جہیز کی اہم ضرورت ہوا کرتا تھا ،دیہی علاقوں کے جو صاحب ثروت افراد ہوتے وہ رنگین اور خوبصورت پایوں والا چرخہ اپنی بیٹی کو دان کرتے۔لڑکی کے سسرال والے بھی گائوں کی عورتوں کو بہو کے جہیز آنے والا وہ چرخہ ضرور دکھاتے ۔ ہم اس ماضی کو کیسے بھول سکتے ہیں کہ گائوں میں گرمیوں کی دوپہر میںاپنے صحن کے کسی گھنے سایہ دار شجر کی چھائوں میں جب کوئی عورت چرخہ کاتنے بیٹھتی تو کام کاج سے فارغ عورتیں اس کے پاس بیٹھ جاتیں اور گائوں کی ہر اچھی بری خبر کے ساتھ ساتھ وہ ایک دوسرے کے دکھ بانٹتیں ۔اسی لئے چرخے کو گائوں کی عورتوں کی بیٹھک اور دکھ سکھ کا ساتھی بھی سمجھا جاتا تھا ۔اسی طرح گلی میں بیٹھ کر بھی گائوں کی عورتیں چرخہ کاتتے ہوئے گنگنایا کرتی تھیں ،نوجوان لڑکیاں جب چرخہ لے کر بیٹھی ہوتیں اور سوت کی’’ اٹی‘‘ اتارتے ہوئے ’’تکلے ‘‘کی تیز نوک انگلی کے پوٹے میں چھید کرتیں تو بے اختیار ان کے لبوں پر یہ گیت آجاتا ،

چرخہ کاتتے ،ریشم بنتے ،خواب سجاتے 

ہاتھوں میں جب چھید پڑے تم یاد آئے 

چر خہ فراق اور وصال کا استعارہ بھی رہا ہے جب محبوب کی جدائی طویل ہوجاتی تو اس کی یاد میں چرخہ پر سوت کاتا جاتا اس طرح وقت گزرتے دیر نہ لگتی گلی میں چرخہ لے کر بیٹھی دوشیزہ یہ گانا بھی گنگنایا کرتی 

وے ماہیا تیرے ویکھن نوں 

چُک چرخہ گلی دے وچ ڈانواں 

سسرال میں جب بیٹی اپنے ماں باپ کیلئے اداس ہوتی تو اپنے جہیز میں آئے چرخہ کو دیکھ کر اپنی ماں کو یاد کرتی جس کی عکاسی ایک پنجابی ماہیا سے ہوتی ہے ،

ماں میری مینوں چرخہ دتا 

وچ لوائیاں میکھاں 

ماں تینوں میں یاد کراں 

جد چرخے ول ویکھاں

 کہا جاتا ہے کہ 1234میں یہ بغداد میں پہلے پہل استعمال ہوا ،بابل و نینوا کی تہذیب بہت پرانی ہے ،سو چرخہ سب سے پہلے عراق میں ایجاد ہوا اور مسلمان ہی اس کے موجد ٹھہرے۔ 1270میں چین میں استعمال ہوتا رہا اور یورپ میں 1280میں اس کا استعمال شروع ہوا۔وطن عزیز میں اس کی ابتدا ضلع چترال میں آباد ’’کھو ‘‘قبیلے سے ہوئی ، یہ چرخہ وہاں سے پنجاب میں منتقل ہوا اور گھر گھر پھیل گیا۔ 

بر صغیر میںانگریز کے خلاف آزادی کی تحریک میں بھی چرخے کا اہم رول ہے ۔انگریز وںکے خلاف ’’ہندوستان چھوڑ دو تحریک ‘‘میں بڑے بڑے رہنمائوں نے وطن کے باسیوں کو بدیسی کپڑا پہننے سے سختی سے منع کردیاتھا۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے دیس کی کپاس سے بنے سوت کا کپڑا پہننا ہی حب الوطنی ہے ۔گاندھی نے چرخہ پر سوت کات کر اپنی لنگوٹی اور شال بنوایا کرتے تھے ۔1930کی دہائی میں جب انہیں ہندوستان کی بروڈا جیل میں پابند سلاسل کیا گیا تو جیل میں دوران اسیری بھی وہ چرخہ کاتنے میں مصروف رہے ۔انہوں نے ہندوستان میں چرخہ کاتنے کو ایک تحریک بنا یا،ان کے کہنے پر عورتوں نے اپنے پرانے چرخوں کی صفائی کی اور ہندوستان میں جدوجہدِ آزادی کے رہنمائوں کے ارشاد کی تعمیل میں چرخے پر سوت کاتنے کو ترجیح دی۔ سال گزشتہ میں گاندھی کا چرخہ جب عام نیلامی میں رکھا گیا تو اسے ایک برطانوی نے تاریخی یادگار کے طور پر 1.8لاکھ ڈالر میں خریدا ،یہ چرخہ 1935میں امریکی مشنری کو تحفہ میں دیا گیا تھا ۔صنعتی انقلاب سے پہلے چر خہ روئی کی ٹیکسٹائل کی صنعت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا تھا اور مزدوری کی بچت ،مشینری پر مبنی پیداوار کو مسترد کرنے کی علامت بن چکا تھا ۔اس سے چلنے والی معیشت ایک معاشی نمونہ تھی جو سرمایہ دارانہ نظام سے مختلف تھی، کھدر کا کپڑا سامنے آتے ہی بزرگوں کے ذہن میں چرخے کا تصور اُبھرتا ہے ۔

چرخہ شاعروں کابھی ایک پسندیدہ موضوع رہا ،اس پرشاعری کی گئی ، گیت لکھے گئے،گانے بنائے گئے جو کافی مشہور ہوئے ۔ضلع میانوالی کے باسی شاعر فاروق روکھڑی نے اکثر ثقافتی گیت لکھے جنہیں لوک گلوکاروں نے گایا ۔ایک ماں چرخے پر سوت کات کر گائوں کے جولاہے سے اپنے اکلوتے بیٹے کیلئے کھدر کا سوٹ بنوا کر اپنے سپوت کو پہنایا کرتی تھی ،جب اس کے بیٹے نے پہننا چھوڑ دیا تو ماں پھر بھی چرخے پر سوت کاتا کرتی جس پر بیٹی نے کہا کہ اب سوت کاتنا چھوڑ دو کیوں کہ بھائی نے اب کھدر پہننا چھوڑ دیا ہے ،اس تصور کو فاروق روکھڑی نے شاعری کی زبان یوں دی 

ہُن تاں سوتر کت ناں مائے ویر نہ کھدر پاندا اے 

خواجہ غلام فرید ؒ نے زندگی کو چرخہ سے تشبیہ دی ان کے ذیل میں دیئے گئے مصرع کا یہی مطلب ہے کہ جس طرح چرخہ گھومتا ہے ،زندگی بھی اسی طرح اپنے مدار میں چلتی ہے ، 

’’گھوم چرخڑا گھوم ‘‘

کہا جاتا ہے کہ بابا فرید گنج شکر ؒ 12برس تک چرخہ سے کاتتے کاتتے سو گئے ۔سوت کی ایک ’’تند ‘‘ کے ساتھ کنو ئیں میں رہے تب جاکر انہیں ولایت ملی ۔اسی طرح ایک عالم نے جب ایک بڑھیا کو چرخہ کاتتے دیکھا تو فرمایا کہ ’’بوڑھی ماں ساری عمر چرخہ کاتنے میں ہی گزار دی یا خدا کی بھی پہچان ہوئی ؟بڑھیا نے کہا کہ اسی چرخہ سے تو خدا کی پہچان ہوئی ہے ۔بزرگ نے حیرانگی سے پوچھا کہ وہ کیسے ؟بوڑھی نے کہا کہ اس کائنات کا نظام جو ہستی چلا رہی ہے،وہ ایک تسلسل قائم رکھے ہوئے ہے اگر وہ اس تسلسل کو روک دے تو کچھ باقی نہ رہے ۔اسی طرح میں چرخہ کاتنے کے عمل کو تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہوں اگر اسے روک دوں تو سوت کتنا رک جائے، اسی بات سے مجھے اللہ پاک کی پہچان ہوئی ہے۔ 

ماضی قریب میں بھیڑ کی اون سے بنی شالیں ہمیں شدید سردیوں میںدریائے سندھ کے نشیبی علاقہ سے جنوبی پنجاب آنے والے باسیوں کے کندھے پر نظر آتی تھیں ۔ دریائے سندھ کے شرقی اور مغربی کنارے پر واقع نشیبی علاقہ میں شدید سردی پڑتی ہے ۔کسان ،زمیندار سب اس سے متاثر ہوتے ہیں ، جب نشیبی علاقہ کے یہ باسی تھل میں داخل ہوتے تو گرم مرطوب علاقہ ہونے کی بنا پر اس گرم شال سے جسم کو آزاد کر دیتے اور اسے اتار کر کندھے پر ڈال لیتے ۔و طن عزیز میں میں کمالیہ کا کھدر بہت مشہور ہے زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب چرخے سے کاتے دھاگے جسے عورتیں کاتا کرتی تھیںکے دھاگے کا کھدرکمالیہ میں عا م ملتا تھا۔ چر خہ پر کاتے گئے دھاگہ سے جو کھدر بنتا تھا ، معیار میں اس کا مقابلہ حالیہ کھدر سے نہیں کیا جاسکتا۔دو عشرے قبل کمالیہ میں 1500سے زائد کھڈیاں موجود تھیں، اب صرف 40بچی ہیں۔ کمالیہ کے ایک شہری اکرم کا کہنا ہے کہ’’ مجھے یہ کام کرتے ہوئے برسوں ہو گئے ،دیہی علاقہ کی عورتیں چرخہ کات کو ہمارے پاس ’’سوت ‘‘ لایا کرتی تھیں ۔میں خود اس دھاگے سے کپڑا بناتا رہا ،میری آنکھوں میں موتیا اتر آیا مگر اب چرخے کے کاتے ہوئے سوت سے بنے کپڑے کو لوگ پسند نہیں کرتے لیکن لومز ،ٹیکسٹائل پر بنا کپڑا نفیس تو ہوتا ہے کوالٹی میں یہ مقابلہ ہاتھ سے بنے کپڑے کا نہیں کرسکتا ‘‘ ۔

البتہ ایسے علاقوں میں جہا ں بھیڑوں کی اون ہوتی ہے یا میدانی علاقوں میں جہاں لوگ اونٹ پالتے ہیں ، پھر اس اون کو چرخے پر کات پر اپنے استعمال میں لاتے ہیں وہاں چرخہ اب بھی موجود ہے ۔چار سدہ کے علاقہ ’’رجڑ ‘‘میں بھیڑوں کی اون سے بنی شالیں دنیا بھر میں مشہور ہیں کیونکہ وہاں بھیڑوں کی اون عام ہے۔ چرخے سے کاتے گئے سوت سے بنا کپڑا سردیوں کے موسم میں دور دراز کے علاقوں سے لوگ خریدنے آتے ہیں اور اپنے احباب کو بھی بطور گفٹ پیش کرتے ہیں ۔اس دھاگہ سے کھڈی پر تیار کیا گیا گرم کپڑا نہایت عمدہ اور نفیس ہوتا ہے ۔ہر برس لوک ورثہ میلہ اسلام آباد میں منعقد ہوتا ہے جس میں ایسی اشیاء کی نمائش کی جاتی ہے جو ہماری ثقافت سے جڑی ہوتی ہیں اور معاشرتی زندگی سے آہستہ آہستہ نکلتی جارہی ہیں ۔گزشتہ برس یہ میلہ 15نومبر سے شروع ہو کر 24نومبر تک جاری رہا اس میلہ میں اندرون سندھ ،تھر پارکر ،بلوچستان سے عورتیں چرخہ کاتنے کیلئے خاص طور پر شریک ہوتی ہیں۔ تھرپارکر سندھ سے آئی ایک بوڑھی عورت نے بتایا کہ وہ عرصہ دراز سے یہاں آرہی ہے اور ہمارے ہاں دنبے کی اون سے دھاگہ تیار کیا جاتا ہے۔ 

سوت اور کھدر تو ماضی کا حوالہ ہوئے سو ہوئے مگر چرخہ بھی طویل عرصہ ہوا ہمارے کلچر کی دہلیز عبور کر گیا ۔دنیا کی یہ قدیم ایجاد اب نایاب ہو تی جارہی ہے ۔مائوں کیاپنے بچوں سے محبت کی یہ علامت وقت کے ساتھ ساتھ دم دم توڑرہی ہے ۔ مائیں جب چرخہ کاتا کرتی تھیں اپنے بچوں کو بھی بہلایا کرتی تھیں اور جب اولاد اپنی مائوں کو ایک تسلسل کے ساتھ چرخہ کاتتے ہوئے دیکھتی تو اس کے شعور سے تحت الشعور میں جدوجہد کا تصور ابھرتا چرخہ در اصل جہد ِ مسلسل کانام ہے چاند سے لیکر زمین تک یہ جدوجہد کا استعارہ ہے۔عصرِ ِ حاضر میں جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے لئے آسانیاں تو پیدا کر دیں مگر وہ سوچ چھین لی جو کسی بڑے کے عمل سے ہمارے اندر پیدا ہوتی تھی۔ 

چرخہ کیسے کام کرتاہے؟

گائوں کا قاسم درکھان جس کی آنکھوں کی بینائی اب نہیں رہی، دنیا اندھیر ہو چکی ہے،وہ شیشم کی لکڑی سے چرخے تیار کیا کرتا تھا ،گائوں کے لڑکے بالے اس کا فن دیکھنے کی خاطر اس کے گرد جمع ہو جایا کرتے تھے۔ وہ کہتا ہے کہ

 ’’جب میں لکڑی کے مثلث نما ٹکڑے جوڑ کر چرخے کے بڑے سے پہیے کو بناتا ،لکڑی کے فریم پر سوراخ نکال کر خرادی گئی دو ’’مُنیوں ‘‘کو ’’تیشے ‘‘سے ٹھونکتا، پھر چرخے کے پہیے کو ان دو ’’مُنیوں ‘‘میں لوہے کی لٹھ سے منسلک کرتا جوچرخے کے بڑے پہیے کو گھمانے کا سبب بنتی ۔اس کے بعدپہیے سے کچھ ہی فاصلے پر ’’برمے ‘‘سے سوراخ نکال کر دو اور ’’مُنیاں ‘‘گاڑھی جاتیں جن کے درمیان تیز دھار لوہے کا ’’تکلا‘‘ڈالتا، یہ ’’تکلا ‘‘چرخے کے پہیے کے ساتھ ایک دھاگے سے گھومتا ،چرخے کے پہیے کو گھمانے کیلئے اس کے ساتھ لکڑی کا ’’ہینڈل ‘‘لگا دیا جاتا تھا جس کو ہم یاچرخہ کاتنے والی عورتیں اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے تیزی سے گھماتی تھیں۔بنولے کے بغیر روئی جو دونوں ہتھیلیوں کے درمیان میں رکھ کر ’’پونی ‘‘کی شکل میں تیار ہوتیں ’’تکلے‘‘کے گرد گھوم گھوم کر کچھے دھاگے ’’سوت ‘‘کی شکل اختیار کرتیں ۔ایک پونی کے ختم ہونے کے بعد بار بار نئی پونی کا ٹانکہ لگایا جاتا اور اس طرح دھاگے کی ایک ’’اٹی ‘‘تیار ہوتی جو ایک ’’کون نما ‘‘ہوتی تھی ۔اس طرح ڈھیروں اٹیاں جوڑ کرڈھیروں دھاگہ تیار کرکے جولاہے کو دیا جاتا جو اس دھاگے سے کھیس تیار کرتا۔ شالیں بنانے کیلئے اون چرخہ پر کاتی جاتی اور پھر کھڈی پر شال تیار ہوتی۔اسے مقامی زبان میں ’’ڈلہ ‘‘کہا جاتا تھا یہی نہیں اونٹ کی اون جسے ’’ملس ‘‘ کہا جاتا ہے ،اس کی اون سے بنی شال کمبل سے زیادہ گرم ہوتی ۔یہ سارا کمال چرخہ کا تھا جس پر یہ اون کاتی جاتی تھی۔