☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
پاور پلانٹس کی جگہ شمسی بیٹریاں

پاور پلانٹس کی جگہ شمسی بیٹریاں

تحریر : انجنیئررحمیٰ فیصل

03-10-2019

سائنسدان آئے روز نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں بظاہر یہ بہت عجیب سی بات لگتی ہے کہ آپ کے کچن میں رکھے ہوئے مائیکروویو میں انگور کے چند دانے ایٹم بم کی طرح پھٹ پڑیں اور اس سے بہت سی دوسری چیزوں نے آگ پکڑ لی ۔آپ کو یہ بات بھی بہت عجیب لگے کی کہ آپ اپنے گھر میں پلازما پیداکرسکتے ہیں ۔یہ کوئی مشکل کام نہیں، اس کے لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ 2انگوروں کی ضرورت ہے۔ اگر دو انگور میسرنہ ہوں تو ایک سے بھی کام چل جائے گا۔ایک انگورکو دو برابر حصوں میں کاٹ کر مائیکروویو میں رکھنے کے بعد اُسے آن کرنے سے خوفناک دھماکہ ہوسکتاہے ۔ ایسے ایک تجربہ میں ایک مائیکرووویو کیساتھ رکھے ہوئے درجنوں مائیکروویو بھی جل کر راکھ ہوگئے تھے۔ امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔سائنس دان یہ بات بہت پہلے سے جانتے تھے مگر وہ اس بات سے و اقف نہ تھے کہ ایسا ہوتا کیوں ہے؟جب بجلی کی لہریں مائیکر ویوومیں پڑے انگوروں کے دو دانوں میں سے گزرتی ہیں تو وہ آگ کیوں پکڑ لیتے ہیں یا پھٹ کیوں جاتے ہیں۔انہیں اب پتہ چلا ہے کہ انگوروں میں سے پلازما پیدا ہوتا ہوتا ہے،اور دھماکہ اسی کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔ تین ماہرطبیعات دان نے بھی انگوروں سے پلازما بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ کنکورڈیا یونیورسٹی کے آرون سیلے پکوف اورحمزہ ۔کے۔ خٹک نے یہ حیران کن تجربہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مائیکرو ویو میں دوبرابر حصوں میں کٹے ہوئے انگوروں میں سے بجلی کی لہریں پلازماکو پیداکرتی ہیں۔یہ تجربہ سائنسی میلوں میں دلچسپی کا مرکز بنارہا۔کئی سائنسی بلاگس نے اسے اپنے پیچ پر ڈالا، کچھ نے اسے پلازما مائیکروویو کا نام دیا تو کچھ نے اسے ’’انگوروں کی ایٹمی طاقت‘‘ سے تعبیر کیا۔ بہرکیف یہ ایک زبردست سائنسی تجربہ ہے ۔یہ بات محض آپ کی معلومات کے لیے درج کی جارہی ہے ایساکوئی تجربہ کرنے کی کوشش ہرگز نہ کی جائے۔

دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والی روسی کمپنی نے اب’’ کلاشنکوف ڈرون‘‘ بنا کر تباہی کا ایک اور ذریعہ پیداکردیاہے ۔روسی کمپنی نے پہلے کلاشنکوف بنائی جو افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد پاکستان میں جرائم پیشہ عناصر کی طاقت بن گئی۔بہت سے لوگوں کو معلوم ہو گا کہ کلاشنکوف رائفلیں امریکی محکمہ دفاع کی بھی اولین پسند ہیں، افغانستان اور شام میں وہ یہ ہی استعمال شدہ کلاشنکوفیں مہیا کررہے ہیں۔پاکستان میں پولیس اہلکاروں کے پاس 47۔AKجیساخطرناک ہتھیار نہ ہونے سے یہ رائفل قتل اور ڈکیتی کا ذریعہ بننے کے علاوہ سیاستدانوں کا ’’کھلونا‘‘بن گئی۔اس سے کی جانے والی ہوائی فائرنگ بے گناہوںکی جانیں لینے لگی ۔اب اسی کمپنی نے گزشتہ دنوں ابوظہی میں دفاعی پیداوار کی ایک بڑی نمائش میں ’’کلاشنکوف کا می کازے‘‘ (Kamikaze)نامی ’’ڈرون‘‘ کو پیش کرکے امن کے خواہشمندوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اسے (Suicide Drone)یعنی ’’خودکش ڈرون‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جنگی حکمت عملی کے ماہرین نے خبردار کیاہے کہ کلاشنکوف رائفل کی طرح ’’ خودکش ڈرون‘‘ بھی دنیا میں تباہی کا ذریعہ بنیں گے، مختلف ممالک میںباغیوں اور انقلابی لیڈروں کی پسندیدہ رائفل یہی ہوگی، لاطینی امریکہ اورافریقہ کے بے چین افراد اپنی حکومتوں کے خلاف بھی ا سی ہتھیارکا استعمال کریں گے ۔ اسی قسم کے پراسرار ڈرونز صدر ووینی زیولہ نکولس مادورو کے قتل کی سازش میںاستعمال کئے گئے ۔لندن،ڈبلن ،نیویارک اوردبئی کے ہوائی اڈوں کے قریب ایسے ہی ڈرونز کی پراسرار پروازوں کے بعد ان ہوائی اڈوں کو کچھ دیر کے لیے بند کردیا گیا تھا۔ کلاشنکوف ڈرون کا سرکاری نام KUB-UAVہے مگر مغربی میڈیا نے اسے سوسائیڈ ڈرون کا نام دیا ہے ۔یہ ڈرون چارفٹ چوڑا ہے،6پاؤنڈ بارودی موادلے کر تقریباً 80میل فی گھنٹہ کی رفتارسے 40 میل دور تک اپنے ہدف کو نشانہ بناسکتاہے۔ کسی بھی امریکی سمارٹ بم کی طرح یہ بھی اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتاہے۔اسی لئے یونیورسٹی آف ایلی نائس میں عالمی تعلقات کے پروفیسر نکولس گراس مین نے اسے امریکہ کے سمارٹ ترین بموں جیسا جدید اورکم رفتاروالااسستا کروز میزائل قراردیاہے۔پروفیسر نکولس ’’ ڈرون اوردہشت گردی ‘‘کے موضوع پر ایک کتاب لکھ کر عالم گیر شہرت حاصل کرچکے ہیں ۔یادرہے، امریکہ اور اسرائیل کے جنگی ذخیرہ میں خودکش ڈرونز پہلے ہی موجودہیں مگران ممالک نے یہ ٹیکنالوجی کسی دوسرے کو نہیںدی۔ روسی کمپنی نے اس کی فروخت کو عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نوبل انعام یافتہ سائنسدان ایلزبتھ بلیک برن نے کروموسومز میں ٹوٹ پھوٹ پر تحقیق کر کے ان کی مرمت کے نظام کا خاکہ بنا لیا ہے۔ ان کی تحقیق کا مرکز آنکھوں سے نظر نہ آنے والے انتہائی باریک خلیے ہیں بالکل دھاگے کی مانند لمبوترے ۔انہیں آپ جینیاتی کوڈ بھی کہہ سکتے ہیں ۔انہی کروموسومز میں ا نسان کے جینیاتی کوڈ چھپے ہوتے ہیں۔ ان کروموسومز میں ٹیلومیرز (Telomeres) کی کمی سے بڑھاپے کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ کروموسز ہی دراصل سگنل جاری کرتے ہیں اور سگنل ہو تا ہے ۔۔۔۔’’جناب ،اب مرنے کا وقت آگیا ‘‘۔ایلزبتھ نے سوچا کہ آخر کروموسومز میں ہونے والی تبدیلیو ں کو کچھ سالوں تک ٹال کر اس پیغام کو روکا جاسکتا ہے ،کیونکہ لوگ اپنے کروموسومز کے ٹیلومئیر زکی لمبائی کو 2-4سال کے لیے آسانی سے برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بہت لمبی زندگی پالیں یا موت کو شکست دے دیں۔ یہ ممکن نہیں۔ بس اس سے یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کچھ سالوں تک مزید خوش و خرم بیماریوں سے محفوظ زندگی گزار سکیں ۔ ’’فلائنگ بل ڈاگ‘‘ کوئی اڑنے والا کتا نہیں بلکہ یہ ایک معصوم سی شہد کی مکھی ہے۔نباتاتی ماہرین اس کی بھناہٹ کو سننے کے لیے کئی عشروں سے بے تاب تھے۔ عام مکھی سے چارپانچ گنا بڑی ہونے پر اس کا نام ’’فلائنگ بل ڈاگ‘‘ پڑ گیا۔نر ایک انگوٹھے سے بڑا ہوتاہے جبکہ مادہ مکھی خود ڈیڑھ انچ کی ہوتی ہے مگراس کی زبان ایک انچ کی ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق ان کے پاس کم از کم فلائنگ بلڈاگ کی20سے 30 تک مکھیاں ہوں گی ۔ معروف فرانسیسی ماہر Rich Desmier de chenon کے پاس بھی اس نوع کی کچھ شہد کی مکھیاں ہوں گی ۔وہ چوری کے ڈر سے یہ راز کسی کو نہیں بتاتے، مقامی باشندے اس کی اہمیت سے آگاہ ہیں مگر وہ اس کا ذکر نہیں کرتے ۔مقامی لوگ ہی ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ اس کی قیمت 9ہزار ڈالر (13لاکھ روپے)سے کبھی نیچے نہیں آئی ۔پچھلے برس بل ڈاگ مکھی 9100ڈالر میں بکی،دکیتی کے ڈر سے اسے آن لائن فروخت کیا گیا۔ شہد کی مکھیوں کی یہ قسم 1859ء میں ایلفریڈ رسل ویلس نے دریافت کی تھی، انہوں نے اس کا نام ’’میکاچلی پلوٹو‘‘ رکھامگر یہ نا تو سیارہ پلوٹو ہے اور نہ ہی ملک چلی کا کوئی میگا پراجیکٹ۔ ان کے بعد دوسرے نباتاتی ماہرین نے ایلفریڈ رسل ویلس کے نام پر اس کا نام ’’ویلس مکھی ‘‘رکھ دیا۔ بعدازاں یہ مکھی 1863، 1951، 1953، 1981، 1991، 2018 ء میں دیکھی گئی۔ 1859ء سے 1981 تک نیچرل ہسٹری کے ماہرین اس کی صرف دو انواع سے واقف تھے ،مگر اب اس کی کئی انواع سے واقف ہیں۔ نیچرل ہسٹری کے ماہرین کے مطابق شہد کی عام مکھی سے سائز میںکم از کم چار گنا بڑی یہ مکھی اپنا چھتہ زمین سے 2.4 میٹر کی بلندی پر بناتی ہے ، مگر دیمک سے بچاؤ کے لیے چھتے کے اردگرد زہریلے مادے کی لکیر کھینچ دیتی ہے۔گلوبل وائلڈ لائف کنزرویشن ،نباتاتی ماہرین اور قدرت سے پیار کرنے والے فوٹو گرافر اس کی تلاش میں کہاں کہاں نہیں مارے پھر رہے تھے ،آخرکار انہوں نے فروری کے تیسرے ہفتے میں اس بل ڈاگ مکھی کو انڈونیشیا کے ایک جزیرے (North Moluccas)میں ڈھونڈ نکالا۔ ٭٭٭٭ زیادہ دیر تک بیٹھنے یا سونے سے صوفہ آپ کو بیمار بھی کر سکتاہے ۔یہ بات کسی کے وہم گمان میں بھی نہ ہوگی کہ صوفہ میں موجود کیمیکلز آپ کو بیمار بھی کرسکتے ہیں ۔یہ بات گزشتہ دنوں امریکہ میں دنیابھر کے سائنسدانوں کے اجتماع میں سامنے آئی ۔اس سالانہ میٹنگ کا اہتمام ’’امریکی ایسوسی ایشن برائے سائنس ‘‘نے واشنگٹن ڈی سی میں کیا تھا۔اس اجلاس میںڈیو ک یونیورسٹی کے پروفیسرنے اپنی ایک تحقیق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ گھریلو فرنیچراور فرش کی اشیاء کازیادہ استعمال کرنے والے بچوں کے خون میں بعض مضر صحت کیمیکلز عام بچوں کی بہ نسبت زیادہ مقدارمیں پائے گئے۔ڈیوک یونیورسٹی کے ماہرین نے بچوں کے مختلف ٹیسٹ کیے جس سے انہیں پتہ چلاکہ ان کے زیر استعمال فرنیچر ان کے خون میں بعض مضر صحت کیمیکلز میں اضافے کا موجب بن رہاہے ۔ پروفیسر نے فرنیچر زیادہ استعمال کرنے والے بچوں کے خون کے نمونے لیے جس سے انہیں پتہ چلاکہ صوفوں اور کرسیوں کے فوم میں ’’Polybrominated Diphenyl Ethers‘‘نامی کیمیکل بھی استعمال کیا جاتاہے جوبچوں کی نشو ونما اورصحت پر مضر اثرات ڈالتاہے ۔ حتیٰ کہ دماغ کے ارتقاء کو بھی روکتا ہے ۔محقق نے خبر دار کیا کہ بعض ادارے اس مضر صحت کیمیکل کا محفوظ فرنیچر کے مقابلے میں 6گنا زیادہ استعمال کررہے ہیں۔جب انہوں نے اس کیمیکل کا تجزیہ ’’وینائیل فلورنگ ‘‘میں استعمال ہونیوالے کیمیکل Benzyl Butyl Phthalateکیساتھ کیا تو نتائج اس سے بھی زیادہ خطرناک نکلے۔اس مضر صحت کیمیکل کی مقدار عام بچوں کے مقابلے میں 15گنا زیادہ تھی۔ یہ کیمیکل سانس اور بعض جلدی بیماریاںپیداکرتاہے ، اس کا تعلق تولیدی خلل کیساتھ بھی جوڑاگیاہے۔ ڈیوک یونیورسٹی ٹیم کے سربراہ ہیدر سٹیپلیٹن نے کہا کہ ہمارے چاروں طرف بکھرے ہوئے یہ مادے نہایت خطرناک ہیں۔اب تو یہ الیکٹرونکس میں بھی استعمال کیے جارہے ہیں اور عمارات کی تعمیر میں بھی ۔ ٭٭٭٭ ربڑ الیکٹرانک اور سینسر کی مدد سے سائنسدانوں نے مصنوعی جلد بنانے پر ابتدائی تحقیق مکمل کر لی ہے۔ انسانی جلد کی طرح یہ جلد بھی روبوٹ کو ذہنی پریشانی، دبائو یا ایسی کسی بھی حس کا احساس دلائے گی۔ ہوسٹن یونیورسٹی میں مکینکل انجینئرنگ کے پروفیسر شن ژیانگ یو نے کہا کہ ’’ جلد کو توانائی مہیا کرنے کے لیے ایک سرکٹ بیٹری کی ضرورت ہوگی۔ تھر ی ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے سرکٹ کی تیاری پر کام ہو رہا ہے ۔ کائنات میں ہمارے کرہ ارض جیسے ستاروں کے بیش بہاسمندر چھپے ہوئے ہیں۔ فلکیاتی ماہرین کے مطابق ہماری کہکشاں میں بھی ایک ارب برس سے ستاروں کا ایک سمندر چھپاہواہے خداکی قدرت سے یہ چار حصوں میں بکھر گیا اور اسے کہکشاں کے کناروں پر دیکھا جاسکتاہے۔ستاروں کا یہ سمندر مضمون میں شامل تصویر میں سرخ رنگ میں دکھایاگیا ہے۔بظاہر یہ ستارے زمین کے قریب تر ہیں مگر ان کافاصلہ کم از کم 330لائٹ ایئر سے کیا کم ہوگا۔اب سائنسدان اس پوری کہکشاں کے حجم کا سراغ لگانے میں جت گئے ہیں۔ ستاروں کا یہ سمندر ان کے بہت کام آسکتاہے۔اگرچہ ماہرین فلکیات کے لیے ستارے کوئی نئی چیزنہیںوہ پہلے بھی ستاروں کے کئی گروپوں کا سراغ لگاچکے ہیں مگر یہ انہیں پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ یہ ستارے الگ الگ نہیں بلکہ ایک گروپ کا حصہ ہیں اوریہ دریا 1300لائٹ ایئرز طویل اور160لائٹ ائیرز چوڑاہے۔ سائنسدان 3Dٹیکنالوجی کی مدد سے اس کا ساراڈیٹا اکھٹا کررہے ہیں۔یورپین اسپیس ایجنسی کے بھیجے گئے مصنوعی سیارے نے3Dٹیکنالوجی کی مدد سے اس کی واضع تصاویر ارسال کی ہیں جن سے انہیں کائنات کی وسعت کا پتہ چلا ۔ ترقی یافتہ ممالک میں مہنگے پاورپلانٹ کی جگہ طاقت ور جناتی سائز کی بیٹریوں نے لے لی ہے۔لیتھیم آئن بیٹری کی گرتی ہوئی قیمتوں نے انہیں عالمی منڈیوں میں پاور پلانٹس کے سستے متبادل کے طورپر پیش کیا ہے ۔ یہی بیٹریاں برقی کاروں کمپیوٹروں اور دوسرے تمام الیکٹرانک آلات کو چلانے کے لئے انرجی سٹور کریں گی۔ان سے طاقتور جنریٹروں کا کام بھی لیا جا سکے گا۔یقینا آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ بیٹریوں نے اگر اچانک جواب دے دیا تو آپ کا لیپ ٹاپ کیسے چلے گا ،یا پھرسیل فون کیسے چارج ہوگا َ؟ کمپنیوں نے اس کا بھی حل تلاش کرلیا ہے ،الیکٹرک گریڈ کی مانند لاتعداد بیٹریوں کو جوڑ کر برقی رو کی پیداوار حاصل کی جائے گی۔ا س کا کامیا ب مظاہرہ شمالی کیرولائنا میں کیا جاچکا ہے ۔ اس سے ناصرف جگہ کی بچت ہوگی بلکہ یہ سستی بھی ہوگی پیسے بھی بچیں گے اور جگہ بھی عوام انہیں جب چاہے استعمال کرلیں مثلا مانگ بڑھنے کی صورت میں بطور بیک اپ بھی استعمال کیاجاسکتاہے۔ امریکہ میں 2014کے بعد سے تقریبا آدھی سے زیادہ توانائی متبادل ذرائع (سورج، آندھی، طوفان وغیرہ )۔ گزشتہ چند دہائیوں میں قدرتی گیس کے پاور پلانٹس مہنگے بھی پڑرہے ہیں اور ان کی صلاحیتیں بھی کم ہورہی ہیں۔چنانچہ امریکہ نے اب بیٹریوں کو توانائی کی اسٹورج کے لیے استعمال کیا ہے ۔اس کی قیمت 1200ڈالر فی کلو واٹ آوور ہے مگر 2022میں گر کر 325ڈالر رہ جائے گی۔شمسی توانائی کی قیمت انتہائی کم ہوگی اس لیے ان کا مستقبل روشن ہے ۔دنیا کے کئی حصوں میں کوئلے کے پاورپلانٹس جلد اور گیس کے پاور پلانٹس 2030ء تک مکمل طور پر بند ہوجائیں گے۔