☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا شخصیت عالمی امور سنڈے سپیشل یوم عاشور کچن کی دنیا صحت تحقیق غور و طلب تاریخ
قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی سیاسی بصیرت

قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی سیاسی بصیرت

تحریر : ڈاکٹر ایم اے صوفی

09-08-2019

قائدِاعظمؒ کی شخصیّت

قائدِاعظم محمد علی جناح ؒکی شخصیّت نمایاں اِس لیے ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی اور قانونی بصیرت کے ذریعے ہندوستان کی سیاست میں ایک ایسا کِردار ادا کِیا جس سے برطانیہ کی بادشاہت،ملوکیت،انڈین نیشنل کانگریس کی سیاست،قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے تدبر، فراست، فصاحت و بلاغت کے سامنے ہمیشہ لرزتی رہی اور قائدِاعظمؒ نے اُن تمام سازشوں،ریشہ دوانیوں کو اپنے بہترین کِردار کے ذریعے ناکا م بنایا اورمسلمان قوم کو آزادی سے 14 اگست 1947ء کو روشناس کروایا۔

قائدِاعظمؒ نے انڈین نیشنل کانگریس میں رہ کرہندو اور نیشنلسٹ مسلمان زعما کی متعصبانہ چالوں کو جانچ لیا۔چناںچہ آپ نے کانگریس کے آزادی کے مفہوم کو ایک حسین فریب قرار دیا جو مسلمانانِ ہند کے خلاف تھا۔

اِس طرح محلاتی لیڈروں کی سازش کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنادیا اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے اس بیان کو للکارا کہ ہندوستان میں صِرف دو جماعتیں ہیں، ایک کانگریس اور دوسری برطانوی حکومت۔آپ نے کہا کہ نہیں ہندوستان میںایک تیسری بڑی طاقت مسلم لیگ ہے۔قائدِاعظمؒنے کہا کہ جواہر لعل نہرو کے اِن اعلانات سے ہندوذہنیت اور کانگریس کی اصل جھلک سامنے آگئی۔ قائدِاعظمؒ نے قانونی نکتہ اٹھایا کہ ہندوستان میں تیسری طاقت مسلمان ہیں، جن کی تعداد دس کروڑ ہے، جنہیں آسانی سے نظر انداز نہیں کِیا جا سکتا۔ لہٰذا آپ نے قانون کی جنگ لڑتے ہوئے اپنی ذہانت اور آئینی مہارت کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت مسلم لیگ کی جدوجہد کے ذریعہ بنوائی جسے مملکتِ خداداد پاکستان کہتے ہیں اور اس دیس کا اپنا قانون ہے۔

قائدِاعظمؒ کی زیرِ قیادت مسلم لیگ

کے دس سال(1937-47ء)

پاکستان کیسے معرض وجود میں آیا؟ اِس سلسلے میں ہمیں قائدِاعظمؒ کی صِحت اور عمر کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔وہ 1938ء سے علیل رہنے لگے،آرام نہیں کرتے تھے۔ کیوںکہ ایسا کام کرنے کے لیے صحت و عمر کا ہونا لازمی ہے۔ قائدِاعظم ؒکی زندگی مسلم لیگ کی جدوجہداور قیام پاکستان میں گذری۔تاہم اُنہوںنے زندگی کاہر ایک قدم آئین کی روشنی میں گزارا۔ 14اگست1947ء سے 11ستمبر1948ء تک قائدِاعظم محمد علی جناحؒ گورنر جنرل پاکستان تھے اُن کو ملک کی سربراہی کرنے کو 13ماہ میسر آئے۔مائونٹ بیٹن برطانوی وائسرائے ہند کو عمر بھر یہ افسوس رہا کہ اُسے جناح ؒ کی بیماری کا علم نہ ہوسکا۔ا س بات کا اظہار اس نے کئی مرتبہ کیا۔اسے علم ہو جاتا کہ جناحؒ پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہونے والا لیڈرہے تو وہ 15اگست1948ء کو پاکستان اوربھارت کے قیام کی پہلی تاریخ تبدیل نہ کرتا۔ قائدِاعظم ؒ کی زندگی کو26دِن میسر آتے اور پاکستان پیدا ہوتے ہی مر جاتا۔ نہ آئین ہوتا، نہ اسمبلی ہوتی۔یہ قوم مفلوک الحال تھی اور یہ اِسی طرح ہندو کے اثر کے نیچے رہتی۔ پاکستان مُلک بن گیا۔ اِس نئے ملک کو آئین کی ضرورت تھی۔

پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی

قائدِاعظم ؒنے سب سے پہلے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا افتتاح کِیااور دستورساز اسمبلی کی صدارت قبول فرمائی۔قوم کے نمائندوں کو آئین کی تشکیل میں شامل کِیا کیوںکہ قائدِاعظمؒ آئین کی تشکیل کے لیے بڑے کوشاں رہے۔

11اگست1947ء کو قانون ساز

اسمبلی میں قائداعظم ؒکا خطاب

حضرت قائدِاعظم ؒکی یہ تقریر عظمت انسان اور نئے پاکستان کی تعمیرِ نو کی دانش تھی۔ انہوں نے قوم کو وہ راہ دکھائی جو کامرانی کی کنجی تھی۔ اگر قوم اُن کی تقریر کو عملی حقیقت کا روپ دیتی تو آج ہماری سلطنت عظیم الشان ہوتی۔ مادّی وسائل بھی بے شمار ہوتے اور مثالی اسلامی فلاحی مملکت ہوتی۔ قائد نے کس قدر اخلاقی طرزِ زندگی کی راہ ڈھونڈی اورہر فرد کو اس پر چلنے کی تلقین کی تاکہ ہر پاکستانی کی زندگی بھلے انداز سے سفر طے کرے اور قومی تہذیب،یکجہتی، پاکستانیت کا ستون اونچا ہو۔ قائداعظم ؒ نے خوشی و مسرت کے لیے روایتی سبق نہیں دیا بلکہ اُصولوں کا ذکر کِیا کہ قول وفعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے مُعاشرہ سے کرپشن جارحانہ جنگ کے ساتھ ختم کرنے پر زور دیا۔ اقربا پروری اور دیگر ایسے دلفریب عمل،جاہ پسند وسائل سے منع کِیا۔ وہ صِحّت مند ذہن رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ پاکستانی قوم عملی ذہن کے ساتھ رہے اور ہر فرد خواہ وہ کسی فرقہ سے ہو، کسی علاقہ سے ہو،کسی طبقہ سے ہو،ہر پاکستانی کا سمجھوتہ مضبوط پاکستان پر ہو۔ اُن کا خواب تھا کہ قوم ایک ہو جائے۔ہرفرد میں پاکستانیت کے آثار نمودار ہو جائیں۔ ہم مسلمان قوم کے وارث بننے پر فخر کرسکیں۔ وہ دیگر ہر قسم کے ذِہنی کشمکش عمل یا مقدر سے سمجھوتہ کرنے پر تیّار نہ تھے۔ وہ مدح سرائی نہیں چاہتے تھے۔ وہ نہ صِرف ایک بہترین اُستاد تھے بلکہ وہ فنِ خطابت کے بہترین ستون تھے۔

اُنہوں نے ترقی کے صِرف دائو پیچ اور گُر سکھائے۔ یہ سب کچھ انہوں نے بڑی سوچ بچار،تجربہ،تاریخی مطالعہ،سیاسی شعور کو عمل میں لاتے ہوئے کِیا، غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اورحُسنِ سلوک کا سبق دیا۔یہ بات بھی انہوں نے اپنی طرف سے نہیں کی۔ انہوں نے کہا ہمارے پیغمبرِ اسلام حضرت محمدؐ نے چودہ سو سال پہلے بات کی تھی۔آپؐ نے یہودو نصاریٰ پر فتح حاصل کرنے کے بعد اُن سے نہایت اچھا سلوک کِیا۔ اُن کے ساتھ رواداری برتی۔ اُن کے عقائد کا احترام کِیا۔ اِس کے علاوہ مسلمان جہاں کہِیں حکمران رہے، ایسے ہی رہے اُن کی تاریخ دیکھی جائے تو انسانیت ایسے ہی عظیم المرتبت اُصولوں سے بھری ہے۔اولاًاس ادارے کی ضرورت اور ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قانون سازی کا کام متفقہ رائے سے جلد پایہء تکمیل کو پہنچائے۔دوسرایہ ادارہ اپنے وجود سے یہ ثابت کرے کہ پاکستان کا قانون ساز ادارہ خود مختار ہے۔ ہمیں بڑی محنت اورلگن سے عبوری قانون سازی کرنی لازمی ہے کیوںکہ پاکستان کی تخلیق ایک نیا عمل ہے، جس کی مثال کسی تاریخ میں میسر نہیں۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سنگِ میل ہے کہ دنیا کے نقشے پر پاکستان کا قیام مسلمانوں کی جدوجہد کے ذریعہ عمل میں لایا گیا۔ آپ کے اوپر اب خاص ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

قانون اور اَمن

اِس نئے مُلک میںقانون اور اَمن قائم کرنا ہوگا تاکہ مُلک کے ہر طبقہ کو انصاف، مساوات اور مذہبی آزادی میسر آئے اور اس کے بنیادی کے حقوق محفوظ رہیں۔

کرپشن،بدعنوانی

اِس مُلک میں بدعنوانی اور رشوت زوروں پر ہے۔اِس زہریلی چیز کو طاقت سے روکنا ہوگا یہ ملک کو تباہ کرسکتی ہے۔ آپ اس کو ختم کریں۔

چور بازاری

اِس مُلک میں چوربازاری زوروں پر ہے۔اقربا پروری دوسری لعنت ہے۔یہ مُعاشرہ کی خرابیاں ہیں۔ ایسے قانون نافذ کریں، جن سے ان کی جڑ اُکھڑ سکے۔

وہ بھارت میں مسلمانوں کے قتل و غارت پر بڑے غمگین تھے۔ وہ جنگ وجدل، بربریت، ظلم و ستم کے محاذ کھولنے یا ایسے خیمے لگانے کے حق میں نہ تھے۔ وہ پاکستان کی حفاظت اور پُراَمن رہنے کے داعی تھے۔وہ محاذ ِجنگ کو گفتگو اور سیاسی عمل سے فتح کرنا چاہتے تھے۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم مذہب کی بِنا پر ٹکرائیںاور بربادی کی طرف بڑھیں، جہاں ہم پر بھیڑئیے چیخیں اور ہماری بقیہ زندگی مفلسی میں گذرے۔وہ کہتے تھے،’’مَیں نے ایک جنگجو جرنیل کی طرح ہندوستان کے مسلمان کا کیس لڑا۔قلم اور ذہن کی وجہ سے ہند تقسیم ہُوا۔‘‘ وہ لاء اینڈ آرڈر کے ذریعہ صاف مُعاشرہ اور پاکستانیت نماماحول چاہتے تھے۔

آئین کی تیّاری

رہبرِ ملّت محمد علی جناحؒ نے سب سے پہلے آئین کی فریم سازی پر زور دیا اور وفاقی طرز کی قانون سازی کے لیے کہا مگر ہُوا کیا؟انڈین انڈیپنڈنٹ ایکٹ1947ء میں لاگو ہُوا۔ 18 جولائی 1947ء میں برطانوی حکومت نے ایکٹ کی منظوری دی۔ یاد رہے کہ1935ء کے ایکٹ میں توسیع کر کے1947ء کا ایکٹ لاگو کِیا گیا۔ قائدِاعظم محمد علی جناحؒ پہلی آئین ساز اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ جب آپ صدر ہو گئے تو آپ نے آئین سازی کے لیے آئوٹ لائن تیّار کی۔آپ نے کہا آئین سازاسمبلی کا کام آئین کی تیاری اور عمل داری ہے۔ اس اسمبلی کے 69اراکین تھے، جن میںکچھ ہندو اور سکھ تھے، جو بعد میں بھارت چلے گئے۔ مگر ان کی جگہ نئے ممبر نہ رکھے گئے۔آئین سازی سیاسی مصلحت کا شکار ہوگئی اور اراکین کی دلچسپی کم ہوگئی۔ تقسیمِ پنجاب اور بنگال جو لوگوں کے لیے ناقابلِ قبول عمل تھا، اب تقسیم ہو گیا۔ ایک آزاد مملکت معرضِ وجود میں آگئی۔ اسے مضبوط کریں۔ اقلیت کو حوصلہ دیں کہ یہ اُن کا مُلک ہے جہاں وہ اپنی مرضی کی عبادت کر سکتے ہیں اور مُلک کی تعمیرمیں حصہ لیں۔

قائدِاعظم کی کامیابی کا راز اُن کا نمایاں کِردار تھا۔ وہ سیاسی، معاشرتی اور قانونی اُمور اور دیگر معاملات میں کامیاب تھے، کیوںکہ اُن کے ذاتی اخلاقی اقدار دیانتداری اور اُصولوں پر مبنی تھے۔ آپ نے اپنی کامیابی کو چار چیزوں کا کرشمہ قرار دیا۔

٭مضبوط کِردار٭جرأت مندی٭محنتِ شاقّہ٭ استقلال

آپ نے سوئی ہوئی قوم کو زندگی اور روح دی۔مسلم لیگ نے قوم کوبیدار کرنے کے لیے فعال کِردار ادا کِیا اورہم نے ہندوستان کے طول و عرض میں دورے کیے۔ مسلمانوں کو جگایا اور اُن کے دِل میںآزادی حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کِیا اور مسلم قوم نے بھی مسلم لیگ کے پرچم کو سینے سے لگایا اور قائدِاعظمؒ کی زیرِقیادت منزل حاصل کر لی۔ آپ نے ہندوئوں کی تنگ نظری، انگریزوں کے تعصُّب اور سکھوں کی دو رُخی پالیسیوں کو بڑے غور سے دیکھا اور ٹھان لی کہ مسلم لیگ ایک علیحدہ قوم ہے۔ لہٰذا دونوں قومیں مخلوط انتخاب کے نتیجے میں پُر اَمن نہیں رہ سکتیں۔ اس لیے مسلم آبادی کے وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، ان حصوںپر ایک علیحدہ آزاد مملکت بنائی جائے۔ چناںچہ تحریکِ پاکستان کی مہم آگے بڑھتی گئی۔1940ء کو قرار دادِ پاکستان منظور ہوئی۔

اِس تاریخی اجلاس میںقائدِاعظمؒ نے ایک گھنٹہ چالیس منٹ انگریزی میں تقریر کی اور ہندو اور انگریز کی چالوں کو آشکار کِیا اور مسلمانوں میں اخوت، مساوات،بھائی چارے اور رواداری پر زور دیا۔ دوقومی نظریے کی پوزیشن واضح پیش کی اور پھر3جون1947ء کا اعلان ہُوا۔ آپ نے اعلان کرتے وقت قانونی نکتہ اُٹھایا کہ اِس اعلان پراُس وقت عمل پیرا ہوگا جب آل انڈیا مسلم لیگ کونسل اس کے حق میں منظوری دے گی۔ چناںچہ 9جون1947ء کو امپیریل ہوٹل دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کااجلاس ہُوا اور 3جون پلان کی منظوری دی۔ قائدِاعظم کی زندگی ہمارے لیے اور ہماری راہوں کے لیے ایک چمکتا ہُوا چان￿د ہے۔ اِس عظیم لیڈر کا کِردار بے داغ اور مشعلِ راہ ہے۔

قرار داد مقاصد

1۔کُل جہاں کی بادشاہی اللہ کی ہے۔

2۔منتخب نمائندے خدا کی زمین کے اس حصہ میں قرآن اور سنت کو اپنائیں گے۔

3۔پاکستان میں وفاقی طرزِ حکومت ہوگی۔

4۔مُلکِ پاکستان میں جمہوریت کے سنہرے اُصول مساوات،آزادی،سماجی انصاف اسی طرز پر میسر آئے گا، جس طرح دِین اسلام چاہتا ہے۔

5۔زیادہ کوشش کی جائے گی کہ مسلمانوں کو اپنی زندگی اسلام کی روشنی اور تعلیمات کے تحت گزارنے کی ترغیب دی جائے گی۔

6۔اقلیتوں کے حقوق کی پاسبانی تاکہ وہ اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی بغیر کسی خطرے کے کرسکیں۔

7۔کوشش ایسی کی جائے گی جس سے غیر ترقی یافتہ علاقہ جات کو ترقی یافتہ بنایا جائے گا۔

8۔انسانی حقوق اور شہریوں کی پاسبانی ہوگی۔

9۔پاکستان میں عدلیہ کو آزادی ہوگی۔

یہ وہ اُصول ہیں جو قائدِاعظمؒ کے تحریر کیے ہوئے ہیں۔اسی بِنا پر 1956ء کا آئین تشکیل ہُوا۔ 1962ء اور1973ء کا آئین بنا۔ قائدِاعظم ؒ آئین کی بالا دستی چاہتے تھے۔لہٰذا لیاقت علی خان کی سربراہی میں قراردادِمقاصد مارچ1949ء میں منظور ہوئی جو آئین کی بنیاد ٹھہری۔ پہلی آئین ساز اسمبلی نے 10اگست1947ء کو اپنا اجلاس منعقد کِیا تھا۔

ہند وستا ن میں آئین ساز ی

ہندوستان میں پہلی بارنومبر 1927ء میں حکومتِ برطانیہ نے جان سالمین کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تاکہ ہندوستان کے لیے آئینی ریفارمز کا جائزہ لیا جائے۔ اِس کمیشن کی یہ بھی ڈیوٹی تھی کہ وہ دیکھے اور جائزہ لے کہ ہند وستان میںکتنی سیاسی پارٹیاںکام کررہی ہیں تاکہ اُن کی آئینی تربیت ہو سکے۔ انگریز کے ایسے کمیشن کو ہندوستان کی دونوںسیاسی پارٹیوں انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ نے قبول نہ کِیا، مگر وہ قانونی مسودہ کی رپورٹ تیّار کرگیا جو کہ اکتوبر1927ء میں پارلیمنٹ میں پیش ہوئی تھی۔اِن حالات کا جائزہ لینے کے لیے فروری 1928ء میں تمام پارٹیوں نے فیصلہ کِیا کہ ڈرافٹ تیا ر کِیا جائے جو مسٹر موتی لعل نہرو کی صدارت میں تیّار کِیا گیا۔

اِس رپورٹ کا نام نہرو رپورٹ ہے جو پنڈت موتی لعل نہرو کی سربراہی میں تیّار ہوئی اس کے باقی اراکین میں سرتیج بہادر پرو،جی۔آر پروان،ایم۔آرجیکر،این۔اے جوشی، سرعلی امام، شہاب قریشی شامل تھے۔اس نہرو رپورٹ میں ہندو ذہنیت پوری طرح عیاں تھی بلکہ مسلمانوں کے بارے میں کھلی سازش سامنے آگئی، جس پر آل پارٹیز اجلاس دسمبر1928ء میں کلکتہ میں منعقدہُوا اور اِس اجلاس میں محمد علی جناح ؒنے شرکت کی اور نہرو رپورٹ میں تبدیلی کی تجویز دی۔ یہاں سے محمد علی جناحؒ کی آئینی مہارت شروع ہو جاتی ہے۔ قائدِاعظم ؒنے نہرو رپورٹ سے اتفاق نہیں کِیا کیوںکہ وہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کسی بھی طرح نہیں کرتی تھی تاہم دوسری طرف مسلم لیگ جو سرشفیع کے زیرِ اثر تھی نے نہرو رپورٹ کو مان لیا تھا، بلکہ مولانا محمد علی جوہر اور قائدِاعظمؒ نے نہرو رپورٹ کے خلاف تقریریں کیں۔

نہرو رپورٹ کے نکات

1۔مُلک ہندوستان میںخودمختاری ماڈل قسم کی حکومت سے شروع کی جائے۔

2۔جداگانہ انتخاب کے بجائے متحدہ انتخاب کا سسٹم شروع کِیا جائے، جس میںاقلیتوں کی مخصوص نشستیں رکھی جائیں۔

3۔اُمور خارجہ اور دفاع پارلیمنٹ کووائسرائے کے ما تحت کِیا جائے۔

4۔سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کرکے نیا صوبہ بنایا جائے، کیوںکہ وہ اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔

5۔ شمال مغربی حصہ کومکمل صوبہ اور بلوچستان کو صوبہ بنایا جائے۔

6۔ مرکز میں ایک قسم کی حکومت تشکیل دی جائے۔

7۔سارے ہندوستان میں ہندی زُبان کورائج کِیا جائے۔

قائدِاعظمؒ نے اپنی قابلیت اور آئین سازی کی اہلیت کالوہا اِس طرح منوایاکہ اُ نہوں نے نہرو رپورٹ کو چیلنج کردیا او راپنی تین تجاویز آئین کے لیے پیش کردیں:

1۔مجلسِ قانون ساز میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی دی جائے۔

2۔صوبہ پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم نمائندگی آبادی کے اعتبار سے رکھی جائے۔

3۔تمام صوبوں کو اپنی صوابدید ہونی چاہیے نہ کہ مرکز کو۔

قائدِاعظمؒ کی تجاویز نہایت پُختہ اور قابلِ دلیل تھیں جن کوانڈین نیشنل کانگریس نے قبول نہ کِیا او راس طرح ہندو ذہنیت کاروپ کھل کر سامنے آ گیا۔لہٰذا محمد علی جناح ؒکو یہ کہنا پڑا کہ نہرو رپورٹ ہندو تہذیب کی ایک بُری تصویر ہے جس میں مسلمانوں کے مستقبل کا قتل ہے۔ لہٰذا مَیں اعلان کرتا ہُوں کہ یہ ریفارمزکسی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہیںاور اس قابل قطعی نہیں کہ ان کو قابلِ عمل قرار دیا جائے۔

قائدِاعظم ؒکے چودہ نکات28مارچ1929ء

ان تما م حالات کو دیکھتے ہوئے قائدِاعظم ؒنے آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس دہلی میں 1929ء میںطلب کیا۔ حالات کو واضح کیا کہ لیگ انتہائی تشویش اور محتاط غورو فکر کے بعد نہایت خلوص اور زور دار طریقے سے یہ قرارداد پاس کرتی ہے کہ حکومتِ ہند کے آئندہ دستور کے ضمن میں کوئی بھی سکیم قابلِ قبول نہیں ہوگی جب تک کہ اس میں حسبِ ذیل بنیادی اُصولوں کو عملی جامہ نہ پہنا یا جائے اور اس میں ان کے حقوق اور مفادات کے تحفُّظ کا انتظام نہ کردیا جائے۔ اُنہوں نے نہروکی آئینی رپورٹ کو چیلنج کِیا اورآل انڈیا مسلم لیگ کے حوالے سے چودہ نکات تیّار کیے۔ جو حسبِ ذیل ہیں:اور فرمایا…’’کسی قسم کا آئین مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا جس میں یہ 14ضروری باتیںنہ ہوںگی‘‘:

1۔آئندہ دستور کی طرز وفاقی ہونی چاہیے جب کہ بقیہ اختیارات صوبوں کو تفویض کر دِیے جائیں۔

2۔تمام صوبوں کو یکساں نوعیت کی خودمختاری عطا کی جائے۔

3۔مُلک کی تمام مجالسِ قانون ساز اور دیگر منتخب اداروں کو ہر صوبے میں اقلیتوں کی مناسب اور مؤثر نمائندگی کے قطعی اُصول کے تحت تشکیل دیا جائے اور کسی صوبے میں بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل نہ کِیا جائے اور نہ اسے مساوی سطح پر لایا جائے۔

4۔مرکزی مجلسِ قانون ساز میں مسلمانوں کی نیابت ایک تہائی سے کم نہیں ہونی چاہیے۔

5۔فرقہ ورانہ گروہوں کی نیابت کو طریقہء انتخاب کے ذریعہ برقرار رکھا جائے گا جیسا کہ اس وقت ہے اِلّا کسی بھی فرقے کے لیے یہ راہ کھلی ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنے علاوہ طریقہء انتخاب کو مخلوط انتخاب کے حق میں رائے دے۔

6۔کوئی علاقائی حد بندی جو کسی بھی وقت ناگزیر ہو کسی طور پرپنجاب،بنگال اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں مسلمانوں کی اکثریت پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

7۔مکمل مذہبی آزادی یعنی آزادیِ عقیدہ،عبادت اور اس کی بجا آوری، تبلیغ، انجمن سازی اور تعلیم کی تمام فرقوں کو ضمانت دی جائے گی۔

8۔کوئی مسودئہ قانون یا قرار داد یا اس کا کوئی جزو کسی مجلسِ قانون ساز یا کسی اور منتخب ادارے میں منظور نہیں کِیا جائے گا اگراس مخصوص ادارے میں کسی فرقے کے تین چوتھائی اراکین اس مسودئہ قانون یا قرار داد یااس کے کسی جزو کی اس بِنا پر مخالفت کریں گے کہ وہ اس فرقے کے مفادات کے منافی ہوگا یا کوئی ایسا متبادل طریقہ اختیار کرلیا جائے گا جو اس نوع کے اُمور کو نمٹانے کے لیے موزوں اور لائقِ عمل ہو۔

9۔سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدہ کردیا جائے۔

10۔شمال مغربی سرحدی صوبے میں اصلاحات نافذ کی جائیں۔

11۔دستور میں مسلمانوں کو دیگر ہندوؤں کے ساتھ ہندوستان اور مقامی اداروں کی جملہ ملازمتوں میں مناسب حصہ دینے کا اہتمام کِیا جائے جس میں اہلیت کو پوری طرح ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔

12۔دستور میں مسلم ثقافت کے تحفُّظ اور مسلم تعلیم، زُبان، مذہب، شخصی قوانین اور مسلم خیراتی اداروں کے تحفُّظ اور فروغ کامناسب اہتمام ہونا چاہیے او رمملکت اور خود مختار اداروں کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقوم میں مناسب حصے کا انتظام ہوناچاہیے۔

13۔کوئی کابینہ خواہ مرکزی ہو یا صوبائی تشکیل نہیں دی جانی چاہیے جس میں کم سے کم ایک تہائی وزیر مسلمان نہ ہوں۔

14۔مرکزی مجلسِ قانون ساز دستور میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں کرے گی جس سے وفاقِ ہند میں شامل ریاست اتفاق نہ کرتی ہو۔

قرار داد میں متذکرہ بالا شرائط کے متبادل کے طور پر حسبِ ذیل شرائط کا ذکر کِیا گیا۔

’’یہ کہ موجودہ حالات میں مُلک کی مختلف مجالسِ قانون ساز اور دیگر منتخب اداروں میں مسلمانوں کی نیابت کے علاوہ طریقہء انتخاب کے ذریعہ ہونایہی امر ہے اور مزید حکومت نے بار بار اس امر کا عہد کِیا ہے کہ وہ اس طریقہء انتخاب میں جو انہیں1909ء سے حاصل ہے اس وقت تک کوئی خلل نہیں ڈالے گی جب تک مسلمان خود اس سے دستبردار ہونے کا فیصلہ نہ کرلیں۔ مسلمان مخلوط طریقہء انتخاب کو قبول نہیں کریں گے تاآنکہ سندھ کو عملاًایک علیحدہ صوبہ نہ بنا دیا جائے اور شمال مغربی سرحدی صوبہ اور بلوچستان میں دیگر صوبوں کی طرح مساوی سطح پر اصلاحات نافذ کردی جائیں۔

مزید یہ کہ مختلف صوبوں میں مسلمانوں کی ان کی آبادی کے تناسب سے نشستیں محفوظ کی جائیں گی لیکن جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں گے وہاں مسلمان اپنی آبادی کے تناسب سے زیادہ نشستوں پر انتخاب نہیں لڑیں گے۔ جن صوبوں میں مسلمان اقلیت میں ہیںوہاں مسلمانوں کی زیادہ نشستوں پر نمائندگی کے مسئلہ پر بعد میں غوروخوض کِیا جائے گا۔‘‘

قائدِاعظم ؒکے آئین کوپیش رفت نہ ہوئی۔لہٰذا نہرو رپورٹ بھی ساتھ ہی دفن ہوگئی۔ یہاں سے پاکستان بننے تک قائدِاعظم ؒکی قانونی جنگ جاری رہی اور قانون کی وجہ سے پاکستان معرضِ وجودمیں آیا۔

ان 14نکات سے قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی قانونی حیثیت کھل کر ہندوستان کے سامنے آگئی اور آزادیِ ہند اور مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے خدوخال بھی اسی قانونی مسودے میں مضمر ہو گئے۔ مسلمانوں کے لیے مساوی سروس میں حقوق مانگے گئے اور مرکزی اسمبلی میں کم از کم 1/3حصہ مسلمانوں کے لیے رکھے جانے کی تجویز دی گئی۔ کسی فرقے پر مذہبی پابندی نہ رکھی جائے۔ سرحد کو صوبہ کا درجہ دیا جائے۔ بمبئی سے سندھ کو علیحدہ دکھا یا گیا۔ وفاقی طرزِ حکومت اور قانون میں تبدیلی کا حق صِرف مرکزی قانون ساز اسمبلی پرچھوڑا گیا۔چناںچہ مہاسبھائی ہندو کانگریسیوں نے محمد علی جناح ؒکے 14نکات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

قانون دان کی نظر اور پہلی گول میز کانفرنس

لندن منعقدہ 12 نومبر 1930ء :

برطانوی حکومت کی خواہش تھی کہ بات چیت سے معاملات حل کرلیے جائیں۔ چناںچہ اس کانفرنس کا ہندو لیڈر اور انڈین نیشنل کانگریس نے بائیکاٹ کِیا اور نہرو رپورٹ منوانے کی رٹ لگائی اور ہندوستان میںسول نافرمانی کی تحریک چلائی۔ مسلم لیگ نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور اس گول میز کانفرنس میں آغا خان سوم، مولانا محمد علی جوہر،قائدِاعظم محمد علی جناح، مولوی اے کے فضلِ حق، سرمحمد شفیع، شاہنواز، چودھری ظفر اللہ، غلام حسن ہدایت اللہ بھی موجود تھے۔

اس گول میز کانفرنس میںقائدِاعظم ؒکی ایک قسم کی پہلی تجویز منظور ہو گئی کہ انڈیا میں وفاقی طرزکی حکومت ہوگی اور اس تجویز سے ریاستوں کے سربراہان نے بھی اتفاق کِیا۔ سندھ کو مکمل علیحدہ صوبہ بنانے کی تجویز منظور ہوگئی اور مختلف مسائل کے لیے 8سب کمیٹیاں بنائی گئیں تاکہ معاملات کو آگے چلایا جائے۔ یہ کانفرنس 19جنوری1931ء کو اختتام کو پہنچی۔

دوسری گول میز کانفرنس

دوسری کانفرنس کے موقع پر مولانا محمد علی جوہر فوت ہوگئے۔یہ کانفرنس 7ستمبر 1931ء سے لے کر دسمبر1931 ء تک جاری رہی۔اس میں علامہ اقبالؒ بھی شر یک ہوئے۔ مہاتما گاندھی شامل تو ہوئے لیکن اپنی ہٹ دھرمی اور ضد جاری رکھی۔اپنی حیثیت کو نہ چھوڑا کہ سرحد اور پنجاب کی ہند واور سکھ اقلیت کے سوا کسی صوبہ کی قلیل التعداد قوم کو اقلیت تسلیم نہ کِیا جائے۔ اس طرح مسٹر گاندھی نے مسلمانوں کے جائزحقوق تلف کرنے کے لیے سکھوں اور مہاسبھائیوں کی آڑ لی۔ دوسری طرف اچھوتوں کو ہندوؤں میں مدغم کرنے کی چال چلی۔ڈاکٹر امبیدکر نے کہا کہ اچھوت ایک الگ قوم ہے۔ اس پر گاندھی جی بہُت سیخ پا ہوئے۔

تیسری گول میز کانفرنس

تیسری کانفرنس 17نومبر1932ء سے 24نومبر1932ء تک رہی۔ کانگریس نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کِیا۔ قائدِاعظم محمد علی جناحؒ اس میں شرکت نہ کر سکے۔سر آغا خان سوم شریک ہوئے۔ ان سیاسی معاملات کو دیکھ کرہرذہن میں بیرسٹر محمد علی جناح ؒکی فراست قانون دان کی حیثیت سے اُبھرتی ہے کہ کس آئینی سلیقے سے وہ آگے آئے اورمسلمانوں کے مفاد میں اپنی بات کو منوایا۔

کمیونل ایوارڈ

کمیونل ایوارڈ کے ذریعہ 4اگست1936ء میںاچھوتوں کو جُداگانہ نمائندگی دی گئی۔ گاندھی جی نے اس پر بھوک ہڑتال کی اور معاہدہ پوناکا وجود ہُوا۔ جب انڈین نیشنل کانگریس نے اگست1932ء میںسول نافرمانی کی تحریک چلائی تو کانگریس کے ساتھ اُس کی حمایتی جماعتیں تھیں۔ مگر قائدِاعظمؒ نے اس کا بائیکاٹ جاری رکھا۔جس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ برطانوی سرکار نے ایک اعلان کِیا کہ ایوارڈ میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی فرقوں کے لیے جداگانہ انتخاب کر دِیے گئے ہیں مگر اس ایوارڈ میں مسلمانوں کی اکثریت والے صوبوں پنجاب اور بنگال کو بھی اقلیت قراردیا گیا۔ گاندھی جی نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ مسلمانوں کے لیڈر بھی کچھ اتنے خوش نہ تھے۔ مسلمانوںکی اکثریت والے صوبوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ کمیونل ایوارڈ کے بارے میں قائدِاعظمؒ نے تجویز پیش کی کہ جب تک ہندوستان کی مختلف قومیں کوئی متفقہ آئین پیش کرنے کے قابل نہیں، اس وقت تک کمیونل ایوارڈ کو قائم رکھا جائے۔

 

قائداعظم کو درپیش مسائل

1973ء کا آئین بنانے میں اسمبلی نے کتنا وقت لگایا۔ جب کہ قرار دادِ مقاصد کو 1956ء کے آئین میںشامل کِیا گیا یا1962ء کے آئین کا مسودہ تیّار ہُوا۔ہندوستان کے دو حصے ہوئے۔ پاکستان کے دونوں حصے جغرافیائی اعتبار سے تعلیم میں پسماندہ تھے۔سماج اور اقتصادیات میں ہندوستان کے باقی صوبوں سے کم تھے۔ مثلاً آزادی سے قبل خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں کوئی یونیورسٹی نہ تھی۔ایک یونیورسٹی لاہور میں تھی پنجاب یونیورسٹی جو 1883ء میں قائم ہوئی۔ یہ پنجاب یونیورسٹی سارے شمال مغربی ہندوستان کے لیے تھی۔اِسی طرح مشرقی پاکستان میں ڈھاکہ یونیورسٹی،ڈھاکہ میں تھی جو1923ء میںسرنواب سلیم اللہ خان آف ڈھاکہ کی کاوش سے قائم ہوئی۔راقم نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول ہری پور ہزارہ (خیبر پختونخوا) پنجاب یونیورسٹی سے 1949ء میں پاس کِیا۔ کیوںکہ اِس زمانے میںخیبر پختونخوامیں نہ تو کوئی بورڈ تھا اور نہ ہی کوئی یونیورسٹی تھی۔بلوچستان کا علاقہ کمشنر انتظامیہ کے ماتحت تھا۔سندھ میں بھی یہی حالت تھی۔ صِرف ایک پنجاب یونیورسٹی تھی جو دہلی تک تھی۔ اگر مُلک کی تعلیم کا یہ حال ہو، تو وہ لوگ آئین اِتنی جلدی تو نہیں بناسکتے۔ مہاجرین کے آنے سے سماج کے اندر تعلیمی اور ثقافتی تبدیلیاں آئیں۔نئے پاکستان میں قائدِاعظم محمد علی جناح ؒگورنر جنرل پاکستا ن کے سامنے ذیل کے مسائل تھے:

1۔لُٹے پُٹے لاتعداد مہاجرین کی پنجاب میں آمد۔اُن کی دیکھ بھال اور بحالی کابڑا اہم مسئلہ تھا۔

2۔صوبہ سرحد میں سُرخ پوش لیڈر غفار خان اور خدائی خدمتگاروں کی پیدا کردہ پیچیدگیاں،پختونستان کے شوشے۔

3۔مشرقی پاکستان میں قومی زُبان کا جھگڑا۔

4۔سندھ کی صوبائی حکومت کی اندرونی چپقلش اور محمد ایوب کھوڑو کی حکومت کے مسائل۔

5۔مجلسِ اقوامِ متحدہ (U.N.O) کے مشن سے مذاکرات،الحاقِ کشمیر کا مسئلہ۔

6۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ابتدا اورملک کی اقتصادی حالت کو بدلنا۔

ہندوستان بھارت اور پاکستان میں تقسیم ہُوا۔ پاکستان کی اسمبلی معرضِ وجود میں آئی، آئین ساز اسمبلی تشکیل دینا ہی آئین سازی کی طرف پہلا قدم تھا۔

 

گورنمنٹ ایکٹ آف انڈیا1935ء اور ہمارے قوانین

اگرچہ انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ نے اس ایکٹ کو نامنظور کِیا مگر 1937ء کے انتخاب میں حصہ لیا۔ صدرآل انڈیا مسلم لیگ قائدِاعظم محمد علی جناح ؒنے 1935ء کے قانون کو خوشی سے قبول نہ کِیا۔ کیوںکہ اس میں وہ حقوق مسلمانوں کے نہ تھے جو اُنہوں نے 28مارچ1929ء کو اپنے 14نِکات میں پیش کیے تھے۔ اگر انتخاب میں حصہ نہیں لیتے تو سیاسی دُور اندیشی نہ ہوتی۔ لہٰذا مسلم لیگ انتخاب کے میدان میں ذیل کے اُصول لے کر سامنے آگئی۔

1۔موجودہ صوبائی اور مرکزی قانونی دستاویزات تبدیل کر کے سسٹم آف سیلف گورنمنٹ میں تبدیل کِیا جائے۔

2۔آل انڈیا مسلم لیگ کے نمائندگان اس قانونی حیثیت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔

1937ء کے انتخاب میں سارے ہندوستان میں1771صوبائی سیٹیں تھیں۔ مسلم لیگ اس الیکشن میںشاندار کامیابی حاصل نہ کرسکی۔پھر بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے صدرمایوس نہ ہوئے۔ اگرچہ انڈیا کے لوگوں نے اپنے قانونی حق کا فیصلہ کانگریس کے حق میں دے دیا۔ چھ صوبوں میںکانگریس کی حکومت اپریل1937ء میں قائم ہو گئی۔

یہاں پر قائدِاعظمؒ اور مسلمانوں کی قسمت کا رُخ خود کانگریس نے بدلا اور نہایت عمیق اور ذہین دماغ رکھنے والے لیڈر نے دوسال صبر سے گزارے اور دسمبر 1939ء کو یومِ نجات منایا اور پھر قانون کی مار دی کہ لاہور کا ریزولیوشن جسے قراردادِ لاہور کہتے ہیں تیّار ہُوا اور قانونی سمت ہموار ہوئی۔ ہم نے ابتدائی طور پر اسی کے ضابطوں کو اپنی ہاں بھی قوانین کے طور پر نافذ کیاتھا۔اسی ایکٹ کو آپ ہماراا پہلا قانونی ڈھانچہ کہہ سکتے ہیں۔