☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
50 روپے لے کر گھر سے نکلا تھا۔۔

50 روپے لے کر گھر سے نکلا تھا۔۔

تحریر : مرزا افتخاربیگ

11-03-2019

ملکی میوزک انڈسٹری پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو چند نام ایسے نمایاں نظر آتے ہیں جو اپنی شب و روز کاوشوں کی بناء پر دنیا بھر میں منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ،ان میں 80 ء کی دہائی میں پاپ گلوکاری میں عالمگیر اور محمد علی شہکی نے شہرت پائی۔ ان کا چرچا آج تک ہے۔ ان کے بعد تحسین جاویداور حسن جہانگیراوردیگر نے پاپ گائیکی میں نام کمایا۔

ان سب کی ایک قدر مشترک شہرت کی بنیاد ٹی وی ہے۔ جس کے میوزک پروگرامز کے ذریعے تمام گلوکار اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔35سال پہلے جب حیدرآباد سے آنے والے لڑکے نے جیب میں موجود چند سکے کراچی آنے کے بعد خرچ کردیئے ،اسے پتہ نہیں تھا کہ کل کیا ہوگا۔وہ کل جس کے بارے میں انسان کبھی نہیں جان سکتا لیکن اسے اپنے اسی کل کی فکر بہت رہتی ہے۔ ارادے کے پکے اوربڑے سے بڑا رسک لینے والے لوگ کل کو روشن کر لیتے ہیں۔

 

85 ء میں وادیٔ مہران کی ٹھنڈی شاموں والے دریائے سندھ کے کنارے آباد شہر حیدرآباد سے اونچی عمارتوں والے شہرِ قائد میں بلند ارادوں اور حسین سپنوں کو سجائے جب سلیم جاوید نے قدم رکھا تو اُسے معلوم نہ تھا کہ قسمت نے کیا حسین سوغات اس کیلئے رکھی ہے ۔جدوجہد اور خُدا پر کامل یقین کی صورت میں یہ زندگی سلیم کی ہونے والی تھی ۔35سال بعد وہ سنگر جسے اکلوتے ٹی وی چینل کے زمانے میں ایک عرصے تک شجر ممنوعہ سمجھا گیا ،کیسٹ کے ذریعے عالمی شہرت پانے میں کامیاب ہو گیا۔اس سنگر کو کسی ٹی وی پروگرام میں چانس نہ دیا گیا، اپنی راہیں بناتے بناتے وہ اب موسیقی کی دنیا مین اہم نام بن چکا ہے۔کئی پرگرام سلیم کے گانوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ۔یہ اب اپنا فن اپنے بیٹے جوجی میں منتقل کررہا ہے ۔سلیم جاوید کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہی کوئی نیا کام کرتا ہے ۔ پہلے وہ اسٹیج شوز میں اپنے ساتھ چمٹے والے کو رکھتے تھے ۔گزشتہ پانچ سال سے ڈھولک والا ان کے ہمراہ ہوتا ہے ۔ڈھول کی تھاپ پر جب وہ گاتے ہیں تو ایک الگ ہی سماں بنتا ہے ۔اب ان کی وجہ سے کئی گلوکار مختلف سازندوںکو اپنے ساتھ رکھتے ہیں لیکن جو بات سلیم جاوید کی پرفارمنس میں ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی ۔

سلیم جاوید ایسا جنونی تھا جو اپنا شہر چھوڑ کرشہر قائد آگیا ، بے نام ہونے کے باوجود پاپ گائیکی میں مگن رہا ۔ سلیم جاوید نے آڈیو کیسٹ کے ذریعے اپنی منفرد شناحت بنائی ۔ آڈیو کیسٹ 25 روپے کی آتی تھی اور لوگ خرید کر سنتے تھے ۔وہ آڈیو کیسٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ثابت ہوا ۔لیجنڈری کرکٹر جاوید میاں داد کا تاریخ ساز چھکے سے بھارت کے خلاف ملنے والی فتح کو بھی سلیم جاوید نے خصوصی گیت گاکر اور آڈیو کیسٹ میں شامل کرکے جو تہلکہ مچایا اس سے دنیا بھر میں اس آڈیو والیم کا چرچا ہوا۔ سلیم جاوید کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ کسی ٹی وی شو ،یا ریڈیو سے شہرت پانے والا گلوکار نہیں ہے وہ صر ف اور صرف آڈیو کیسٹ کی بناء پر گلوکار بنا ۔اس کے کئی گیت بھارتی فلموں میں بھی کاپی کئے گئے ،ٹی وی پروڈیوسر تاجدار عادل نے اسے پہلی بار گانے کا موقع دیا ورنہ اس نے اپنے البمز کے ذریعے لوگوںکو اپنا دیوانہ بنایا تھا ۔ بیرون ملک اور غیر ملکی سفارت خانوں میں اس کے شوز میں جگنی پر گورے بھی والہانہ اندازمیں رقص کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس نے اپنی گائیکی پر کبھی یکسانیت کی چھاپ نہ لگنے دی ! سلیم جاوید نے ایک نشست میں کچھ ایسی باتیں بھی کیںجو شاید قارئین کی نظروں سے اوجھل ہوں۔ اس ملاقات کا احوال پیش خدمت ہے ۔

دنیا : گائیکی میں کیا تاثیر ہے کہ گورے بھی آپ کے ساتھ رقص کرتے نظر آتے ہیں ؟

سلیم جاوید : ہر گلوکار اپنے اندر کوئی نہ کوئی انداز گائیکی رکھتا ہے جس کا اثر سننے والے کے دل پر کرتا ہے۔یوں تو میرے گائے ہوئے بہت سے گیتوں نے ہر عمر کے فینز کو متاثر کیا ہے لیکن ’’ جگنی ‘‘ میں وہ تاثیر ہے کہ جس کو سننے والے کی سوچ بدل جاتی ہے اگر اسکے ذہن میں منفی سوچ بھی ہوتی ہے کلام سننے کے بعد وہ مثبت سوچنے لگتا ہے دنیا کے اکثر ممالک میں شوز کر چکا ہوں جہاںلوگ ہماری زبانیں سمجھ نہیں پاتے لیکن جب جگنی گاتا ہوں تو جھومتے نظر آتے ہیں ۔آج جگنی پوری دنیا میں گائی جاتی ہے اس کی شروعات لوک فنکار عالم لوہار نے کی جس نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ اب بھی ہر شو میں سب سے پہلے جگنی کی فرمائش ہوتی ہے ۔ اس جگنی کوجدید طرزکا روپ دیکر انگریزوں کو بھی ناچنے پر مجبور کردیا۔اکثر سفارت خانوں کے فنکشنز میں غیر ملکی جس طرح جگنی پر محو رقص ہوتے ہیں اس کا تصور عام پاکستانی نہیں کرسکتا ۔ 

 جوشہرت ملی اس بارے میں کیاکبھی سوچا بھی نہیں تھا۔آ ج بھی غیر ملکی سفارت کارجگنی سننے کے لئے بلاتے ہیں جو میر ے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔پاکستانی ثقافت کو بیرون ممالک میں متعارف کرایا۔آج بھی قومی و ملی گیتوں کے ذریعے پاکستانیت پھیلا رہا ہوں۔انور ڈھول والے نے جگنی کو مزید چار چاند لگانے میں بھرپور ساتھ دیا۔امریکی سفیر نے تو میری لائیو پرفارمنس پر پاکستان میں ایوارڈ بھی دیا اور ساتھ ہی جگنی پر رقص بھی کئے۔میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں پاکستانی ہوں۔ مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے ۔پاکستان نے مجھے دنیا بھر میںعزت اورپہچان دی ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلاجائوں پاکستانی ہی کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہوں ۔

دنیا : بیر ون ممالک میں پاکستانی فنکاروں کے شوز میں رد عمل کیسا پایا آپ نے؟

سلیم جاوید : بیرون ملک پاکستانی فنکاروں کے میوزک کنسرٹ کا ہونا ہمیشہ خوش آئند ہے ، ہم سب نے میوزک کے ذریعے امن و آشتی کا پیغام دیا اور ملک کا سافٹ امیج اجاگر کیا۔35 برس بیت جانے کے باوجود آج بھی لوگ پسند کررہے ہیں ، اس کے لئے اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں ،کم ہے۔ 

دنیا : ملک میں میوزک انڈسٹری کا مستقبل کیسا دیکھ رہے ہیں ؟

سلیم : پاکستان میں میوزک انڈسٹری کا مستقبل روشن ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ میوزک انڈسٹری ختم ہوگئی ہے وہ غلطی پر ہیں۔ جدید دور کے تقاضے ہیں ،آڈیو کی جگہ سی ڈی نے لے لی ۔ سوشل میڈیا اور یوٹیوب نے مزید چوائس دے دی ہے ۔ہمارے کچھ گلوکار بھارتی گانوںکے ذریعے اپنی شناحت بنانے میں مصروف ہیں۔ کاش یہ لوگ ملکی فلم انڈسٹری کے ساتھ ساتھ میوزک کے فروغ کے لئے بھی سنجیدہ ہو جائیں۔ ہمارے گائے ہوئے گیتوں کو بھارتی فلموں میں من و عن کاپی کیا گیا۔ 

دنیا : فلم میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا ؟ 

سلیم : ’’کے ٹو‘‘ میں معین اختر کے ساتھ پہلی بار فلم میں کام کیا تھا ، بعدازاں مزید فلموں میں کام کرنے کی آفرز ملتی رہیں لیکن گیتوں کو ترجیح دی۔فلموں میں کام کرنے کا شوق اپنے گیتوں کی وڈیو البم بناکر پورا کررہا ہوں ۔ اداکاری کا تجربہ تلخ رہا۔فلموں میں کام کرنے کا بہت شوق تھا۔گائیکی میں اللہ نے وہ عروج و مقام دے دیا جس کا اس وقت تصور بھی نہیں کیا تھا۔

دنیا : اداکاری میں آپ کو کو ن پسند ہے؟

سلیم : چاکلیٹی ہیرو وحید مراد میرے پسندیدہ اداکار تھے، ان کی فلمیں بڑے شوق سے دیکھتا تھا۔اس دور میں ہرنوجوان وحید مراد کو نہ صرف پسند کرتا تھا بلکہ اس کی کاپی کرتا تھا۔ ان کی فلمیں دیکھ کر بہت کچھ سیکھا۔

دنیا : گائیکی میں کس سے متاثر ہیں ؟

سلیم : گائیکی کے انداز مختلف ہوتے ہیں ۔ اس دور میں’’ آئی ایم اے ڈسکو ڈانسر‘‘ہٹ تھے۔ہم عصر گلوکار میری انٹری سے پہلے گاکے چلے جاتے تھے ۔گائیکی کے حوالے سے مہدی حسن، کشور کمار، احمد رشدی ، میرے پسندیدہ گلوکار رہے ۔ ملکہ ترنم نورجہاں ، مہناز، دیگر کی گا ئیکی پسند ہے۔

 دنیا : صوفیانہ کلام بھی آپ کی گائیکی کا حصہ رہا ، ایک پاپ سنگر اور صوفیانہ کلام ؟

سلیم : صوفیانہ کلام کی بدولت مجھے نئی زندگی ملی ہے ۔ دل کی جان لیو ا بیماری سے جنگ کرکے جیتا ہوں۔ اس میں روحانیت کا عمل دخل زیادہ رہا۔ میرے چاہنے والوں نے جس طرح دعائیں کیں ، اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہیں۔صوفیانہ کلام میں وہ تاثیر ہے کہ جس کو سننے والے کی سوچ بدل جاتی ہے۔ منفی سوچ رکھنے والا بھی یہ کلام سننے کے بعد مثبت انداز میںسوچنے لگتا ہے اکثر ممالک میں لوگ ہماری زبانیں سمجھ نہیں پاتے لیکن صوفیانہ کلام پر جھومتے نظر آتے ہیں ۔

دنیا : بھارتی ہدایتکار مہیش بھٹ نے بھی آپ سے رابطہ کیا تھا ؟

سلیم : وہ پاکستان آتے رہے ہیں ایک دن وہ میرے گھر بھی آئے اور ڈنر کیا۔ انہوں نے میرے والیوم سنے ہوئے تھے، انہوں نے اپنی فلموں میں گائیکی کا کہا تھا بلکہ وہ میرے البم لیکر گئے تھے ۔وہ چاہتے تھے کہ ممبئی آئوں اور اپنی آواز کا جادو جگائو۔میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں پاکستانی ہوں ۔یہ کہہ کر میں نے ان کی پیش کش مسترد کر دی ۔اپنی ساری عمر پاکستانی ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کروانے میں گزار دی ۔ 

دنیا :لیجنڈری معین اختر نے آپ کے فنی سفر کوآگے بڑھانے میں اہم کردار اداکیا ؟

سلیم : کراچی میں سب سے پہلا شو معین اختر کا کیا تھا معین بھائی لیجنڈری فنکار نہیں وہ عظیم انسان تھے جنہوںنے حیدرآباد سے کراچی آنے کے بعد میوزیکل شوز میں ہمیشہ چانس دیا اور حوصلہ افزائی کی جس کا احسان نہیں ا تار سکتا۔ ان کے ساتھ کئی ممالک کے دورے کئے ، وہ میرے استاد ہیں۔ انہوں نے تو میرے فنی سفر کے 25 برس مکمل ہونے پر رنگارنگ تقریب منعقد کی تھی۔ معین اختر بھائی جو کچھ کہتے تھے وہ مجھے ازبر ہے۔ 

دنیا : معین اختر نے کیا کہا تھا شیئر کریں گے ؟

سلیم : انہوں نے کہا تھا کہ ’’ سلیم جاوید نے اپنی منفرد پرفارمنس کے ذریعے موسیقی کی دُنیا میں نام پیدا کیا اور سخت محنت سے کامیابی پاکر ثابت کیا کہ آگے بڑھنے کے لئے سہاروں کی نہیں بس استقلال کی ضرورت ہوتی ہے! شہرت اور کامیابی کسی کی میراث نہیں ، یہ سلیم جیسے کسی دوسری دُنیا سے آنے والے شخص کا نصیب بھی بن سکتی ہے ۔بس شرط ہے تو صرف محنت اور اپنے ٹیلنٹ کو صحیح سمت پروان چڑھانے کی

دنیا : شوبز انڈسٹری کے بارے میں کیا کہیں گے ؟

سلیم جاوید : ’’پتہ ہی نہیں چلا اور 35برس پورے ہوگئے۔35 سال پہلے الیکٹرانک میڈیا اتنا بڑانہیں تھا۔ ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا جو مجھے لفٹ نہیں کراتا تھا لیکن کراچی کے صحافیوں نے مجھ نا چیز کی مدد کی اور شناخت کا سفر آسان بنایا۔میں حیدرآباد سے تعلق رکھتا ہوں ۔50 روپے لے کر گھر سے نکلا تھا اور ماںکی دُعائوں سے بہت جلد کامیاب ہوگیا ۔جب پہلے شو سے قبل ہی پچاس روپے خرچ ہوگئے تھے تو سوچ رہا تھا کہ آج کیا کروں گا اور کیا کھائوں گا لیکن پروموٹر نے اُسی وقت گانے کامعاوضہ دے دیا اور یوں خدا نے اس پہلی پریشانی سے بچا لیا۔ اس کے بعد سے اب تک اُس کا کرم برابر جاری ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جھوٹ ‘ شوبزنس کا حصہ بن گیا ہے ‘ کچھ لوگ مجبوراً تو کچھ عادتاً جھوٹ بولتے ہیں ‘ میں ہمیشہ اس بُرائی سے دور رہا ہوں ۔ موسیقی کی دُنیا کو اپنے ہونہار بیٹے جوجی ‘کا تحفہ د یا اس بچے نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے آس پاس موسیقی کو پایا ہے ‘ اسے کم عُمری سے ہی سروں کا گیان آگیا ‘ جب انجینئرنگ پڑھنے کے بعد جوجی نے میوزک فیلڈ میں آنے کی خواہش ظاہر کی تو میں نے حوصلہ افزائی کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بغیر سیکھے وہ اس فیلڈ میں نہ آئے ! جوجی نے کینیڈا کے ایک ہائے فائے انسٹی ٹیوٹ سے میوزک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ میرے سفر کو بہت خوبی سے آگے بڑھائے گا۔

 دنیا : کالج کے فنکشن میں فائر نگ کے واقعہ کے بارے میں کچھ بتائیں گے ؟

سلیم : ایک گیت تھا واش ملے ۔۔۔ اس وقت وہ بہت ہٹ ہوا تھا میرے والیوم کا سب سے مقبول گیت ۔۔ہر جگہ سنائی دیتا تھا ۔۔۔کالج کا سالانہ فنکشن تھا رات گئے طالب علموں کے ایک گروپ کی طرف سے باربار فرمائش اس گیت کے لئے آرہی تھی۔۔۔شروع کیا تھاکہ فائرنگ ہوئی گو لی لگی پھر اپنے آپ کو اسپتال میں پایا۔دو گروپ آپس میں لڑ گئے ہم فنکار نشانہ پر آگئے ۔میرے والدین کی دعائیں کام آئیں ۔

دنیا : اس کے بعد پھر یہ گانا گایا ؟

سلیم : صحت یاب ہونے کے بعد کئی مہینوں تک اس گیت کو فرمائش کے باوجود نہیں گایا۔یہ گیت بھارتی فلم میں شامل کیا گیا تھا۔

دنیا : ویڈیو البم بنانے کے بارے میں ٹی وی چینلز کیا کہتے ہیں ؟

سلیم : ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد ٹی وی آرٹسٹوں کو بہت فائدہ ہوا لیکن سنگرز کو زیادہ فائدہ نہیںہوا اب یہاں بھی تبدیلی آرہی ہے‘ رہی سہی کسر اسپانسر نے پوری کردی ہے ۔جس نے50 لاکھ کا ویڈیوبنایا اور اُسے اسپانسر نہیں ملا ۔وہ تو مارا گیااسی لئے لوگ کم بجٹ کے ویڈیو بنانے کو ترجیح دیتے ہیں‘اُن کے پاس بھی مختلف چینلز سے آفرز آتی رہتی ہیں لیکن وہ اُن سے دور بھاگتے ہیں ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

مرحوم اداکار عابد علی نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے 1970 ء میں کیا تھا ،وہ کوئْٹہ بلوچستان میں 17 ، مارچ 1952ء کو پیداہوئ ...

مزید پڑھیں

قیامِ پاکستان کے حوالے سے وطن عزیز میں بڑی معیاری فلمیں بنائی گئیں اور وہ باکس آفس پر کامیاب بھی ہوئیں۔

...

مزید پڑھیں

شاید ہی کوئی بچہ ایسا ہو گا جس نے الہ دین اور جادوئی چراغ کی کہانی نہ پڑھی ہو ۔ دراصل یہ ایک عربی کہانی ہے اور الہ دین ایک عربی لڑکا ہے لیکن ...

مزید پڑھیں