☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سپیشل رپورٹ(صہیب مرغوب) رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) عالمی امور(نصیر احمد ورک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین( محمدشاہنوازخان) خواتین(نجف زہرا تقوی) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) دنیا کی رائے(شکیلہ ناز) دنیا کی رائے(تحریم نیازی) دنیا کی رائے(مریم صدیقی)
میرا مقابلہ خود مجھ سے ہے

میرا مقابلہ خود مجھ سے ہے

تحریر : مرزا افتخاربیگ

03-08-2020

 نئے فنکاروں میں ثنا جاوید کا بھی نام نمایاں نظر آتا ہے ، اس وقت وہ کسی نہ کسی ڈرامے کا حصہ بنی ہوئی ہیں ،چاہے وہ رسوائی ہو یا ڈر خدا سے ۔ بطور ماڈل اور اداکارہ 2012 میں شوبز کی دنیا کا حصہ بننے والی اس فنکارہ نے ڈرامہ سیریل ’’ شہر ذات ‘‘ سے فنی کیریئر کا آغاز کیا ۔
 

 

ان کے ساتھ سپر اسٹار ماہرہ خان و دیگر فنکاروں نے کام کیا ، ڈرامہ سیریل پیارے افضل کی لبنی ٰ کو اب تک کوئی نہیں بھلا سکا ، بعدازاں ڈرامہ سیریلز ’’ذرا یاد کر ،اور اداکار فیروز خان کے ساتھ ملٹی اسٹارز سیریل ’’خانی ‘‘ میں عمدہ فنکارانہ صلاحیتوں کی بناء پر صف اول کی فنکارائوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ آج کل مقبول ترین سیریل ’’ رسوائی ‘‘ میں ان کے کردار کو خاصا پسند کیا جارہاہے۔

25  مارچ ،1993 ء کو جنم لینے والی اس فنکارہ نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہ اب تک فلم و ڈرامہ پروڈیوسر حسن ضیا ء کی سماجی کامیڈی فلم مہرالنساء وی لب یو میں اداکار دانش تیمور کے ساتھ کام کرچکی ہیں۔ فلم رنگریزمیں ان کے ہمراہ اداکار بلال اشرف ہیرو تھے ،ناگزیر وجوہ کی بناء پر انہوں نے کام کرنے سے انکار کردیا ،کئی فلموں کی آفر ز ہوچکی ہیں لیکن وہ کسی اچھے کردار و اسکرپٹ کی تلاش میں ہیں ۔ فی الحال وہ ٹی وی ڈراموں کو ترجیح دے رہی ہیں جبکہ ٹی وی ڈراموں میں میرا پہلا پیار، ذرا یاد کر، پیارے افضل، مینو کا سسرال، میری گلاری ، گویا، چنگاری ، دل کا کیا رنگ کروں ،شریک حیات ، کوئی دیپک ہو، پیوند، مانا کا گھرانہ، اعتراض، انتظار، خانی، رومیو ویڈزہیر، ڈر خدا سے، رسوائی دیگر شامل ہیں ۔ڈرامہ انڈسٹری سے قبل انہوں نے 2015   ء میں بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم کے گیت ’’ خیر مانگدا ‘‘ میں میوزک وڈیو البم میں کام کیا۔ فیشن ڈیزائنر نومی انصاری کی عروسی ملبوسات پر مبنی میوزک وڈیو ’’ قبول ہے‘‘ ، میوزک البم تیرے بنا، اور 2018 ء میں گلوکار عاطف اسلم کی میوزک البم ہمیں پیار ہے پاکستان سے میں بھی کام کیا ۔ گلوکار عمیر جیسوال کے ساتھ شادی کی افوائیں سوشل میڈیا پر بھی گردش کرتی رہیں ہیں جس کی انہوں نے تردید کی ۔اداکارہ ثنا ء جاوید سے گفتگو ہوئی ہے جو پیش خدمت ہے۔
دنیا : پہلی بار میوزک انڈسٹری میں انٹری وہ بھی میوزک کی دنیا کے سپر اسٹار عاطف اسلم کے ساتھ کیسی رہی ؟
ثنا ء : نوعمر ی میں ہر لڑکی میوزک کی شیدائی ہوتی ہے وہ بھی عاطف اسلم کے ساتھ میوزک البم میں آنا میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔جس کے گیت دنیا بھر میں مقبول ہیں ، اس کا کریز میوزک کنسرٹ میں دیکھنے کے قابل رہا ہے۔ 2015 ء میں بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم کے گیت ’’ خیر مانگدا ‘‘ میں میوزک وڈیو البم میں چانس میرے لئے شناحت کا باعث بن گیا تھا۔
دنیا : میوزک انڈسٹری ہی ٹی وی تک رسائی کا ذریعہ بنی ؟
ثنا ء : ایسا ہی ہوا ،عاطف اسلم کے گیتوں پر ماڈلنگ اور پرفارمنس ہی نے ٹی وی ڈراموں کے لئے راہ ہموار کی۔
دنیا : وہ کونسا ڈرامہ تھا جس سے شہرت ملی ؟
ثنا ء : پہلی بار بڑے پروڈکشنز ہائوس کی سیریل شہر ذات میں کردار ملا وہ ایک چھوٹا کردار تھا لیکن میں نے کیا اس کے بعد میرا پہلا پیار نے معاون فنکارہ کے طور پر ناظرین کے سامنے آئی میری پرفارمنس پسند کی گئی ،لیکن شہرت ’’ پیارے افضل‘‘ کی لبنیٰ کے کردار سے ملی جس میں میرے ساتھ عائزہ خان، سوہائے علی ابڑو، انوشے عباسی ، فردوس جمال ، صبا پرویز، صبا فضل اور حمزہ علی عباسی نے اہم کردار ادا کئے تھے ۔ اس کے بعد فیرو ز خان کے ساتھ ڈرامہ سیریل ’’ خانی ‘‘ نے جو شہرت دی اس کا کوئی بدل نہیں آج کل ’’ رسوائی ‘‘ میں میری پرفارمنس کو پسند کیا جارہا ہے۔
دنیا : آپ کا کیا خیال ہے کہ شوبز میں کامیابی محض دلکشی کے بل پر ملتی ہے؟
ثناء : بالکل نہیں ، ٹھیک ہے شوبز میں حسین چہرے کی اہمیت ہوتی ہے اور لوگ اس کا نوٹس لیتے ہیں ‘ خوب صورتی کی وجہ سے آپ شوبزنس میں داخل ہوسکتے ہیں اور اس ظاہری لُک کی وجہ سے آپ کو ایک دو چانس بھی مل جاتے ہیں لیکن کامیابی کا انحصار آپ کی محنت و ٹیلنٹ پر ہوتا ہے! میں یہاں تک پہنچی ہوں تو صرف اپنی خوب صورتی کی بنا پر نہیں بلکہ میرے کریڈٹ پر کئی ایسے کیریکٹرز ہیں جنہوں نے میری کامیابی میں اہم کردار پلے کیا ہے مثلاً میرے پلے پیارے افضل کی مثال سب کے سامنے ہے جس کا مشکل کردار بہت محنت سے نبھایا اگر محض اپنی خوب صورتی پرہی دھیان دیتی تو اس طرح کی کامیابی نہیں پا سکتی تھی۔
دنیا : فیلڈ میں آنے کے بعد ایکٹنگ سیکھی یا پہلے سے ہی اس کی تربیت حاصل کی ہوئی تھی؟
ثناء : سچی بات تو یہ ہے کہ کام کے دوران ہی اداکاری کے اسرارو رموز سیکھے ہیں، شوبز میں آنے سے پہلے اس کا کوئی تجربہ نہیں تھا نہ ہی کسی اکیڈمی وغیرہ کو جوائن کی ،بس اپنے ہر پلے میں محنت کرتی گئی اور جس کا صلہ یہ ملا کہ ڈائریکٹرز کی توجہ میری جانب ہوئی‘ اچھی بات یہ رہی کہ کئی عمدہ ایکٹرز کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور ان سے بہت کچھ سیکھا‘ ان سینئرز نے دل کھول کر رہنمائی کی اور اچھے مشورے دیئے یوں اپنی صلاحیتوں کو پالش کرتی رہی۔
دنیا : کیریئر میں اب تک کردارنگاری میں کس حد تک انجوائے کیا ہے؟
ثنا ء : بہت زیاد ہ، کام سے جو خوشی ملتی ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں‘ شوبزنس میں آپ کو لوگوں کی جانب سے جس طرح کی توجہ و محبت ملتی ہے اور پھر ساتھ ہی شہرت کا مزہ سو یہ سب چیزیں ایسی ہیں جن سے ایک فنکار بھرپور لطف اٹھاتا ہے! یہ احساس ہی خاصا اطمینان بخش ہوتا ہے کہ میں لوگوں کو تفریح دینے کا سبب بن رہی ہوں اور میری وجہ سے ان کے چہروں پر خوشیاں بکھر رہی ہیں۔
دنیا : اداکارہ کی حیثیت سے شہرت پاتے ہی شخصیت میں کیا تبدیلی آئی؟
ثنا ء :کچھ تبدیل نہیں ہوا ویسی کی ویسی ہوں مثلاً شوبز میں آنے سے پہلے جو دوستیاں تھیں اب بھی وہ قائم و دائم ہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں مضبوطی آئی ہے‘ شہرت کو دماغ پر چڑھنے نہیں دیا یوں بھی فطرتاً دوستانہ طبیعت کی مالک ہوں اور اسی لیے انڈسٹری میں بھی میرے جلد ہی خاصے دوست بن گئے لیکن انتہائی قریبی دوستوں کی تعداد بہت کم ہے اور ان کا تعلق شوبز سے نہیں!
دنیا:کیا کبھی کسی کریزی فین سے واسطہ پڑا؟
ثنا ء : ہاں ایک بار کراچی میں ریسٹورنٹ پر دوستوں کے ہمراہ ڈنر کررہی تھی کہ ایک نوجوان آیا اور بِنا پوچھے ہماری ٹیبل پر بیٹھ گیا اور پھر کہنے لگا کہ وہ مجھ سے بے حد محبت کرتا ہے اگر اس کی مجھ سے شادی نہ ہوئی تو خود کو ختم کرلے گا‘ اس کی یہ باتیں سن کر میں گھبرا گئی اور سمجھ نہیں آیا کہ کیا کروں لیکن پھر خود کو سنبھالا اور اس سے اطمینان سے بات کی اور کسی طرح اسے سمجھا بجھاکر بھیج دیا‘ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جب بھی اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو خوف سے جھرجھری آ جاتی ہے اگر وہ نوجوان واقعی اپنے ساتھ کچھ کر لیتا تو میں کیا کرتی؟
دنیا : ابھی تک سنگل اسٹیٹس انجوائے کررہی ہیں‘ شادی کے لیے کس قسم کا شوہر ذہن میں بسایا ہوا ہے؟
ثنا ء : ایسے بندے کو لائف پارٹنر بنانا چاہتی ہوں جو عزت دینا و لینا جانتا ہو اور صرف بیوی کی ہی عزت نہیں کرے بلکہ ہر انسان کا احترام کرے خواہ وہ اس کے سسرالی ہوں یا اس کے اپنے گھر والے اور دوست احباب وغیرہ‘ میرے ہونے والے شوہر کو ذمے دار ہونا چاہیے ساتھ ہی ٹھیک ٹھاک پڑھا لکھا بھی ہو‘ امید ہے کہ ان تمام خوبیوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی مل ہی جائے گا ویسے فی الحال ابھی میرے پاس شادی وغیرہ کے لیے کوئی وقت نہیں ۔
دنیا : کس قسم کے مرد پسند نہیں ہیں؟
ثناء : ایسے مرد جو عموماً عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں اور دوسروں پر شک کرتے رہتے ہیں ایسے مرد بھی اچھے نہیں لگتے جو عورتوں کو خود سے کم تر سمجھتے ہیں اور ہمیشہ ان پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دنیا : پہلی فلم مہرالنسا وی لب یو‘ میں ٹی وی فنکارہ سے کافی مختلف نظر آئیں ،کوئی خاص وجہ ؟
ثنا ء : جی ہا ں، یہی ذہن میں تھا کہ جس طرح لوگوں نے مجھے ٹی وی پر دیکھا ہے، اس سے ہٹ کر اور منفرد نظر آؤں تاکہ انہیں کچھ تبدیلی کا احساس ہو صرف فلم میں ہی نہیں بلکہ اس کی پروموشن کے دوران بھی اپنے لُک پر خاص توجہ دی ،میں جیسی نظر آئی اس کے پیچھے عانیہ کی محنت تھی ،اس نے نیل پالش سے لپ اسٹک اور کپڑوں سے جوتوں تک ہر ایک چیز پر کام کیا۔ جانتی تھی کہ فلم کی پروموشن کے دوران بہت سی نظریں مجھ پر ہوں گی سو اس پریشر کو اسی طرح ہینڈل کیا جاسکتا تھا کہ میری لک عمدہ نظر آئے ، اس میں خوب کامیاب رہی ۔
دنیا : جب مہرالنسا وی لب یو کی تشہیری مہم جاری تھی اس وقت یقینا من کی حالت عجیب سی ہوگی، کچھ ان احساسات کے بارے میں بتائیں؟
ثنا ء : با لکل، پہلی فلم کی ریلیز کی بناء پر جہاں بہت زیادہ پرجوش تھی وہیں انتہائی نروس بھی تھی کیونکہ معلوم نہ تھا کہ لوگ میرے کیریکٹر پر کس طرح کا ردعمل دیں گے‘ فلم تو اچھی تھی، اس کو لے کر مجھے کوئی پریشانی نہیں تھی البتہ اپنے کام کی وجہ سے بہت بے چین تھی ۔
 دنیا : پہلی فلم کے ریسپانس سے خوش تھیں آپ ؟ 
ثنا ء :کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ فلم باکس آفس پر اچھی نہیں رہی جبکہ بہت ہی حوصلہ افزا رسپانس آیا ہے‘ لوگوں نے مثبت فیڈبیک دیا ہے، میرے کیریکٹر کی بھی تعریف ہوئی ہے‘ اس فلم میں وہ تمام باتیں موجود ہیں جو کسی بھی کمرشل مووی کا حصہ ہوتی ہیں یعنی ایکشن سے لے کر ڈرامہ و رومانس ‘ کامیڈی سمیت سبھی کچھ موجود ہے۔
دنیا ـ:فلم کی کہانی میں تفریح کے ساتھ ساتھ خاص میسج بھی دیا گیا تھا یعنی اس مووی کو محض مسالہ فلم نہیں کہہ سکتے، کیاخیال ہے؟
ثنا ء:ایسا ہی ہے کہ بنیادی طور پر تو یہ مووی تفریح سے بھرپور تھی لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ جب دیکھنے والے سنیما ہال سے باہر نکلیں تو وہ اپنے ساتھ کوئی اہم پیغام لے کرجائیں کہا نی میں یہی بتایا گیاہے کہ معاشرے کے بگاڑ کا سارا الزام ہم اپنے لیڈرز و سیاست دانوں پر دھر دیتے ہیں جبکہ اس کے ذمے دار ہم خود بھی ہوتے ہیں سو تبدیلی کے لیے ہر ایک کو اپنے حصے کی کوشش کرنا ہوتی ہے تب کہیں جا کے قوموں میں سدھار آتا ہے۔
دنیا : ایک فلمی ہیروئن کا اسٹیٹس پاکر کیسا لگ رہا تھا؟
ثنا ء : ہر فنکارہ بڑی اسکرین کی خواہش مند ہوتی ہے مجھے یہ ایک انتہائی خوشگوار و مختلف احساس لگاکہ سلور اسکرین کی ہیروئن کا ٹیگ میرے نام کے ساتھ لگ گیا ہے ، ٹیم ورک تھا جس کوپورے کریو نے بھی اپنے اپنے حصے کا کام خوب مہارت سے نبھایا اسی طرح میرے ڈیزائنر نے کیریکٹر کے حساب سے دیدہ زیب لباس ڈیزائن کیے اور میک اپ آرٹسٹ وقار نے بھی اپنا تمام ترتجربہ استعمال کیا‘ وقار خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ ایک فلمی ہیروئن کو کیسا نظر آنا چاہیے اور اسکرین پر اگر میں زیادہ چارمنگ اور دلکش نظر آتی ہوں تو اس میں وقار کا بہت بڑا حصہ ہے۔
دنیا :کچھ لوگوں کی جانب سے تمہارے کیریکٹر کو لے کر بہت زیادہ تنقید بھی ہوئی تھی اس پر یقینا اپ سیٹ تو ہوئی ہوگی؟
ثنا ء: تنقید کرنے والوں سے نہیں گھبراتی بلکہ ہمیشہ اسے مثبت انداز میں لیتی ہوں اسی لیے تنقید سے پریشان نہیں ہوتی تاہم اتنا ضرور کہوں گی کہ ابھی ہماری انڈسٹری بحال ہو رہی ہے سو نکتہ چینی کرنے والوں کو بہت دیکھ بھال کر الفاظ استعمال کرنا چاہئیں کیونکہ انڈسٹری اس اسٹیج پر شدید تنقید کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ہمیں سپورٹ کی ضرورت ہے اور یہ ذہن میں ہونا چاہیے کہ کام میں بہتری وقت کے ساتھ ساتھ آئے گی! فلم کے ایک گانے بیلیا…‘ کو لے کر خوب تنقید کی گئی کہ یہ بولی وڈ انداز کا تھا حالانکہ اگر اس گانے میں ساڑھی پہنی ہے تو یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں تھی‘ گولڈن ایرا میں بھی ہماری ہیروئنیں ساڑھی پہن کر گانے شوٹ کرواتی تھیں۔
دنیا : آپ کے فلمی سفر کا آغاز عامر محی الدین کی رنگ ریزا‘ سے ہونا تھا‘ آخر کیا وجہ ہوئی کہ اس پروجیکٹ کو چھوڑا؟
ثناء : اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی اس ٹاپک پر کچھ کہنے کا کوئی فائدہ ہے بس خوش قسمت ہوں کہ میرا فلمی آغاز مہرالنسا وی لب یو‘ سے ہوا،دلائی لامہ کا ایک خاص قول دہرانا چاہوں گی کہ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ یہ بات یاد رکھیں کہ اگر آپ کی من چاہی چیز نہ ملے تو اس میں آپ کے لیے بہتری ہوتی ہے۔
دنیا : چھوٹی اسکرین پر ڈھیروں ڈھیر کام کرچکی ہیں تو کیا اب ساری توجہ فلم پر رکھنے کا ارادہ ہے؟
ثناء : ایک تو ہمارے ہاں اتنی فلمیں نہیں بن رہیں کہ بندہ صرف فلم کا ہی ہوکر رہ جائے دوسرے ٹی وی کو کبھی نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ سمجھتی ہوں کہ آج کے اس دور میں ٹی وی بھی ایک بڑا میڈیم ہے! اس وقت کئی سیریلز کے اسکرپٹس میرے پاس ہیں اور آئندہ آپ ٹی وی ڈراموں میں مجھے دیکھیں گے بہرحال بڑی اسکرین ہو یا ٹی وی‘ میری ساری توجہ اپنے کام پر ہے اور چاہتی ہوں کہ ہر جگہ اپنی مہارت میں اضافہ کروں یوں سمجھیں کہ میرا مقابلہ خود مجھ سے ہے اور میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر سے بہتر بنانے کی خواہش مند ہوں۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سال تو دور کی بات، مہینہ بھر پہلے بھی اندازہ نہیں تھا کہ دنیا بالکل اچانک ہی بدل جائے گی، ہمارے فون یا کمپیوٹر میں وائرس آ جائے تو ہم کس قدر پریشان ہوجاتے ہیں، سب سے زیادہ فکر Data بچانے کی ہوتی ہے مگر یہ وائرس تو انسانی جان کے درپے ہے،    

مزید پڑھیں

عالمی وبا کورونا وائرس سے بچائو اور اس کے پھیلائو کے خلاف جنگ کے لیے اداکاروں اور گلوکاروں نے قوم کے نام اپنے پیغامات میں اپیل کی ہے کہ عوام اپنے گھروں میں رہیں اور باہر نہ نکلیں۔    

مزید پڑھیں

یہ 70 کی دہائی کا ذکر ہے جب میں آر ایم آر ہاسٹل لکشمی چوک لاہور میں رہتا تھا ،ایک روز میر ے ایک بچپن کے دوست جو اسی ہاسٹل میں رہتے تھے ،وہ آج کل ریٹائرزڈ آئی جی پولیس ہیں۔    

مزید پڑھیں