☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
لاک ڈائون: فلمی صنعت کو مسائل کا سامنا

لاک ڈائون: فلمی صنعت کو مسائل کا سامنا

تحریر : مرزا افتخاربیگ

04-26-2020

کورونا وبا ء سے ہر شخص کو نقصان ہواہے۔ پوری دنیا فکرمند ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ ہر سیکٹر اور بزنس لا یعنی مستقبل سے خوفزدہ ہے، اگر پاکستان کی پھر سے بحال ہوتی فلم انڈسٹری کی بات کی جائے تو یہ صنعت موجودہ کورونا وباء سے پہلے ہی دلدل میں دھنسی جارہی تھی، 2019ء میں پچھلے سال 18ء کے مقابلے میں کم تعداد میں فلمیں ریلیز ہوئیں،
 

 

پھر کامیابی کا تناسب خطرناک و خوفناک حد تک گر گیا، بڑی عید پر آنے والی دو فلموں پرے ہٹ لو اور سپراسٹار کے سوا کسی فلم نے قابل ذکر بزنس نہ کیا، سال کے آخری تین مہینوں میں چھے اردو فلمیں کاف کنگنا، تلاش، دال چاول، درج، بے تابیاں اور سچ اوپن ہوئیں جو سب کی سب ناکام گئیں، پے در پے ناکامیوں سے فلم ٹریڈ ہل کر رہ گیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی بڑی تعداد میں فلموں کی تیاری شروع ہوگئی تھی اس لئے بہرحال امید تھی کہ نئے برس 2020ء میں فلم انڈسٹری بہتری کی طرف جائے گی، اس آس و امید میں نئے برس کے دو ماہ جنوری، فروری گزر گئے تب مارچ میں چند فلموں کی نمائش کے اعلانات ہوئے جن میں سکینہ سموں کی انتظار اور جنید خان کی کہے دل جدھر قابل ذکر ہیں مگر تب تک کورونا وباء نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا اور دوست ملک چین کے بعد یہ وباء ایران اور یورپ میں جڑ پکڑ چکی تھی پھر پاکستان میں بالکل اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا جس کے تحت شاپنگ سینٹرز، اسکول، سنیماز سب بند کر دیئے گئے، اس وقت امکان تھا کہ دو سے تین ہفتوں میں معاملات ٹھیک ہوجائیں گے لیکن یہ اندازے غلط نکلے اور کورونا نے پوری دنیا سمیت پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مارچ2020ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں پچاس کے قریب فلمیں کسی نہ کسی مرحلے پر زیرتکمیل تھیں اور دو بڑے مسلم تہواروں کے لئے ایک درجن سے زائد فلمیں شیڈول کی جارہی تھیں، عید الفطر کے لئے ایک بہت بڑی مگر رکی ہوئی فلم لیجنڈ آف مولا جٹ کے حوالے سے خوش خبری دی گئی کہ تمام رکاوٹوں کے ہٹنے کے بعد پاکستان کی یہ مہنگی تر ین فلم عید پر ریلیز ہوگی، اس کے ساتھ ٹچ بٹن، لفنگے اور منی بیک گارنٹی کی ریلیزز بھی کنفرم کی گئیں، گویا سوئی ہوئی فلم انڈسٹری جاگ پڑی تھی اور عید پر زبردست دنگل ہونے کی اطلاع دی جا رہی تھی لیکن یہ تماشا لگنے سے پہلے ہی تمام ہوگیا۔ کورونا نے اچھے بھلے سارے کام اور شیڈولزچوپٹ کر ڈالے،عید کے لئے اعلان کردہ فلموں کی ریلیز خطرے میں ہے اور جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں مارچ اور اپریل کے لئے شیڈول پانچ فلموں کی طرح عید پر متوقع پانچ فلموں کی نمائش کے امکانات بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں اس سے پہلے سے بند اور نقصان میں جانے والے ملک بھر کے جدید سنیمازکا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا ہے، ملک میں سب سے زیادہ جدید اسکرینز لاہور میں ہیں جہاں تقریباََ پانچ ماہ سے کوالٹی فلمز نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار نہیں ہے لیکن ہر ماہ کے لازمی اخراجات، ٹیکسز، بجلی کے بھاری بلز اور اسٹاف کی تنخواہیں وغیرہ بدستور نافذ ہیں، پہلے سنیما مالکان سوچ رہے تھے کہ عید الفطر تک برداشت کرنا ہے اس کے بعد دکھ درد میں کمی آئے گی کیونکہ پھر سال کے آخر تک لائن سے فلمیں ریلیز ہونا ہیں، ظاہر ہے پچاس فلمیں زیر تکمیل ہیں تو ان میں سے آدھی تعداد تو ضرور ریلیزکے مرحلے تک پہنچنی تھی لیکن یہ سب کچھ تبھی ممکن تھا جب کورونا نہ ہوتا، اس عالمی وباء نے پہلے سے اکھڑتے قدموں والی پاکستانی فلمی صنعت کو کہیں کا نہیں رہنے دیا ہے۔ تمام زیر تکمیل فلموں کا کام رک گیا ہے، کسی کو نہیں پتا کہ وہ اپنی فلم کب مکمل اور پھر ریلیز کرسکے گا۔
کورونا وباء سے پہلے محب مرزا اپنی ذاتی فلم عشرت میڈان چائنا کے ایک شیڈول کی خاطر اکیس افراد پر مشتمل یونٹ کے ساتھ بنکاک میں تھا، فلم کی شوٹنگ اطمینان بخش طریقے سے جاری تھی کہ آدھی دنیا میں لاک ڈاؤن کا سگنل بج اٹھا جس کے نتیجے میں قومی ایئرلائن سمیت دنیا کی بڑی بڑی فضائی کمپنیوں نے اپنے آپریشن معطل کردیئے، ایسے میں محب کو فکر ہوئی کہ وطن واپسی کیسے ہوگی؟ ظاہر ہے محب اور اکیس افراد کا یونٹ ویزا لے کر کام کر رہا تھا اور جس کی مدت پوری ہونے سے پہلے پہلے انہیں واپس جانا ضروری تھا لیکن فضائی آپریشن بند ہونے سے یہ ممکن نہیں لگ رہا تھا اس لئے محب نے تھائی لینڈ میں مقیم پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا اس کے علاوہ پاکستان میں فنکار برادری کے اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں سے بھی رابطہ کیا گیا جن کی کوششوں سے تاخیر ضرور ہوئی مگر محب اور یونٹ کا پاکستان لوٹنا ممکن ہو پایا مگر یہ سب اتنی آسانی سے نہیں ہوا۔ ایک تو شیڈول سے زیادہ اسٹے ہونے پر ہوٹل کا بل کافی بڑھ گیا، اکیس افراد کے قیام و طعام کے زائد اخراجات فلم ساز پر بھاری بوجھ کی طرح ہیں جن کی وصولی فلم سے ہی کی جاسکتی ہے مگر ستم یہاں ختم نہیں ہوجاتا۔ فضائی کمپنی نے خاص فلائٹ کے عوض ایک ٹکٹ سوا لاکھ سے زائد کا چارج کیا اور کہا کہ یہ چارٹرڈ فلائٹ ہے اور چونکہ فضائی کمپنی کا آپریشن بنکاک میں نہیں لہذا اتنا کرایہ لیاجا رہا ہے، مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق محب نے اکیس افراد کے ٹکٹ زائد کرائے پر حاصل کئے اور ایک ایسے سفر کی جانب روانہ ہوگئے جہاں گھر پہنچ کر بھی دلی دور ہی تھا۔ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے پہلے ہی جہاز کے مسافروں کو بتا دیا گیا تھا کہ قوانین کے تحت ان سب کو اپنے ذاتی خرچ پر چند دنوں تک قرنطینہ میں رہنا پڑے گا جس کے لئے فضائی کمپنی کے فائیو اسٹار ہوٹل کا انتخاب کیا گیا تھا، تمام مسافروں کے ضروری ٹیسٹ کے بعد انہیں ہوٹل لے جایا گیا جہاں کے اسٹاف نے خوش اخلاقی کی بجائے سردمہری کا مظاہرہ کیا اور جس کی شکایت محب کے ساتھی فنکار شمون عباسی نے نیشنل ٹیلی ویژن پر کی۔ اطلاعات کے مطابق محب کی پہلی ذاتی فلم عشرت میڈان چائنا جو خاصے منفرد موضوع پر بنائی گئی ہے اور جو پہلے ہی سے کچھ تاخیر کا شکار تھی کورونا وباء سے پڑنے والی افتاد کے باعث اوور بجٹ بھی ہوگئی ۔
ہے،  پاکستانی فلم میکرزکے ساتھ جانے کیا مسئلہ ہے کہ فلم کے بارے میں ہر طرح کی بات کرلیں گے لیکن بات اگر بجٹ کی کی جائے گی تو جواب دینے سے کترانے لگیں گے چنانچہ محب بھی اووربجٹ والی بات پر کچھ کہنے کو تیار نہیں لیکن فلم ٹریڈ سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ بنکاک میں زائد قیام، اکیس افراد کے یونٹ کے اخراجات اور حد سے زیادہ مہنگے واپسی ٹکٹ کی وجہ سے محب پر ڈیڑھ سے پونے دو کروڑ کا اضافی بوجھ پڑا ہوگا لہذا ان کی فلم اگرچھے سے سات کروڑکی حامل ہو گی تو اب اس کی لاگت نو سے دس کروڑ تک ہو جائے گی اور ظاہر ہے فلم بنانے سے پہلے اس کا بنانے والا واپسی کے تناظر میں پلاننگ کرتا اور بجٹ مرتب کرتا ہے تو اس تازہ صورت میں محب کے سارے اندازے غلط پڑگئے ہیں اور ایک ایسے وقت میں جب سال کا آدھا دور گزرنے پر بھی پاکستانی فلموں کا کھاتا کھلنے کے آثار ہی نہ ہوں یعنی جنوری تا جون کوئی نئی پاکستانی فلم ریلیز نہیں ہوئی تو پہلے سے پلان شدہ فلموں کا مسئلہ ہو گیا ہے، ایسے میں جب بھی سنیماز پھر سے کھلیں گے تو پہلے مکمل فلموں کو ریلیز کیا جائے گا اور واضح ہوکہ سرکاری اداروں نے بتا دیا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے پر بھی سنیماز، اسکولز، شادی ہال اور شاپنگ سینٹرز بتدریج کھلیں گے تو ایسے میں چائنا سے آنے والی کورونا وباء کی وجہ سے محب وطن محب کی پاکستانی فلم عشرت میڈان چائنا کا مزید کیا اور کتنا نقصان ہوگا، کوئی نہیں کہہ سکتا۔
 

 

مزید پڑھیں

 جہاں دنیا بھر کی شوبز انڈسٹریز متاثر ہوئی ہیں وہاں ہماری انٹر ٹینمنٹ انڈسٹریز بھی کورونا وائرس کے باعث گونا گوں مسائل کا شکار ہوئے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 عید خوشی کا موقع ہے حالات سب کے سامنے ہیں مگر اللہ سے اچھے کی امید رکھیں، ان لوگوں کو نہ بھولیں جنہیں صحیح معنوں میں ہماری توجہ کی ضرورت ہے: ہمایوں سعید

مزید پڑھیں

سال تو دور کی بات، مہینہ بھر پہلے بھی اندازہ نہیں تھا کہ دنیا بالکل اچانک ہی بدل جائے گی، ہمارے فون یا کمپیوٹر میں وائرس آ جائے تو ہم کس قدر پریشان ہوجاتے ہیں، سب سے زیادہ فکر Data بچانے کی ہوتی ہے مگر یہ وائرس تو انسانی جان کے درپے ہے،    

مزید پڑھیں

عالمی وبا کورونا وائرس سے بچائو اور اس کے پھیلائو کے خلاف جنگ کے لیے اداکاروں اور گلوکاروں نے قوم کے نام اپنے پیغامات میں اپیل کی ہے کہ عوام اپنے گھروں میں رہیں اور باہر نہ نکلیں۔    

مزید پڑھیں