☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور کیرئر پلاننگ سنڈے سپیشل فیشن کھیل کچن کی دنیا شوبز خواتین دنیا کی رائے روحانی مسائل طنزومزاح ادب
ذہین طاہرہ ،لیونگ لیجنڈ فنکارہ

ذہین طاہرہ ،لیونگ لیجنڈ فنکارہ

تحریر : مرزا افتخاربیگ

07-07-2019

پاکستان ڈرامہ انڈسٹر ی میں اپنی عمدہ پرفارمنس اور کردارنگاری سے ایک طویل عرصہ تک ناظرین کو متاثر کرنے والی فنکارہ ذہین طاہرہ کے والد بر ٹش د ور میں آرمی میں کیپٹن ڈاکٹر تھے ، ان کا تعلق لکھنو سے تھا ۔ والدہ کا تعلق بریلی سے تھا جبکہ ذہین طاہرہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں 1942 ء میں پیدا ہوئیں ۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ’’ میرے والدکے آرمی میں ہونے کی بناء پرتبادلے ہوتے رہتے تھے ، 1947 ء میں ہجرت کرکے پنڈی آئے تو والد صاحب کی پوسٹنگ پشاور ہوگئی پھر ہم نوشہرہ میں 1956 ء تک رہے ۔لکھنو میں رہنے والی ذہین طاہرہ پشتو ، پنجابی زبانوں میں گانے گاتی رہیں ۔ ان کو پشاور میں رہنے کی بناء پر پشتو زبان پر عبور حاصل ہے ، وہ پشتو گانے گاتے رہی ہیں ابوظہبی میں اسٹیج پر گائیکی کا شوق گانے گاکر پورا کرتی رہیں ،

پشتو اسٹیج ڈرامے بھی کئے ۔پھر شادی ہوکر تہران چلی گئی۔ 1961 ء تک تہران میں رہیں۔ان کے مطابق ’’میرے شوہر کراچی آگئے انہوں نے ٹرانسپورٹ کا بزنس کیا جس کاتجربہ نہ ہونے کی بناء پر نقصان اٹھایا ۔اس کے بعد کراچی میر ا مسکن رہا ، اپنی ایک سہیلی کے توسط سے ان کو 1967 ء میں ابوظہبی میں نوکری کے لئے بھیجا۔ اس دوران ابوظہبی میں پاکستانی اسٹیج ڈرامہ اور میوزیکل شوز ہم نے ہی متعارف کرائے ۔

ان کی بنیاد رکھی۔ جس میں کام کرنے کے لئے معین اختر ، ظہور احمد، قاضی واجد، محمود علی، یوسف علی، سبحانی بایونس ، آفتاب عالم ، مہک علی اور دیگر آتے ۔ان ڈرامو ں کو اطہر شاہ خان کے بھائی ہارون پاشا پیش کرتے انکا اسکرپٹ اور ہدایات پاکستانی تھیٹر ابوظہبی میں متعارف کرانے میں پیش پیش رہے‘‘۔

’’میں ایک خالص پاکستانی ہوں جو بلوچستان میں پیداہوئی ، پشاور میں تعلیم حاصل کی اور پنڈی میں بھی وقت گذارا، پھر کراچی میں مزید تعلیم پائی اور شوبز کی دنیا میں قدم رکھا ، پاکستان کے ہر شہر میں ڈرامے کئے ، اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ جو عزت و شہرت ملی اس کا تصور کوئی نہیں کرسکتا ، نانی و دادی بن جانے کے باوجود چلبلی ہوں ، بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتی ہوں ‘‘۔

ذہین طاہرہ کے ہم عصر فنکار محمود علی، قاضی واجد، ظہور احمد، عرش منیراور سبحانی بایونس نے ان کے ساتھ کئی ایک یادگار ڈرامے اور سیریلز کیں جس میں معرکتہ الاآراء سیریل ’’ خداکی بستی ‘‘ سب سے نمایاں ہے جس کی کہانی معروف رائٹر شوکت صدیقی کے ناول سے ماخوذ تھی جو پہلی بار 1969 ء میں پی ٹی وی نے ریکارڈ کیا جس کی ہدایات عشرت انصاری نے دی تھیں ۔اس سیریل کو پھر 1974 ء میں ٹی وی نے ریکارڈ کیا جس کی ہدایات بختیار احمد نے دی تھیں ۔ جس میں نوشہ کا کردار بہروز سبزواری نے نوعمری میں کیا تھا ۔ان دونوں میں ذہین طاہرہ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی عمدہ کردارنگاری کے نقوش آج بھی ناظرین کے دلوں میں نقش ہیں ۔ ٹیلی ڈراموں کی تاریخ سب سے سینئر فنکارہ کا اعزاز ان کو اس وقت حاصل ہے ۔

انہوں نے 1960 ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے 1967 ء میں بزم طلباء کے اسٹوڈنٹ ڈرامہ فیسٹیول ویک کے ڈرامہ ’’ 40 منٹ ‘‘ سے کیا جو ان کے کالج کے کورس میں شامل تھا، اس ڈرامے میں عمدہ صداکاری پر بہترین صدا کارہ کا پہلا انعام بھی ملا۔اس حوالے سے انہوں نے بتایا تھاکہ ’’مجھے اد اکاری و گلوکاری کا بچپن سے شوق تھا ، اداکاری سے زیادہ گلوکارہ بننے کا شوق تھا ، ریڈیو پاکستان پہنچنے کے بعد استاد امرائو بندو خاں سے ملاقات ہوئی وہ میوزک کے شعبے کے انچارج تھے ان سے موسیقی کی الف ب سیکھنے کی کوشش بھی کی لیکن شہرت ادکارہ کی حیثیت سے ملی۔ وہ پہلی فنکارہ تھیں جو بزم طلباء میں تین بچوں کی ماں اور کالج کی طالب علم کی حیثیت سے شریک ہوئی تھیں ۔

اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کی شادی اس دور میں 14 برس کی عمر میں ہوگئی تھی ، میٹرک ہی کیا تھاکہ پڑھنے لکھنے کا شوق ہونے کے باوجود والد صاحب نے پھوپھی زاد سے شادی کردی اپنی مرحومہ بہن سے کیا ہوا وعدہ نبھایا ،میری تین اور بہنیں تھیں وہ مجھ سے بڑی تھیں میرے شوہر بیرون ملک کام کرتے تھے جب وہ باہر سے آتے میرے لئے کھلونے لاتے تھے ۔ ہماری عمروں میں 18 برس کا فرق تھا ۔بہنوں کی ایک ایک کر کے شادیاں ہوگئیں تو اب میں ہی بچی تھی تو ابا نے میری ان سے شادی کردی ، جب کہ پشاور کے کالج میں داخلہ لیا ہی تھا تعلیم ادھوری چھوڑ کرشوہر کے ساتھ شادی کے بعد میں تہران چلی گئی ، 1956 ء میں میری شادی ہوئی اس دوران تین بچوں کی ماں بن چکی تھیں‘‘۔

’’انہوں نے مجھے بہت کچھ سکھا یا ، کھانا پکانا ، کپڑے سینا دیگر کام سکھائے۔ان کی شخصیت بنانے میں میرے شوہر کا اہم کردار رہا ہے ،بہت محبت کرنے والے شوہر تھے۔کبھی انہوں نے اونچی آواز میں بات نہیں کی۔1967 ء جب کراچی واپس آئے تو کراچی کالج اور ریڈیو پاکستان گھر کے قریب ہی تھے شوہر سے پڑھنے اور ڈرامے میں کام کی اجازت لی ، کالج میں بی اے کرنے کے لئے داخلہ لیا ۔فنکشن میں حصہ لیتی رہی ،دو ٹیمیں بناکر ہم گانے کا مقابلہ کراتے ، دودو آنے جمع کرکے گفٹ لاتے جس طرف زیادہ لڑکیاں چلی جاتی اس ٹیم کو گفٹ دیتے تھے‘‘۔

تین بچوں کی ماں ااور شادی شدہ عورت ہونے کے باوجود انہوں نے گھرداری اور اداکاری میںتوازن قائم رکھا ۔ کالج ڈرامہ گروپ کی بناء پر ملک بھر کے کالجز میں جاکر مقابلوں میں حصہ لیکر وہ انعامات جیتی رہیں۔ ریڈیو پاکستان میں امیر امام ہندی سروس کرتے تھے ۔وہ ان کو 1967 ء میں پی ٹی وی لے گئے جہاں انہوں نے پہلی بار ’’ تلاش ‘‘ میں کام کیا جس میں ان کے ہمراہ ہیر و محمود خاں مودی تھے ، اصل شہرت شوکت صدیقی کے ناول سے ماخوذ ڈرامہ سیریل ’’ خداکی بستی ‘‘ سے ملی ۔انہوں نے ریڈیو ، ٹی وی اور فلم کے علاوہ تھیٹر پر بھی کام کیا ،

انکو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے ابوظہبی میں تھیٹر کو متعارف کرایا ۔ان کے شوہر ابوظہبی میں سروس کرتے رہے ان کو بھی وہا ں جانا پڑا تو انہوں نے ابوظہبی کے سلطان شیخ زید بن سلطان النہیان کی سالگرہ پروگرام کیا ۔معین اختر شو کیا کراچی سے زیادہ اسٹیج ڈرامے ابوظہبی میں کئے جس میں کراچی کے فنکار معین اختر ،محمود علی، قاضی واجد، ظہور احمد، عرش منیر، سبحانی بایونس،سمیت دیگر نے حصہ لیا ۔فلم کا شوق تھا شوہر کے منع کرنے پر فلم سائن کرنے کے باوجود سیٹ سے چلی گئی۔ ان کے ہمراہ معروف صدا کار و اداکار ا یس ایم سلیم اہم کردار میں سائن ہوئے تھے ۔دونوں اسٹوڈیو میں شوٹنگ کررہے تھے کہ ان کے شوہر وہاں بچوں کو لیکر پہنچ گئے۔ ان کا کہنا تھا مجھے چھوڑ دو یا فلم چھوڑ دو وہ چلے گئے۔

اس کے بعد ذہین طاہرہ سیٹ سے ایسی غائب ہوئی کہ ہدایتکار و فلم پروڈیوسر پریشان ہوتے رہے۔بعدازاںشہر کی اجازت سے ہدایتکار نذرالسلام کی فلم خواہش کی ، سڑک ، نامعلوم افراد،دیگر فلمیں کیں ۔ فلموں میں کام کرکے مزہ نہیں آیا ، لاہو رجاکر ڈبنگ کی تو عجب ماحول دیکھ کر بھی فلموں سے دور ہوگئیں ،فلموں میں ہائی پیچ بولنا پڑتا ہے ٹی وی فنکار کے لئے بہت مشکل ہوجاتاہے ۔

انہوں نے 1960 کے عشرے کے آخری برسوں ، 1970 ء اور 1980 ء کے دوران مرکزی نوعیت کے کردار کئے۔شہر ت کمائی ۔ ان کے قابل ذکر ڈرامے، سیریلز اور ٹیلی فلموں میں خداکی بستی ، حج اکبر ، منزل ، مراد،دل، دیا ،دہلیز ، طاہر لاہوتی، انوکھا بندھن ، نور پور کی ر انی، سینٹنسڈ فار لو، دوہری لسٹ، خالہ خیرن، جینا اسی کا نام ہے، منٹوراما کمرہ نمبر17 ، تجھ پر قربان،وینی، ہانیہ، کون جانے کیا ہونا ہے، چاندنی راتیں، ایک بیچارہ،کیسی ہیں دوریاں ، راستے دل کے، دل موتی کے مول، ماسی اور ملکہ ، آدم حوا اور شیطان، وقت کا آسمان، کہانیاں ، زینت ، اساوری، شی جی، اماوس، عروسہ، دستک، عجیب خانہ، دیس پردیس، خالی آنکھیں ، میرے قاتل میرے دلدار، ہرجائی، نکھر گئے گلاب سارے، کبھی کبھی پیار میں ، بے باک، ام کلثوم، آدھا چہرہ، الزام، ضرب تقسیم، فلائٹ 033 ، تمھارے بناء، تیری میری جوڑی ، نور جہاں ، ہیر، مراسم، بن رو ئے، تم ملے، خواب زادی، ببن خالہ کی بیٹیاں، برفی لڈو،دیگر بے شمار ڈرامے شامل ہیں۔ ببن خالہ کی بیٹیاں اور برفی لڈو ڈرامہ سیریل آج کل نجی چینل پر نشر ہورہے ہیں ۔

ذہین طاہرہ 700 سے زائد ڈرامہ سیریلز میں مرکزی و سپورٹنگ فنکارہ کے طور پر کام کرچکی ہیں۔ان کی عمدہ پرفارمنس پر حکومت پاکستان نے 2013 ء میں تمغہ ء امتیاز سے نوازا تھا ۔وہ اپنے کیریئر میں ’’خداکی بستی‘‘ کو ایک بہترین ڈرامہ سیریل قرار دے چکی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس سیریل کے دوران قاضی واجد، محمود علی، ظہور احمد دیگر سینئر فنکاروں سے میں نے اپنے ابتدائی دور میںجو کچھ سیکھا وہ آج تک کام آیا وہ اچھے لوگ چلے گئے ، آج کے بچے سینئر کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور ہدایتکار بھی ریہرسل کی اہمیت ہی نہیں سمجھتے ۔ ہم سنیئر فنکار اسکرپٹ کے علاوہ کئی دنوں تک ریہرسل کرتے تھے ۔اپنے کردار کے ساتھ سامنے والے کردار اور ماحول کو مدنظر رکھ کر پرفارم کرتے تھے ، اب یہ تصور ہی ختم ہوکر رہ گیا ہے۔

اسکرپٹ کی کاپی ہم جیسے سنیئر فنکاروں کو ملتی ہی نہیں ۔ فون پر لائینں آجاتی ہیں اسسٹنٹ آکر بتاتا ہے کہ بس یہ لائن بول دیں ۔ اب نظر کم زور ہوگئی ہے پڑھا ہی نہیں جاتا ۔میں اور قوی صاحب اکثر سیٹ پرجونیئر فنکاروں کو دیکھتے ہیں وہ نہ سنیئر کو اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی اسکرپٹ کو وہ بھی اپنی لائن بول کر سین کرکے یہ جا وہ جاوالا معاملہ کرتے ہیں۔ہمارے دور میں ریہرسل کئی دنوں تک چلتی تھی۔۔اسکرپٹ پربحث ہوتی تھی۔ پروڈیوسر ، ہدایتکار ، کیمرہ مین اور فنکار کی میٹنگ ہوتی تھی کہ ان کے مناظر کس طرح فلمائے جائیں گے۔ پھر ریہرسل چلتی تھی۔۔اب یہ نسل ان چیزوں کو اہمیت ہی نہیں دیتی ہمارا دل خون کے آنسو روتا ہے۔۔کیا ہوگیا چیٹنگ میں نہیں کرسکتی ۔۔۔

جس کی بناء پر فنکاروں کے چہرے پر ایکسپریشنز نہیں آتے تھے ۔ہم بھی وقت کی طرح اپنا کام کرکے آجاتے ہیں۔۔آج کا ہدایتکار بھی یہ کچھ کررہا ہے۔میرے خیال میں میرے ہم عصر فنکار بہت پیارے لوگ تھے ان کی چاہتیں آج بھی میرے لئے اہم ہیں۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن انہوں نے جس طرح مجھے سیکھایا اور گائیڈ کیا وہ زندگی کا اثاثہ ہے ۔آج کے فنکاروں میں اپنائیت نظر نہیں آتی جو میرے ہم عصر فنکاروں میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔اللہ ان فنکاروں کو جو اب اس دنیا میں نہیں رہے جنت الفردوس میں بلند مقام دے‘‘۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ملکی میوزک انڈسٹری پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو چند نام ایسے نمایاں نظر آتے ہیں جو اپنی شب و روز کاوشوں کی بناء پر دنیا بھر میں منفرد ...

مزید پڑھیں

مرحوم اداکار عابد علی نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے 1970 ء میں کیا تھا ،وہ کوئْٹہ بلوچستان میں 17 ، مارچ 1952ء کو پیداہوئ ...

مزید پڑھیں

قیامِ پاکستان کے حوالے سے وطن عزیز میں بڑی معیاری فلمیں بنائی گئیں اور وہ باکس آفس پر کامیاب بھی ہوئیں۔

...

مزید پڑھیں