☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) دنیا اسپیشل() رپورٹ(ایم آر ملک) فیشن(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() حقائق(محمد ندیم بھٹی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) سیاحت( مدیحہ عابد علی ) خواتین(عائشہ یاسین) خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین() خواتین() متفرق(امجدمحمودچشتی)
آرچ آف سینٹ لوئس ۔۔دیکھنے کی جگہ

آرچ آف سینٹ لوئس ۔۔دیکھنے کی جگہ

تحریر : مدیحہ عابد علی

11-24-2019

سینٹ لوئس پہنچتے ہی ہوٹل کی سٹرک سے بہت دور ایک آرچ دکھائی دی۔ہمارے میزبان سیڈ اور ریچرڈ نے بتایا کہ یہ گیٹ وے آرچ آف سینٹ لوئس ہے۔ اور ہمارے گروپ کو جلد وہاں کی سیر کروائی جائے گی۔ وہ یکم اکتوبر دوہزار انیس کی یخ بستہ صبح تھی، ٹمپریچر مائنس دو تھا۔ کمرے کی کھڑکی سے ہلکی ہلکی برف زمین کی جانب سفر کرتی دکھائی دے رہی تھی۔ سیڈ صاحب نے بتایا کہ گاڑی کی چابیاں گم گئیں ہیں اس لئے میڑو ٹرین پر گیٹ وے آف آرچ دیکھنے چلنا ہے۔ ہمارا عزم یہ تھا کہ امریکہ آئیں ہیں تو زیادہ وقت چیزوں کو دریافت کریں گے۔

تو جناب گرم پہنواوے جن کی شاپنگ امریکہ سے ہی کر رکھی تھی، نکالے اور ہوگئے گامزن گیٹ وے آف آرچ کی جانب۔ سیڈ اور ریچرڈ پہلے ہی بتا چکے تھے کہ چونکہ ہم میٹرو ٹرین سے سفر کریں گے اس لئے اپنے سامان کی خود حفاظت کریں۔ سینٹ لوئس میں افریقن امریکن اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بہت ملوث پائے جاتے ہیں۔ تو جیسے جیسے ریچرڈ چلتے رہے ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ میٹرو ٹرین کے دروازے چند سیکنڈ کے لئے کھلتے ہیں۔ ریچرڈ نے متنبہ کردیا۔ اس لئے اپنا اپنا سامان بغل میں دبائے متعلقہ اسٹیشن کا انتظار کرنے لگے۔ نگاہیں ریچرڈ کی جانب تھیں کہ کس اسٹیشن پر ریچرڈ اپنی نشست سے اٹھ کر میٹرو سے باہر نکلیں گے، اسی وقت ہم بھی پہلی فرصت میں دبک لیں گے۔ ورنہ میٹرو کا دروازہ منہ پر ہی بند ہوگیا تو اگلے اسٹیشن تک کا سفر پچھتاوے میں طے کرنا پڑے گا۔ ہمارہ متعلقہ اسٹیشن چند ہی منٹوں میںآگیا اورٹھٹھرتے ہوئے پہنچ گئے۔ خوبصورت شاہکار گیٹ وے آرچ آف سینٹ لوئس۔ اب اندازہ لگائیں جس ہوٹل کی سڑک سے ہمیں یہ خوبصورت شاہکار نظر آرہا تھا وہ ہوٹل سے چار اسٹیشن دور تھا۔

تین سو ساٹھ فٹ اونچے آرچ پر چڑھنے کے لئے چھوٹی چھوٹی چار سے پانچ فٹ کی کیپسول نماں لفٹیں ہیں جنہیں ٹائم لائن پاڈز کہا جاتا ہے۔ جن میں سانس کی شکایت والے لوگوں کو پہلے ہی وارننگ دے دی جاتی ہے۔ دوسری جانب آرچ چونکہ اتنی بلند ہے کہ ایسٹ سینٹ لوئس میں بھی تانکا جھانکی کی جاسکتی ہیں اسی لئے اکروفوبیا یعنی اونچائی سے ڈرنے والوں کا بھی بلندی پرجانا منع تھا۔ ہمارے گروپ میں سیڈ صاحب نے معذرت کر لی کیوں کہ انہیں اونچائی سے ڈر لگتا ہے۔ دوسری جانب میرے دماغ میں ایک ہی بات تھی کہ کیا یہ آرچ اتنی مضبوط ہے کہ بیک وقت اتنے سارے لوگ آرچ ٹاپ کا دورہ کرسکیں۔ دماغ کو جب فیکٹس معلوم پڑے کہ آرچ کی تعمیر 25 اکتوبر 1965 یعنی آج سے 54 سال قبل کی گئی تھی اور اس کی تعمیر و تکمیل کے وقت ایک بھی مزرود کی جان نہیں گئی اور آج تک کوئی زخمی بھی نہیں ہوا، تو میں بھی آرچ پر چڑھنے کے لئے دماغی طور پر تیار ہوگئی۔ اس آرچ کو "گیٹ وے ٹو دی ویسٹ" بھی کہا جاتا ہے۔ اور یہ دنیا کی بلند ترین آرچ ہے۔ جبکہ امریکہ کا بلند ترین مانومنٹ ہے۔ چون سال قبل اس کی تعمیر پر تیرا ملین ڈالر کا خرچہ آیا تھا جو آج کل کے 80.6 ملین ڈالر بنتے ہیں۔ 1947 میں جب برصغیر میں آزادی کی جدوجہد مکمل ہوچکی تھی تب دنیا کے دوسرے حصے میں فنیش امریکن آرکیٹکٹ ایرو سارینن اس آرچ کو ڈیزائن کر رہے تھے۔ جب ہم گیٹ وے آرچ ٹاپ پر پہنچے تو یہ تیز ہوا کے ساتھ جھول رہی تھی۔ جھولتے جھولتے ہم نے شہر کا خوبصورت نظارہ کیا اور میسیسپی دریا کی خوبصورتی آنکھوں میں بسانے کی کوشش کرتے رہے۔ واقعی اسٹیل لیس اسٹیل سے بنی یہ آرچ انسانی لگن اور مجنت کا مجسمہ ہے جو چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ انسان اگرٹھان لے تو ناممکن کو بھی ممکن بناسکتا ہے۔۔۔

 

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 درہ خیبر کو ہم ایک شہرہ آفاق گزر گاہ کہہ سکتے ہیں جو برصغیر میں جنگجو حملہ آوروں اور فاتحین کی گزر گاہ رہی۔ ایسے حملہ آور بھی درہ خیبر سے گزرے جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا ۔ایک پتھر پر نشان موجودہے ،یہ نشان شیر خدا حضرت علی ؓکابیان کیا جاتا ہے ۔    

مزید پڑھیں

ہم نے لتویا میں ایک شادی میں شرکت کی ، چند دنوں بعد یادیں تازہ کرنے کے لئے ا لبم کھولا۔ البم کیا کھلا، کلچر اور ثقافت کا ایک پٹارہ کھل گیا ۔دلہن انستاسیا تو کِسی مقامی ڈریس کمپنی کی ماڈل لگتی تھی جو لتویاکی نمائندگی کرتی ہو۔میں نے بھرپور ستائشی نظروں سے البم کے پورے صفحے پر چسپاں اُس کی قد آدم تصویر کو دیکھا تھا۔

مزید پڑھیں