☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
جنگلات کی تباہی سے 700ارب روپے کا نقصان

جنگلات کی تباہی سے 700ارب روپے کا نقصان

تحریر : ایم آر ملک

12-08-2019

ماہرین کہتے ہیں،بادل سبزے کو دیکھ کر برستے ہیں ۔۔۔

ایتھوپیا میں جب قحط نے پنجے گاڑے تو اس کی بنیادی وجہ تلاش کی گئی جس کے بعد ماحولیاتی تھنک ٹینک اس نتیجے پر پہنچا کہ ایتھوپیا میں جنگلات کا خاتمہ ہی قحط کا سبب بنا ۔عالمی سطح پر درختوں کی کٹائی میں 1852ء میں تیزی آئی اور ماہرین کے مطابق 2030تک کرہ ارض پر جنگلات کا صرف 20فیصد رہ جائے گا ،جنگلی حیات اور پرندوں کی ہزاروں انواع و اقسام ناپید ہو جائیں گی ،ان برسوں کے دوران جنگلات کا 60فیصد رقبہ کم ہوا ۔یہ جنگلات کی تباہی کا ہی شاخسانہ ہے کہ اوزون کی تہہ باریک ہوتی جارہی ہے اور کرہ ارض کے درجہ حرارت کو ناقابل تلافی حد تک نقصان پہنچا ہے ۔ درجہ حرارت بڑھنے کی بنیادی وجہ ہربرس 41ہزار ہیکٹرز پر محیط اشجار کے کٹنے کو قرار دیا جارہا ہے۔ جنگلات کے کٹنے سے جہاں ایک طرف فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم ہوتی ہے دوسری طرف یہ جنگلات کے ذخیرے پہاڑوں پر جمی برف کو تیزی سے پگھلنے سے روکنے کا ذریعہ ہیں۔ کسی بھی ملک کی متوازن معیشت کا انحصار 20فیصد رقبہ پر جنگلات کے پھیلائو پر ہے ۔وطن عزیز میں ایسا نہیں ہے ۔ یہاں جنگلات کا کل رقبہ 42.240 کلو میٹر تھا اس وقت اس میں خاصی کمی آچکی ہے ۔یعنی 5فیصد رقبہ پر جنگلات تھے وہ اب گھٹ کر 3فیصد رہ گئے ہیں۔1990ء اور2010ء کے درمیان پاکستان کے جنگلات میں 33.2فیصد کمی آئی۔ 1948ء میں آزاد کشمیر کے کل رقبہ کا 48فیصد جنگلات پر مشتمل تھا جو اب 39فیصد رہ گیاہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے سالانہ بجٹ کا 60فیصد جنگلات سے حاصل ہوتا ہے ۔

اس کا پس منظر یہ نہیں کہ آتش زدگی ،نباتاتی بیماریوں اور دیمک وغیرہ نے ان اشجار کو نگل لیا ان سے تو محض 6فیصد جنگلات کم ہوئے باقی 94فیصد تو ٹمبر مافیا کے ہاتھوں اجڑے ۔اللہ کرے کہ بلین ٹری کا خواب بھی ٹمبر مافیا سے محفوظ رہے۔ جس ٹمبر مافیا نے وسیع و عریض رقبہ پر ایستادہ جنگلات کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر وطن عزیز کو موسمیاتی تغیر کی طرف دھکیلا ،سبزے کے خاتمے کا سبب بنا اس کی تعبیر میں مزاحمت بن کر نہیں کھڑا ہوا ؟بالکل کھڑا ہے،اس کی نظر ان نئے ابھرتے ہوئے جنگلوں پر بھی ہے۔ہماری آنیوالی نسلیں جنگلات کی وسیع پیمانے پر کٹائی سے نہ صرف آکسیجن سے محروم ہورہی ہیںبلکہ،بارشوں کے تسلسل میں تعطل آگیا ہے ۔لاہورمیں چند سالوں کے دوران 40ہزاردرخت کاٹے گئے جس سے نہ صرف لاہور کے ماحول پر اثرات بد مرتب ہوئے بلکہ پانی کی سطح بھی نیچے گر گئی، سا نس کی بیماریوں کی بہتات کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے، کیا جنگلات کی تباہی اس خواب کی تعبیر کی تکمیل ہونے دے گی ؟

22کروڑ آبادی والے ملک میں ہر سال 11کروڑ درخت لگانے کا شعور دینا ضروری ہے اس لئے کہ جنگلات ہمارا اثا ثہ ہیں ،جنگلات کی بقا اور رونقیں ہمارے ماحولیاتی حسن اور مستقبل کی ضامن ہیں ۔لیکن جب ہم ماضی میں جھانکتے ہیں تو جنوبی پنجاب میں ضلع لیہ میں 46ہزار ایکڑ وسیع و عریض رقبہ پر ایک گھنا جنگل تھا،اب یہ تصور میں ہی ملتا ہے۔ چند سالوں میں ٹمبر مافیا اور محکمہ جنگلات کے اہلکاران کے گٹھ جوڑ نے ایشیاء کے اس تیسرے بڑے گھنے جنگل کی تباہی و بربادی کی جس طرح داستاں رقم کی اُسے ایک میگا کرپشن کی مثال بناکر پیش کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں شیشم جیسے قیمتی درخت کواُس وقت نیپال سے درآمد کرکے لگایا گیاجب وطن عزیز میں ذرائع آمدورفت کیلئے کوئلے سے چلنے والی ریل گاڑی آمدورفت کا ایک اہم ذریعہ تھا ۔یہ جنگل قیام پاکستان سے پہلے لگایا گیاشیشم کے اس قیمتی درخت کو ریسرچ نہ ہونے کی بنا پر ایک مخصوص بیماری گھن کی طرح کھا رہی ہے وہاں یہ نایاب درخت اپنے محافظوں کی کرپشن اور ٹمبر مافیا کے ہاتھوں بھی ایک عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد شیشم کا قیمتی درخت جس میں فی کس درخت کی مالیت 3 لاکھ سے کم نہ تھی ایک عشرہ قبل فاریسٹ اہلکاروں کی کرپشن کی خوراک کی زد میں آنے لگا ۔ماچھو اور عنایت ڈویژن میں بعض اہلکاروں کی سرپرستی میں ٹمبر مافیا نے 30سے زائد آرے لگالئے جن کی مدد سے قیمتی لکڑی کا بے دردی سے کٹائو شروع ہو گیا ،روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں شیشم کی قیمتی لکڑی سے لوڈ ٹرک مختلف شہروں میں فروخت ہونے لگے ۔وہ گھنا جنگل جہاں دن کے وقت رات کا سماں ہوتاتھا جنگلی حیات ہرن ،نیل گائے ،بارہ سنگھا جیسے جانوروں کی بہتات تھی جنگلی حیات کی یہ بڑی پناہ گاہ جب اپنوں کے ہاتھوں برباد ہوئی تو جنگلی حیات کا بھی نام و نشان نہ رہا۔ چٹیل میدان میں تبدیل ہونے لگا ۔ بالآخر تاحد نظر محض دس برسوں میں صحرا نے لے لی وہ افراد جن کے پائوں میں دس برس قبل جوتا تک نہیں تھا ٹمبر مافیا کا روپ دھار کر کروڑوں پتی بن چکے ہیں اور آج اُن کرپٹ افراد کا شمار معززین میں ہوتا ہے۔ واضح ثبوت ہونے کے باوجود اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ،حالانکہ کروڑوں کے بنگلے ، بڑی بڑی گاڑیاں کرپشن کا واضح ثبوت ہیں۔وہ اپنی سرپرستی میں ٹمبر مافیا سے رات کے اندھیرے میں درخت کٹواتے رہے ،بعض فاریسٹ اہلکاران مافیا سے لاکھوں روپے لے کر درختوں کو ’’ڈیمیج ‘‘لکھ کر رپورٹ بھجوا دیتے ۔ 

22جون، 23جون 2016، 19جولائی 2016کو تھانہ چوک اعظم میں لکڑی چوری پکڑے جانے پر ایف آئی آرز کا اندراج ہوا مگر لکڑ ی چوروں کے سرپرستوں نے لاکھوں کی لکڑی کی ’’ ڈیمیج رپورٹ ‘‘لکھ کر معمولی جرمانہ عائد کرکے مجرمان کو بری کروالیا ۔کچھ عرصہ قبل فتح پور میں ایک گینگ پکڑا گیا ، یہ محکمے کے کچھ اہل کاروں کا ’’لے پالک ‘‘تھا۔یہی شخص ملتان میںٹمبر کے آڑھتیوں کو شیشم کی قیمتی لکڑی کے ٹرک لوڈ کرکے بیچتا تھا۔ اس نے بھا گل نہر واندڑ بلاک بر جی نمبر 200 سے 220 تک 8 سے 10 لاکھ رو پے کے شیشم کے قیمتی درخت کٹوا کر فرو خت کر دیئے اور اپنا بنک بیلنس بھر لیا ۔سمندر نہر اورما چھو نہر سے پچیس لاکھ رو پے مالیت کے قیمتی درخت کٹوائے ،کھنی اڈہ سے عزیز چو ک کے در میان محکمہ جنگلا ت کے قیمتی ،سر سبز در خت کا ٹ کر فرو خت کر دیئے گئے اور کر پشن چھپانے کے لئے ان میں سے کچھ درخت لا ٹ وا رہ میں ڈال دیئے۔ 1996میں ضلع بھر میں بہنے والی 42انہار کے کناروں پر کھڑے درختوںکو محکمہ آبپاشی نے محکمہ جنگلات کی تحویل میں دے دیا ۔ان انہار کے کنارے کروڑوں کے درختوں کی لمبی قطاریں تھیں ،آج حالت یہ ہے کہ ان انہار کے کنارے کسی ذی روح کے سستانے کیلئے ایک بھی شجر سایہ دار نہیں ملتا ۔

اسی طرح پلانٹیشن کیلئے جاری فنڈز میں لاکھوں کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ۔نئی پلانٹیشن کیلئے جاری فنڈز میں لاکھوں کے گھپلے ہوئے ہر سال تین ہزار ایکڑ پر نئی پلانٹیشن ہونا تھی جو نہیں ہوسکی ۔ٹرکو تا کھڑکن روڈ پر 22 کلومیٹر پر محیط شاہراہ کے کناروں پر شجر کاری کیلئے 71لاکھ روپے مختص ہوئے مگر شجر کاری کا نام نشان نہیں ملتا ۔جبکہ چوک اعظم سے دھوری تک شجر کاری کیلئے 69لاکھ روپے رکھے گئے جن کا حساب نہیں ملتا ۔ 20سال قبل گولہ اڈہ پر جو لکڑی کا ڈپو تھا اب نہیں ہے 2013کے ایک سٹے آرڈر کی آڑ لیکرٹمبر مافیانے اپنے آرے جنگل میں لگا لئے جبکہ جنگل کی حدود سے آٹھ کلومیٹر کے اندر آرے لگائے نہیں جاسکتے موجودہ حکومت نے ماحول کو آلودگی سے بچانے کی خاطر ’’درخت لگائو ماحول بچائو ‘‘ یا بلین ٹری کا جو تصور پیش کیا ہے پاکستان کے تیسرے بڑے جنگل کی تباہی کی شکل میں یہ تصور ہی دم توڑ دیتا ہے جب باڑ کھیتوں کو کھارہی ہو تو کھیتوں کو کیسے بچایا جاسکتا ہے ۔وطن عزیز کے ہر ضلع میں محکمہ جنگلا ت کے اہلکا رو ں کی اس ٹیم نے با قاعدہ یو نین بنا رکھی ہے اور جب کوئی ایماندار آفیسر ان کے خلاف قانونی چارہ جو ئی کر نا چا ہتا ہے تو اس کے خلاف ہڑتا لیں اور احتجاجی کیمپس لگا ئے جا تے ہیں بالآخر مجبو را ً آفیسر مجاز کو گھٹنے ٹیکنا پڑتے ہیں۔چیچہ وطنی ضلع ساہیوال میں 1918میں ایک کثیر رقبہ پر قدرتی جنگل تھا جو پانچ کلومیٹر پر پھیلا ہوا تھا 1923میں اس میں توسیع کی گئی یہ جنگل بھی اپنوں کی بے اعتنائی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ فاریسٹ اہلکاران نے اس کی تباہی اور بربادی میں موثر کردار ادا کیا بعد ازاں 1150ایکڑ کے وسیع رقبہ پر نایاب ہونے والے درخت شیشم کو لگایا گیا جس پر ریسرچ نہ ہونے کی بنا پر بیماریاں حملہ آور ہوئیں اور یہ درخت ایک خطر ناک بیماری کا شکار ہوگئے۔جنگلات کے حاضر سروس ملازمین کے گھروں کا طواف کریں تو ان کے گھر میں لکڑی کا ورک اور فرنیچر دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ باڑ کھیتوں کو کھا رہی ہے ۔

بہاولپور میں لال سوہانرا کے نام سے جنگلات کا ایک بڑا قطعہ اراضی جس کا رقبہ 1,62568ایکڑ ہے یہ قدرتی جنگل تھا جسے اب ’’ذخیرہ‘‘ کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس کا’’ قتل عام‘‘ ایک عرصہ سے مسلسل جاری ہے یہاں سے قیمتی درخت کاٹ کر ملک کے دیگر شہروں میں ٹرک کے ٹرک لوڈ کرکے بیچے جارہے ہیں ۔1967میں لال سوہانرا کا سروے شروع کیا گیا اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1972میں اس کی منظوری دی گئی ۔1978ء میں یہاں نیشنل پارک قائم کیا گیا ۔تجزیہ نگار ملک ملازم حسین کے مطابق’’ شروع میں اس جنگل کا انتظام و انصرام پاک آرمی کے ریٹائرڈ ملازمین کے سپرد تھا ۔ 4780ایکڑ رقبہ پر ایک جھیل بھی بنی جہاں ہر سال لاکھوں روپے کی مچھلی فروخت کی جاتی ۔ہزاروں سیاح یہاں نظارہ کرنے آتے ہیں، ایک چڑیا گھر میں نایاب پرندے ،جانور موجود ہیں مگر جب سے اس کا انتظام و انصرام محکمہ جنگلات کے سپرد ہوا ہے تو قیمتی درختوں کی نہ صرف کٹائی شروع ہوئی بلکہ قیمتی جانور اور پرندے بھی چوری ہونے لگے ۔

بہاولپور ہی میں ہی بلاک آفیسر سلیم جہانگیر نے ڈیزرٹ برانچ راجہ والا بیٹ پر درختوں کی چیکنگ کی تو اس دوران مذکورہ بیٹ سے 90لاکھ 49ہزارروپے مالیت کے درختوں کے نقصان کی رپورٹ دی ۔ اُنہوں نے انکوائری نمبر 455/bwpمورخہ 27دسمبر2010ڈی ایف او کے حوالے کر دی۔ اس بیٹ میں محمد آصف فاریسٹ گارڈ تعینات تھا بیٹ راجہ والا ،نہڑ والی میں ایس ڈی ایف او نے انکوائری نمبر 369/bwpمورخہ 27نومبر 2010ڈی ایف او کو روانہ کی۔ نقصان کا تخمینہ 1کروڑ 1لاکھ 33ہزار 1سو ساٹھ روپے لگایا ۔ڈیر اور مٹھڑا بیٹ کی چیکنگ بلاک آفیسر کی نگرانی میں کرائی گئی جس میں 77لاکھ 58 ہزار روپے کی کرپشن ثابت ہو گئی ۔متعلقہ بلاک آفیسرنے 213400روپے کے قیمتی درخت کٹوائے چوری پکڑی جانے کے بعد سپرد داری پر رکھوادیئے دوبارہ معاملہ ٹھنڈا ہونے پر ریکارڈ میں اندراج کئے بغیر فروخت کر ڈالے ایک آفیسر نے کروڑوں روپے کی کرپشن چھپانے کیلئے مختلف افراد کے خلاف مقدمات درج کرائے جن میں سے کئی ایسے مقدمات کا حوالہ محکمہ جنگلات کے ریکارڈ میں دیا گیا جن کا لکڑی چوری سے کوئی واسطہ تعلق نہ ہے تھانہ بغداد الجدید میں 554/9موٹر سائیکل ڈکیتی کا مقدمہ درج ہے جبکہ ملازمین نے اس ایف آر کا حوالہ دیکر درخت چوری ہونا ظاہر کیا ۔درختوں کی مالیت 168900 روپے بتائی گئی ۔ اسطرح جن گیارہ مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے ان مقدمات کے مطابق درخت چوری ہونے کی مالیت 1586740روپے بنتی ہے جبکہ ماسٹر رجسٹر میں نقصان کی مالیت 5769740روپے ظاہر کی گئی ہے۔ایف آئی آر اور ماسٹر رجسٹر ریکارڈ میں 4346310روپے کا فرق ہے۔ اس فرق کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ملازمین نے درخت غائب کر دیئے۔ مقدمات کی عدم پیروی کی وجہ سے ملزمان بھی بچ نکلے۔ سابقہ دور حکومت میں پانچ کروڑ کی کرپشن بارے سیکریٹری جنگلات پنجاب کو ثبوت بھیجے گئے مگر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ 

مہاڑ کے علاقہ کے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ آگ لگی اور آتشزدگی سے پہاڑ ویران ہو گئے ۔بے شمار تیتر اور چکور جنہیں مہاڑ کی زبان میں ’’کونک‘‘ کہا جاتا ہے اس آگ کی زد میں آئے اور جل کر راکھ ہوگئے اب ان کی صدائو ں کو کان ترس گئے ہیں اکثر اوقات سیاحوں کی بڑی تعداد پہاڑی علاقوں کا رخ کرتی ہے اور جلتا ہوا سگریٹ پھینک دینے سے آتشزدگی کے وقعات جنم لیتے ہیں جنگلات کے بچائو میں مقامی افراد کا رول انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ بعض علاقے ایسے ہیں جہاں ریسکیو اور ایمر جنسی کی سہولیات کا فقدان ہے اور ادارے بھی اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں مشاہدہ میں آج تک نہیں آیا کہ کسی ادارہ نے مقامی طور پر درختوں کی حفاظت کیلئے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت محسوس کی ہو اس کے علاوہ ماحول بچانے کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی کبھی ماحولیاتی بحرانوں پر بحث کرنے کی کاوش ہی نہیں کی اکثر اوقات درختوں کے کٹائو میں حکمرانوں کا عمل دخل بھی رہا 13مارچ 2013کو راجہ پرویز اشرف نے گلگت بلتستان میں درختوں کی کٹائی پر عائد پابندی اٹھانے کے احکامات جاری کئے بعد ازاں پابندی تو بحال کردی گئی مگر تب تک دیامر اور ملحقہ علاقوں کا ایک بڑا حصہ جنگلات سے محروم ہوچکا تھا وطن عزیز میں جنگلات کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اس کی براہ راست ذمہ داری فاریسٹ اہلکاران اور ٹمبر مافیا کے گٹھ جوڑ پر عائد ہوتی ہے اگر بلین ٹری کے خواب کی جانب قدم بڑھانا ہیں تو محکمہ جنگلات میں پائی جانے والی کالی بھیڑوں پرہا تھ ڈالا جانا ضروری ہے۔ ان کے محکمہ جنگلات میں بھرتی ہونے سے پہلے اور بعد کے اثاثہ جات ہی چیک کر لئے جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اور اگر ہم نے جنگلات کے بے دریغ کٹنے کے عمل کو روکنے میں کردار ادا نہ کیا تو ہم ماحول دشمن گردانے جائیں گے کیونکہ جنگلات کے بے دریغ کٹائو کا نتیجہ ماحولیاتی آلودگی ،زمینی کٹائو ،بارشوں میں کمی ،سیلاب ،گلوبل وارمنگ میںا ضافہ ،لینڈ سلائنڈنگ (Climate Change)کی شکل میں سامنے آرہا ہے اس کے علاوہ گلوبل جی ڈی پی پر بھی اثر پڑتا ہے، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 700ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ہمیں اس کے تدارک کے لئے کوششیں کرنا چاہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

قیمتوں پر کنٹرول انتہائی ضروری ہے،جب سے انسانی معاشرہ تشکیل ہواہے تب سے ہی غذائی اشیا ء کی قیمتوںکا تعین کیا جاتا رہا ہے، قدیم یونان میں ...

مزید پڑھیں

تاریخِ عالم پر نظر ڈالیں تو ہمیں بہت سے ایسے رہنما ملیں گے جو جلاوطن کر دیئے گئے۔ اکثر کا جلاوطنی میں انتقال ہو گیا کچھ واپس بھی آ گئے۔ و ...

مزید پڑھیں

کسی بھی علاقے کے پکوان اس ملک یا شہر میں دستیاب قدرتی اشیاء کو شامل کر کے تیار کیے جاتے ہیں۔مختلف پھل اور سبزیاں قدرت کی دوسری بے شمار نعم ...

مزید پڑھیں