☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سپیشل رپورٹ(طاہر محمود) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) ثقافت(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ و عجیب(انجنیئررحمیٰ فیصل) صحت(سید عبداللہ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک) دنیا کی رائے(راحیلہ سلطان)
دال روٹی کی قیمت میں اضافے کا ذمہ دار کون؟

دال روٹی کی قیمت میں اضافے کا ذمہ دار کون؟

تحریر : طاہر محمود

01-19-2020

قیمتوں پر کنٹرول انتہائی ضروری ہے،جب سے انسانی معاشرہ تشکیل ہواہے تب سے ہی غذائی اشیا ء کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا رہا ہے، قدیم یونان میں پرائس کنٹرول کا ایک باقاعدہ نظام موجود تھا ،ایتھنز میں قیمتوں کے نفاذکیلئے پرائس انسپکٹروں کی ایک فورس بنائی گئی جس کا کام حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں کو نافذ کرنا تھاجبکہ خلاف ورزی کرنے والوںکو سزا ئیں بھی دی جاتی تھیں۔

قرون وسطیٰ میں حکومتوں نے روٹی کی قیمتیں طے کیں جبکہ دہلی سلطنت میں علاوالدین خلجی نے اناج ، کپڑوں اور مویشیوں کی قیمت مقررکر رکھی تھی۔ فرانسیسی انقلاب کے دوران اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کے لئے قانون بنایا گیا۔ جنگ عظیم اول اور دوم کے بعد اشیاء خوردونوش کی قلت سے قیمتیں بڑھیں جن کو کنٹرول کرنے کے لئے مختلف قوانین بنائے گئے۔ فلاحی ریاست کے موجودہ دورمیں ریاست عوام کو کھانے پینے کی اشیاء سستے داموں فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے، ریاست عوام کو ریلیف دینے کے لیے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مقرر کر تی ہے ۔برطانیہ میں ’’نیشنل بورڈ آف پرائس اینڈ انکم‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا جو افراط زر کی شرح کو انکم اور اخراجات کے مطابق طے کرتا ہے۔ امریکہ میں پہلی بار پرائس کنٹرول کا باقاعدہ قانون 1905ء میں لاگو ہوا جبکہ امریکی ریاستوں میں پرائس کنٹرول کے الگ الگ قوانین لاگو ہیں ۔

 چین میں پیداواری ذرائع ریاست کی ملکیت ہیں،وہاں 1984ء کے بعد پرائس کنٹرول کو مارکیٹ ذرائع سے منسلک کرنے کی پالیسی بنائی گئی تاہم ابھی تک بیشتر اشیاء کی قیمتیں حکومت ہی کنٹرول کرتی ہے۔ یورپی یونین مشترکہ زرعی پولیسی (سی اے پی) کے تحت کسانوں کو مارکیٹ سپورٹ پرائس کے ذریعے قیمتوں کا نظام مہیا کرتی ہے جبکہ یورپی ممالک کو پرائس کنٹرول میں کچھ مراعات بھی حاصل ہیں جو وہ اپنے طور پر بھی طے کرسکتے ہیں۔

 کنزیو مر ایکٹیوزم

دنیا میں بڑھتے ہوئے افراط زر کے پیش نظر حکومت اورریٹیل کمپنیوں کی اجارہ داری کے خلاف کنزیو مر ایکٹیوزم کی اصطلاح زور پکڑ رہی ہے، مختلف تحریکوں کے ذریعے اشیائے ضروریہ کا بائیکاٹ اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے صارف اپنے حقوق کے خلاف سرگرم ہو رہے ہیں، مختلف تنظیموں جیسا کہ پبلک سٹیزن، کنزیومر یونین اور کنزیومر فیڈریشن آف امریکہ اورصارفین مل کر اشیائے خوردونوش کا بائیکاٹ کر تے ہیں۔ یہ تنظیمیں مارکیٹ کی مختلف انجمنوں اور ایڈووکیٹس کے ذریعے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔ پاکستان میں بھی 2017ء میں ایک ایسی ہی کوشش کی گئی جس میں پھلوں اور سبزیوں کی خریداری کا تین روزہ بائیکاٹ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے قیمتوں میں واضح کمی ہوئی تھی۔مصر میں پھلوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف شہریوں نے ’’Let it rot‘‘ یعنی ’’گلنے سڑ نے دو‘‘ کے نام سے ایک تحریک شروع کی اوربڑے پیمانے پر پھلوں کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے قیمتوں میں واضح کمی واقع ہوئی۔ یورپ میں مارکیٹ سپورٹ پرائس اور بے تہاشا ٹیکسوں کے خلاف ییلو ویسٹ مظاہرے قابل ذکر ہیں۔

پاکستان میں رائج متعلقہ قوانین اور پرائسنگ کا نظام

حکمران پاکستان کو فلاحی ریاست کہتے ہیں، آئین پاکستان غربت کے خاتمے اور عوام کی فلاح و بہبودکی تلقین کرتا ہے، 1973 کے آئین کی شق 38 میں معاشرتی و معاشی بہبود کے عنوان سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ریاست لوگوں کے درمیان دولت اورپیداوار کے ذرائع کی منصفانہ تقسیم، بنیادی ضروریات یعنی کھانے، لباس، رہائش، تعلیم اور طبی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ لیکن حالات اس کے برعکس ہیں ۔اشیاء خورد نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کے مسائل میں بے پناہ اضافہ پیدا کر دیا ہے۔ پاکستان کی بیشتر آبادی کا انحصار زراعت پر ہے جو جی ڈی پی کا19 فیصد بنتی ہے جب کہ افرادی قوت کا 43فیصد اورتقریباََ 67فیصد معاش اسی شعبہ سے منسلک ہے۔ 25 فیصد زمین زرعی مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہے مگر اس کے باوجود پاکستان غذائی قلت کے لحاظ سے دنیا کے 126 ویں نمبر پر ہے جبکہ 22 فیصد آبادی خوراک کی شدیدکمی کا شکار ہے۔ گندم اور زرعی اجناس کی وافر پیداوار کے باوجو حکومت کے لئے کھانے پینے کی اشیا ء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا سر درد بنا ہوا ہے اور عوام کی قوت خریدمزید کم ہوتی جارہی ہے۔ غذائی افراط زر سے کم از کم 60فیصد پاکستانی متاثر ہورہے ہیں کیونکہ 60 فیصد سے زیادہ آبادی کی روزانہ آمدنی 2 ڈالر سے کم ہے۔غریب افراد اپنی آمدنی کا 70 سے 80 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں پرائس کنٹرول میکنزم کا جائزہ لیا جائے تو وفاقی سطح پرکابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)، نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) بالواسطہ یا بلاواسطہ قیمتوں کا تعین، سبسڈیز کی فراہمی اور دیگر امور کو طے کرتی ہیں ۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے بلایا جاتا ہے جوگندم، چینی اور دوسری ضروری اشیاء کی قیمتوں کے جائزہ کے ساتھ صوبوں کو ان اجناس کی ترسیل یقینی بناتی ہے ۔ صوبائی حکومتیں مقامی قوانین کے ذریعے قیمتوں پر نظر رکھتی ہیں ۔ پرائس کنٹرول پروفٹنگ اور ہورڈنگ ایکٹ 1977 کے تحت ضروری اشیاء کی بین الصوبائی نقل و حمل اور تقسیم کرنے کو کنٹرول کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ دوسری طرف فوڈ سٹف ایکٹ 1958 گندم آٹا میدہ سوجھی چاول اور چینی کی منقسم نقل و حمل اور تقسیم پر لاگو ہوتا ہے ،یہ قانون حکومت کو ان اشیاء کی فراہمی کے علاوہ قیمت طے کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے اس پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ تین سال تک کی سزا یا جرمانہ کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ ایگریکلچر پروڈکٹ مارکیٹنگ ایکٹ 1978ء حکومت کو پولٹری اور گوشت کی مارکیٹنگ کے نظام کو موثر بنانے کا اختیار دیتا ہے تاہم ’’پنجاب زرعی مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2018ء‘‘ کی منظوری کے بعد ایگریکلچر پروڈکٹ مارکیٹنگ ایکٹ 1978 ء ختم ہو چکاہے جبکہ پنجاب زرعی مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2018 کے تحت منڈی کے نظام میں اصلاحات لائی گئی ہیں جس میں نئی منڈیوں کے قیام کے ساتھ ساتھ آڑھتی کے کردار کو کم کر دیا گیا ہے، زرعی اجناس پر نیلامی فیس فکس کرنے اور مارکیٹ کمیٹیوں کے اختیارات کو منڈی تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ا س کے ذریعے حکومت مارکیٹ سپورٹ پرائس کے ذریعے اجناس کی خریدوفروخت کرسکتی ہے ،مارکیٹ کمیٹی اس ضمن میں متعلقہ ڈیلروں کو لائسنس دینے کی مجاز ہے۔ اسی قانون کے تحت مارکیٹ کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کی گئی۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن آف گودام ایکٹ ضروری اشیاء کی مقدار ، اشیاکی رسد اور دستیابی کے بارے میں ایک جامع نظام فراہم کرنے اور ذیلی معاملات سے نمٹنے کے لئے لاگو ہے جس کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے ابھی تک پاس نہیں کیا۔قیمتوں کے نچلی سطح تک نفاذ کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اور ضلعی انتظامہ بھی پرائس کنٹرول نظام کا حصہ ہیں۔

صوبائی حکومتیں اپنے طور پر پرائس کنٹرول کے نظام کو موثر سمجھتی ہیں مگر صارف کی نظر سے دیکھا جائے تو اس میں بہت سی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔سپلائی چین مینجمنٹ کا نظام منڈی میں مصنوعات کی مقدار، معیار،قیمت اور صارفین کی ضروریات کے لحاظ سے فراہمی یقینی بناتا ہے ،پائیدار سپلائی چین مینجمنٹ نے حال ہی میں دنیا بھر کی زرعی کاروباری برادری کی تو جہ حاصل کی ہے۔ عالمگیریت، اربابنائز یشن اور مانگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے ایگری فوڈ کی صنعت میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اورایگری فوڈ سپلائی چین کے طریقوں کو جدت ملی ہے جبکہ پاکستان میں اس حوالے سے اقدامات اور پالیسیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جسکی وجہ سے آئے روز سبزیوںاور دیگر زرعی اجناس کی طلب اور رسد میں اتار چڑھائو دیکھنے کو ملتا ہے ۔سپلائی چین کے نامناسب ذرائع قیمتوں کے تعین میں خلل پیدا کرتے ہیں دوسری طرف مارکیٹوں میں کولڈ سٹوریج جیسی بنیادی ضرورت کا فقدان ہے جلدی خراب ہو جانے والی اشیاء جن میں دودھ سبزیاں اور پھل وغیرہ شامل ہیں،اس کی وجہ ایک خاص مقدار ضائع ہوجاتی ہے۔موسمی اثرات کی بروقت فراہمی اور پیشگی احتیاطی تدابیر بھی اہم مسئلہ ہیں۔حال ہی میں سندھ اور بلوچستان میں ٹماٹر کی فصل موسمی اثرات کی وجہ سے تباہ ہو گئی ۔ قلت کی وجہ سے قیمت بڑھ گئی جب کہ خیبر پختونخوا اور دور دراز علاقوں سے ٹماٹر کی بر وقت فراہمی ممکن نہ ہو سکی، اور ملک میں بحران کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔علاوہ ازیں ذرائع نقل وحمل کے نا مناسب نظام کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء مارکیٹ میں بروقت پہنچانا مشکل ہوتا ہے ۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں ذرائع نقل و حمل کا نظام بہت ہی محدود ہے جبکہ اس خطے میں پھلوں کی وافر مقدار پیدا ہوتی ہے۔ ذرائع نقل و حمل کے ناقص نظام کی وجہ سے کسانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔طلب اور رسد کا عنصراشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو متاثر کرنے والے عوامل میں سب سے اہم ہے۔ 

 ہماری مارکیٹوں میں قیمتوں کا تعین بیرونی عوامل کے ذریعے بھی ہوتا ہے کیونکہ طلب کے تحت قیمتوں میں ہونے والا اضافہ طلب میں کمی کے پیش نظر قیمتوں میں کمی نہیں لاتا۔ قیمتوں کے بڑھنے کی ایک اور اہم وجہ اشیاخوردونوش کے معیار کا تعین ہے اشیا ء کے معیار کے تحت اگرقیمتوں کا تعین ہو بھی جائے تو اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا۔ اشیائے خوردونوش کی درجہ بندی کرنے کے لیے کوئی موثر طریقہ کار دستیاب نہیں جبکہ دوسری طرف صارفین کو عموماً کم کوالٹی کی چیزیں مہنگے داموں ملتی ہیں،حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اشیاء جن کی قیمت حکومت ریلیف یا سبسڈی کے تحت کم کرتی ہے وہ اشیاء سستے بازاروں اور ماڈل بازاروں میں یا تو ناپید ہو جاتی ہیں یا ان کی کوالٹی ناقص ہوتی ہے ۔موجودہ حکومت نے گزشتہ برس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 دفعہ اضافہ کیا، لائٹ سپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے زرعی اجناس کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا،یہ گرانی فی ایکڑ زرعی پیداوار میں کمی کا سبب بنی۔ اگرپرائس کنٹرول مجسٹریٹ کی بات کی جائے تو ان کے اختیارات بہت وسیع ہیں مگر یہ اختیارات صرف مہنگائی کے دنوں میں استعمال ہوتے نظر آتے ہیں ۔ دوسری جانب پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اپنی اصل ذمہ داریوں کی طرف زیادہ وقت گزارتے ہیں جس کے سبب گراں فروشی بڑھ جاتی ہے، کچھ مجسٹریٹ نچلے درجے کے افسران کو مارکیٹ میں بھیج دیتے ہیں جو رشوت خوری کے سبب قیمتوں میں کمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹیوں کے ممبران چونکہ ملحقہ علاقوں سے منتخب کیے جاتے ہیں اور ان میں مارکیٹ اور پیداواری شعبہ کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے وہ اشیاء کی قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی کو ذاتی مفادات کے پیش نظر استعمال کرتے ہیں۔چھوٹی منڈیوں میں زراعت سے منسلک سیاستدان بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مڈل مین یا آڑھتی ایک طاقتور مارکیٹ اجارہ دار کے طور پر کام کرتا ہے چونکہ روزمرہ کی قیمتیں آڑھتی حضرات کے مفادات کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں جس سے چھوٹاکاشتکار اور صارف متاثر ہوتا ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی آڑھتی یا خوردہ فروش ذخیرہ اندوزی کے ذریعہ ہزاروں کماتا ہے تو اسکو آٹے میں نمک کے برابر جرمانہ کیا جاتا ہے۔موجودہ قوانین میں آڑھتی کی نشاندہی نہیں کی گئی جوبہت زیادہ منافع کماتے ہیں اور ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے۔آڑھتی کاشتکار کو مہنگے داموں بیج کھاد اور کیڑے مار ادویات اور زیادہ سود کے عوض قرض مہیا کرتا ہے۔اگر کسان آڑھتی کو ایک چیز دس روپے کے عوض فراہم کرتا ہے تو صارف کو وہ چیز سو روپے میں ملتی ہے۔ اس میں زیادہ تر منافع آڑھتیوں کی جیب میں جاتا ہے۔ علاوہ ازیں تھوک منڈیوں میں زرعی پیداوار کی نیلامی کا نظام ناقص ہے جس کے تحت آڑھتی پھر کسانوں کا استحصال کرتے ہیں۔مقامی قوانین میں صارف کے حقوق نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قانون سازی کرتے وقت کسان اور صارف کے حقوق کا احاطہ نہیں کیا جاتا، اور قیمتوں کا تعین کار خانہ دار کی مرضی سے کیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ قوانین صرف خوردہ فروشوں یا چھوٹے دکانداروں کو جرمانہ کرتا ہے ۔ اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے پیداوار اور ترسیل کے غلط تخمینے قیمتوں میں خلل پیدا کرتے ہیں ۔ یوٹیلیٹی اسٹور زکارپوریشن کی بات کی جائے تو یہ نچلے طبقے کے لئے ایک احسن اقدام تھا مگر ناقص پالیسیوں کی وجہ سے یوٹیلٹی سٹورز میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی پائی جاتی ہے۔ کئی افسران اشیاء کو بازار میں مہنگے داموں فروخت کردیتے ہیں جبکہ خریدار کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ اشیاء سٹور میں موجود ہی نہیں ۔ غربت زدہ عوام سبسڈی والی اشیاء خریدنے سے بھی قاصر ہیں۔

حکومتی اقدامات

موجودہ حالات کے پیش نظرقیمتوں پر قابو پانے اور مصنوعی مہنگائی خصوصاً سبزیوں کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کے خلاف موجودہ حکومت واضح اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے صوبوں کی کارکردگی کا جائزہ کے ساتھ ساتھ ایک اسپیشل سیل قائم کیا جو قیمتوں پر نظر رکھے گا۔ اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنائے گا ۔ پنجاب حکومت نے بھی پرائس کنٹرول ٹاسک فورس کے ذریعے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کیلئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ ماڈل بازاروں میں زرعی فیئر پرائس شاپس پر سبزیاں سرکاری نرخ پر دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسان بغیر کسی کمیشن کے اجناس کی خریدوفروخت کر سکتے ہیں ۔ صوبے میں ماڈل بازاروں کے دائرہ کار کو تحصیل کی سطح تک بڑھایا جا رہا ہے۔ صوبائی پرائس کنٹرول اتھارٹی کے قیام کیلئے میکانزم کو حتمی شکل دی چکی ہے ۔پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی تعداد میں اضافے کے علاوہ ان کو فیلڈ میں رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر گراں فروشوں کے خلاف نقد جرمانوں کے علاوہ دوسری سزائیں دی جا رہی ہیں، حکومت پنجاب صوبے میں مقررہ قیمتوں پر ضروری اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے پانچ بڑے شہروں میں سبزی فروٹ ہوم ڈیلیوری نظام بھی شروع کررہی ہے ۔ یوٹیلٹی سٹورز پر صحت انصاف کارڈ کی طرز پرراشن کارڈ کی سکیم بھی زیر غور لائی جا رہی ہے جس کے مطابق 50 لاکھ خاندانوں کو آٹا، چینی،گھی، چاول اوردالوں جیسی دیگر اشیاء سستے داموں فراہم کی جائیں گی۔اس پروگرام کے تحت تقریبا 2کروڑافراد مستفید ہو سکیں گے۔

سفارشات

پرائس کنٹرول کے نظام میں بہت ساری محکمانہ پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں پاکستان میں قیمت متعین کرنے کے لیے محکمانہ طریقہ کار تو اپنا لیا جاتا ہے مگر اس کے بعد ان مقرر کردہ قیمتوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے جس میں حائل رکاوٹوں کو حل کیا جانا چاہیے ۔ذیل میں کچھ سفارشات بیان کی گئی ہیں جوموجودہ حالات کے تناظر کو مدنظر رکھ کر تجویز کی گئی ہیں۔

1۔پرائس کنٹرول ایک وسیع ترجیحات کا حامل موضوع ہے جس سے پاکستان کی خط غربت سے نیچے تقریبا 40 فیصد آبادی بالواسطہ طور پر متاثر ہوتی ہے لہٰذا پرایسنگ کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے صوبائی سطح پر پرائس کنٹرول اتھارٹی بنائی جائے جو فرسودہ طریقوں سے ہٹ کر پرایسنگ کو مرکزی نظام کے تحت چلائے ،اس حوالے سے محکمہ صنعت اور زراعت کو قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔

2۔ قیمتوں کے تعین ، اشیاء خوردونوش کی نقل وحمل اورگرانفروشی اورملاوٹ کی روک تھام وغیرہ کے لیے بنائے گئے قوانین فرسودہ ہیں ۔ بیشتر قوانین صرف ایک خاص طبقے پر لاگو ہوتے ہیں بعض قوانین میں کسانوں اور صارفین ،دونوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ان قوانین کو موجودہ دور کے مطابق ڈھالنے کے لئے مناسب ترامیم کی جائیں اور ان کے عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے لئے تمام اداروں کی کارکردگی کو جانچنا چاہیے۔

3۔دوسری طرف منڈی کے نظام میں شامل تمام طبقات جیسا کہ کسان، آڑھتی اور حکومتی و سیاسی نمائندے ،انہیں مارکیٹ کمیٹیوں کو آزادانہ طور پر چلانے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ، حکومت اور آڑھتی حضرات کسان کو لاگت کے حساب سے جائز قیمت دینے کے پابند ہیں ۔آڑھتی سپلائی کے آزادانہ نظام میں رکاوٹ بنتے ہیں اس لئے چھوٹی منڈیوں میں بڑے کاشتکاروں اور متعلقہ حکومتی و سیاسی عناصر کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے روزانہ جانچ پڑتال کر کے اصلاح احوال کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

4۔بولی کا طریقہ کار بھی ایک فرسودہ نظام ہے۔ کچھ عناصر مل کر باہمی فوائد کی خاطر بولی کے نظام کو متاثر کرتے ہیں،اس سے قیمتوں کے رجحان میں پیدا ہونے والے بگاڑ کا نقصان کسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لہٰذا بولی کے نظام کو ختم کرکے اجناس کی پیشگی سپورٹ پرائس کا نظام وضع کرنا چاہیے ۔یہ نظام امریکہ اور یورپی ممالک میں اپنایا جاتا ہے اس سے قیمتوں میں تسلسل پیدا ہوگا۔

5۔پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور مارکیٹوں کے کردار کی کی از سر نو جانچنے کی ضرورت ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور مارکیٹ کمیٹیوں کے ارکان بعض اوقات اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں ۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور مارکیٹ کمیٹیوں کے ارکان کے لئے تربیتی پرگرامز شروع کئے جائیں۔ مارکیٹ کمیٹی کے ارکان کی تقرری میرٹ پر اور انتظامی طریقہ کار کے تحت کی جائے۔

6۔ترقی یافتہ ممالک میں سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار لاگت، ترسیل اور قیمتوں کے تعین کے لیے ہر سال نئی پالیسی بنائی جاتی ہے جس میں کسانوں اور صارفین دونوں کے کا حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے اسی طرز پر پاکستان میں بھی نیشنل فروٹ اینڈ ویجیٹیبل پالیسی بننی چاہیے جس کے تحت پیداوار کا تخمینہ موسمی اثرات وغیرہ کو جانچنے کے بعد منظور کیا جائے۔ٹماٹر کی حالیہ فصل موسمی اثرات سے تباہ ہوگئی تھی جس کی پیشگی اطلاع کے لئے کوئی نظام موجود نہیں تھا اس سے بچنے کے لئے ’’نیشنل کراپ پالیسی ‘‘بنا کراس میں پیداوار سمیت تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جانا چاہیے۔

7۔یوٹیلیٹی سٹورز جیسے ادارے کو صرف غریبوں کو اشیاء فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ چونکہ یوٹیلٹی سٹورز کے بعض ملازمین اشیاء کی خوردبرد اور اشیاء کو بازار میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں لہٰذا یوٹیلٹی سٹورز کو اگر ایک ٹارگٹڈ کمیونٹی کی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس ادارے کا کینٹین سٹورز ڈپارٹمنٹ کے ساتھ الحاق کر کے اس کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

8۔پاکستان میں لینڈر ریفارمز وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ زیادہ تر کسانوں کے پاس بہت کم زمین ہے۔ تقریباََ 89 فیصد کسانوں کے پاس 10 ایکڑ سے کم زمین ہے۔ حکومت کو چھوٹے کسانوں کے لئے سود سے پاک کریڈٹ اسکیم لانا ہوگی تاکہ کسانوں کومرکزی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ کسان کو منڈی کے دیگر عامل سے متاثر ہوئے بغیر صارف تک باالواسطہ رسائی دینی چاہیے یعنی کسان کو اپنی مصنوعات کی پیداوار ،پیکنگ ، لیبلنگ ، قیمت اور ترسیل میں آزاد ہونا چاہیے ۔

9۔پاکستان میں فارم سے منڈی تک کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، لاجسٹکس اور گوداموں اور پروسیسنگ وغیرہ کے شعبوں میں نجی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت پرائیویٹ اداروں کے ذریعے فارم سے منڈی تک کے انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنا سکتی ہے ،اس ضمن میں بین الاقوامی کمپنیاں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔جینیاتی موڈیفائیڈ بیج ، کیڑے مار دواؤں اور فصلوں کی کٹائی کے جدید طریقوں کو اپنا کر پاکستان میں فوڈسکیورٹی کے نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔افزائش نسل کی نئی تکنیکوں سے مویشیوں کو موسمی خطرات اور مختلف بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ دودھ کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

10۔قیمتوں کاتعین ایک بین الاقوامی رجحان ہے جس کی وجہ سے غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں،ان کے علاوہ بوڑھوں اور بیمار وں کو بھی حکومت براہ راست ریلیف دے ۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 پہلی جنگ عظیم سے پہلے 1918ء میں امریکی ریاست کنساس میں ہسپانوی فلو (Spanish Flu) کی وبا ء پھوٹی جو کم ازکم 2سال بعد ختم ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اس وباء سے 500ملین انسان متاثر ہوئے یعنی اس وقت کی عالمی آبادی کاایک تہائی حصہ۔ کہاجاتا ہے کہ اس وبا ء سے 5ملین نفوس لقمۂ اجل بنے۔    

مزید پڑھیں

 پوری انسانیت کورونا وائرس جیسی ہولناک بیماری کا شکار ہے۔ چین سے شروع ہونے والی وباء نے کیا امریکہ اور کیا یورپ ، پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔سپر طاقتیں اور ترقی یافتہ ممالک سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔    

مزید پڑھیں

کیا موسمیاتی تبدیلی ممکن ہے یایہ نیو ورلڈ آرڈر کی نئی شکل ہے ؟ کلائیمنٹ چینج کی شکل میں کرئہ ارض ایک نئے سراب سے دوچار ہونے والا ہے ؟ کیا یہ صیہونی طاقتوں کے باربار بدلتے بیانئے کا تسلسل ہے؟    

مزید پڑھیں