☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(احمدعلی محمودی ) خصوصی رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویو(مرزا افتخاربیگ) کھیل(محمد سعید جاوید)
چینی کی گرانی اور اقتدار کے مزے !

چینی کی گرانی اور اقتدار کے مزے !

تحریر : ایم آر ملک

02-16-2020

ایوب کادور تھا ۔مغربی پاکستان کی گورنری کے تخت پر گورنر امیر محمد خان نواب آف کالاباغ براجمان تھے ۔امیر محمدخان کی دبنگ شخصیت اوران کی مونچھوں کے اندازِ حکمرانی سے بڑے بڑوں کاپتہ پانی ہوجاتاتھا۔مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے وہ کہا کرتے کہ میری دائیں مونچھ قانون ہے اور بائیں مونچھ آرڈر، اُن کے دورِ اقتدار میں چینی کاریٹ اڑھائی روپے کلو ہوا تو چینی مارکیٹ سے غائب ہوناشروع ہوگئی ۔
 

 

ذخیرہ اندوزی عروج پکڑ گئی ۔عوامی حکمران ہمیشہ عوامی مشکلات اورمسائل کے ازالہ کی صلاحیت سے بخوبی آگاہ ہوتاہے ۔رات کے کسی پہر مغربی پاکستان کے سربراہ کو اس کی اطلاع ہوگئی ملک بھرمیں بھونچال آگیا ۔متحرک انتظامی مشینری نے ذخیرہ اندوزوں کو انتہائی قلیل عرصہ میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ سواروپے کلوچینی ریڑھیوں پر بکنے لگی کسی بھی دور حکومت میں جب ضروریات ِ زندگی کی قیمتوں میں عوام کو خوفناک گرانی کاسامنا کرناپڑتا ہے توہمارے بڑے نسل نو کو ملکی تاریخ کے اس دبنگ منتظم کاواقعہ سناتے ہیں ۔
اسمبلی میں بیٹھا ہوایہ طبقہ چونکہ ہمیشہ حکمرانی کے سنگھاسن پر متمکن ہوتا ہے اور بااثر ہے اوروطن عزیز میں بااثر افراد پر قانون کااطلاق ماضی سے لیکر آج تک کبھی نہیں ہوا۔اس لیے عام صارف کو ریلیف ملناناممکن نظرآتاہے ۔2006ء میں جب چینی کابحران پیداہوا تھا تو10مئی 2006کو قومی اسمبلی میں اس وقت کے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین ملک اللہ یار خان نے جرأت کامظاہرہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ’’ بااثرافراد کی بیس ملیں چینی کے بحران کی ذمہ دار ہیں جن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔انہوں نے 20شوگر ملوں کے نام لئے ۔جنہوں نے کل پیداوار سے چالیس سے چھیاسی فیصد چینی ذخیرہ کی ۔انہوں نے ذخٰرہ شدہ مقدار بھی قومی اسمبلی میں بتائی ۔انہوں نے کہا کہ کئی شوگرملوں کے پاس چینی کی پیداوار کاریکارڈ تک نہیں ۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں ملک اللہ یار نے یہ بھی بتایاکہ جن شوگرملز نے چینی ذخیرہ کررکھی ہے ان میں سابق وفاقی وزیرتجارت ،سابق وفاقی وزیرصنعت ،مسلم لیگ کے اہم رہنما ، قومی اسمبلی میںسابق چیف وہپ سمیت کئی ایم این ایز شامل تھے۔ ان کی فہرست پر اچھا خاصا شور مچا تھا۔لوگ چاہیں تو ان دنوں کے اخبارات میں ان سابق وزراء کے نام پڑھ سکتے ہیں۔ان میں سے کئی رہنما تو اب بھی مختلف سیاسی جماعتوں میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔کچھ وزیر اور دیگر رہنما بھی ان میں شامل ہیں۔ جبکہ کئی رہنما اپوزیشن میں اہم کردار ادار کر رہے ہیں۔
جب تک ناجائز منافع خوری سے شوگر کی صنعت سے وابستہ منافع خوروں کی تجوریاں نہیں بھرتیں ،اس وقت تک چینی کے بحران کا سامنا 22کروڑ عوام کو رہے گا۔ انہوں نے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے چینی اپنی شوگر ملز میں نہیں بلکہ خفیہ گوداموں میں سٹاک کر رکھی ہے ۔جنوبی پنجاب کی ایک شوگر ملز نے اپنی پیداوار 68فیصد ،ایک اور نے 85.8فیصد پیداوار ذخیرہ کی ۔ان کی فہرست میں اس وقت کے کئی وزرا کے نام بھی شامل تھے۔ اس دور کے سابق وزراء کی ملوں نے بھی 83فیصد تک چینی ذخیرہ کی تھی۔شوگر ایکٹ کے تحت یہ ناقابل ضمانت جرم ہے ۔شوگر ایکٹ کے تحت کوئی بھی مل اپنی پیداوار کا 25فیصد سے زائد ذخیرہ نہیں رکھ سکتی۔
جنوبی پنجاب جہاں دیگر خصوصیات کا حامل خطہ ہے وہاں کثیر زرعی پیداوار کے حوالے سے اسے اہم مقام حاصل ہے ۔یہ خطہ اس وقت ملک کی 80فیصد کپاس ، 70 فیصد گندم اور 60 فیصد گنا پیدا کرتا ہے مگر فصلات کی بار آوری کے بعد مقامی کسانوں کا استحصال کئی طبقات کے ساتھ جڑا ہوا ہے مڈل مین ، آڑھتی اور شوگر ملز مالکان گنے کی فصل کے حوالے سے ان کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔گنے کے سیزن میں انڈنٹ کی فراہمی اور بعد میں رقوم کی ادائیگیوں کے سلسلہ میں جس طرح ذلیل و خوار کیا جاتا ہے اس کی تفصیل بہت لمبی ہے مگر ادائیگیاں تاخیر سے ہونے کی بنا پر گنے کے سیزن کے دنوں میں کسانوں کے آئے روز کے احتجاجی مظاہرے اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
بدقسمتی سے 1985میں سیاست کے اندر کرپشن کی داغ بیل پڑی توسرکاری سطح پر یہ تاثر دیاگیا کہ ریاست کاکام فیکٹریاں اورادارے چلانا نہیں بلکہ نجی ہاتھوں میں فروخت کے بعد یہ ادارے پیداوار میں اضافہ کاسبب بنتے ہیں ۔ضلع لیہ میں 1998ء میں ایک منافع بخش حکومتی ادارہ غیرملکی امداد سے 1954-55 میں قائم کیا جس نے اپنے قیام کے روزِ اول سے ہی نہ صرف علاقہ کی بیروزگاری ختم کرنے میں اہم کرداراداکیا بلکہ حکومت پنجاب کو پراپرٹی ، شوگر،ایکسائز ،ایجوکیشن اورسیس گرانٹ کی شکل میں ایک ارب سے زائد ٹیکس اورخالص منافع کی شکل میں ڈیڑھ ارب روپے کاسرمایہ فراہم کیا۔ملز ورکروں کو تنخواہوں دیگرسہولیات کے علاوہ منافع کی شکل میں دیئے گئے بونس کے طور پر کروڑوں روپے اداکیے گئے ۔سرکاری سرپرستی میں چلنے والی پتوکی اورکمالیہ شوگرملوں کی بدولت جس کی ریکوری بہتر رہی اور کرشنگ صلاحیت تین ہزار میٹرک ٹن روزانہ تھی اس کی کل اراضی 898ایکڑ ہے جس کی رہائشی کالونی کی مالیت تین ارب روپے کے قریب ہے کو 67کروڑ روپے میں اپنے قریبی عزیز کو فروخت کردی اوریوں ایک نفع بخش صنعتی یونٹ سے تھل کے عوام کو محروم کردیاگیا۔جب ملکی ادارے بکتے ہیں توملکی معیشت تباہ ہوکر رہ جاتی ہے وطن عزیز میں بھی یہی ہوا ۔ 2010کے سیلاب میں جہاں نشیبی علاقہ جو گنا کی پیداوار کیلئے ایک قابل فخر خطہ ہے میں نہ صرف یہاں کے باسی معاشی طور پر تباہ ہوئے بلکہ آمدو رفت کے تمام ذرائع جو آمدو رفت کیلئے مختص تھے تباہ و بر باد ہو گئے اور ان تباہ ہونے والی شاہرات کی نہ تو تعمیر مکمل ہو سکی نہ ہی وہ پیسہ جو نشیبی علاقہ کے عوام اپنی گنا کی فصل سے ادا کرتے ہیں اُس کو نشیبی علاقہ کی عوام کی بہتری، روڈز کی تعمیر،آمدورفت کے ذرائع پر خرچ کیا جاسکا آج بھی یہ کثیر رقم اُن علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جارہی ہے جن علاقوں کے عوام کا اس رقم سے کوئی تعلق نہیں ۔ایک شوگر ملز میں سیزن میں تقریباًپونے تین کروڑ من گنا کرش کیا جاتا ہے ۔فی من کسان سے ۔50/پیسے جب کہ رولز کے مطابق ۔50/پیسے متعلقہ شوگرملز سے شوگر سس فنڈ کی مد میں کٹوتی کی جاتی ہے ۔اس طرح ہر سال تقریباًاڑھائی تین کروڑ اکٹھے ہوتے ہیں اس طرح تقریباًگزشتہ 9 سالوں میں ساڑھے چھبیس کروڑ سے زیادہ کی رقم اکٹھی ہوئی نشیبی علاقہ جات جہاں گنے کی پیداوار سب سے زیادہ ہوتی ہے کسی ایک بھی رابطہ سڑک کی تعمیر شوگر سیس فنڈ سے نہ کی جاسکی ہے۔ علاقہ کے کاشتکاروں کو اس پر تحفظات ہیں کہ اس فنڈ کا آڈٹ کرایا جائے وہ ان خدشات میں گھرے ہوئے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اور شوگر ملز مالکان کی ملی بھگت سے شوگر سیس فنڈز میں خورد برد ہوتی ہے -ملکی ادارے بکے توبحرانوں نے ہماراگھردیکھ لیا۔ہربحران نے لوگوں کی قوت خرید چھین لی اور غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے وطن کے باسی آئے روزاپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے چھیننے لگے کسی چن زیب نے خادم اعلیٰ ہائوس کے سامنے خود سوزی کی توکوئی پھانسی کے پھندے سے جھول گیا ۔خوشحال پاکستان کے نعرے بازوں نے بدحالی اُس کامقدرکردی اور اُن کے اثاثوں کاگراف اپ ہوتاگیا ۔ پید اوار نجی ہاتھوں میں جانے سے بڑے صنعتی سنڈیکیٹس کارٹیلوں اور کنسورشیم کے بنکوں کے ساتھ گٹھ جوڑ نے سرمایہ کی حکمرانی کو جنم دیا یہ حکمرانی جنگل کاقانون بنی جہاں ریاست بے وقعت ہوگئی ۔آج عوامی نمائندوں کے سرمایے کی کوئی حدنہیں اوراس سرمایہ کاارتکاز چندہاتھوں میں تسلسل کے ساتھ ہورہاہے ۔ماہ صیام جوکہ مسلمان کامقدس ماہ ہے اس میں 2009ء میں لاہور ہائیکورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس خواجہ محمدشریف اورجسٹس اعجاز چوہدری پرمشتمل دورکنی بینچ نے چینی کے بحران پر پنجاب میں چینی کی چالیس روپے فی کلو کے حساب سے قیمت مقرر کی ۔اور پنجاب حکومت کو حکم دیا کہ وہ صوبہ بھرمیں چینی 40روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کو یقینی بنائے ۔مگر اُس وقت بشمول پنجاب کے حکمرانوں نے اُس پرعملدرآمد نہ کرایا اسی طرح یوٹیلیٹی سٹور پر آنے والی چینی سٹور زمافیا عوام کی دسترس سے پہلے غائب کرتارہا ۔اس وقت کے وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہاتھاکہ حکومت اوراپوزیشن میں بیٹھے چینی مافیا کے اثرورسوخ کے باعث ملک میں چینی کی مصنوعی قلت پیداکرنے والے عناصر پر ہاتھ ڈالناممکن نہیں ۔ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے بے تحاشا چینی موجود ہے تب ایک مقدس ماہ میں شوگر مافیا نے چینی کابحران پیداکرکے 25ارب روپے سے زائد منافع کمایا ۔
اب ایک بار پھر شوگر مافیا متحرک ہوچکا ہے جس نے کرشنگ سیزن 15روز کی تاخیر سے شروع کیا اور پھر کچھ عرصہ بعد گنے کے کاشتکاروں کو بلیک میل کرنے کیلئے شوگر ملیں بند کردیں جس کی وجہ سے بروقت گنا کی فصل نہ کاٹی جاسکی اور گنا کی فصل نہ کٹنے کی وجہ سے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ پر گندم کی کاشت ممکن نہیں ہوسکی خصوصاََ ًچھوٹے کاشتکاروں کو اس استحصال کا سامنا کرنا پڑا گزشتہ دو سالوں میں گنے کا کاشتکار کا نقصان یوں بھی ہوا کہ کرشنگ سیزن میں گنے کے وزن میں ناجائز کٹوتیاں دیکھنے میں آئیں زرعی مداخل میں قیمتوں کے اضافے کے ساتھ سبسڈی کے بغیر مہنگی بجلی سے گنے کی کاشت 40فیصد سے کم رہی 13ماہ میں تیار ہونے والی اس فصل کی فی ایکڑ پیداوار 1000من سے کم ہو کر 650من فی ایکڑ رہ گئی ۔
گنے کی قیمت کی ادائیگیوں میں شوگر ملز مالکان پابند ہیں کہ وہ پندرہ روز کے اندر ادائیگیوں کو یقینی بنائیں اور تاخیر کی صورت میں سرچارج ادا کریں مگر یہاں سرچارج چھوڑیں اصل رقم کے حصول کیلئے سال ہا سال زمیندار وں کو دھکے کھانا پڑتے ہیں ایک اور اہم مسئلہ جس کے تدارک اور سدباب کیلئے سوچا تک نہیں گیا ماحولیاتی آلودگی کا ہے شوگر ملز مالکان اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ارد گرد کے ماحول اور آبادی کو پالوشن سے بچانے کیلئے ملوں میں فلٹریشن پلانٹ لگائیں مگر جنوبی پنجاب کی شوگر ملیں اس سہولت سے محروم ہیں ان شوگر ملز کی ارد گرد کی اراضی اور آبادی کی حالت زار یہ ہے کہ گنے کے سیزن کے دوران ملحقہ آبادی کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے متعلقہ ملز انتظامیہ تمام کیمیکلز کو بغیر فلٹریشن کے کھڈ میں چھوڑ دیتی ہے جس کے باعث آبادی کے ساتھ ساتھ پانی بھی زہریلا ہو جاتا ہے 
جنوبی پنجاب میں نشیبی علاقہ جو سب سے زیادہ گنا پیدا کرنے والا خطہ ہے کے کسان اور مزدوروں کی جنگ لڑنے والے رہنما ڈاکٹر جاوید اقبال کنجال کا موقف ہے کہ ’’محض چینی کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کرنے اور گنا کے کاشتکاروں کو بلیک میل کرنے کیلئے گنا نہ ملنے کا جواز بنا کر عین سیزن کے موقع پر سنٹرل اور جنوبی پنجاب کی 30شوگر ملز نے کرشنگ بند کردی اور صرف 8ملوں میں کرشنگ ہوئی مسائل کے شکار گنے کے کاشتکاروں پر یہ بم گرانے کے مترادف تھا شوگر ملز مالکان دو طرح سے گنے کے کاشتکاروں کو لوٹتے ہیں پہلا اپنے صنعتی یونٹس کی بندش کے ذریعے اسے بلیک میل کرکے اس کی فصل اونے پونے داموں خریدی جاتی ہے دوسرا گنے کی رقوم کی ادائیگی روک کر اسے کئی سال ذلیل و خوار کیا جاتا ہے اب چینی کی قیمت میں دگنا اضافہ کرکے ہر ماہ دو ارب روپے ناجائز منافع کمایا جارہا ہے‘‘
 ن لیگ کی رہنما عظمیٰ بخاری کے بقول ’’151ارب روپے کا منافع اب تک کمایا جاچکا ہے‘‘ شوگر ملز مافیا کا موقف یہ ہے کہ گنے کی زائد قیمت میں وصولی ،5فیصد سیلز ٹیکس اور ایکسل لوڈ کے مسائل سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا جو سراسر جھوٹ پر مبنی جواز ہے۔
 2018 کے الیکشن جسے موجودہ حکمران عوامی انقلاب کانام دیتے ہیں ۔اس انقلاب نے جب موجودہ حکمرانوں کی جیت کی راہ ہموار کی توعوام کے مدنظر غربت ،مہنگائی ،بدامنی ،استحصال ،بدنظمی اور بے روزگاری کے ہاتھوں انسانیت کی تذلیل نہیں بلکہ جمہوریت کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم تھی ۔ڈیڑھ سال کے قلیل عرصہ بعد یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ اس مہنگائی کے ہاتھوں پنجاب میں ایک ہزارسے زائد افراد نے خودکشی کی ۔سفید پوشوں کی بڑی تعداد گداگری پرمجبور ہوئی ۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ وہ لوگ کھڑے ہیں جن کے خلاف انقلاب آنا ہے ۔ ان مافیائوں کو یہ معلوم نہیں کہ ایسی خزاں کے قدم کون روکے گا جو جرائم کی شرح اورانتشار کو بڑھا دے ۔
 

 پاکستان میں چینی کی ضروریات 

دنیا میں چینی دو طرح سے تیار کی جاتی ہے ایک چقندر سے جبکہ دوسری گنے سے تیار کی جاتی ہے ۔ایک سو ممالک میں چینی گنے سے تیار کی جاتی ہے یعنی کا 78فیصد چینی گنے سے تیار کی جاتی ہے۔ پاکستان چینی پیدا کرنے والا دنیا کا دسواں بڑا ملک ہے چینی ہر پاکستانی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے جس کا استعمال یہاں50لاکھ ٹن سالانہ ہے جبکہ آج سے ایک عشرہ قبل 28 لاکھ ٹن سالانہ تھی۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں چینی کا فی کس استعمال دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

           کوویڈ ۔19کا عذاب بدستور دنیا کے سر پر منڈلا رہا ہے ، یہ وہ وبا ء ہے جس نے دنیا کی ترقی کا راز ایسے ا فشا کیا کہ ہر ملک اور ہر طاقت کو اپنی صلاحیت نظر آ گئی ،    

مزید پڑھیں

ایک قلاش کلرک تھرڈ کلاس ہوٹل میں بیٹھا اپنے دوستوں سے یہ کہہ رہا تھا یارو ! ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی ہمارے ملک کے اُمراء ،روساء ،نام نہاد سیاست دان ،بیوروکریٹس بنکوں سے کروڑوں روپے لیکر معاف کرا لیتے ہیں    

مزید پڑھیں

آپ کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں یا سمارٹ فون آپکی ہر ای میل، میسج، چیٹ، لوکیشن، حرکات و سکنات پوری کی پوری گوگل اور فیس بک کے پاس ذخیرہ ہو رہی ہیں حتیٰ کہ جو معلومات آپ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں ،    

مزید پڑھیں