☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سپیشل رپورٹ(صہیب مرغوب) رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) عالمی امور(نصیر احمد ورک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین( محمدشاہنوازخان) خواتین(نجف زہرا تقوی) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) دنیا کی رائے(شکیلہ ناز) دنیا کی رائے(تحریم نیازی) دنیا کی رائے(مریم صدیقی)
دہلی میں قتل و غارت گری اورٹرمپ جونیئر کا بزنس

دہلی میں قتل و غارت گری اورٹرمپ جونیئر کا بزنس

تحریر : صہیب مرغوب

03-08-2020

ٹرمپ جونیئر کے ایک شراکت دار نے 2011ء میں انسائیڈر ٹریڈنگ کے الزامات کے بعد کام بند کر دیا تھا
 

 

امریکی صدر کی موجودگی کے دوران ہی شمال مشرقی دہلی میں چاند باغ کو ایسا گرہن لگا جس کی مثال نہیں ملتی۔ترقی یافتہ ملک کہلانے والے بھارت میں ترقی یافتہ شہر دہلی کا خاصہ ہے کہ وہاں بجلی اکثر غائب رہتی ہے ،سیوریج سسٹم ہے نہیں۔مرد، خواتین اور بچے گندے پانی سے پیاس بجھاتے ہیں اور گندے پانی پر ہی چلتے ہیں۔بارش کے دنوں میں شمال مشرقی دہلی کا چاند باغ کسی بڑے سے جوہڑ کامنظر پیش کرتا ہے۔ ایسی وڈیوز عام ہیں جن میں آگ بجھانے والے کہہ رہے ہیں کہ ’’ہمیں فون اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ابھی وقت نہیں آیا۔ڈیلی میل کے مطابق ’’فائر بریگیڈ کو گھر اور دکانیں جلانے سے متعلق کم از کم 248 ٹیلی فون کالیں ملی تھیں، لیکن انہوں نے کہا۔۔۔ابھی فون اٹھانے کی ضرورت نہیں‘‘۔ سوموار سے جمعہ تک گھر جلانے کا سلسلہ تھما نہیں تھا۔
ایسی وڈیوز کی تعداد بھی کم نہیں ہے جن میں پولیس اہل کار بلوائیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا خون کر رہے ہیں ۔رعنا ایوب نے بھی ایسی وڈیوز ٹوئٹ کی ہیں۔کچھ پولیس اہلکار کیمرے بھی توڑ رہے ہیں۔دہلی میں ہندو حملہ آوروں نے 500کاریں،57دکانیں،92مکانات(سامان اور اہل خانہ کے سمیت،گھر والے میٹھی نیند سو رہے تھے)،2سکول،4 مساجد اور دینی مدارس،4فیکٹریاں6گودام راکھ کا ڈھیر بنا دیئے ۔جلنے والی بسوں کی تعداددرجنوں میں تھی۔نقصان کا کم سے کم تخمینہ 1000کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔250کروڑ کا نقصان تو صرف سٹرکچر کو پہنچا ہے، جسے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ 
دہلی کی چار سب ڈویژنوں میں آگ اور خون کا بدنما کھیل کھیلا گیا۔ 18سب ڈویژنل مجسٹریٹ نقصانات کا تخمینہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مجسٹریٹ اس مکان کی کیا قیمت لگائیں گے جسے پٹرول اور تیزاب چھڑک کر جلایا گیا اور 85برس کی بڑھیا کی چیخیں دیر تک گونجتی رہیں ۔ مسلمانوں نے نقصانات کا پتہ چلانے والوںسے کہا ، ’’ہم کون سی دستاویزات دکھائیں ؟ سب کچھ تو دکان اور مکان کے اندر ہی جلادیا گیا ہے،کون سا کاغذ دکھائیں ؟
46سالہ بھورے خان بھی ان میں شامل ہیں۔ ان کی گرائونڈ فلورپر پھلوں کی دکان اور پہلی منزل پر گھر تھا۔چاند باغ میں یہ دکان مشہور تھی۔پورے تول اور تازہ پھلوں کی وجہ سے۔ راہ چلتے لوگ بھی اچک لیا کرتے تھے۔ وہ مسکراتا اور کہتا ۔۔’’کوئی بات نہیں، جس کا جو نصیب ہوتا ہے وہ ا سے ملتا ہی ہے‘‘۔پھل اٹھا نے والوں میں سے کچھ لوگوں نے پوری دکان ہی ’’اچک لی‘‘۔ لوٹ مارکے بعد گھر جلا دیا۔حکومت نے اسے 5لاکھ روپے کی پیش کش کی ہے اس میں کیا بنے گا؟کچھ بھی نہیں۔ بھورے خان بولا ۔وہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر قریبی عزیز کے گر منتقل ہو گیا ہے۔ عزیز بھی خوف زدہ ہے، ’’ کہتا ہے تمہارے پیچھے ہندو کہیں یہاں نہ آ جائیں‘‘۔
ارشاد علی کی کوئی سننے والا نہیں۔آگ لگانے والے ہی پیسے دینے والے ہیں۔تخمینہ بھی وہی لگا رہے ہیں۔ارشاد علی کہتا ہے 5لاکھ توکیا 55لاکھ بھی کم ہیں‘‘۔
ارشاد علی مونگا نگر میں میٹل شاپ چلاتا تھا،سیاہ دکان کو دیکھ کر اسے خود بھی ڈر لگتا ہے۔ہندو حملہ آوروں نے پہلے دکان کولوٹا ،پھر پٹرول چھڑکر آگ لگائی۔پولیس نے اسے بھی وہی جواب دیا ہے جو بھورے خان کو دیا تھا۔۔’’ پہلے ہم آئیں گے ،دکان دیکھیں گے پھر ایف آئی آر کٹے گی‘‘۔اس خوفناک المیے کے بعد بھی پولیس کے پاس تباہ شدہ دکانیں دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔سروے مکمل نہیں ہوا۔ دراصل پولیس امیت شاہ کے کنٹرول میں ہے جبکہ روپیہ دہلی کی حکومت نے دینا ہے۔ تخمینے لگانے والے اور ایف آئی آر درج کرنے والے امیت شاہ کے غلام ہیں ۔جسٹس مرکنڈے نے اسی بارے میں لکھا تھا ،’’ امیت شاہ کو منع کرنے والا جگر کم ہی لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شائد نریندر مودی کے پاس بھی نہیں ہے۔امیت شاہ ہر کام میں برابر کے شریک ہیں۔عمر بھر کی کمائی۔یہ چہرہ ہے سب سے بڑی جمہوریت کا۔
وہ تین دن کتنے اذیت ناک تھے، گھروں میں تالا بند خواتین سانس روکے ہوئے تھیں ،تین دن کوئی گھر سے نکالا، نہ روٹی پانی کی فکر کی۔صرف جینے کی تمنا تھی ۔ بچوں سے کہہ رہی تھی لو سانس بھی آہستہ کوئی سن نہ لے۔اپنے بچوں کی جان پیاری تھی، اسی لئے سب سہمے ہوئے چپ تھے۔ مرنے سے ڈر لگتا تھا ،کہیں کہیں سے رونے کی آوازیں بھی بلند ہو رہی تھیں ، تیز تیز قدموں کی چاپ اور غصیلے نعرے بھی ماحول پر طاری تھے۔ چاند باغ میں ہر جانب شور تھا۔۔ تیرا نام کیا ہے؟ کہاں کا رہنے والاہے؟ نبی پاک ﷺکون ہیں؟، ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ پٹرول کے جلنے اور آگے کے شعلے میں سب کچھ خاکستر ہورہا تھا ۔اس شہر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارت میں زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
 چوتھے دن جب خواتین نے گھروں سے باہر قدم نکالے، ہر طرف آگ کے شعلوں میں گھری ہوئی اشیا ء پڑی تھیں ،کچھ بھی تونہیں بچا تھا۔چوتھے دن خواتین کو آتا دیکھ کراچانک آوازیں سنائی دیں۔۔۔’’گھر   واپس جائو،پولیس تمہیں بھی مارے گی ۔ آتشزدگی کا الزام بھی تم پر دھر دیا جائے گا۔یہاں کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ ضمانت کرانے والے بھی پکڑے جائیں گے۔ اس قسم کی آوازیں سن کو خواتین چوتھے دن بھی گھروں میں دبک گئیں ۔گلیوں میں ایک بار پھر سناٹا تھا۔لیکن مسلح جتھے اپنے اپنے شہر واپس جا چکے تھے۔
گھر سے باہر قدم نکالنے والی ان خواتین میں19سالہ زیبا سیفی بھی شامل تھی۔وہ چلائی۔۔۔’’ہم گھر واپس نہیں جائیں گے ۔ہم دیکھیں گے ہم پر ان تین دنوں میں کیا بیت گئی ہے۔آئو سب میرے ساتھ‘‘۔ 19سالہ لڑکی زیبا کی جرات نے سب کو حیران کر دیا۔اسی لمحے سب کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔ایک طرف  ہندو غنڈوں کی دہشت اور دوسری طرف پولیس کی دہشت ۔ درمیان میں کھڑی لڑکی اکیلی۔ یہ خواتین کدھر جائیں، کس کی سنیں؟، بچی کی سنتی ہیں تو یہ آخری رات بھی ہو سکتی ہے، پولیس کی جانب دیکھتی ہیں تو جیل بھی مقدر بن سکتی ہے ۔زیبا کہنے لگی ۔۔۔’’ہندومیڈیا الگ ہی کہانی سنا رہا ہے، ہمیں اپنی کہانی خود ہی بیان کرنا ہو گی‘‘۔ یہ کہہ کر وہ نکل پڑی۔ اس نے کسی کی ایک نہ سنی۔اس کی خوف زدہ ماں نے پلو سے کھینچا،زیبا جوان تھی، ماں کی ہڈیوںمیں دم خم ہی کہاں تھا ، وہ پلو چھڑا کر آگے نکل گئی۔، ماں نے جرات کی ،بچی کا دل نہیں توڑا ۔وہ بھی باہر آ ہی گئی۔ یہ وہ دن تھا جب بھارت کہتا ہے کہ سڑکوں پر رش ہے، اس قسم کا رش تھا!
’’ہم ایک بار پھر دھرنا دیں گے، ہم احتجاج کریں گے،یہ ہندو میڈیا ہمیں ہی دہشت گرد بتا رہا ہے‘‘۔وہ چلائی۔پھر اس نے اپنا سفر شروع کیا۔سامنے بڑی سڑک تھی۔چاند باغ کا مین بازار اسی کے نکڑ سے شروع ہوتا تھا، یہ پررونق بازار کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ چاند نامی پیر کی بڑی عبادت گاہ بھی یہیں واقع تھی۔یہ پیر چاند باغ نے ہی آباد کیا تھا۔اسے رونق بخشی تھی۔ چاند باغ کی درگاہ پر ہندی زبان میں لکھا تھا۔۔۔مسلمان اور ہندو کی شان،ترنگا بھارت کی پہچان ان کے نام پر ہی یہ چاند باغ کہلایا۔ اب وہاں چاند نہ باغ ۔ نہ مزار یا بازار۔ راکھ تھی ہر طرف ارٹی ہوئی ۔ریڈیکل ہندوئوں نے کس بے دردی سے مزار کو شعلوں کی نذ ر کر دیا تھا۔حالانکہ ان کی قبر بھی اندر ہی واقع تھی۔اس پوری سڑک پر ایک دکان، شو روم اور گھر سلامت نہیں بچا تھا ۔اسی سڑک پر پٹرول پمپ کی باقیات دکھائی دیں ۔یہ علاقے اکلوتا پٹرول پمپ تھا۔یہاں بھی کھنڈرات باقی تھے۔ یہاں  ہندوئوں کے تمام گھر سلامت تھے۔ مسلمانوں نے ریڈیکل ہندوئوں کی نفرت کا جواب اپنی روایتی محبت سے دیا۔ان کے ہرگھر میں بتیاں روشن تھیں۔پہلے کی طرح۔ایک بال بھی بیکا نہیں کیا تھا۔ابھی وہ کچھ دور ہی گئے تھے پولیس والے چیخے ۔۔ صحافی اندر نہیں جا سکتے، انہیں  جلے ہوئے مکانات دیکھنے کی اجازت نہیں‘‘۔ کئی سپاہی آڑے آگئے۔ اگر یہی سپاہی تین رو زقبل ہندو ریڈیکلز کا راستہ روک لیتے تو یہ سب کچھ کیسے ہوتا۔ بھارت کے چہرے پر یہ بدنما داغ نہ لگتا جسے دھونے میں ایک مدت گزر جائے گی۔ 
’’ پولیس ایک عورت کو دوسری عورت سے باتیں کرنے سے کیسے روک سکتی ہے؟‘‘،یہ سن کروردی والے پیچھے ہٹ گئے۔بی بلاک میں داخلے کے لئے لوہے کے گیٹ سے گزرنا پڑتاہے، گیٹ صحیح سلامت تھا۔
کپل مشرا پہلے عام آدمی پارٹی میں ہوا کرتا تھا۔ وزیر بھی بن بیٹھا تھا ،اپنی حرکتوں سے نکالا گیا تھا۔اسی کا نام لوہے کے گیٹ پر لکھا تھا۔دروازے کے پیچھے ہی ایک 60سالہ عورت زیتون نے بلند آواز میں چلانا شروع کر دیا ،وہ اپنی بپتا سنانا چاہتی تھی۔ آواز میں درد بھی تھا اور غصہ بھی۔ بے بسی تو چہرے سے ہی عیاں تھی۔۔’’آج میڈیا طاہر حسین کا نام لے رہا ہے، مسلمانوں پر الزام دھر رہا ہے،کپل مشرا کا کوئی نام کیوں نہیں لیتا ؟ جس کی اشتعال انگیز تقریر پر یہ پرامن علاقہ جل کر راکھ کر دیا ۔زیبا چلائی ۔شکنتی دیوی بولی۔۔۔’’ہم 40برسوں سے اکھٹے ہیں ۔غمی خوشی بھی سانجھی ہے‘‘۔
گیٹ کے اندر جا کر ہندوئوں کی عبادت گاہ دیکھی ۔ایک ایک اینٹ صحیح سلامت تھی ۔ پہلے کی طرح چمک رہی تھی۔ ’’ہم نے اس کی ایک اینٹ کی حفاظت کی تھی ‘‘عورتیں بولیں۔
 ایک ہندو چلایا ۔۔اس کے کان مت بھرو، یہ درگاہ خود مولوی نے جلائی ،ہم پر الزام لگانے کے لئے‘‘۔یہ کسی نے نہیں بتایا کہ درگاہ میں کئی افراد شہید ہوئے، کئی اب تک لاپتہ ہیں۔ اس کے مولوی بھی شہید ہوئے اور نائب مولوی بھی۔شہید لوگوں نے آگ کیسے لگائی؟ یہ کوئی نہیں بتا سکتا۔این ڈی ٹی وی کے مطابق واٹس ایپ گروپ قتل عام میں ملوث تھا۔ 60کے قریب نوجوان رابطے میں تھے۔ کہاں جانا ہے، کیا کرنا ہے ،کس کو مارنا ہے، کون پولیس بلا رہا ہے،مسلمانوں گھر اور بزنس کہاں کہاں ہیں، یہ سب اطلاعات انہیں واٹس ایپ پر مل رہی تھیں۔اس واٹس ایپ گروپ نے 34افراد کوشہید کیا ۔ان میں سے 60گرفتارہیں۔ سزائیں ملنے کی کوئی امید نہیں ،مودی کے ہوتے ہوئے سزا کا کوئی تصور نہیں۔بھول جائیے اسے۔
اس کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ نے دورہ بھارت کے موقع پر نریندر مودی کو خراج تحسین پیش کرتے ہو ئے کہا۔۔’’ انہوں نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو غیر معمولی آزادی دے رکھی ہے‘‘ ۔لیکن ان کا بیان ہمارے اعداد و شما رسے میچ نہیں کرتا۔منیش سوارپ 28فروری 2018کو لکھتے ہیں کہ ’’امریکی صدر کا دورہ بھارت سکرپٹ کے عین مطابق رہا، ذرا برابر فرق نہ تھا۔یہ دورہ ان کی موجودگی کے دوران ہی دہلی میں پیش آنے والے واقعات کے پس منظر میں چلا گیا۔امریکی صدر کے دہلی میں اترتے ہی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کپل مشرامودی کے الٹی میٹم پر فسادات پھوٹ پڑے۔کپل مشرا نے اعلیٰ پولیس افسر کی سامنے شہریت بل کو واپس لینے کا مظاہرہ کرنے والوں کو ہٹانے کے لئے پولیس کو تین دن کی مہلت دی تھی۔مودی حکومت کا منظور کردہ شہریت بل موثر طور پر مسلمانوں کے خلاف ہے۔امتیازی سلوک کا حامل ہے۔ اسے اگر این آر سی سے ملا کر دیکھا جائے تو یہی بل سب سے بڑی اقلیت (مسلمانوں)سے شہریت چھینے کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ سماجی رہنما اورمبصرین بل کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ملک بھر میں کئی سو مظاہرے ہو چکے ہیں۔کئی جلسوں میں لاکھوں افراد شریک ہوئے‘‘۔
دہلی کے نواح میں شاہین باغ اس قسم کے مظاہروں کا مرکز بن چکاہے۔جہاں تین مہینوں سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔اس کے نزدیک ہی واقع جعفر آباد ہی وہ جگہ ہے جہاں کپل مشرا نے پولیس کو الٹی میٹم دیا تھا۔ ان کے الٹی میٹم کے فوراََ بعد شمال مشرقی دہلی میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔اسے فل سکیل مسلم کش تشدد کہا جا سکتا ہے۔جس میں 38(اب 50)جانیں ضائع ہوگئیں۔یوں یہ 1984کے بعد دہلی کا خوفناک ترین تشدد کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ریڈیکل ہندوئوں نے چن چن کر مسلمانوں کا نشانہ بنایا۔وہ صرف دہلی ہائی کورٹ تھی جس نے مسلمانوں کو بچانے ،تحفظ مہیا کرنے کے لئے مداخلت کی۔دہلی پولیس کے غیرفعال ثابت ہونے سے کئی سو افراد زخمی ہوئے۔صدر ٹرمپ کی موجودگی کے دورے دن 13افردا قتل ہوئے۔ تاہم اس کے باوجود جب امریکی صدر سے دہلی خاص طور پر اور بھارت بھر میں مجموعی طور پر مذہبی آزادیوں کے حوالے سے سوال کیاگیا تو انہوں نے حیران کن طور پر بھارتی وزیر اعظم کو سراہا۔انہوں نے کہا۔۔۔’’مذہبی آزادی پر مودی کا کردار (incredible) ہے۔مودی چاہتے ہیں کہ بھارت میں عام لوگ مذہبی آزادیوں سے محظوظ ہوں۔ وہ پختہ عزم کے حامل ہیں‘‘۔ دہلی میں مسلم کش فسادات پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ۔۔۔اس کا دار و مداربھارت پر ہے‘‘۔یعنی یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے وہ کچھ نہیں بولیں گے۔ انہوں نے دہلی میں فسادات پررائے زنی سے گریز کیا۔انہوں نے اتنا کہا کہ ’’میں نے اس بارے میں کچھ سنا ہے لیکن مودی سے بات نہیں ہوسکی‘‘۔
گزشتہ چند برسوں میں بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے قتل عام اور دہشت گردی میں ملوث گرفتارہندوریڈکلز کو بری کر دیا ۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں 67مسلمانوں کو زندہ جلانے والے سوامی اسیم آنند سمیت تمام گرفتار افراد کو بری کر دیاگیا۔پہلوخان کو مارنے والے بھی قانون کی نظروں میں بے گناہ نکلے ۔درگاہ اجمیر شریف پر دھماکہ کرنے والوں کو بھی کئے کی سزا نہ مل سکی ۔ ان کیسز کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ کٹہرے میں پورا ہندوستان کھڑا ہے۔ان کیسوں میں مجرموں کی رہائی کا مقصد ہندوئوں کو یہ بتانا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو،تمہار کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔نظام انصاف مسلمانوں کے لئے نہیں ہے۔ انگریزی اخبار انڈی پنڈنٹ نے بھی طویل مضمون میں ہٹلر اور مودی کا موازنہ کرتے ہوئے یہی بتایا ہے کہ ’’بھارت جرمنی کی تاریخ کا ایک رخ ہے‘‘۔اخبار نے گوئبل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اتنا جھوٹ بولو کہ سچ نظر آئے ‘‘۔بھارت میں اتنا جھوٹ بولا جا رہاہے کہ سچ نظر آئے گا۔اخبار نے کسی لگی لپٹی کے بغیر لکھا ہے کہ ’’23فروری کے بعد مسلح ہندو گروہ گلیوں میں گھوم پھر رہے تھے ،وہ مسلمانوں کو پیٹ رہے تھے،ان کی جائیدادوں اور گھروں کو لوٹ کر جلا رہے تھے ۔نازیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ 82سال پرانی ہٹلر کی تاریخ دہرائی۔ بھارتیہ جنتاپارٹی مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کے پیچھے ہے‘‘۔
 سب سے بڑی جمہوریت کا سب سے بڑا د ن تھا کیونکہ بڑی سرکار امریکہ کے بڑے صاحب دہلی میں ہی تھے۔یہ سب ان کی نظروں کے سامنے ہو رہا تھا، انہیں پل پل کی خبر مل رہی تھی۔ امریکی صدر کااپنا بھی نظام تھا جس نے انہیں دنیا کی سب سے گندی جمہوریت میں ہونے والی مسلمانوں کی نسل کشی کی ہرخبر دے دی تھی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت روانگی سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ مودی سے بات کریں گے ، یہ رائے کمزور تھی مگر تھی ضرور۔لیکن یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ مودی کے اقدامات کو یوں سراہیں گے۔یہ بات وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ بھارتی وزیر اعظم کے ریکارڈ میں مذہبی ہم آہنگی کی ہلکی سی جھلک بھی دکھائی نہیں دیتی ۔بلا شبہ وہ امریکہ ہی تھا جس نے نریندرمودی سے اس وقت ویزا کی سہولت واپس لے لی تھی جب وہ وزیر اعلیٰ گجرات تھے۔ان کی ریاست میں بد ترین مسلم کش فسادات کے بعدامریکہ نے نریندر مودی کا سفارتی A-2ویزا منسوخ کر کے B-1/B-2ویزا کی سہولت بھی واپس لے لی تھی۔مودی دنیا کی واحد شخصیت ہیں جن کا ویزا امریکہ نے مذہبی آزادیاں سلب کرنے سے متعلق ایکٹ(International Religious Freedom Act (IRFA)) کے تحت منسوخ کیا تھا۔کیونکہ مذہبی آزادی سے متعلق مودی کا ریکارڈ کبھی بھی قابل فخر نہیں رہا‘‘۔
’’رائٹ ونگ کے ریڈیکل ہندو ئوں کی جانب سے قتل یا لنچنگ پر ان کی خاموشی گواہ ہے۔ہندو انتہا پسندی کا بدترین نشانہ مسلمان ہیں،گائو رکھشہ گروپ اور نفرت انگیز تقریروں کا نشانہ زیادہ وہی بنتے ہیں۔ لیکن مسیحیوں کے ساتھ بھی کچھ کم برا نہیں ہو رہا۔آئینی حقوق سے محرومی اور سزائیں روزمرہ کا معمول ہیں۔آر ایس ایس اور اس کی فیملی تنظیمیں (جیسا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی) باہم مل کر حملوں کی منظم  کوششیں کر رہے ہیں۔یہ مسیحیوں پر بھی جسمانی اور ذہنی حملے کر رہے ہیں۔آر ایس ایس کے ہندوآتہ کے نظریے کا پرچار بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ گرجا گھروں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالی،پاسٹروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ،غنڈہ گردی میں ملوث ہوئے،گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور مسیحیوں کو ہندو بننے پر بزور طاقت مجبور کیا۔پولیس کی جانب سے کوئی تساہل ہی نہیں برتا گیا بلکہ کئی کیسز پولیس مل کی ملی بھگت سے کئے گئے۔قانون پر عمل نہ ہونے سے ظالم کو بے خوفی کے ساتھ ظلم کرنے کا راستہ مل گیا۔ بھارت میں مسیحی باشندے عد م تحفظ کا شکار ہیں۔یونین منسٹر خود بھی گاہے بگاہے نفرت انگیز تقریروں میں ملوث پائے گئے ہیں‘‘۔
ان اقدامات سے ریڈکل ہندو تقویت پکڑرہے ہیں۔اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں حوصلہ افزائی کے سوا کچھ نہیں ہو رہا۔بھارت میں ’’مذہبی آزادیوں کے کمیشن (EFI)نے 1998سے مسیحیوں پر تشدد کا مواد اکھٹا کیا ہے۔ مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد اسے 2014سے ان میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا۔کمیشن کے پاس 2014 سے ظلم و جبر کے 147ناقابل تردید شواہد محفوظ ہیں۔2016 میں 252، 2017ء میں 351اور 2018 میں تشدد کے 325کیسز سامنے آئے۔ای ایف آئی کمیشن 2019 ء کی تحقیقاتی رپورٹ جلد ہی جاری کر ے گی۔ 29میں سے صرف 8 ریاستوں نے مذہب کی تبدیلی کی روک تھام کے قوانین نافذ کر رکھے ہیں‘‘۔مسیحی برادری کا کمیشن اب سب اقدامات کی شدت سے مذمت کرتا ہے۔مسیحیوں، مسلمانوں اور دلیتوں کی شکایت پر ایکشن نہ لینا مذہبی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ہندو دلیتوں کے لئے کوٹہ مخصوص ہے لیکن یہی سہولت مسلمانوں اور عیسائی دلیتوں کو میسر نہیں۔1950کے آئین میں یہ تفریق ہندو ذہنیت کی عکاس ہے۔
 امریکی امور خارجہ کمیٹی کی چیئرپرسن ایلیئٹ  اینگل(Eliot Engel) نے شہادتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ’’احتجاج کے بغیر تو جمہوریت ہی مکمل نہیں ہوتی ۔یہ انسان کابنیادی حق ہے، جمہوریت کی جان ہے،لیکن لازم ہے کہ مظاہرین پرامن ہوںاور پولیس بھی برداشت کامظاہرہ کرے‘‘۔انہوں نے مان لیا کہ حملے ہندوئوں نے مسلمانوں پر کئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی مان لیا کہ مظاہرین پرامن تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں بھارت میں مسلمانوں پر حملوں کی مذمت کرتا ہوں۔ میں تعصب ،تشدد اور مذہبی عدم برداشت کومسترد کرتا ہوں۔ اور امریکی دفتر خارجہ کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے‘‘۔ ری پبلیکن قانون ساز(Don Beyer) نے ٹوئٹ کیا۔
امریکی ایوان نمائندگان کی رکن پرمیلاجے پال (Pramila Jayapal) کا ٹویٹ حالات کی عکاسی کرتا ہے۔لکھتی ہیں ’’بھارت میں مذہبی عدم برداشت میں تباہ کن اضافہ دہشت ناک ہے‘‘۔انہوں نے لکھا ۔۔۔’’جمہوریتوں کو اس قسم کی تقسیم کی اجازت نہیں دینا چاہیے،برداشت ہی نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی ایسے قوانین بنانا چاہیں،جن سے مذہبی آزادیوں پر زد پڑتی ہو‘‘۔آخر میں انہوں نے بھارت کو بتا دیا کہ ’’دنیا دیکھ رہی ہے‘‘۔یہ امریکی صدر کا پہلا دورہ تھا لیکن امریکی صدر کے خاندانی کاروباری مفادات بھارت سے جڑے ہوئے ہیں۔امغرب میں اپنے بزنس کی ناکامی کے بعد ٹرمپ فیملی نے بھارت کا رخ کر لیا تھا۔ حالیہ دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہو سکتا ہے۔ ناقدین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب امریکہ اور بھارت نے کسی تجارتی معاہدے پر دستخط نہیں کئے، کوئی بڑی سیاسی یا سفارتی پیش رفت بھی نہیں ہوئی تو اس دورے کامقصد کیا تھا؟ اس سے امریکہ یا بھارت کو کیا فائدہ پہنچا ؟ آخر یہ دورہ کیوں ضروری تھا؟۔ 
کچھ نے دورے کا تعلق امریکہ میں والے انتخابات سے جوڑنے کی کوشش کی۔وہاں 40لاکھ ہندو ووٹر ر پبلیکن پارٹی کا اثاثہ بن سکتے ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے ایوان صدر میں داخلے کا راستہ آسان بنا سکتے ہیں  لیکن امریکہ کی مذہبی آزادیوں سے متعلق قوانین کو نظر انداز کر کے وہ اپنے ملک میں مسیحی ووٹ کھو سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے دو جملوں میں نریندر مودی کو جتنی کلین چٹ دے دی ہے وہ ان کا ہی شیوہ ہے، کوئی صدر ایسا کر ہی نہیں سکتا تھا، امریکہ کی مسیحی برادری کے مطابق کسی اور صدر سے اس کی امید کرنابھی مشکل تھا۔ مذہبی آزادیوں کے حوالے سے مودی کاماضی انتہائی گندا ہے۔ریاستی سرپرستی میں دوسرے مذہب کو ماننے والوں کے ڈرایا اور دھمکایا جا رہاہے،اورپولیس غیر فعال ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما مسلمانوں کو گھس بیٹھیا اوردیمک جیسے برے لفظوں سے مخاطب کرتے ہیں۔نریندر مودی اور ان کے سینئر رفقائے کار کی جانب سے مسلمانوں کی کھلے عام تضحیک ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما دلیپ گھوش(Dilip Ghosh) ایک جلسے میں سرعام کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک کروڑ بنگلہ دیشی مسلمانوں گھس بیٹھیوں کو سمندر میں پھینک دیں گے‘‘۔انہوں نے شہریت کے قانون کے مخالفین کو غدار قرارد یا۔
بھارت کے ساتھ امریکی صدرکے رشتے نئی بات نہیں۔ 2000میں اور 2005میں کافی نقصان ہوا۔ انہیں روس اور بھارت کا رخ کرنا پڑا۔ٹرمپ فیملی کے ٹاورز گرگائوں،ممبئی،پونے اور کلکتہ میں واقع ہیں۔ بھارت کے ساتھ امریکی صدر کا خاندان کاروباری رشتوں کی لڑی میں پرویا ہوا ہے،یہ رشتہ انمٹ ہے کیونکہ ٹرمپ کے اشتہارات پرکشش ہوتے ہیں، عوام کے لئے کئی ترغیبات سے بھرپور ۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ ٹرمپ فیملی کا رشتہ 1.50ارب ڈالر کا ہے جس سے مزید کئی ارب ڈالر مل سکتے ہیں۔بھارت میں ٹرمپ فیملی نے پانچ بڑے منصوبے شروع کئے جن میں سے چار لگژری اپارٹمنٹس کی سکیمیں ہیں۔غیر ملکی جریدے ’دی نیو ری پبلک ‘ کے مطابق ٹرمپ جونئیر نے دس برسوں میں بھارت کے 10 دورے کئے ہوں گے۔ٹرمپ فیملی نے اپنے بزنس کی دیکھ بھال کے لئے انڈین لائسنس یافتہ بزنس مینوں کو ساتھ ملا لیا تھا۔
غیر ملکی جریدے میں شائع ہونے والاکیتھرین ہگنس (Katherine Huggins) کا مضمون بھی قابل غور ہے۔ انہوں نے بھارت میں امریکی صدر کے فیملی کے بزنس اور ان کے بیٹے کے دوروں کی تفصیل بیان کی ہے۔ کئی دوسرے اخبارات اور جرائدسے یہ بھی معلوم ہوا کہ بھارت میں امریکی صدر کے شراکت دار ایف اے ٹی ایف کی نظروں میں آ سکتے ہیں کیونکہ ان پر منی لانڈرنگ جیسے سنگین الزامات پر بھارتی حکومت نے بھی کارروائی شروع کر دی ہے ۔امریکی صدر کا ایک آدھ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔ صدر اگلے الیکشن سے پہلے پہلے بھارتی میں اپنے چاروں منصوبے مکمل کرنا چاہتے ہیں شائد نریندر مودی کے ساتھ گلے ملنے کی ایک وجہ یہ بزنسز بھی ہوسکتے ہیں۔29فروری کو شائع ہونے والے مضمون کا عنوان ہے ’’TRump Real Estate Investment In India Are Truobled, New Study ۔
 جریدے کے مطابق ’’امریکی صدر ٹرمپ بھارت میں کئی بزنسز میں حصہ لے چکے ہیں،جریدے کی رپورٹر انجلی کامت(Anjali Kamat) نے کولکتہ میں واقع ٹرمپ ٹاور دیکھا ۔امریکی صدر کے بیٹے ٹرمپ جونئیر نے ان ٹاورز کو یوں بیان کیا تھا۔۔۔بھارت کی واحد رہائشی بلڈنگ جس میں فرش سے چھت تک شیشہ ہی شیشہ استعمال کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی تنظیم کے کاروباری ساتھی کا RDB گروپ ہوا کرتے تھے۔ لیکن 2011ء میں انسائیڈر ٹریڈنگ کے الزامات کے بعد انہوں نے کام بند کر دیا تھا۔انہیں سٹاک مارکیٹ میں چار سال کے لئے بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا۔انجلی کامت نے ٹرمپ کے گرگائوں (Gurgoan) میں واقع قیمتی ٹاورز دیکھا ۔اس ٹاور کو ٹرمپ’’شہر کا سب سے قیمتی پتہ‘‘ لکھا کرتے تھے۔ وہاں ٹرمپ ٹاور میں254الٹرا لگژری فلیٹس صرف 39ہزار ڈالر کی معمولی سرمایہ کاری سے مل سکتے تھے۔ باقی ادائیگی اقساط میں بھی کی جا سکتی تھی۔یہ ٹاور دہلی کے قرب میں ہی تو واقع ہونے کی وجہ سے انمول تھے۔ ٹرمپ جونیئر نے خریداروں کو اپنے ساتھ ڈنر پربھی بلا یا تھا۔ٹرمپ جونیئر کا ایک اور پراجیکٹ آفس ٹاور ہے۔اسے بھی ٹرمپ انتظامیہ بھارت کا انتہائی قیمتی اور پر کشش آفس ٹاور کہتے ہوئے نہیں تھکتی،یہاں 2018 میں بکریاں کھاس چرتی تھیں۔آخر الذکر منصوبے میں انڈین IREOگروپ شریک کار ہیں۔ان پراپنے کاروباری ساتھیوں کے ساتھ 15کروڑ ڈالر کا گھپلا کرنے کا الزام ہے۔ممبئی میں ٹرمپ ٹاور پر سب سے زیادہ تیزی سے کام ہوا تھا ۔وہاں کے افسران نے انجلی کوبتایا کہ اس ٹاور میں ٹرمپ کے سابق شراکت دار لوڈھا گروپ کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ان پر دولت کی سمگلنگ اور ٹیکس چوری جیسے سنگین الزامات ہیں، یہ حرکت بھی ایف اے ٹی ایف کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت نے اگر اس پر کارروائی نہ کی تو ’’گرے لسٹ ‘‘ہو سکتا ہے۔ہاں ان ایک ڈولپرز Developers M3m ہیں۔وہ بھارت میں ٹرمپ کا برانڈ نام بھی استعمال کر سکتے تھے۔ ٹرمپ جونیئر کی آمد سے ایک ماہ قبل ہی انہوں نیا 100فیلٹوں کا سودا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ٹرمپ جونیئر فروری 2018میں بھی بھارت گئے تھے۔وہاں اخبارات کی زینت بنے،دہلی کے تمام ہی بڑے مگر انگریزی اخبارات میں اشتہارات شائع ہوئے۔لکھا تھا۔۔۔
Trump HAS ARRIVED HAVE YOU? 
AND SAID TRUMP IS HERE ARE YOU INVITED?
وہ 18فروری 2018کوایک ہفتے کے لئے بھارت پہنچے تھے ،26فروری تک اخبارات میں اشتہارات اور خبروں کی زینت بنے۔بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے مطابق امریکی صدر کی فیملی بھارت میں دنیا کی سب سے بڑی اور اچھی سرمایہ کاری لے کر آئی۔انہوں نے ’’گلوبل بزنس سمٹ‘‘ میں بھی شرکت کی۔اشتہار میں معروف کرکٹر،“Fortune 500 Honcho” اور“Art Maestro”سے ملاقاتو ں کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔نیو یار ک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2016میں ٹرمپ فیملی کو اس بزنس سے 30لاکھ ڈالر کی رائلٹی ملی تھی۔ٹرمپ جونیئر کے بزنس پارٹنر لڈھا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر چار مرتبہ لوک سبھا کے ممبر بن چکے ہیں۔مودیز نے اس گروپ کی ریٹنگ نیچے کر دی تھی۔میکروٹیک نے اگلے ہی مہینے 324ملین ڈالر کے وورے ادا کرنا تھے۔
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 پہلی جنگ عظیم سے پہلے 1918ء میں امریکی ریاست کنساس میں ہسپانوی فلو (Spanish Flu) کی وبا ء پھوٹی جو کم ازکم 2سال بعد ختم ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اس وباء سے 500ملین انسان متاثر ہوئے یعنی اس وقت کی عالمی آبادی کاایک تہائی حصہ۔ کہاجاتا ہے کہ اس وبا ء سے 5ملین نفوس لقمۂ اجل بنے۔    

مزید پڑھیں

 پوری انسانیت کورونا وائرس جیسی ہولناک بیماری کا شکار ہے۔ چین سے شروع ہونے والی وباء نے کیا امریکہ اور کیا یورپ ، پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔سپر طاقتیں اور ترقی یافتہ ممالک سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔    

مزید پڑھیں

کیا موسمیاتی تبدیلی ممکن ہے یایہ نیو ورلڈ آرڈر کی نئی شکل ہے ؟ کلائیمنٹ چینج کی شکل میں کرئہ ارض ایک نئے سراب سے دوچار ہونے والا ہے ؟ کیا یہ صیہونی طاقتوں کے باربار بدلتے بیانئے کا تسلسل ہے؟    

مزید پڑھیں