☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(علامہ مفتی ابو عمیر سیف اﷲ سعیدی ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) جرم و سزا(سید عبداللہ) صحت(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() فیچر(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کھیل(پروفیسر عثمان سرور انصاری) خواتین(نجف زہرا تقوی)
’’جانیں لینا برہمنوں کی فطرت ہے‘‘ دہلی میں مسلمانوں کے خون کی ہولی برہمن کلچر کے عین مطابق ہے

’’جانیں لینا برہمنوں کی فطرت ہے‘‘ دہلی میں مسلمانوں کے خون کی ہولی برہمن کلچر کے عین مطابق ہے

تحریر : محمد ندیم بھٹی

03-15-2020

 فروری کے پہلے ہفتے میں ایک بھارتی پروفیسراپرناویدک (Aparna Vaidik) نے اپنی نئی کتاب

’’My Son’s Inheritance: A Secret History Of Lynching And Blood Justice In India‘‘ میں گائو ماتا گروپوں اور سڑکوں پر قتل عام کرنے والوں کا پول کھول دیا۔
 

 

برہمن ایسا کیوں کرتے ہیں، وہ کیوں مسلمانوں کو سرعام مارتے ہیں،قتل کرتے ہیں، ان کی درد بھری چیخوں کو سنتے ہیں،اس پر جشن مناتے ہیں، ان کا دل نہیں کانپتا ،وہ دوبارہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں ورنہ عام آدمی تو ایک خون کرنے کے بعد کئی راتوں تک سو نہیں سکتا، یہ برہمن  قتل کرنے کے بعد میٹھی نیند کے مزے کیسے لے لیتے ہیں؟۔ دہشت کوانٹر نیٹ پر بھی ڈالتے ہیں۔ہولی کے مناظر دیکھنے کے باوجودعدالتیں ہونٹ کیوں سی لیتی ہیں؟کیوں یہ لوگ دوبارہ مسلمانوں کو مارنے کے لئے قانون کے لمبے ہاتھوں سے بچ نکلتے ہیں ۔ رہائی کے بعدان قاتلوں کو سرعام ہار پہناکر تاج پوشی کی جاتی ہے جیسے کوئی کارنامہ سرانجام دے کر آئے ہوں۔ برہمن سماج میں یہ سب کچھ کیوں ہوتا ہے ؟۔اس میں کیا راز ہے؟ کہیں یہ سب کچھ ،یہ قتل وغارت گری خون میں تو شامل نہیں ؟
یاد رکھئے،کئی کتابوں کے مطابق برہمنوں نے رواں صدی میں 5 کروڑ خواتین اور بچیاں ہلاک کر دی ہیں ۔یہ اعداد و شمار ہالوکاسٹ سے بھی 10 گنا زیادہ ہیں۔’’برہمن ڈارک ایج‘‘ سے اب تک قتل ہونے والی بچیوں کی تعداد20کروڑ کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔
یہی لکھتے وقت ایک پروفیسر کے ہاتھ کانپ اٹھے تھے ۔وہ کہتی ہیں کہ ہندوستان میں ہجوم کی جانب سے قتل عام کے واقعات نئی بات نہیں ہیں ،یہ تو ان کے خون کا حصہ ہیں،ان کی وراثت ہے،وہ اسی قتل و غارت گری کی سرشت کے ساتھ دھرتی ماتاپر پیدا ہوتے ہیں ،پھر اسی دھرتی ماتاپرمائوں کے سہاگ اجاڑتے ہیں،بہنوں کے دوپٹے کھینچتے ہیں ، بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ چھن لیتے ہیں ،ان سب کو در در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے معاشرے میں چھوڑ دیتے ہیں۔یہ کہانی نئی نہیں ہے ،برسوں پرانا المیہ ہے۔کئی صدیوں میں صرف چہرے بدلے ہیں،دل پہلے جیسا ہے، وہی قاتل کا قاتل، خون میں ڈوبا ہوا۔ 
پروفیسر اپرنا نے لکھا کہ اسی لئے برہمن کے ہر بھگوان اور بت کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی ہتھیار ہے۔اپنے دفاع کے لئے نہیں، بلکہ قتل کے لئے ۔اپرنا ویدک کی کتاب کے ٹائٹل سے بھی یہی واضح ہے۔  وہ لکھتی ہیں کہ عدم تشدد کا پرچار کرنے والے بھارت میں ہجوم کی جانب سے قتل کے واقعات نئے نہیں ہیں ،بھارت ماتا میں برسوں سے یہی شرمناک کھیل جاری ہے۔کتاب میں اپرنا اپنے بچوں سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھتی ہیں، 
ایک صبح کا قصہ ہے،میں معمول کے مطابق اپنے کچن کی جانب بڑھ رہی تھی،بچوں کو ناشتہ بنا کر دینا تھا ،تمہارے باپ بھی آفس کے لئے تیار نہیں ہوئے تھے ،بلکہ وہ کپڑوں کا میل اتارنے میں مصروف تھے، کچھ دھو لیے تھے، پانی نکالنا باقی تھا،سارا کام تو مشین ہی کر رہی تھی وہ تو مشین کو کام دے رہے تھے۔تمہارے والد نے مشین کو مصروف رکھا ہوا تھا۔
ناشتہ بناتے وقت اچانک میری آنکھوں کے سامنے کئی مہینوں پرانا اندوہناک منظر گھوم گیا۔ایک خاموش احتجاج کامنظر۔ کئی مہینوں پرانے ایک خاموش احتجاج نے میری سوچ کو جھنجھوڑ رکھا تھا،میں نے ان خیالات کو جھٹکنے کے لاکھ جتن کئے ،مگر وہ منظر دماغ سے محو نہ ہو سکا۔ سب کا ایک ہی نعرہ تھا۔۔۔۔ہمیں مت مارو، ہم بھی اسی دھرتی کے باسی ہیں، ہم بھی تمہارے جیسے گوشت پوست کے لوتھڑے ہیں، ہمیں بھی درد ہوتا ہے،ہمارے بھی رشتے دار ہیں جنہیں ہماری بہت یاد آئے گی۔جلوس کے کچھ شرکاء نے موم بتیاں تھام رکھی تھیں،کچھ مشعلیں اٹھائے ہوئے تھے۔
میں نے باروچی خانے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا،موم پگھل کر انگلیوں کو چھلنی کر رہا تھا،آوازمیں کرب تھا، انگلیاں جلنے کا درد۔پھر بھی سب خاموشی سے رواں دواںتھے۔
چند ایک افراد نے قد آدم بینرز اٹھا رکھے تھے۔ جن پر جلی حروف میں کچھ لکھا تھا۔۔۔کچھ لوگ ادھر ادھر گروپوں کی شکل میں پھر رہے تھے۔چند ایک کے چہرے سیگریٹوں کے دھوئیں میں چھپے ہوئے تھے۔غم غلط کرنے کا اس سے سستا طریقہ او رکیا ہو سکتا ہے،دھواں پیٹ اور سانس کی نالی میں بھر نے والا ہر انسان سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے اندرکے کرب سے دنیاکو آگاہ کر دیا ہے، اس کی آواز دوسروں تک پہنچ گئی ہے کہ اسے کوئی دکھ ہے۔اسے سمجھو۔ 
سورج کی لالی دور افق میں کہیں چھپ رہی تھی،رات کا اندھیرا پھیل رہا تھا۔
شرکاء خاموش تھے ،کسی کے لب ہلتے ہوئے نہیں دیکھے ۔ لیکن ان کا مطلب سب سمجھ رہے تھے۔ خاموشی سماج میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی، ہلکا سا ارتعاش۔معاشرے کو جھنجھوڑ رہی تھی۔پوری فضا میں غم و غصہ تھا،صدمہ تھا ، المیہ تھا۔
جلوس کی کئی خاموش آوازوں کو میں ا چھی طرح پہچانتی تھی،چند ایک تو میرے ہمسائے تھے،ان کا گھر میرے ہی محلے میں تھا، آتے جاتے ملاقات ہو جاتی تھی، کچھ میرے ساتھ کام کرتے تھے، میرے آفس کے ساتھی۔باقیوں کو میں کئی مرتبہ مل چکی تھی۔نامی گرامی فنکار ،سیاسی تجزیہ کار اور سماجی کارکن بھی شامل تھے،انہیں پوری دنیا جانتی ہے وہ بھی خاموش احتجاج کا حصہ تھے۔
رپورٹرز ہجوم کی خاموشی کو پڑھنے کی جستجو میں تھے۔ ٹریفک کی پوں پوں اور ہارن ان کے مائیکرو فونز پرسکوت کو توڑتے دور کہیں ڈب جاتی۔   سکون کا حصہ بن جاتی تھی۔اسی ہجوم میں لمبے ،سرمئی بالوں والی عورت بھی شامل تھی۔آنکھوں میں کاجل تھا،ماتھے پر بڑی سی بندیا اندھیرے میں چمک رہی تھی۔کمزور تھی مگر نجانے کہاں سے اس میں اتنی طاقت آ گئی کہ آواز سکوت کو چیرتے ہوئے دور تک پھیل گئی،وہ کہہ رہی تھی۔۔
’’آج حملہ بھارت کی روح(essence) پر ہوا ہے۔بھارت نے کسی دور میں بھی تشدد کی حمایت نہیں کی‘‘۔
دوسری طرف سے ایک شخص بھاری سی آواز میں پکارا۔۔۔’’بھارت گوتم بدھ اور گاندھی کا دیس ہے،جہاں دریائے گنگا کا پرسکون پانی موجیں مارتا ہے، امن کی کہانی سناتا ہے۔یہ پاکبازی کی تعلیمات دینے والے بھکتی صوفیوں کی سرزمین ہے ‘‘۔
ہجوم کی پکار بہت فلسفیانہ تھی،کہہ رہے تھے کہ بھارت اس سمندر کی مانند ہے جس میں ہر رنگ کے دریا گرتے ہیں،اور اس کا حصہ بن جاتے ہیں یہی اس کی خوبصورتی اور حسن ہے۔یہ ملک کبھی پرامن ہوا کرتا تھا جس پر آج تشدد کا قبضہ ہے۔اب تاریخ کا دھارا ہی بدل گیا ہے۔بھارت امن سے تشدد کی راہ پر چل پڑ اہے۔ان کی باتیں کئی دونوں تک ذہن میں سرگوشیاں کرتی رہیں۔
یہ سوچنے میں کافی وقت گزر گیا ، اتنے میں ناشتہ تیار تھا،تمہارے باپ وہی صبح کا راگ الاپنے لگے ،بھلہ کے انکل کا کیا بنا؟ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے دوارن بہت مار کھائی تھی۔ میں آج بھی ان کی کہانی سے باہر نہ نکل سکی تھی۔مجھے ان کے پری وار سے ہمدردی تھی لیکن بے بس تھی ،میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہ تھا۔ہم نہیں جانتے لیکن ان کا پری وار تقسیم ہند کے دوران تشدد سے گزرا ہو گا۔یہ تشدد کسی ایسے قید خانے کی طرح تھا جہاں سے فرار ممکن نہیں۔ ہر جگہ جال بچھا ہو،کوئی بھاگ کر کہاں اور کیسے جائے گا،اپنی شناخت کو کیسے چھپاے گا۔مجھے یاد ہے تمہارے باپ نے کہا تھا،’’کہیں اس سے تمہارا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ سب کچھ بلاجواز اور حقیقت کے منافی تھا،اس کی کوئی منطق نہ تھی،کیا وہ اپنے تجربات کے سوابھی کچھ سوچ سکتے ہیں۔‘‘انہوں نے استفسار کیا۔
نہیں۔۔۔ میں نے بات ختم کرنا چاہی۔
میرے شوہر نے بات چھیڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔’’بھلہ کے انکل نے تشدد کی جو وجہ بتائی وہ میرے لئے ذرا پریشان کن اور نئی ہے‘‘۔ذرا رک کر وہ دوبارہ گویا ہوئے!’’انہوں نے میرے ایک تصور کی نفی کر دی۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ برہمن ہی غلط تھے،صرف برہمن ہی تمام واقعات کے ذمہ دار تھے۔کیا تمہیں منٹو کا افسانچہ ’’کھول دو‘‘یاد نہیں؟جس میں منٹو نے خواتین پر ان کی اپنی برادری کا جبر کھول کر بیان کیاہے؟ اور امرتا پریتم کی ’ پنجر‘بھی تو یہی درہستی ہے۔سب ایک ہی کہانی سناتے ہیں۔
ہممم۔۔آپ کی باتوں کا مطلب یہ ہے کہ لوگ صرف وہی باتیں بتاتے ہیں جو ان کے اپنے موقف کو تقویت دیتی ہیں،باقی ہر بات چھپا لیتے ہیں لوگ؟
میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا کہ منٹو اور امرتا پریتم کی باتیں ان کا بیانیہ بدل سکتی ہیں۔تم تو جانتے ہو ،میں بھلہ کے انکل کے دعوئوں سے بھی آگے اس بات پر حیران ہوں کہ بھارت کبھی امن کی سرزمین ہوا کرتا تھا۔ایک نوالہ منہ میں لیتے ہوئے جلوس کے شرکاء کی باتیں میرے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔ ’’مجھے تو ہمیشہ سے یہ دعویٰ ہی مسخ لگتا ہے ۔میں ہمیشہ محسوس کرتی ہوں کہ بھارت کے پرامن ملک ہونے کا دعویٰ سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے بھارت میں تشد رکھنے والے کرداروں کو دبایا ہو اور انہیں معاشرے سے چھپایا ہو،انہیں آگے آنے ہی نہ دیا ہو جیسا کہ (Duryodhana) اور (Shishupal)۔ یہ دونوں ہی بھارتی رامائن کے اہم کردار ہیں ۔مہا بھارت کی کہانی ان ظالم کرداروں کے  بغیر نامکمل ،ادھوری ہے۔ نہایت ہی طاقتور اور ظالم۔جنہیں شکست دیناناممکن تھا۔ مہا بھارتا کی کہانی میں ان کے کرداروں کو بھی دبایا گیا جبکہ شیطانی کردار کے حامل راون اورکمسا(Kamsa) کی اہمیت بھی کم کی گئی۔حتیٰ کہ یونانی ، منگول اوربرطانوی حملہ آوروں کے جبر کی داستانیں بھی تحریر و تقریر میں جگہ نہ پا سکیں۔مہا بھارتا کے ہیروز کی تصویر کشی اس انداز سے کی گئی جیسے انہوں نے کبھی کوئی غلط کام کیا ہی نہ ہو۔انہوں نے اگر کبھی جنگ بھی لڑی تو وہ بھی میدان میں محض دھرما کی حفاظت یا دھرتی کے محافظ کے لئے اترے۔ان کی ہر لڑائی اور خونریزی بھی ان کے لئے تھی،جانیں بچانے کے لئے تھی۔
یہ کہتے ہوئے ان کا خون جوش مارنے لگا۔۔۔ انہوں نے غیر مسلح کرنا (Karna) کو اپنی کرسی مضبوط کرنے کے لئے ہلاک نہیں کیا تھا؟ اس قتل سے کون سی اخلاقیات کی فتح ہوئی تھی۔کیا ان میں اتنی ہمت نہیں پیدا ہوئی تھی انہوں نے اپنے ہی استاد (Dronacharya) کے خون سے بلا وجہ ہاتھ رنگ لئے تھے۔یہ ہمت ان میں کہاں سے عود کرآئی تھی، انہیں مرغابی کی طرح ذبح کرنے کے لئے ان کے بیٹے کی مرگ کی جھوٹی کہانی یوں بیان کی گئی تھی ا س جھوٹ سے سچ کی کون سی فتح ہوئی،پھر سچائی کے علمبردار کو جھوٹ کا سہار کیوں لینا پڑا۔  کیا یہ سچائی نہیں کہAbhimanyu  نے (Duryodhana) کو شکست دینے کے بعدان کے کولہے کی ہڈی توڑ دی تھی، حالانکہ اس حرکت پر تشدد کی جنگوں میں بھی مذمت کی گئی ہے ۔ بھگوان ؟؟نے یہ سب کچھ اخلاقیات کے نام پر کیا،اس سے اخلاقیات کی کون سی فتح ہوئی تھی؟ 
لکشمن نے (Surpanakha) کی ناک کی ہڈی توڑ دی تھی،صرف اس لئے کہ ان کے منہ سے ایک آریائی شہنشاہ کی محبت میں چند الفاط نکلے تھے،یہ اتنا بڑا گناہ تو ہرگز نہ تھا کہ ناک کی ہڈی توڑ دی جاتی۔  
کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر سارے برہمن دیوی اور دیوتا آسترارشاسترا (astra-shastra) سے لیس ہوں،کیسا لگے گا اگر برہمن دیوی دیوتا جدید جنگی ہتھیاروں سے ،سلح ہو کر سامنے آئیں،کوئی ٹراڈینٹ جہاز میں بیٹھا ہو تو کوئی گنڈاسے سے لیس ہو،کسی نے نیزہ سنبھالا ، توکوئی کلہاڑی سے حملہ آور ہوا۔ یہ سب کام انہوں نے پاک بازی کے نام پرکئے۔انہوں نے اپنے تشدد کو کبھی تشدد یا برائی کی شکل جانا ہی نہیں۔ان کا ہر قتل اپنے آپ میں پاک بازی کی جیتی جاگتی علامت تھا۔۔۔’’وہ ہنسا ،ہنسا ہی نہیں۔
گیتاکی اہمیت کوئی کم کر سکانہ کوئی رام کی پوجا روک سکا ،یہ سوچ سے بھی باہر ہے۔ سب دیوالی کی خوشیاں بھی مناتے ہیں اور درگاہ پوجا میں بھی شریک ہوتے ہیں،اور گنپتی میلہ۔۔یہ تو عظیم تر ہے۔
یہ بات میری برداشت سے باہر تھی ،مجھ میں غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔کیوں ہلہ کرتے ہیں یہ؟جب کوئی دھرما کے نام پر اخلاق کے خون سے ہاتھ رنگتے ہیں تو یہ کیوں شور کرتے ہیں،فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں، ان کے ہاتھ میں بھگوان کا کوئی مقدس ہتھیار نہیں ہوتا۔یہی انکی ناکامی ہے۔
عین اسی لمحے گھنٹی بجی ،دودھ والے سریندر سنگھ کی سندر گھنٹی نے تلخیاں پکڑتی بحث رکوا دی۔ معمول کی طرح اس روز بھی وہ کوسوں دور سے آیا تھا۔غازی آباد کے آریہ سماج کے گائو شالہ میں ہی تو رہتا تھا۔اتنی دور سے ہمیں تازہ دودھ کا شاپر دینا اس کا معمول تھا۔میرے بیٹے، تمہارے باپ کرسی سے ا ٹھے، روزانہ کی طرح دودھ لیا ،رسوئی میں رکھ کر واپس کرسی سنبھال لی۔اب مجھے دودھ گرم کرنے کی ضرورت تھی ورنہ پھٹ جاتا۔سارا سین گرم انڈے کی طرح میرے دماغ بھی ابل رہا تھا، خیالات کا ایک طوفان تھا، جو مجھے بے چین کئے ہوئے تھا۔ میرے پورے خیالات الٹ چکے تھے،ہندوستان امن کی سرزمین تھا،یہ میرا یقین تھا مگر اب اس کی نقطہ نظر کی بنیاد ہل رہی تھی۔ بابو،زاہد احمد،نعمان،محمد اخلاق،انصاری،امتیاز خان،مستان عباس، پہلو خان۔۔۔ان سب کا قاتل کون ہے؟یہ سب نامعلوم افراد نے قتل کئے۔انہیں ہجوم بھیڑ نے مارا۔ چونکہ مجرم سب ہی تھے اس لئے کوئی بھی مجرم نہ تھا۔لیکن انہیں کسی اجنبی نے نہیں مارا، قاتلوں کے نام سب جانتے ہیں۔یہ ایک راز ہے جو سب پر کھل چکا ہے۔ان کے چہروں کی بھی شناخت ہے۔یہ سب ہمارے ساتھ ہی پلے بڑھے،ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جانتے ہیں،کبھی اکھٹے پیدائش کی خوشیاں بھی منائیں۔ صبح کی سیر بھی کی ، اکھٹے پیٹ پوجا بھی کرتے رہے۔غمی خوشی میں ساتھ ساتھ رہے۔ایک دوسرے کے مہمان بنے،وہ ہم میں سے ہیں۔۔ عدم تشدد کا پرچارک گاندھی اور اس کا قاتل گاڈسے سب ہی تو اکھٹے رہے ہیں۔دونو ں میں کیا فرق ہے، کچھ بھی تو نہیں۔گاڈسے کے حامی اور مخالف ایک ہی ہیں ۔بھکتی تحریک نے ذات پات اور اونچ نیچ ختم کرنے کے نام پر انہیں کی بالا دستی قائم رکھی،اس فرق کو نمایاں کر دیا۔
جان لیجئے،بھارت کی تہذیب کبھی عدم تشدد کی پرچارک نہیں رہی،تشدد اس کی جڑوں میں پیوسط ہے۔ ہنسا بھی تمہاری دھار ہار ہے۔یعنی تشددد بھی انڈیا کا ورثہ ہے جو نسل در نسل ودیعت کرتا رہا۔ کسی وصیت کی مانند اس پر عمل کرتے رہے۔کیا ہم نے قتل کو اکثیرت کو باندھ کر رکھنے کا یاک طریقہ جان لیا ہے۔تاکہ رنگ نسل اور علاقائی تعصب کو دبانے کا طریقہ سمجھ لیا ہے۔اس قتل کی ذمہ دار ہمیشہ حکومت نہیں ہوتی،قتل کو بڑھاوا ہمیشہ سرکاری بے عملی سے نہیں ملتا،کبھی کبھی ہمارے خاموشی بھی ان قتلوں کی ذمہ دار بن جاتی ہے جب ہم نظر آنے والی حقیقتوں سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ہم ایسے واقعات کو راستہ دینے کا سبب بنتے ہیں۔
ایسی ہی کہانی گزشتہ انتخا بات کے موقع پر بھی بے نقاب ہوئی تھی جب الیکشن کمیشن نے اعلان کیاکہ ملک بھر میں 2کروڑ 10لاکھ خواتین ووٹرز لاپتہ ہو گئی ہیں، ان کا کہیں سراغ نہیں مل رہا ، ووٹ ڈالئے گئے اور نہ ہی کسی اور ریکارڈ میں یہ خواتین سامنے آئیں ۔یہ کہاں ہیں؟کبھی تحقیق نہیں کی گئی۔ 14مارچ2019ء کو سوتک بسواس (Soutik Biswas)نے بی بی سی پر بھی ایسی ہی رپورٹ جاری کی جس میں انہوں نے کہا کہ ’’2.10کروڑخواتین ووٹروں کی گمشدگی کاراز کیا ہے؟ گمشدہ ووٹرز کی آدھی سے زیادہ تعداد کا تعلق تین شمالی ریاستوں اتر پردیش،مہاراشترا اور راجھستان سے ہے۔یہ تینوں وہ ریاستیں ہیں جہاں سب سے زیادہ قتل ہوتے ہیں ۔یہ ریاستیں کرائم ریٹ میں بھی دوسری ریاستوں سے آگے ہیں اور لڑکیوں کی سمگلنگ بھی ا ن تین ریاستوں میں نسبتاََ زیادہ ہوتی ہے۔دونوں مصنفین کے مطابق ’’ بھارتی خواتین انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں ،ان کا ٹرن آئوٹ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے لیکن ان 2کروڑ 10لاکھ خواتین  نے کبھی ووٹ نہیں ڈالے۔یہ تعداد سری لنکا کی آبادی سے زیادہ ہے ‘‘۔یعنی ہر حلقے میں کم از کم 38 ہزار خواتین ووٹرز لاپتہ ہیں۔اتر پردیش میں غائب خواتین ووٹرز کی تعداد ہر حلقے میں 80ہزار بتائی جا رہی ہے۔
ماہر معاشیات شمیکا روی (Shamika Ravi)اور مددت کپور (Mudit Kapoor)نے یہ تعداد 65لاکھ بتائی ہے۔چاروں ماہرین کے مطابق اس کا تعلق کسی حد تک لڑکیوں کے قتل یعنی اسقاط حمل سے بھی جڑا ہوا ہے ، برہمن معاشرے میں لڑکیوں کو آج بھی اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اسی لئے اب نریندر مودی نے اس قتل کی عمر بھی بڑھادی ہے۔انہوں نے حکم دیا ہے اب کہا ’’بھارت میں اسقاط حمل اس بچے کوبھی قتل گناجا سکتا ہے جس کی عمرممتا کے ساتھ 24ہفتے ہو ۔ دنیابھر میں نوزائیدہ بچے کا اس عمرمیں اسقاط حمل جائز نہیں‘‘۔
اس بات کو اگر ہم اس سے جوڑیں کہ مہینے میں ایک دوبارایسی خبریں نظروں سے گزرہی جاتی ہیں کہ ۔۔۔’’فلاں شہر میں سینکڑوں بچیاں لاپتہ ہو گئیں‘‘یایہ کہ فلا ں گائوں میں تین مہینوں میں ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی۔بھارت کے اس دور افتادہ قصبات اور دیہات میں بچیوں اور بچوں کا تناسب انتہائی خراب ہے،شائدیہاں بچیاں پیدا ہوتے ہی موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہیں۔جیسا کہ اتر کاشی کے علاقے میں کوئی550 دیہات واقع ہیں۔آبادی لگ بھگ4لاکھ ہو گی۔یہاں بھی بچیوں کی کم تعداد کے باعث یہ کہا جا سکتا ہے کہ کافی بڑی تعداد میں عورتوں کادوران حمل قتل کیاگیا ہے، گزشتہ برس اپریل سے جون تک کے تین مہینوں میں216لڑکوں کے مقابلے میں ایک لڑکی نے بھی جنم نہیں لیا۔یہ قانون قدرت کے خلاف ہے لیکن سب سے بڑی مگر ناپاک جمہوریت میں بچیوں سے جینے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔ایسا صرف ایک ریاست میں نہیں ہے، پورے بھارت کا ایک ہی مزاج ہے۔
اب ان باتوں کو ہم اپرنا ویدک اور سیتا اگروال کی کتابوں اور تحقیق سے ملا کر دیکھتے ہیں۔ اپرنا کا کہنا ہے کہ بھارت میں برہمن خود کو بالاتر قوم سمجھتے ہیں اس لئے ان کے نزدیک پاک بازی کے نام پر قتل جائز ہے۔ ان کے دیوی دیوتا خود بھی نیکی کی خاطر ا یسا ہی کرتے رہے ہیں۔ 
سیتا اگروال نے اس قتل اور نفرت کی پوری تاریخ کا جائزہ لیا ہے،اسے اچھی طرح سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ان کی کتاب کا نام ہے۔۔’’Genocide of Women in Hinduism‘‘ یعنی’’برہمن مت میں بچیوں کا قتل ‘‘۔ اس کتاب میں وہ قتل کے اسباب تلاش کرتی ہیں ۔انہوں نے چونکا دینے والے حقائق بیان کئے ہیں۔جنہیں پوری طرح لکھنے کی ہمت مجھ میں تو نہیں ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ،
برہمن سماج میں اصل طاقت کا سرچشمہ برہمن ہیں، باقی سب ان کی سلطنت چلانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔یہ مسلمانوں یا مسیحوں کا پروپیگنڈا نہیں ہے،بلکہ جامع حقیقت ہے کہ برہمنوں نے اپنی بالادستی قائم رکھنے اور دوسروں کی نسلوں کو ختم کرنے کے لئے یا تو ان کی بچیاں مار ڈالیں، یا انہیں اپنی لونڈی بنا لیا یا پھر ان کی سمگلنگ کی گئی۔ انہیں منظر سے غائب کر کے بھی اپنے مقاصد پورے کئے گئے۔ اس وقت بھارت میں جو سوچ کارفرما ہے اس کا نقطہ نظر یہی ہے۔ شمالی بھارت میں مسلمانوں نے برہمن عورت کی جانیں بچانے  کی  کوشش کی اور کسی حد تک مغل انہیں زبان دینے میں کامیاب رہے۔انہوں نے اسقاط حمل کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
برہمن سماج نے عورت کے قتل کی روایت آریائوں سے سیکھی۔یہ لوگ معاشرے میں طاقت کے حصول کے لئے دوسرے مذاہب اور گروہوں سے تعلق رکھنے والے کی بچیوں کو مار ڈالتے تھے۔یاانہیں اپنے مذہب کے سانچے میں ڈال کر ان سے شادیاں کر لیتے تھے، جیسا کہ ایک بھارتی وزیر اعلیٰ نے بھی کشمیری لڑکیوں سے شادی کرنے کی بات کی تھی۔برہمن اس وقت بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کشمیری لڑکیوں سے شادی کے خواب دیکھ رہے ہیں ، وہ ان کی اولادوں کواسلام سے ہٹا کر برہمن بنانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔یہ طریقہ ایک مدت سے اس خطے میں طاقت کے حصول کے لئے رائج رہا ہے۔     
لڑکیاں کم ہونے کے باعث وہ آج بھی ایک شادی کی رسم پر کاربند ہیں۔برہمن ڈارک ایج(1500قبل از مسیح تا 1000قبل از مسیح) میں برہمنوں نے یہی کچھ کیا۔اپنی قوت مجتمع کرنے کی خاطر انہوں نے ہر وہ حربہ اختیار کیا جس کی مدد سے وہ دوسروں پر حاوی ہو سکتے تھے۔برہمن ہمیشہ سے اس خوف میں مبتلا  ہیں کہ غیر ان پربوجھ نہ بن جائیں، ا ن سے تعدا د میں کم ہونے کے باوجودکوئی ان کی سلطنت چھین نہ لے۔ اسی لئے انہوں نے کمزور جان کر اپنی بچیوں کو خود ہی قتل کرنے کی روایت کو جنم دیا۔ستی ان میں سب سے اہم تھی۔اسے رسم جوہر بھی کہا جاتا ہے۔برہمن نے اپنی طاقت قائم رکھے کے لئے اپنے ہی معاشرے کو کئی ذاتوں میں تقسیم کر دیا۔اور خود حکمران بن بیٹھے۔راجھستان اس کی سب سے اہم مثال ہے جہاں اسقاط حمل کے بعد لڑکوں اورلڑکیوں کا تناسب 10:1کا تھا۔ یعنی ایک لڑکی اور 10لڑکے ۔اگر وہاں ستی کی رسم نہ ہوتی اوربرہمن ایک دوسرے کے خون سے ہولی نہ کھیلتے تو آج یہ ریاست اس قدر پسماندہ اور کمزور نہ ہوتی۔
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

           کوویڈ ۔19کا عذاب بدستور دنیا کے سر پر منڈلا رہا ہے ، یہ وہ وبا ء ہے جس نے دنیا کی ترقی کا راز ایسے ا فشا کیا کہ ہر ملک اور ہر طاقت کو اپنی صلاحیت نظر آ گئی ،    

مزید پڑھیں

ایک قلاش کلرک تھرڈ کلاس ہوٹل میں بیٹھا اپنے دوستوں سے یہ کہہ رہا تھا یارو ! ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی ہمارے ملک کے اُمراء ،روساء ،نام نہاد سیاست دان ،بیوروکریٹس بنکوں سے کروڑوں روپے لیکر معاف کرا لیتے ہیں    

مزید پڑھیں

آپ کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں یا سمارٹ فون آپکی ہر ای میل، میسج، چیٹ، لوکیشن، حرکات و سکنات پوری کی پوری گوگل اور فیس بک کے پاس ذخیرہ ہو رہی ہیں حتیٰ کہ جو معلومات آپ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں ،    

مزید پڑھیں