☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(مریم صدیقی)
یورپ کے شاہی خاندانوں کے شاہی اخراجات ان خاندانوں کو روایت کے طور پر قائم رکھا گیا ہے

یورپ کے شاہی خاندانوں کے شاہی اخراجات ان خاندانوں کو روایت کے طور پر قائم رکھا گیا ہے

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

03-22-2020

شاہی خاندان میں پیدا ہونے کا مطلب اب یہ نہیں کہ آپ کے ذمے کوئی کام نہیں۔ پچھلی چنددہائیوں میں یورپ کے شاہی خاندانوں میں مختلف حوالوں سے ڈائون سائزنگ کی گئی ہے۔
 

 

اس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ شاہی خاندانوں کے درجنوں افراد سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اچھی سی نوکری ڈھونڈیں اور اپنے اخراجات خود اٹھائیں۔ یورپ کے 10اہم شاہی خاندانوں میں سے 9 خاندان ایسے ہیں جو اپنے کام کی ادائیگی کے حوالے سے عوام کا پیسہ وصول کرتے ہیں۔ صرف ہائوس آف لئیک ٹینین (House of Liechtentein) ایسا ادارہ ہے جو اپنے اخراجات کے لئے ٹیکس گزاروں کا پیسہ استعمال نہیں کرتا۔ ہر خاندان کتنا پیسہ وصول کرتا ہے۔ یہ مقامی قوانین اور روایات پر منحصر ہے۔ کچھ ممالک شاہی خاندانوں کو یک مشت رقم ادا کر دیتے ہیں جبکہ دوسرے ممالک میں فنڈنگ کئی ذرائع سے ہوتی ہے اس طرح براہ راست تقابلی جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ جو اپنے آپ کو ’’کل وقتی‘‘ شاہی خاندان کہلواتے ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ شاہی تاج کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہم ذیل میں ان شاہی خاندانوں کے بارے میں اپنے قارئین کو بتا رہے ہیں جو کل وقتی کہلواتے ہیں۔
1: برطانیہ
برطانیہ کے شاہی خاندان کا شمار یورپ کے سب سے بڑے اور امیر خاندانوں میں ہوتا ہے۔ اس میں زیادہ ملکہ الزبتھ دوم کا خاندان شامل ہے جس میں ان کے کئی کزن کل وقتی شاہی خاندان کے افراد ہیں۔ برطانوی ملوکیت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق 16بالغ افراد اور 3 بچوں کو کل وقتی ارکان تصور کیا جاتا ہے۔ ملکہ اور اس کے خاندان کو خودمختار گرانٹ (Soverign Grant) کے ذریعے رقم دی جاتی ہے جو تقریباً 82.2 ملین پونڈ بنتی ہے۔ 2018-19 ء میں مذکورہ رقم دی گئی تھی۔ یہ بہت بڑی رقم ہے لیکن اس میں وہ رقم بھی شامل ہے جس سے برمنگھم پیلس کی تزئین و آرائش ہوتی ہے۔ ملکہ کے دوسرے بیٹے پرنس اینڈریو نے نومبر 2019 ء میں عوامی فرائض سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ دوسرا ’’بم‘‘ جنوری میں گرا جب ہیری اور میغان نے کام کرنا چھوڑ دیا اور معاشی آزادی کو ترجیح دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شاہی خاندان کے کام کرنے والے افراد کی تعداد 14رہ گئی۔
ہیری اور میغان ملکہ کے کئی پوتوں کے ساتھ جا ملیں گے جو شاہی خاندان کے باہر رہ کر کام کرتے ہیں۔ شہزادہ اینڈریو کی سب سے بڑی بیٹی شہزادی بیٹرس ایک سوفٹ ویئر کمپنی میں کام کر رہی ہے جبکہ اس کی بہن شہزادی یوجینی ایک آرٹ گیلری میں ڈائریکٹر کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ شہزادی این کی بیٹی زارا ٹنڈل گھڑسواری کے پیشے سے وابستہ ہے اور بہت کامیاب ہے۔
2- موناکو
موناکو کا شاہی خاندان 4 بالغ ارکان پر مشتمل ہے جو کہ کل وقتی شاہی خاندان کے ارکان ہیں جن میں شہزادہ البرٹ II‘ اس کی بیوی شہزادی چارئین‘ اور اس کی بہنیں شہزادی کیرولین اور شہزادی سٹیفنی شامل ہیں۔ البرٹII اور چارلئین کے دو بچے ہیں جو جڑواں ہیں۔ شہزادی گبریلا اور شہزادہ جیک۔ گبریلا جیک سے2منٹ پہلے پیدا ہوئی لیکن جیک ایک دن تخت کا وارث ہوگا۔ مرد ہونے کی وجہ سے اسے اپنی بہن پر ترجیح دی جائے گی۔ 2020 میں شاہی خاندان کو 54.4 ملین ڈالر دئیے گئے۔ اس میں سے 14.6ملین ڈالر شہزادے کو دئیے گئے جبکہ باقی رقم انتظامیہ کے سٹاف اور محل کی دیکھ بھال اور حفاظت کیلئے خرچ کی گئی۔
3- دی نیدرلینڈ
ہالینڈ کے شاہی خاندان میں سات بالغ افراد اور 3 بچے شامل ہیں جنہیں کل وقتی شاہی خاندان کے افراد تصور کیا جاتا ہے۔ ان میں بادشاہ ولیم الیگزینڈر‘ اس کی بیوی ملکہ میکسیما اور ان کی تین بیٹیاں شامل ہیں۔ بادشاہ کا بھائی کانسٹینجن اور اس کی بیوی شہزادی لارنیٹن بھی کل وقتی شاہی خاندان کے ارکان ہیں۔ بادشاہ کی ماں اور سابقہ ملکہ بیٹریکس 2013 میں ولیم الیگزینڈر کے حق میں دستبردار ہو گئی تھی۔ بادشاہ کا بھائی اور اس کی بیوی بھی کل وقتی شاہی خاندان کے ارکان ہیں۔ اسی طرح بادشاہ کی خالہ شہزادی مارگریٹ اور اس کا شوہر پیٹر بھی کل وقتی ارکان ہیں۔ بیٹریکس کا دوسرا بیٹا شہزادہ فرلیو 2013 میں انتقال کر گیا تھا۔ شاہی افراد کے ان ارکان کو 2020 میں 49.2 ملین ڈالر کی رقم ملی۔ اس رقم سے بادشاہ کو 56.5ملین دالر دئیے گئے۔
4- ناروے
ناروے کے شاہی خاندان کے7 ارکان ہیں جن میں 2بچے بھی شامل ہیں۔یہ کل وقتی شاہی افراد کے ارکان تصور کیے جاتے ہیں۔ ان میں بادشاہ ہرالڈV اور اس کی بیوی ملکہ سونجا‘ ان کا بیٹا شہزادہ ہاکون اور اس کا خاندان اور بادشاہ کی بہن شہزادی الفریڈ شامل ہیں۔ شہزادی الفریڈ ماضی میں کیے گئے کاموں کی وجہ سے پنشن وصول کرتی ہیں۔ اپنی ماںکی وفات کے بعد 1954 میں شہزادی مارتھا کی وفات کے بعد الفریڈ نے 14 سال تک ملک کی خاتون اول کی حیثیت سے کام کیا۔ اس نے خاتون اول کے طور پر اس وقت تک فرائض سرانجام دئیے جب تک اس کے بھائی یعنی مستقبل کے بادشاہ کی شادی نہیں ہو گئی۔
بجٹ کی سرکاری دستاویزات کے مطابق شاہی خاندان کے ارکان نے 2019 میں 48.7 ملین ڈالر وصول کئے۔ اس رقم میں سے 1.4ملین ڈالر بادشاہ اور ملکہ کو ملے جبکہ 1.1ملین ڈالر شہزادہ اور شہزادی نے حاصل کیے۔ شہزادی مارتھا لوئس (ہاکون کی بہن) کچھ سرکاری امور سرانجام دیتی ہے لیکن وہ شاہی خاندان سے باہر کچھ اپنے منصوبوں پر بھی کام کرتی ہے۔ اس نے کئی کتابیں لکھی ہیں اور گھوڑوں کے متعلق اس کا یوٹیوب چینل ہے۔ پچھلے سال مارتھا لوئیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔ اس پر مارتھا نے اعلان کیا کہ وہ اپنی نجی زندگی میں شاہی مرتبے کا استعمال بند کر دے گی۔
5- بیلجئیم
بیلجئیم کے شاہی خاندان نے 2018 میں 14.6 ملین ڈالر وصول کئے۔ اس کے بارے میں سرکاری ویب سائٹ نے بتایا۔ اس رقم میں سے 12.9 ملین ڈالر کنک فلپس کے سرکاری فرائض سرانجام دینے میں صرف کئے گئے۔ اس میں عملے کے اخراجات‘ برسلز میں شاہی محل کی دیکھ بھال اور اس کی حفاظت کیلئے خرچ کیے گئے۔ برسلز میں واقع شاہی محل (بادشاہ کے کام کرنے کی جگہ) اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے اخراجات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ لائقن کا قلعہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی حفاظت اور دیکھ بھال پر بھی اچھی خاصی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ دوسرے تمام اخراجات بھی اس رقم سے ادا کیے جاتے ہیں۔ ان میں یوٹیلٹی بلز اور سرکاری کاموں پر خرچ ہونے والی رقم بھی شامل ہے۔
سب سے اوپر بادشاہ‘ اس کے بھائی بہن‘ شہزادی ایسٹرڈ اور شہزادہ لارنٹ سالانہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ شہزادی ایسٹرڈ نے 3,56,080 ملین ڈالر اور شہزادہ لارنٹ نے 3,41,614 ملین ڈالر وصول کیے۔ بادشاہ اور اس کی بیوی ملکہ میتھلڈ کے چار بچے ہیں جو ابھی سکول میں پڑھتے ہیں۔ بادشاہ کے والدین البرٹ II اور ملکہ پاولہ ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی وہ کچھ تقریبات میں جاتے ہیں۔ سابق بادشاہ کو ایک ملین ڈالر سالانہ پنشن ملتی ہے۔ بادشاہ کی بہن شہزادی ایسٹرڈ اکثر بیرون ممالک میں اپنے خاندان کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا شوہر شہزادہ لورنز آف بلجیم خود بھی شاہی خاندان کا فرد کہلاتا ہے۔ ان کے پانچ بچے ہیں اور ان کو بھی خطاب دئیے گئے ہیں لیکن وہ کل وقتی شاہی خاندان کے افراد تصور نہیں کیے جاتے۔ یہ پانچوں بچے یا تو پڑھ رہے ہیں یا پھر شاہی خاندان سے باہر مختلف کام کر رہے ہیں۔
بادشاہ کا بھائی شہزادہ لارنٹ کل وقتی شاہی خاندان کا رکن ہے لیکن وہ کام بھی کرتا ہے اس کے اور اس کی بیوی کے تین چھوٹے بچے ہیں۔
6- ڈنمارک
سکینڈے نیویا کے اس ملک میں بھی شاہی خاندان موجود ہے جس کی سربراہ ملکہ مارگریٹII ہے۔ 2018 میں ملکہ نے 12.2 ملین ڈالر وصول کیے۔ یہ یک مشت رقم تمام اخراجات پورے کر دیتی ہے۔ اس میں شاہی خاندان کی رہائشگاہوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ ڈنمارک کے کل وقتی شاہی خاندان کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق شہزادہ جویاچم اس وقت معاملات سنبھال لیتا ہے جب ملکہ اور شہزادہ موجود نہیں ہوتے۔ ملکہ کی بہن شہزادی بینی ڈکٹے بھی کل وقتی شاہی خاندان کی رکن ہے۔ لیکن شاہی خطابات ملنے کے باوجود ڈنمارک کا شاہی خاندان یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ غیر معمولی شخصیت کے طور پر نظر نہ آئیں بلکہ لوگ انہیں عام انسان ہی سمجھیں۔ ان کے بچے عام سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور بالغ افراد دکانوں پر خریداری کرتے نظر آتے ہیں یا پھر سائیکل چلا رہے ہوتے ہیں۔
7- لکسمبرگ
لکسمبرگ کے شاہی خاندان کے صرف چار افراد کل وقتی شاہی خاندان کے افرادکے طور پر کام کرتے ہیں اور اس کے بدلے عوامی رقم وصول کرتے ہیں۔ یہ افراد گرینڈ ڈیوک سنہری اور اس کی بیوی گرینڈ ڈیوچس میری ٹریسا‘ ان کا بیٹا پرنس گلامے اور اس کی بیوی سٹیفانی ڈی لینائے شامل ہیں۔بجٹ دستاویزات کے مطابق 2019 میں شاہی خاندان کے ارکان نے 11.8 ملین ڈالر وصول کیے جس میں انتظامی اخراجات بھی شامل ہیں۔ گرینڈ ڈیوک کو 31,2000 ڈالر ذاتی الائونس کی شکل میں دئیے گئے۔ گرینڈ ڈیوک کے دوسرے 4 بچے مختلف کام کرتے ہیں۔
8- سویڈن
یہ سکینڈے نبویا کا ایک اور شاندار ملک ہے۔ یہاں سات بالغ افراد اور دو بچوں کو ’’کل وقتی‘‘ شاہی خاندان کے افراد تصور کیا جاتا ہے۔ ان میں کنگ کارل XVI گستاف اور اس کی بیوی ملکہ سلویا‘ شہزادی وکٹوریا‘ اس کا شوہر پرنس ڈینئل اور ان کے دو بچے شامل ہیں۔
وکٹوریا کا بھائی پرنس کارل‘ اس کی بیوی شہزادی صوفیا اور اس کی بہن میڈیلسین بھی کل وقتی خاندان کے ارکان ہیں۔ تاہم ان کے بچے یعنی وکٹوریا کی بھتیجیاں اور بھتیجے حال ہی میں شاہی اعزازات چھوڑ چکے ہیں۔ ان کے اس اقدام کو ان کے والدین نے بہت سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے بچوں کو مزید آزادی ملے گی۔
9-سپین
سیپن کا خاندان کم افراد پر مشتمل ہے۔ اس خاندان میں بادشاہ فلپی‘ اس کی بیوی ملکہ لیٹزیا ‘ ان کی دو بیٹیاں انفانٹا اور ملکہ صوفیہ کو بھی شاہی خاندان کے کل وقتی ارکان میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان افرادکا 2014 ء میں ان کا عوام سے رابطہ ختم ہو گیا تھا۔ یہ بڑی حیرت انگیز بات ہے کہ سپین کی خانہ جنگی نے ملک پر بڑے خوفناک اثرات مرتب کیے۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں جنرل فرانکو جیسا آمر ملک پر مسلط ہو گیا تھا جو 36برس تک حکمران رہا۔ لیکن پھر بھی سپین میں اب تک شاہی خاندان موجود ہے۔ 2018ء میں اس شاہی خاندان نے سپین کے بجٹ سے 8.8ملین ڈالر وصول کیے۔
10- لیاک ٹینس ٹین
یہاں یورپ کی واحد بادشاہت ہے جو ٹیکس گزاروں سے کوئی پیسہ وصول نہیں کرتی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ خاندان یورپ کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک ہے۔ اس خاندان کی وسیع و عریض جائیداد ہے اور ایک پرائیویٹ بینک بھی ہے۔ اگرچہ یہاں شاہی خاندان بڑا ہے لیکن اس کے صرف چار ارکان شاہی خاندان کے کل وقتی ارکان ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپ کے دوسرے شاہی خاندانوں کے برعکس شہزادہ سیاست میں متحرک کردار ادا کرتا ہے۔ اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون سازی کیلئے اپنی تجاویز پیش کرے۔ عام معافی کا اعلان کر سکتا ہے اور وہ ججوں کا تقر ر بھی کر سکتا ہے۔ آئین کے مطابق اختیارات کے ساتھ ساتھ اس کا احتساب بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جا سکتی ہے لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ کم از کم 1500 اہل ووٹرز اس کا مطالبہ کریں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جمہوری ممالک میں بادشاہتوں کا تصور کیونکر ممکن ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بادشاہتیں روایات کے طور پر قائم ہیں۔ اصل اختیارات بہرحال پارلیمنٹ کے پاس ہیں۔ برطانیہ میں بھی ایسا ہے۔ ان لوگوں نے صدیوں کی بادشاہتوں کے بعد جمہوریت کا چہرہ دیکھا۔ لیکن بادشاہتوں کو صرف برائے نام برقرار رکھا کیونکہ وہ لوگ بنیادی طور پر روایت پسند ہیں اور اپنی روایات سے محبت کرتے ہیں۔
 
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 پہلی جنگ عظیم سے پہلے 1918ء میں امریکی ریاست کنساس میں ہسپانوی فلو (Spanish Flu) کی وبا ء پھوٹی جو کم ازکم 2سال بعد ختم ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اس وباء سے 500ملین انسان متاثر ہوئے یعنی اس وقت کی عالمی آبادی کاایک تہائی حصہ۔ کہاجاتا ہے کہ اس وبا ء سے 5ملین نفوس لقمۂ اجل بنے۔    

مزید پڑھیں

 پوری انسانیت کورونا وائرس جیسی ہولناک بیماری کا شکار ہے۔ چین سے شروع ہونے والی وباء نے کیا امریکہ اور کیا یورپ ، پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔سپر طاقتیں اور ترقی یافتہ ممالک سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔    

مزید پڑھیں

کیا موسمیاتی تبدیلی ممکن ہے یایہ نیو ورلڈ آرڈر کی نئی شکل ہے ؟ کلائیمنٹ چینج کی شکل میں کرئہ ارض ایک نئے سراب سے دوچار ہونے والا ہے ؟ کیا یہ صیہونی طاقتوں کے باربار بدلتے بیانئے کا تسلسل ہے؟    

مزید پڑھیں