☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) سپیشل رپورٹ(مولانا خورشید احمد گنگوہی) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(منصور علی بیگ) خصوصی رپورٹ(خالد نجیب خان) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(عابد حسین) عالمی امور(عبدالماجد قریشی) افسانہ(امین کنجاہی)
سوشل میڈیا کو اپنا رازداں ہرگز نہ سمجھیں!

سوشل میڈیا کو اپنا رازداں ہرگز نہ سمجھیں!

تحریر : نصیر احمد ورک

04-12-2020

آپ کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں یا سمارٹ فون آپکی ہر ای میل، میسج، چیٹ، لوکیشن، حرکات و سکنات پوری کی پوری گوگل اور فیس بک کے پاس ذخیرہ ہو رہی ہیں حتیٰ کہ جو معلومات آپ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں ،
 

 

اس کی بھی ایک کاپی گوگل اور فیس بک سرور پر موجود رہتی ہے جسے آپ چاہتے ہوئے بھی ختم نہیں کروا سکتے اور آپکی یہ ساری معلومات کسی تھرڈ پارٹی یا خفیہ ادارے کو فروخت کی جا سکتی ہے ۔ اس عمل کیلئے صارفین سے کسی قسم کی اجازت حاصل کرنا ضروری نہیں۔ 
بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لیکر آج تک پاکستانی حکومت کی طرف سے گوگل ، مائیکروسافٹ، فیس بک، ایپل اور اینڈرائیڈ سسٹم کے متبادل کچھ بھی ایجاد نہیں کیا گیا جس کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ22کروڑ پاکستانیوں کا دن رات کا تمام تر ڈیٹا اسلام دشمن قوتوں کے پاس بھی سٹور ہو رہا ہے۔ اگر آئین پاکستان کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق بھی حکومت پاکستان کا یہ فرض ہے کہ ہر شہری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ہر پاکستانی کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کی رازداری محفوظ رہے۔ 
اگر آپ کو یقین ہے کہ انٹرنیٹ پر آپکی معلومات محفوظ ہیں توآپکا یہ تصور غلط ہے کیونکہ گوگل خود یہ بات ثابت کر رہا ہے کہ اس کے صارفین کی معلومات چوری ہوتی ہیں اور مختلف مقاصد کیلئے کوئی فروخت بھی کر سکتا ہے جو لوگ Google Takeout  کا استعمال کر چکے ہیں یا جانتے ہیں وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ہر صارف کی مکمل معلومات محفوظ ہے ،آپکے فون میں موجود تمام ایپ جو گوگل اینڈرائیڈ سسٹم کے ماتحت کام کرتی ہیں ،ان کی مدد سے فون پر ہونے والی ہر حرکت اور عمل گوگل سرورز پر ذخیرہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہیکرز صارفین کی معلومات ذہن کو چونکا دینے اور حیرت انگیز حد تک ذخیرہ کرتے ہیں۔ شاید اس حد تک آپکی معلومات چوری ہوتی ہیں جہاں تک آپکے ذہن کی رسائی تک نہیں یعنی لامحدود حد تک اور یہ سب کچھ آپ کی اجازت اور مرضی کے خلاف ہورہا ہے اور آپ چاہتے ہوئے بھی سوشل میڈیا کے اس عمل کو نہیں روک سکتے اور نہ ہی کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی کا اختیار رکھتے ہیں۔
آپ سوشل میڈیا اور حتیٰ کہ اپنے کمپیوٹر اور فون پر کچھ بھی عمل دہرائیں یا سرچ کریں سب کچھ جمع ہوتا جاتاہے ۔اگرآپ کے ہاتھ میں اینڈرائیڈ ہے آپ سار ادن کہاں جاتے ہیں کس جگہ کتنا ٹھہرتے ہیں کس کو فون کرتے ہیں، کس سے چیٹ کرتے ہیں، کس کو ایس ایم ایس بھیجتے ہیں ،سب کچھ ریکارڈ ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ آپ کی فون پر ہونے والی گفتگو اور وائس پیغامات بھی ذخیرہ ہوتے ہیں جن کو کو ئی بھی صارف گوگل سرورز سے مٹا نہیں سکتا۔ دراصل سوشل میڈیاآپ کی شخصیت کے متعلق آپ سے بہتر جانتا ہے۔آپ کے فون میں نصب کیمرے آپ کی مرضی اور اجازت کے بغیر آپ کی تصویریں لیتے ہیں ، آپ کے فون میں موجود تصویریں اور ویڈیوز کسی بھی وقت دوسرے پروگرامز چوری کرسکتے ہیں ۔مطلب کہ فون میں جتنا بھی ڈیٹا ہے وہ کسی بھی وقت کوئی دوسرا دیکھ سکتا ہے۔ اگر قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو گوگل صارفین کی معلومات چراتا نہیں ہے۔ بلکہ اپنے صارفین کو مفت سروسز اور سہولیات کے عوض صارفین کا ڈیٹا اپنے آپ ذخیرہ کرتا ہے۔ ہر صارف اکائونٹ بناتے وقت قوائد و ضوابظ اور شرائط سے اتفاق کرتا ہے جس کے تحت آپکی ذاتی معلومات ذخیرہ ہو سکتی ہیں۔ اور اگر صارفین گوگل کی شرائط سے اتفاق نہ کریں تو گوگل اکائونٹ نہیں بن سکتا اور صارف اسمارٹ فون استعمال نہیں کرسکتا ایسی ہی پالیسی دوسروں کی بھی ہے ۔
حکومت پاکستان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے عام آدمی کی معلومات پاکستان سے باہر کس طرح ذخیرہ ہورہی ہے کبھی بھی نہیں سوچا گیا اور نہ ہی آج تک کو ئی لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے کہ ہم اس قابل ہو سکیں کہ گوگل ، مائیکروسافٹ، فیس بک، واٹس ایپ،یاہو جیسے اداروں کے چنگل سے آزاد ہو جائیں۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک کیا ہم اس قابل بھی نہیں ہوئے کہ موبائل فون اور کمپیوٹر کے پروگرامز خود تیار کر سکیں ۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان کے ادارے اس قابل نہیں ہیں کہ اس جدید دور کی دوڑ میں شامل ہونے والے نوجوان پیدا کریں۔ بہت دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آج پاکستانی پستی کا شکار ہیں اور دوسروں کے آگے جھکے ہوئے ہیں ۔
 حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ جس مسلمان نے اسلام مخالف نظریات کو نہیں سمجھا درحقیقت اس نے اسلام کو نہیں سمجھا۔کیا یہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے؟ کیا یہ حکومتی اداروں کا فرض نہیں کہ پاکستانی شہریوں کی تمام تر معلومات ملک سے باہر نہ جائے؟ پاکستان کے سرکاری دفاتر میں رکھی بوسیدہ فائلوں کا ایک کاغذ بھی چوری ہو جائے تو ملک سے غداری لیکن عوام کی دن رات کی گفتگو اور معاملات امریکی اور اسرائیلی ادارے چوری کریں تو کوئی جر م نہیں۔۔کیوں؟
موبائل فون کے بڑھتے استعمال نے لوگوں میں فاصلے کم کرنے کی بجائے زیادہ کر دیئے ہیں ۔گھر یا گھر سے باہر ہر انسان اپنے فون کے ساتھ اس طرح محو گفتگو ہے کہ فون چھوڑا تو زندگی اپاہج نہ ہو جائے ہر انسان اپنے گھر کے افراد اور دوست احباب پر اتنا یقین نہیں رکھتا جس قدر گوگل اور فون پر ہے ۔ فون استعمال کرتے کرتے ہم اس نہج پر ہیں کہ اپنی ہر بات کسی دوسرے کو بتانے یا اپنے دکھ درد گھر والوں کو بتانے کی بجائے اسمارٹ فون پر انجانے لوگوں کو بتاتے ہیں۔ 
وطن عزیز میں سائبر کرائم کا قانون تو پاس ہو گیا اور اس پر عمل درآمد بھی ہورہا ہے مگر نیٹ کا استعمال کرنے والے کسی بھی یوزر کو اس ڈیٹا تک رسائی نہیں جو چوری ہورہا ہے معلوم نہیں وہ ڈیٹا چوری کرنے والی قوتیں اس چوری شدہ ڈیٹا کو اپنے مقاصد کیلئے کہاں کہاں استعمال کرتی ہیں کورونا وائرس کے پیش نظر اب ہر تعلیمی ادارہ اس سوچ میں مگن ہے کہ تعلیم کا سارا نظام آن لائن ہوجائے اس سے کیا سارا کنٹرول مذکورہ قوتوں کی دسترس میں نہیں چلا جائے گا یعنی ایک طرح سے ہم ان قوتوں کے طفیلی بن جائیں گے جن کے پاس نیٹ کی تمام قوت موجود ہے ہم نے جدید نظام تعلیم کا نعرہ تو لگایا لیکن موبائل فون اور کمپیوٹر کا آپریٹنگ سسٹم نہیں بنا پائے جتنی سوشل ایپس اس وقت موبائل پر موجود ہیں وہ یہودی لابی کی ملکیت ہیں مسلمانوں کا دین تو دجالی قوتوں کی سازشوں کی نظر ہوگیا مگر ہم اپنے دفاع کیلئے بھی کچھ نہیں کر پائے ۔حال ہی میں امریکہ و چائنا کی معاشی جنگ کا ہی شاخسانہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے لگنے والی اقتصادی پابندیوں کے تناظر میں امریکی حکومت نے گوگل پر دبائو ڈالا کہ وہ چائنا کی فون ساز کمپنی کیلئے اینڈرائیڈ سوفٹ ویئر بنانا بند کرے ۔ گوگل نے اس حکمنامہ کی تعمیل کرتے ہوئے چائنا کی مذکورہ فون ساز کمپنی کے ساتھ معاہدہ کینسل کردیا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں چینی کمپنی کو شدید معاشی دھچکا لگا اور مذکورہ کمپنی کے فون کی فروخت میں مندی آئی۔
چینی ادارے ،سرمایہ دار اور حکومتی کارپردازان جدید تعلیم اور صنعت کاری سے بخوبی واقف ہیں انہیں نے چند دنوں کی محنت کے بعداپنی کمپنی کو اس قابل بنا دیا کہ وہ پھر سے دنیا بھر کی مارکیٹ پر چھا گیا اور اب اس کمپنی کے موبائل فونز کا انحصار گوگل پر نہیں ہے ۔اسی طرح آج کے دور میں جس طرح ہر ملک کو جدید ہتھیاروں کی ضرورت ہے بالکل اسی طرح ہر ملک کو ماہر کمپیوٹر پروگرامرز اور ہیکرز کی ضروت ہے ۔ چائنا اور روس میں سائبر وار فیئر کیلئے یونیورسٹیوں میں باقاعدہ ماہر کمپیوٹر پروگرامر اور ہیکرز تیار کئے جاتے ہیں جو جنگ کے دنوں میں آنیوالے وقت میں جذبہ حب الوطنی کے تحت ملکی سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ ہوں گے مگر وطن عزیز میں ایسا نہیں ہماری یونیورسٹیوں ایسی کسی بھی تربیت کا اہتمام نہیں پاکستان میں جتنے بھی سرکاری اور نجی اداروں کی ویب سائیٹس ہیں ان تمام کے webhostingسرور باہر ہیں وہ جب چاہیں ان سائیٹس کو بند کر سکتے ہیں ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کی ویب کا سرور بھی باہر ہے ۔پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو Privacy Breachکے موضوع پر نہیں پڑھایا جاتا اور ہمارے تعلیمی اداروں کے طالب علم گزشتہ 72 سالوں سے اس قابل نہیں ہوسکے کہ ان عالمی اداروں کے متبادل سوفٹ ویئر تیار کر سکیں جب آنیوالے وقت میں نظام تعلیم آن لائن ہونے جارہا ہے اس کے علاوہ ڈیجیٹل کرنسی لانچ کرنے کا پروگرام بن رہا ہے اس سے ہم باقاعدہ دوسروں کے مرہون منت ہو کر رہ جائیں گے جب آپکی ذاتی راز ،معیشت کسی دوسرے ہاتھ میں ہوگی تو اس وقت آپ کہاں کھڑے ہوں گے۔ 
csoonline.comپر موجود اعداد و شمار کے مطابق اکیسویں صدی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی سائبر چوری میں ملوث 14درج ذیل ویب سائٹس اور دارے ہیں۔ان ادروں کے پاس ملین صارفین کا ڈیٹا موجود تھا اور یہ ذاتی معلومات تھیں جو دانستہ طور پر چوری کی گئیں اور فروخت ہوئیں مگر آج بھی یہ ادارے اسی طرح چل رہے ہیں ان پر کوئی گرفت نہیں۔ ہر شخص اس طرح سوشل میڈیا کے سچ جھوٹ میں مگن ہے کہ دن رات اپنے متعلق ہر بات فیس بک پر ظاہر کرتا ہے۔ فیس بک آپ کے متعلق سب جانتا ہے چونکہ آپ خود سب کچھ اسے بتا رہے ہیں۔فیس بک ہیکر بھی صارف کی ذاتی اور کاروباری معلومات دوسری مارکیٹنگ کمپنیز کو فروخت کرتا ہے جو آپ کو آپ کے مزاج کے مطابق اشتہار دکھاتے ہیں جو لوگ کمپیوٹر کے ماہر ہیں وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کیسے کام کرتی ہے۔ 
New York Times کی تحقیق پر بی بی سی نیوز ویب سائیٹ پر 19دسمبر 2018 کو فیس بک کمپیوٹرزسے چوری اور فروخت ہونے والے ڈیٹا کے متعلق تفصیل سے آرٹیکل شائع ہوا جس میں فیس بک نے اپنے صارفین کی تمام تر معلومات دوسری کمپنیز کو فروخت کیا اور یہ سب کچھ صارفین کی اجازت کے بغیر کیا گیا۔ حتیٰ کہ صارفین کے ٹیکسٹ میسج بھی پڑھے گئے ۔ فیس بک کی اس تمام تر غیر قانونی عمل کا اعتراف اس ادارے کے سابق سکیورٹی چیف Alex Stamos نے ایک ٹویٹ میسج میں کیا۔ کمپنی کو ایسے ہی غیر قانونی کیس میں 5لاکھ برطانوی پائونڈ جرمانہ بھی ہوا۔ برطانوی رکن پارلیمیٹ نے بھی بیان دیا کہ ہمیں فیس بک سے ڈیٹا چوری ہونے کے عمل کو سنجیدہ لینا چاہئے۔
عام شخص اتنی پہنچ اور طاقت نہیں رکھتا کہ گوگل اور فیس بک جیسے اداروں کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کرسکے اور کسی ملک کی حکومت بھی یہ قدم نہیں اٹھائے گی کہ اپنے شہریوں کی تمام تر معلومات چوری یا غلط استعمال ہونے کے سلسلے میں انٹرنیٹ پر راج کرنے والے ان اداروں کے گریبان تک ہاتھ ڈال سکے۔ بحیثیت پاکستانی اور مسلمان آپ یہی کر سکتے ہیں کہ جس حد تک ممکن ہو اپنی ذاتی معلومات، تصویریں، رابطہ نمبر،اور حرکات و سکنات کم سے کم آن لائن شیئر کریں یہ ہرگز ضروری نہیں کہ دن رات جو بھی کریں گوگل اور فیس بک پر ظاہر کریں۔ سوشل میڈیا پر اپنے بارے معلومات ظاہر کرنا بہت حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور ایک ذہن نشین کر لیں کہ آپ اپنے اسمارٹ فون پر کچھ بھی سرچ کرتے ہیں کچھ بھی عمل کرتے ہی سب کچھ دوسروں کے پاس ذخیرہ ہوتا ہے تو اپنی پرسنل سیفٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی کی حفاظت کریں اور رازداری وہی ہے جو بات آپ تک محدود ہے۔حکومت پاکستان اور تعلیمی اداروںنے کبھی اس موضوع پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی پاکستان اس قدر ماہر کمپیوٹر پروگرامرز پیدا کر تا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آگے نکل سکیں یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے اور سمجھتا بھی ہے کہ پاکستان کی اکانومی کمزور ہے اور ملک بھاری قرضوں کے بوجھ تلے ہے جس کی وجہ سے بڑی صنعتیں قائم نہیں ہو سکتیں اور تعمیراتی کام جلد رفتاری سے تکمیل نہیں پا سکتے لیکن دوسری طرف پاکستان یہ کام تو کر سکتا ہے کہ ہم اپنے شہریوں کو ماہر کمپیوٹر پروگرامرز بنا دیں پاکستان کو اس قابل بنا دیں کہ ہم گوگل اور فیس بک جیسے اداروں کو شکست دے دیں یا کم ازکم پاکستانی شہریوں کیلئے پاکستان اپنے سافٹ وئیر بنالے جو ہر پاکستانی استعمال کرے اور ہر شہری کا ڈیٹا ہمارے اپنے ملک میں ہی ذخیرہ ہو ۔ مستقبل قریب میں جنگ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ کمپیوٹر سے لڑی جائے گی جس کا فی الحال مکمل کنٹرول یہودی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔
 

مزید پڑھیں

 چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے دنیا کو ہلاکررکھ دیا ہے۔ اس مہلک مرض کے باعث دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 8 لاکھ کے قریب ہوچکی ہے اور اس تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔    

مزید پڑھیں

 28 رجب 1342ھ کی رات و ہ’’ شب سیاہ ‘‘تھی جس کے بعد مسلم امہ نے کوئی صبح نہ دیکھی۔ مصطفی کمال نے استنبول کے گورنر کو حکم دیا کہ ’’صبح طلوع ہونے سے پہلے خلیفہ عبد المجید ترکی چھوڑ چکے ہوں‘‘    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

           کوویڈ ۔19کا عذاب بدستور دنیا کے سر پر منڈلا رہا ہے ، یہ وہ وبا ء ہے جس نے دنیا کی ترقی کا راز ایسے ا فشا کیا کہ ہر ملک اور ہر طاقت کو اپنی صلاحیت نظر آ گئی ،    

مزید پڑھیں

ایک قلاش کلرک تھرڈ کلاس ہوٹل میں بیٹھا اپنے دوستوں سے یہ کہہ رہا تھا یارو ! ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی ہمارے ملک کے اُمراء ،روساء ،نام نہاد سیاست دان ،بیوروکریٹس بنکوں سے کروڑوں روپے لیکر معاف کرا لیتے ہیں    

مزید پڑھیں

 پہلی جنگ عظیم سے پہلے 1918ء میں امریکی ریاست کنساس میں ہسپانوی فلو (Spanish Flu) کی وبا ء پھوٹی جو کم ازکم 2سال بعد ختم ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اس وباء سے 500ملین انسان متاثر ہوئے یعنی اس وقت کی عالمی آبادی کاایک تہائی حصہ۔ کہاجاتا ہے کہ اس وبا ء سے 5ملین نفوس لقمۂ اجل بنے۔    

مزید پڑھیں