☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
عالمی مالیاتی ادارے اور وائٹ کالر کرائم

عالمی مالیاتی ادارے اور وائٹ کالر کرائم

تحریر : ایم آر ملک

04-26-2020

ایک قلاش کلرک تھرڈ کلاس ہوٹل میں بیٹھا اپنے دوستوں سے یہ کہہ رہا تھا یارو !
ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی ہمارے ملک کے اُمراء ،روساء ،نام نہاد سیاست دان ،بیوروکریٹس بنکوں سے کروڑوں روپے لیکر معاف کرا لیتے ہیں
 

 

لیکن کچھ عرصہ بعد دوبارہ لائن میں لگ جاتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ اتنا پیسہ خرچ کیسے کرتے ہیں !مزے کی بات یہ ہے کہ اُن میں سے اکثر بجلی اور ٹیلی فون کے بل بھی ادا نہیں کرتے ،تمام ٹیکس بھی کھا جاتے ہیں اور بعض تو اپنا اپنے بچوں اور بیوی کا علاج بھی سرکاری پیسے سے کراتے ہیں ،اِس میں بھی گھپلا کرتے ہیں پانچ ہزار خرچ کرتے ہیں اور پانچ لاکھ وصول کرتے ہیں اگر مجھے کہیں سے ایک کروڑ مل جائیں تو میری سات پشتیں فکر روزگار سے بے نیاز ہو جائیں گی۔ دوسرے کلرک نے پوچھا وہ کیسے ؟
قلاش کلرک نے جواب دیا اگر ایک کروڑ روپے کسی کمرشل بنک میں جمع کرادیئے جائیں تو ایک لاکھ سے زائد رقم سود کے طور پر مل سکتی ہے لیکن سود حرام ہے تو کوئی بات نہیں میں اسے منافع یا مارک اپ بھی کہہ سکتا ہوں ایک لاکھ روپے میں تو پانچ خاندان پل سکتے ہیں اس لیئے میں پوچھتا ہوں یہ لوگ کروڑوں روپے کہاں خرچ کرتے ہیں ؟
ہمارے ملک کا ایک بااثر طبقہ اربوں روپے ڈکارے بیٹھا ہے اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے 13ہزار وہ بااثر افراد ہیں جنہوں نے ملکی معیشت کے نام پر عالمی مالیاتی اداروں سے اربوں روپے وصول کیئے اور ہر بار اسمبلیوں کی زینت بنے ان غیر ملکی قرضوں کی کہانی بڑی پر فریب ہے کہ دیکھنے اور سننے میں اور، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ہماری معیشت سے ان قرضوں کا کوئی تعلق نہیں ان غاصبوں کی بدولت یہ ہماری معیشت میں داخل ہی نہیں ہو پاتے اوپر اوپر سے ہی غیر ملکی اکائونٹس میں چلے جاتے ہیں ان قرضوں کا حال کچھ ہمیں سے مخصوص نہیں تیسری دنیا کا تقریباً ہر ملک اسی صورت حال سے دو چار ہے جہاں اس مخصوص طبقہ نے رشوت اور بد عنوانی کو جنم دیا برادر ملک انڈو نیشیا کی مثال دینا ضروری ہے نوے کی دہائی میں مالیاتی بحران سے نجات کیلئے آئی ایم ایف نے جو امدادی پیکج دیا اُس کی مالیت سہارتو خاندان کی مبینہ دولت کے برابر تھی جس کا مطلب واضح ہے کہ بیرونی قرضوں کا بیشتر حصہ ملک کے بااختیار لوگوں کی ذاتی ملکیت کی شکل میں بیرونی ممالک میں منتقل ہو جاتا ہے اسے ملکی معیشت میں شامل ہونا نصیب ہی نہیں ہوتا ۔
1987ء میں وینز ویلا سے ’’سرمائے کا فرار ‘‘بیرونی قرضوں سے بھی چالیس فیصد بڑھ گیا تھا 1980-82میں آٹھ بڑے مقروض ممالک کے قرضوں کا ستر فیصد بیرون ِ ملک پہنچ گیا 1994ء میں ایسی ہی حالت وینز ویلا ،میکسیکو کی معیشت کی تھی ۔انڈو نیشیا کے بارے میں ایک ماہر اقتصادیات کی یہ رائے جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ ملک کے 80ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے اصل ذمہ دار پچاس ممتاز افراد ہیں۔ بیس کروڑ عوام نہیں اس آئینے میں وطن عزیز کی شکل بخوبی دیکھی جاسکتی ہے ۔
پاکستانی معیشت اس وقت 100ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی مالیاتی اداروں کے قرض کے بوجھ تلے سسک رہی ہے اس قرض کا پاکستانی عوم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں آئی ایم ایف کو محض سود کی مد میں 2ارب 10کروڑ ڈالر موجودہ حکومت کی طرف سے ادا کرنا پڑے ہیں جبکہ 3ارب کے لگ بھگ دیگر عالمی مہاجنوں کو دینا ہے لیکن کشکول توڑنے کے دعویٰ کے باوجود موجودہ حکومت قرض لینے پر تلی ہوئی ہے کہا یہ گیا کہ سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کی بناء پرملک چلانے کیلئے مزید قرضہ درکار تھا بجٹ کی منظوری ،جنرل سیلز ٹیکس کا عوام پر نفاذ ،اشیائے ضروریہ پر نئے ٹیکسوں کا نفاذ الغرض قومی میزانیئے میں شامل ہر شق کو عالمی مالیاتی ادارے کی خواہش پر قانون کا درجہ دے دیا گیا۔حکمرانی سے قبل موجودہ حکمرانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ قومی مفادات کے منافی کسی شرط پر آمادہ ہونے کی بجائے آئی ایم ایف کو ٹھوکر مار کر مذاکرات سے باہر نکل آئیں گے لیکن یہ محض الفاظ ہی ثابت ہوئے وقت مقررہ پر پچھلے قرضوں کی اقساط ادا کرنے کیلئے مزید قرضہ لینے پر اکتفا کیا گیا یہ حقیقت ہے کہ ہماری معیشت ان استحصالی اداروں کی ہیبت سے لرز رہی ہے ہماری معاشی پالیسیوں کا انحصار بھی براہ راست آئی ایم ایف جیسے استحصالی اداروں کی ڈکٹیشن پر ہے۔ 
سال 2000ء میں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے سربراہوں کو جو خط لکھا وہ گھمبیر اور کربناک ملکی معاشی صورت حال کا عکاس تھا انہوں نے لکھا کہ ’’میں یہ خط تشویش میں مبتلا بطورایک پاکستانی اور ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں پاکستان تحریک انصاف کے قیام کا مقصد پاکستان میں انصاف پر مبنی سیاسی ،معاشی اور سماجی ڈھانچہ قائم کرنا تھا میں اُن لاکھوں بیروز گار نوجوانوں مرد خواتین کی طرف سے یہ پیغام دے رہا ہوں جو باعزت زندگی گزارنے کیلئے اپنی تگ و دو میں مارے مارے پھر رہے ہیں میں اُن لاکھوں بزرگ شہریوں کی طرف سے لکھ رہا ہوں جن کے محض گزر اوقات کیلئے بھی وسائل موجود نہیں ہیں میں اُن لوگوں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کر رہا ہوں جو ہر طرف سے مایوس ہو چکے ہیں ۔میری فوری تشویش کا محور روز بڑھتے ہوئے قرض کا حجم ہے جس نے ہماری معیشت کو خطرے میں ڈال رکھا ہے قرض یا ادائیگی کے سلسلے میں جو قیمت ہمارا معاشرہ اقتصادی اور سماجی حوالے سے ادا کرنے پر مجبور ہے وہ فی الواقع بہت زیادہ ہے گزشتہ دو عشروں سے کم عرصہ میں بیرونی قرضوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں غربت بھی تین گنا بڑھی ہے پاکستان کی ایک تہائی آبادی پانچ کروڑ لوگ غربت کی انتہا تک پہنچ چکے ہیں انسانیت سے گری ہوئی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ‘‘
آج وطن عزیز کی معیشت تباہی کے جس دہانے پر پہنچ چکی ہے ان مالیاتی اداروں کے شکنجے سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے جو ہوگو شاویز نے اختیار کیالاطینی امریکہ کے ملک وینز ویلا کے مرحوم صدر ہوگو شاویز نے جو ایک محب وطن فرد تھا نے الیکشن جیتنے کے بعد تمام امریکی سامراجی ،سود خور اداروں کو اپنے ملک سے نکلنے کا حکم صادر فرمایا اور یہ کہہ کر قرض دینے سے انکار کر دیا کہ جتنا ہم نے تم لوگوں سے قرض لیا اُس سے تین گنا ہم ادا کر چکے ہیں چلو بھاگ جائو یہی پالیسی جب ہوگو شاویز نے اختیار کی تو وہ اپنے عوم کے دلوں میں ہیرو بن کر زندہ رہے اس وقت ہمارا قرض ملکی معیشت کا80فیصد ہے اور جب قرضہ کسی ملک کی معیشت کا 60فیصد سے اوپر ہو جائے تو وہ غیر قانونی ہو جاتا ہے ۔ ایک خوفناک شکل یہ ہے کہ ہمارے ملک کا ایک بااثر طبقہ اربوں روپے ڈکارے بیٹھا ہے ۔ایک دور کے تین سالوں کے خوفناک اعدادوشمار کو حقائق کی عینک سے دیکھتے ہیں تو95 ہزار حواریوں کی ایک فہرست نظرآتی ہے ۔
 شوکت عزیزنے اپنے چہیتے منظورنظر افراد کواربوں روپے کے قرضوں کااجراء کیا اورپھرانہیں بیک جنبش قلم معاف کردیا۔2005 تا 2007 کے دوران سرکاری بینکوں ،مالیاتی اداروں سے 14 ارب 91کروڑ93لاکھ 51ہزارروپے مالیت کے قرضے معاف کیے گئے ۔ غیرملکی قرضوں کا حجم  27ارب سے بڑھا کر 53ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ تین سالوں کے دوران صنعتی شعبے سے وابستہ 89 قرض دہندگان کو 8ارب57 کروڑ 61لاکھ 29ہزار کے قرضے معاف کیے گئے ۔یہ 89افراد ایسے تھے جو سابق حکمرانوں کے قریب تھے ۔اسی طرح تجارتی شعبہ سے وابستہ افراد پر نظردوڑائیں توسابقہ حکومت کے دورمیں چارسوقرض دہندگان نے تین ارب تیس کروڑبیاسی لاکھ بیس ہزارروپے کے قرضے معاف کروائے ۔زرعی شعبہ سے وابستہ سابق حکومت کے منظورنظرافراد کی ایک طویل فہرست پر نظرپڑتی ہے جن کی تعداد بیاسی ہزار چارسوبیالیس تھی ان کو تین ارب تین کروڑپچاس لاکھ دوہزارروپے کے قرضوں سے مبراقراردیاگیا۔
عوام کی زندگی اجیرن ہوتی گئی اور قرض معاف کرانے والے اپنے صنعتی ایمپائر کھڑے کرکے امیر سے امیر تر ہوتے گئے جب ہم 1971سے لیکر 2018کے دوران حکمرانوں کا نوشتہ دیوار پڑتے ہیں تو 256ارب روپے کی کثیر رقم ایسی ہے جو حکومت میں شامل سیاستدانوں اور بیوروکریسی کی نشست پر بیٹھے بابوئوں نے قرض لیکر بیک جنبش قلم معاف کرائی 2008سے لیکر 2016تک 167افراد ایسے تھے جنہوں نے 1ارب 57کروڑ کا قرض معاف کرایا پیپلز پارٹی کے آخری دور حکومت میں پیپلز پارٹی کی ایک خاتون نے بینکوں سے لئے گئے 84کروڑ کا قرض معاف کرایا جبکہ پی ٹی آئی کے ایک اہم عہدیدار نے جو سابقہ دور میں ایک اہم وزارت پر متمکن تھا ،نے 86کروڑ کے قرض معاف کرائے۔ ن لیگ کی حکومت نے 2013سے 2016کے دوران 280ارب روپے کے قرضے منظور نظر افراد کو معاف کئے ۔ نوشتہ دیوار پڑھیے کہ حالات کاذمہ دارکون ہے ؟۔
وطن عزیز کی حالت یہ ہے کہ سات کروڑبیس لاکھ افراد صاف پانی کی نعمت ،سیوریج نکاسی ٔ آب اورصفائی کی سہولت سے محروم ہیں ۔ نجکاری کے بھیانک کھیل ہی کو لیں نجکاری کمیشن نے 12 کھرب 81 ارب 99کروڑ86لاکھ روپے سٹیٹ بینک کے ذاتی اکائونٹ میں جمع کرائے اورپارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر 2 ارب92کروڑروپے غیرضروری اخراجات پرخرچ کرلیے گئے جبکہ یہ رقم فیڈرل کنسولیڈیٹ میں جمع کرانی تھی جس کا 90 فیصد حصہ ملک کے قرض اتارنے اورایک فیصد غربت مکائو مہم پرخرچ ہوناتھا۔پنشن اکائونٹس سے بھاری رقم نکلوائی گئی۔
2007کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں 5.316 ارب کے اندرونی قرضوں کا بوجھ بڑھا جبکہ 18.95ارب ڈالر کا بیرونی قرض لیا گیا اسی طرح ن لیگ کی حکومت آئی تو اندرون ِ ملک قرضہ 18.778ارب ڈالر جبکہ بیرونی قرضہ 16.78ارب ڈالر تک گیا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جولائی 2018سے جون 2019تک 4.113 ارب اندرونی اور 3.21ارب ڈالر بیرونی قرضہ لیا ۔ 
عام آدمی مہنگائی ،گرانی کی چکی کے دوپاٹوں میں پس کرزندگی سے فرارحاصل کررہاہے ۔اس لوٹ مار اورمہنگائی نے نہ صرف عام آدمی کاامن اورسکون چھیناہے بلکہ ہردوسراشخص ڈپریشن کاشکار ہے اوریہ تحفے سابقہ حکومتوں کے بخشے ہوئے ہیں اور اس روش پر موجودہ حکومت بھی چل رہی ہے ۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اگرموجودہ حکومت نے عام آدمی کو کچھ نہ دیاتوحالات انقلاب کی طرف گامزن ہیں گندم کی قیمتیں اُن افراد کے کہنے پربڑھائی جاتی ہیں جن کے رقبوں کی حدود کااختتام نہیں ہوتااوراُنہوں نے یہ رقبے انگریزوں کے کتے نہلاکرحاصل کیے یاپھرناجائز طریقوں سے ہتھیائے جوشخص تمام دن مزدوری کابوجھ اٹھاکر جون اورجولائی کی گرمی میں سسکتاہے تڑپتاہے وہ مہنگے داموں گندم کی بوری کیسے خریدسکے گااورایسے افراد کی تعداد90فیصدہے ۔یہی مافیا ہے جس نے آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرکے مال کمایا اور اسی مافیا نے چینی کے منہ مانگے دام کھرے کئے ۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

           کوویڈ ۔19کا عذاب بدستور دنیا کے سر پر منڈلا رہا ہے ، یہ وہ وبا ء ہے جس نے دنیا کی ترقی کا راز ایسے ا فشا کیا کہ ہر ملک اور ہر طاقت کو اپنی صلاحیت نظر آ گئی ،    

مزید پڑھیں

آپ کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں یا سمارٹ فون آپکی ہر ای میل، میسج، چیٹ، لوکیشن، حرکات و سکنات پوری کی پوری گوگل اور فیس بک کے پاس ذخیرہ ہو رہی ہیں حتیٰ کہ جو معلومات آپ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں ،    

مزید پڑھیں

 چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے دنیا کو ہلاکررکھ دیا ہے۔ اس مہلک مرض کے باعث دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 8 لاکھ کے قریب ہوچکی ہے اور اس تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔    

مزید پڑھیں