☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر اسرار احمد) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غور و طلب(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(ڈاکٹر محمد نوید ازہر) متفرق(ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا دلچسپ رپورٹ(خالد نجیب خان) زراعت(صابر بخاری) سپیشل رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) کھیل(منصور علی بیگ) طب(حکیم نیازاحمد ڈیال) تعلیم(عرفان طالب) صحت(نغمہ اقتدار) سیاحت(وقار احمد ملک)
جب کوویڈ ۔19نے حملہ کیا ۔۔۔۔

جب کوویڈ ۔19نے حملہ کیا ۔۔۔۔

تحریر : سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد

05-03-2020

           کوویڈ ۔19کا عذاب بدستور دنیا کے سر پر منڈلا رہا ہے ، یہ وہ وبا ء ہے جس نے دنیا کی ترقی کا راز ایسے ا فشا کیا کہ ہر ملک اور ہر طاقت کو اپنی صلاحیت نظر آ گئی ،
 

 

سپر پاور بن کر دنیا پر اپنی دھونس جتانے والا امریکہ بھی اس وائرس کے ہاتھوں انتہائی بے بس نظر آرہا ہے کہ اس کا تصور بھی اس نے کبھی نہ کیا  ہوگا ۔ترقی یافتہ ملکوں کے حالات سے اندازہ ہو تا ہے کہ ان کو قدرت خداوندی کا تو کچھ ادارک ہی نہیں تھا ۔یہ خدائی طاقت سے بے خبر بس اپنی ترقی کے نشے میں ہی ایسے مگن تھے کہ باقی سب کچھ ہی بھلا بیٹھے تھے ، جب کوویڈ ۔19نے ان کی ترقی کی قلعی کھولی تو انہیں احساس ہوا ہو گا کہ انہیں جو کرنا چاہیے تھا وہ تو انہوں نے کیا ہی نہیں ، یعنی دنیا کی تباہی کے سامان تو بہت کیے مگر یہ سوچا ہی نہیں کہ اگر کسی وائرس کی صورت میں ان پر کوئی قدرتی آفت نازل ہوئی تو اس سے کیسے بچنا ہو گا، اپنے عوام کو کیسے تحفظ فراہم کرنا ہو گا ،کوویڈ ۔19نے جب حملہ کیا تو پتہ چلا کہ امریکہ اور چین جیسے ملکوں کے پاس بھی نہ تو مناسب ہسپتال ہیں اور نہ ہی ضروری طبی آلات بلکہ کورونا سے بچائو کی ویکسین تک دستیاب نہیں ، اگرچہ مختلف حوالوں سے کورونا کا تذکرہ تو سننے میں آتا رہا لیکن شاید دنیا کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس نام کا کوئی عذاب کبھی اس پر مسلط ہو سکتا ہے جبھی تو کسی نے اس کے مقابلے کی تیاری ہی نہیں کی ۔ یہی وجہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں اس مرض سے مرنے والوں کی تعدادسینکٹروں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچ چکی ہے خود امریکہ میں اب تک پچپن سے 60ہزار ہلاکتوں کا فگر سامنے آچکا ہے ۔ لاکھوں کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ مرنے والوں کی بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو کہیں رپورٹ ہی نہیں ہوئی بلکہ کوئی بھی حکومت اپنے ہاں مرنے والوں کی صحیح تعداد بتانے کو تیار ہی نہیں۔ ماہرین ہیں کہ ابھی تک ویکسین ہی تیار کرنے میں مصروف ہے ، اس حوالے سے سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن تاحال اس کا کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا نہ ہی کوئی اس حقیقت کو جان سکا کہ اس بیماری سے چھٹکارا کب تک حاصل ہو گا ۔ اس صورتحال میں دنیا میں جو شخصیت سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آئی ہے وزیر اعظم عمران خان کی ہے جن کی انتظامی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے اور یہ کہا جا رہاہے کہ چین کے بعد جس ملک نے اس بیماری کو سب سے بہتر انداز سے ہینڈل کیا وہ پاکستان ہے جہاں اب تک مرنے والوں کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔ ان کی دن رات کی کوششوں کی وجہ سے نہ صرف صحت کی سہولیات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس حوالے سے معاشی و اقتصادی بحران کو بھی بہتر انداز سے کنٹرول کرنے کیلئے کئی اقدامات بروے کار لائے جا رہے ہیں ، صحت کی سہولیات میں بہتری کیلئے چین کا پاکستان کے ساتھ تعاون مثالی ہے جس نے فنی اور انسانی وسائل کی دل کھول کر فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے گذشتہ ہفتے اس کی جانب سے ڈاکٹر وں کی اعلیٰ سطح کی ایک اور ٹیم طبی آلات اور سازو سامان سے لدھے 2ہوائی جہازوں کے ہمراہ پاکستان پہنچی ۔ یہ ٹیم 2ماہ تک یہاں قیام کر کے علاج معالجے کے سلسلے میں پاکستانی ڈاکٹروں اور ماہرین کی رہنمائی کرے گی اور ان کو تربیت بھی فراہم کرے گی ۔ پاکستان وہ ملک ہے جس کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے ، ترقی پذیر ہونے کی وجہ سے یہاں غربت بھی بہت زیادہ ہے ۔ کوویڈ ۔19سے لڑنے میں جن ملکوں کو سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے ان میں یہی غریب ملک شامل ہیں ، جن کے وسائل میں اضافہ پوری دنیا کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اپنے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس بیماری کے ہاتھو ں مرنے سے بچا سکیں۔ اس سلسلے میں جب بڑے ممالک نے چھوٹے اور غریب ممالک کو دئیے ہوئے قرضوں میں ریلیف کا اعلان کیا تو وزیر اعظم عمران خان نے اس کو یقینی بنانے کیلئے سرگرم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں جی ۔ 20اور آئی ایم ایف کی جانب سے اس ریلیف کی فراہمی کا اعلان کر دیا گیا ، اس میں بے حد غریب ممالک کے تو قرضوں کی معافی کی گنجائش رکھی گئی جبکہ پاکستان سمیت وہ ملک جن کی معاشی حالت نسبتا ً بہتر سے ان کو قرضوں کی واپسی میں ریلیف کا اعلان کر کے کوویڈ ۔ 19کے مقابلے کیلئے مالی وسائل میں اضافہ کیا گیا ۔ یہ وہ اقدام تھا جس نے ہماری حکومت کواس بیماری کے مقابلے کی کوششوں کو بڑا سہارا فراہم کیا لیکن یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رکتا بلکہ حکومت کی کارکردگی اور اس کی کمٹمنٹ کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی اس سلسلے میں اور بھی بڑھ چڑھ کر امداد کر رہی ہے ، یہ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی موجودہ قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے جس کا سہرا وزیر اعظم عمران خان کو جا تا ہے جنہوں نے اس مسئلے پر سول اور فوجی قیادت کو اکٹھا کر دیا اور اب یہ دونوں قوتیں مل کر نہایت بہتر انداز سے قومی خدمت کر رہی ہیں ، بہتر ہو گا کہ وزیر اعظم اس معاملے پر اپوزیشن کو بھی اپنے ساتھ ملا لیں ، جو بار بار حکومت کو اپنے تعاون کی پیشکش کر رہی ہے لیکن یہ وزیر اعظم ہی ہیں جو اس معاملے میں تنگ دلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، اگر وہ اس معاملے پر فراخدلی دکھائیں تو ملک کاسیاسی ما حول بھی بہتر ہو سکتا ہے حکومت کی انتظامی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے جہاں تک پاکستان کو ملنے والی بیرونی امداد کا تعلق ہے تو اس میں سب سے پہلے آئی ایم یف کی جانب سے پاکستان کو1 ارب 40 کروڑ ڈالرز کاقرضہ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا جو صرف کورونا سے نمٹنے کیلئے ہے ۔ یہ رقم بھی پاکستان کو فراہم بھی کر دی گئی ہے ۔ ایشائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بھی پاکستان کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 272ارب روپے کی فراہمی کا اعلان کیا جا چکا ہے جبکہ عالمی بینک سے ملنے والی رقم اس کے علاوہ ہے، اس کے بعد سعودی عرب نے بھی خاطر خواہ مدد کی فراہمی کا اعلان کیا ۔یہی نہیں بلکہ برطانیہ کی جانب سے 26لاکھ70 ہزار پائونڈز جن کی پاکستانی روپوں میں مالیت54کروڑ 33 لاکھ 45ہزار روپے ہے ، امریکہ نے 84لاکھ ڈالرز اور جاپان نے 2ارب 50کروڑ روپے کی امداد پاکستان کو دینے کا اعلان کیا ہے ،اس صورتحال میں پاکستان کورونا کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے بہتر پوزیشن پر آ گیا ہے ۔ ہمارے ذرائع کے مطابق یہ سلسلہ اب یہیں پر رکنے والا نہیں بلکہ اس صورتحال جس میں عالمی تائید وحمایت پاکستان کے ساتھ ہے حکومت نے ملک کی معاشی مشکلات کے خاتمے کیلئے مزید آگے جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ہم پر عائد بیرونی قرضوں کی معافی جو ہم پر ایک بڑا بوجھ بنے ہوئے ہیں وقتی طور پر تو ہمیں ان کی قسطوں کی ادائیگی میں ایک سال کا ریلیف مل گیا ہے ، لیکن جب ایک سال بعد ان کی واپسی کا آغاز ہو گا تو یہ پھرہمارے لیے مشکل صورتحال پیدا کریں گے ۔ لہٰذا اب پاکستان پیرس کلب اور نان پیرس کلب کے رکن ممالک اور جی ٹونٹی ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاشی قرضوں کی ادائیگی مؤخر کرنے یا ان قرضوں کو ترقیاتی امداد میں تبدیل کرنے  یا ان پر سود معاف کروانے اور اصل رقم آسان قسطوں میں ادا کرنے کے کیلئے انفرادی طور پر رابطے کرے گا کیونکہ پاکستان قرضوں میں بری طرح دبے ہوئے ان25 ممالک میں شامل نہیں تھا جنہیں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے مشترکہ اجلاس میں قرضوں کی ادائیگی میں زیادہ ریلیف فراہم کیا گیا ہے لہٰذا اب پاکستان دو طرفہ قرضوں پر رعایت کیلئے ان ممالک سے انفرادی طور پر رابطے شروع کرے گا اس وقت پاکستان کے ذمے واجب الادا دوطرفہ قرضوں میں پیرس کلب کے رکن ممالک کے کمرشل بینکوں کے واجب الادا قرضے 1ارب 70کروڑ ڈالر ہیں جن میں کینیڈا6کروڑ80لاکھ ڈالرز،فرانس46کروڑ60لاکھ ڈالرز، جرمنی 24کروڑ 10لاکھ ڈالرز،جاپان 1ارب ڈالرز، کوریا13 کروڑ 60لاکھ ڈالرز، امریکہ29کروڑ10لاکھ ڈالرز،آسٹریا10لاکھ ڈالرز،بلجیئم 80لاکھ ڈالرز،اٹلی1کروڑ50لاکھ ڈالر، کوریا13 کروڑ 80لاکھ ڈالرز،  روس2کروڑ50لاکھ ڈالرز شامل ہیں جبکہ نان پیرس کلب کے رکن ممالک جن کے قرضے پاکستان کے ذمے واجب الادا ہیں ان میں چین 7ارب69کروڑ80لاکھ ڈالرز، سعودی عرب5ارب 28کروڑ80لاکھ ڈالرز،  متحدہ عرب امارات 2 ارب ڈالر شامل ہیں ۔ پاکستان کو ان قرضوں میں کچھ ریلیف ملنے کی امید ہے اسی امید کومدنظر رکھتے ہوئے پاکستان دنیا کے 8 بڑے صنعتی اور ترقی یافتہ ممالک (جی۔20)کی فہرست میں یورپی یونین کے علاوہ دیگر 19ممالک میں ارجنٹینا ، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، انڈیا، اندونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو،جنوبی کوریا، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی ، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں کی جانب سے غریب ممالک کو دئیے گئے دو طرفہ قرضوں کو معاشی یا ترقیاتی امداد میں تبدیل کرنے یا ان پر سود معاف کر کے ان کی اصل رقم موخر ادائیگی کی بنیاد پر ادا کرنے جیسی سہولت پر ان سے انفرادی طور پر رابطے کئے جائیں گے۔یہ بھی حکومت کی صلاحیتوں کا امتحان ہو گا ، اگر حکومتی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کو اس طرح کا کوئی ریلیف ملتا ہے تو یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہو گی اور ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہو گا اور یہ یقینا ایک اچھے سفر کا آغاز ہو گا ۔ لیکن اس میں کتنا وقت لگے گا اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے ، لیکن اتنا ضرور ہے کہ جب یہ رقم ملکی ترقی اور عوام پر خرچ ہو گی تو جس کے نتیجے میں مشکلات کم ہو ں گی جو لوگ اس وقت مہنگائی اور بے روز گاری کی چکی میں پس رہے ہیں ان کی حالت کو سدھارنے میں نئے مواقعے پیدا ہوں گے ۔ وزیر اعظم عمران خان جو ایک طرف صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے اور کورونا کو شکست دینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں وہیں ان کو اس وبا ء سے متاثر ہونے والی غریب عوام کی بھی بے حد فکر ہے ۔انہوں نے احساس پروگرام کے تحت ان لوگوں کی مدد کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کو محترمہ ثانیہ نشتر نہایت کامیابی سے آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔اس پروگرام کے تحت فوری کیش کے ذریعے12ہزار روپے کی امداد غریب کو دی جا رہی ہے ۔ مشکل کی اس گھڑی میں غریب کیلئے یہ 12ہزار کی رقم بھی بہت بڑا سہارا ہے ۔جبکہ غریب اور متوسط طبقے کیلئے ہمارے مخیر حضرات کی جانب سے امدادی سرگرمیاں اس کے علاوہ ہیں ۔ یہی پاکستانی معاشرے کی خوبصورتی اور پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔

 
 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ایک قلاش کلرک تھرڈ کلاس ہوٹل میں بیٹھا اپنے دوستوں سے یہ کہہ رہا تھا یارو ! ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی ہمارے ملک کے اُمراء ،روساء ،نام نہاد سیاست دان ،بیوروکریٹس بنکوں سے کروڑوں روپے لیکر معاف کرا لیتے ہیں    

مزید پڑھیں

آپ کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں یا سمارٹ فون آپکی ہر ای میل، میسج، چیٹ، لوکیشن، حرکات و سکنات پوری کی پوری گوگل اور فیس بک کے پاس ذخیرہ ہو رہی ہیں حتیٰ کہ جو معلومات آپ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں ،    

مزید پڑھیں

 چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے دنیا کو ہلاکررکھ دیا ہے۔ اس مہلک مرض کے باعث دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 8 لاکھ کے قریب ہوچکی ہے اور اس تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔    

مزید پڑھیں