☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
امریکہ میں پاکستانی ٹرک ڈرائیور کا مقدمہ

امریکہ میں پاکستانی ٹرک ڈرائیور کا مقدمہ

تحریر : صہیب مرغوب

04-14-2019

کہتے ہیںدور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں مگر یہ محاورہ پرویز منظور خان پر پورا نہیں اترتا۔دور کے’’ ڈھولوں‘‘ نے اس کی زندگی کے 28قیمتی برس چھین لئے ،جن کے لئے دن رات ایک کیا،وہی اس کی شناخت کے درپے ہیں،اب اس سے اس کی شناخت چھیننے پر کام ہو رہا ہے۔اس سے امریکی شہریت واپس لینے کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔62سالہ پرویز خان اپنی پوری جوانی امریکہ میں گنوابیٹھامگر سب لاحاصل ۔

7دسمبر 1991ء کوروشن مستقبل کی تلاش میںپاکستان سے امریکہ جانے والا پرویز منظور خان اامریکہ میں قدم رکھنے کے بعد سے قانون کی گرفت میں ہے۔امریکی ہوائی اڈے پر اترنے کے بعداسے جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ان پڑھ پرویز منظور قانون کو کیا جانے۔ پھنس گیا شکنجے میں۔بڑی مشکل سے رہائی ملی تو1992ء میں امریکی عدالت برائے امیگریشن نے بے دخلی کے احکامات جاری کر دئیے۔ اسے یہ احکامات نہیں ملے ، وکیل نے بتایا نہ ہی عدالت نے،محکمہ امیگریشن بھی خاموش رہا۔اس لاعلمی میں پرویز منظور خان نے گھر بھی بسا لیا،شادی کی اور امریکی بچوں کا باپ ہے۔ اس کے بچوں کی بھی شادیاں ہوچکی ہیں ،

وہ بچوں کے بچوں کی خوشیاں بھی دیکھ رہا ہے۔جو شائد ’’خاک میں ملنے ‘‘والی ہیں۔ امریکہ میں رہ کربھی ان کے دن نہیں بدلے۔باپ کی طرح بچے بھی غریب اورزیور تعلیم سے محروم تھے، امریکی معاشرے میں انہیں سر چھپانے کو چھت تو مہیا کی مگر کھانے کو پوری روٹی نہ مل سکی۔ تین معصوم، بھولے بھالے ،کم سن پوتوں کی کفالت بھی دادا کے ہی ذمے ہے۔

کچھ باتوں میں وہ اپنے دادا پرگئے ہیں۔اعلیٰ زیور تعلیم سے وہ بھی محروم ہیں۔ روایتی تعلیم وہاں اس کے پوتوں کو بھی ٹرک ڈرائیوری سے آگے کوئی نوکری دلوانے کے قابل نہیں۔عین باپ اور داد اکی طرح یہ بچے بھی کٹھن زندگی کے لئے تیار ہیں۔ان کی آنکھوں میں چمک اور روشنی ہے ، مستقبل کی جھلک ہے مگر بہت دھندلی سی ۔یہاں ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ امریکی عوام پرویز منظورکے ساتھ ہیں،ان کے دل پرویز کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے وہ اچھی طرح واقف ہیں۔اسی لئے سب کی نظریں اس کی بے دخلی کے لئے دائر کردہ ٹرمپ انتظامیہ کے نئے مقدمے کی کارروائی پر لگی ہیں۔ اگر پرویز منظور خان کیس ہار گیا تو 7لاکھ سے زائد امیگرنٹس کو ملک بدر کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔امریکہ محکمہ انصاف نے سات لاکھ امیگرنٹس کی بے دخلی کے لیے آپریشن جانوس (Operation Janus) شروع کررکھا ہے ۔

مسلمان اور پاکستانی اس پروگرام کا خاص نشانہ ہیں ۔امریکی محکمہ انصاف نے جب ہر شخص کے انگوٹھوںکی شناخت کا عمل شروع کیا تو 3.15 لاکھ افراد کے فنگر پرنٹس کا کوئی ریکارڈ نہ ملا۔یہ فہرست بڑھتے بڑھتے سات لاکھ تک پہنچ گئی ۔ مشینی دورمیں پرویز منظور خان اور اس جیسے سات لاکھ سے زائد امیگرنٹس امریکی معاشرے میں غیر ضروری ہو چکے ہیں۔ امیگرنٹس کوملک بدر کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کررہی ہے۔کروڑوںفائلوں پر کام کررہاہے،ایک ایک لفظ پڑتال کی چھلنی سے گزر رہا ہے۔امریکہ انتظامیہ کا خیال تھا کہ یہ افراد پل بھرمیں بے دخل ہوجائیں گے ، مگر جج نے اسے مشکل بنا دیاہے۔

سپریم کورٹ نے بھی حکم دیا کہ فوجداری مقدمات کا معیار مناسب شک وشبہ سے بالاتر ہونا چاہئے ،ایسا نہ ہونے کی صورت میں فیصلہ مجرم کے خلاف نہیں دیا جاسکتا۔ان آبزرویشنز کے باوجود سب کی نظریں اس لینڈ مارک مقدمے پر جمی ہوئی ہیں۔ جس کے اثرات سات لاکھ کیسوں پر پڑ سکتے ہیں۔ محکمہ ہوم لینڈسیکورٹی آفس کے انسپکٹر جنرل نے 2016ء میں وجلیندر سنگھ اورراشد محمودکے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کی اجازت دی ۔ راشد محمود کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ان دونوں نے مختلف ناموں پر امریکی شہریت حاصل کی۔ دونوں کو امریکی شہریت سے محروم کردیا گیا ۔یہ دونوں کیس مثال نہیں بن سکتے کیونکہ انہوں نے فیصلوں کو چیلنج نہیں کیا۔امیگرنٹس کروڑوںای میلز، کاغذات اور دوسرا ڈیٹا چیک کیا،بوسیدہ ریکارڈ کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

پرویز منظور خان کی کہانی کچھ یوں ہے، پرویز منظورخان کا بھائی سہیل خان1986ء میں ایک سیاح کے طورپر امریکہ میں داخل ہوا،واپسی کا دل نہ چاہا اور امریکی قانون دانوں کی مدد سے اس نے وہیں شہریت حاصل کر لی۔ فلوریڈا کو مسکن بنانے والا اپنے خاندان کا وہ پہلا پاکستانی تھا ۔ پانچ سال بعد،1991ء میںاس کے بھائی پرویز منظور خان نے بھی امریکہ کارخت سفر باندھا۔اسے امریکی ہوائی اڈے پر ہی دھر لیا گیا۔

ایک تو انگریزی اس کے پلے نہ پڑتی تھی ،دوسرے وہ بھولا ،سچا اور کھرا آدمی تھا ، امریکی افسر کے سامنے مان گیا کہ وہ محمد اختر نامی شخص کے پاسپورٹ پر فوٹو چینج(PC) کے ذریعہ امریکہ میں داخل ہواہے۔ ان دنوںامریکی ویزوں سے محروم افراد ’’ فوٹو چینج‘‘( تصویر تبدیل) کے ذریعے ہی امریکہ میں داخل ہوتے تھے ۔ویزہ کسی کا لگتا تھا، جاتا کوئی اور تھا،جعل ساز پاسپورٹ پر تصویر تبدیل کر کے دوسروں کو بھجوا دیا کرتے تھے۔پرویز منظور کی امریکہ جانے کی خواہش تو پوری ہو گئی ،مگروہ وقت اور آج کا وقت،وہ ہر لمحہ، ہر لحظہ قانون کی چکی میں پس رہا ہے۔

ویزا جعلی ماننے پر امیگریشن افسر نے اسے جیل بھیج دیا۔ جیل میں اس کی ملاقات ہارورڈ جارج جانسن(Howard George Johnson) نامی شخص سے ہوئی ۔بہت پائے کا وکیل تھا،قانون کے سب ہی گرسے واقف تھا۔دونوں میں کمیونیکیشن گیپ تھا۔

جارج جانسن اردو سے نا واقف تھا اور پرویز کو انگریزی زبان کی سوجھ بوجھ نہ تھی۔امیگریشن افسر نے ریکارڈ میں لکھا کہ ’’سائل انگریزی زبان سے نا واقف تھا اس لئے بیان ہی نہیں لیاجاسکا ‘‘۔پرویزمنظور خان اپنے وکیل کوبتاتا کچھ تھاجبکہ گورا سمجھتا کچھ اورتھا۔گورے نے سیاسی پناہ کے کاغذات میں تاریخ پیدائش بھی غلط درج کروا دی تھی۔اسے ڈھائی ہزار پاؤنڈ کی ضمانت پر رہاکردیاگیا۔ ضمانت کی رقم سہیل خان نے وکیل جارج جانسن کو بھجوا دی۔

رہائی کے بعد پرویز منظور اپنے بھائی سہیل خان کے پاس میامی پہنچ گیا۔اس کے چند مہینوں بعد26 فروری 1992ء کو امیگریشن کورٹ نے پرویز منظور کی بے دخلی کے احکامات جاری کر دئیے جو اسے نہ مل سکے۔1997ء میں پرویز منظور کی ملاقات بیٹی لوئس پوپ (Betty Louise Pope)سے ہوئی ۔ایک برس کی شناسائی کے بعدجنوری 1998ء میں دونوں نے شریک سفر بننے کا فیصلہ کیا۔ شادی کے ایک ہفتے بعد پرویز منظور نے گرین گارڈ کے اجراء کی درخواست دی۔ چار سال بعد نومبر2001میں اسے مستقل رہائشی کا درجہ دے دیا گیا۔ شہریت 2006ء میں ملی ۔

گزشتہ دنوںعدالت میںحکومتی قانون دانوں نے ایک ہی دلیل پیش کی کہ پرویز منظور خان نے 1992ء میں غیر قانونی طور پرداخلے کا اعتراف کیاتھا ،اس نے یہ حقائق 2006ء میں امیگریشن افسر سے چھپائے اس لئے اسے ملک بدر کیا جائے۔امریکی انتظامیہ نے امیگریشن افسر کو بھی اپنا گواہ بنا رکھا ہے۔اس کا دوسرا گواہ پرویز منظور خان خود ہے،جو عدالت میں یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ 1991ء میں کسی اور کے پاسپورٹ پر امریکہ میں داخل ہوا تھا۔وہ لاکھ کہتا ہے کہ اسے انگریزی زبان نہیںآتی، اس نے بار بار مترجم مانگا جو نہیں ملا۔ امیگریشن افسر نے جو پوچھا وہ اس نے سچ سچ بتا دیا جو کچھ افسر نے نہیں پوچھا ،وہ نہیں بتا سکا۔ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔

پرویز منظور خان کے وکیل کی دلیل ہے کہ 20 سال پرانا آرڈر اس تک پہنچا ہی نہیں اسلئے عمل درآمد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب وہ شادی کے بندھن میں بھی بندھ چکے ہیں،بیٹوں کا باپ اور پوتوں کا داد بن چکا، اب پرانے فیصلے کے تحت اس خاندان کو نہیں توڑا جا سکتا ۔اس کی بیوی بھی کمرہ عدالت میں دوپٹہ اوڑھے موجود ہوتی ہے۔ اسے اپنے بیٹوں اور پوتوں کی فکرہے ۔ سب لوگ یہی سوچ رہے ہیں کہ اگرخطا وار نظام انصاف ہو تو کیا سزا پرویز منظور کوملنا چاہئے ؟یہ بات ہر زبان پر ہے۔

یہ تاریخ کے ان چند کیسوں میں سے ایک ہے جسے سننے امریکی یونیورسٹیوں کے پروفیسرصاحبان بھی کبھی کبھی موجود ہوتے ہیں۔پروفیسر امندا فراسٹ بھی عدالت میں آتی ہیں ۔ان کی دلچسپی حکومت سے زیادہ امیگرنٹس اوران کے حقوق میں ہے ۔ وہ یہ جانناچاہتی ہیں کہ حکومت اپنی غلطی کی سزا کسی اور کو کسی طرح دے سکتی ہے۔ دوعشرے قدیم فیصلے کو اب کس طرح نافذ کیا جا سکتا ہے؟ پرفیسر امنڈا کی دلچسپی محکمہ قانون کے دلائل میں نہیں ، وہ بدلتے ہوئے قوانین کوسمجھنے عدالت میں موجود ہیںتاکہ طالبعلموں کواسی ماحول میں سمجھا سکیں ۔

یو ایس میجسٹریٹ جج پیٹریشیا بارکس ڈیل(Patricia Barksdale) نے فروری 2019ء میں حکم جاری کیا کہ دونوں فریقین باہمی گفت وشنید کے ذریعہ حل معاملہ حل کر لیں،کیونکہ جب 1991ء میں امریکی انتظامیہ نے اسے گرفتارکیا تو اس نے سیاسی پناہ کی درخواست دی۔ امریکہ نے اسے سیاسی پناہ دی یا نہیں، اسے کسی نے نہیں بتایا ۔ اصل نقطہ یہ ہے کہ اس نے قانونی شکنی دانستہ طورپر کی یا ایسا سہواََہوا ۔انہوں نے لکھا کہ’’ فیصلہ سنانا ضروری نہیں ،فیصلے کا فریقین تک پہنچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوںنے یہ بھی لکھا کہ پرویز منظورخان کو امریکہ میں غیر قانونی قیام کو تسلیم کرتا ہے۔

مگر اس کا کیس اس سے کچھ زیادہ ہے ۔ زبان کے معاملات مقدمہ کو سمجھنے میں رکاٹ بنے ،شہریت دینے والی امریکی افسر نے انٹر ویو کرتے وقت لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔اسی لیے اب یہ مقدمہ عدالت سنے گی‘‘ ۔جج نے لکھا کہ قانون سے ناواقفیت اور انٹرویو کرنے والے کی کوتاہی کی سزا پرویز منظورخان کو دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اس سوال نے امریکی انتظامیہ کے لیے مشکل پیداکردی ہے ۔آبزرویشنز سے امریکی انتظامیہ میں کھلبلی مچی ہے ۔وکلاء کے خیال میں کیس کافی جاندار ہے۔ا دھر پرویز منظورخان کی وکیل سرائن شبیانہ مسلمان قانون دان ہیں۔انہوں نے کیس کے بارے میں حکومت سے تمام تفصیلات طلب کی ہیں ،لیکن حکومت انہیں صورتحال سے آگاہ کرنے پر آمادہ نہیں۔

محکمہ انصاف کے وکیل آرون پیٹی (Aaron Petty)اور ٹموتی بیلسن (Timothy Belsan)ہیں۔لیزا پیڈیشیا (Lisa Pellechia)امیگریشن سروس کی افسر تھیں۔یہ وہی افسر ہیں جنہوں نے 2006ء میں شہریت دینے کے لیے پرویز منظور کان کا انٹرویو کیاتھامگر کئی نکتے چھوڑ گئیں۔پرویز منظور خان کی وکالت جیمز لاوگنے (James LaVigne)اور جوزف میک فار لینڈ (Joseph McFarland) کر رہے ہیں۔استغاثۃ نے پرویزمنظورخان اور اس کی شریک حیات بیٹی لوئس پوپ (Betty Louise Pope)کو ہی گواہ بنایا ہے،حالانکہ امریکی قوانین کے مطابق کسی شخص کو بھی خود کے اپنے خلاف گواہی دینے پر مجبور نہیں کیاجا سکتا۔ امریکی محکمہ انصاف کا موقف کچھ یوں ہے کہ ’’یہ لوگ اچھے اخلاق کے مالک نہیں۔

جھوٹ بول کر شہرت حاصل کرنیوالا سچا آدمی کیسے ہوسکتاہے ؟اس نے دانستہ طورپر 2006ء غلط بیانی سے کام لیا ۔ 1992ء میں دیا جانے والابے دخلی کا فیصلہ اس کے علم میں تھا۔ 1991ء میں اس کے فنگر پرنٹس جدید نظام سے منسلک نہیں کئے گئے تھے لہٰذا انٹرویو کرنے والے کو اس کے سابقہ ریکارڈ سے آگاہی حاصل نہیں ہوئی ۔شہریت سے محروم کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ نے فوجداری مقدمات قائم کیے ہیں۔ لاس اینجلس میں مقیم لوگوں کو نکالنے کے لیے امریکی انتظامیہ نے وہاں خصوصی دفتر قائم کردیاہے۔

پرویز نے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا کہ وہ سچاکھرا آدمی ہے شہریت کی حصول کی خاطر جھوٹ بولا نہ بول سکتاہے ۔امیگریشن انتظامیہ نے اسے مترجم خدمات مہیا نہیں کیں۔وہ صرف اردو یا پنجابی بول سکتاہے ۔ ریکار ڈ میں یہ بیان درج ہے اس نے ہارورڈ جارج جانسن کو بھی اپنی اسی کمزور ی سے آگاہ کیا مگر ہارورڈ اردو سے نا واقف تھا ۔ہارورڈ نے جو درخواست سیاسی پناہ کے لیے داخل کروائی اس میں بھی بے تحاشہ غلطیاں تھیں حتیٰ کہ اس کی ماں کا نام بھی غلط تھا ۔اس نے بتایا کہ وکیل نے اسے جیسا کرنے کو کہا ،اس نے ویسا ہی کیا۔

جانسن نے اسے مقدمہ کی کارروائی سے آگاہ نہیں کیا نہ ہی اسے عدالتی کاروائی سے آگاہ کیا چنانچہ جنوری 1992میں اسے رہاکردیاگیا۔مگر جانسن اس دنیا میں نہیں ۔کئی بر س پہلے وہ وفات پاچکا۔بے دخلی چھپانے پر کیلیفورنیا بارنے 1998میں جانسن کی رکنیت معطل کردی تھی۔ تازہ مقدمہ میں پرویز نے یہ ہی نقطہ اٹھایا کہ اگر جانسن اسے بتادیتا تو وہ ملک سے نکل جاتا ۔مگر اسے بے دخلی اورفیصلے کا علم نہ تھا۔وہ اپنے خاندا ن کا واحد کفیل ہے ۔

اس کے پوتوں کی عمریں دو،چار اور چھ سال ہیں۔بیوی لوئس نے اسی لئے حلفیہ بیان میں اپنے خاندان کی مشکلا ت کا ذکر کیاہے۔ اس کے بغیرروزی روٹی کمانا مشکل ہوگا ۔محکمہ انصاف نے اس کی گواہی کو غیر متعلقہ کہہ کر ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی استدعا کی ہے ۔تاہم امریکن یونیورسٹی کے لو پروفیسرپارچ ڈیل کے مطابق کیس کا اس سے تعلق ہو یا نہ ہو ،امریکی حکومت کو بے دخلی کا فیصلہ کرتے وقت اسے پیش نظر رکھنا چاہیے ۔

جج نے سہیل خان سے امریکہ میں غیر قانونی طورپر داخلے کا سیدھا سوال کیا۔ پرویز خان نے بھی امریکہ میں داخلے اور لوئس سے اپنی شادی کے بارے میں جو حقیقت تھی کہہ ڈالی ۔ وکیلوں کے توسط سے پرویز خان نے شادی کے بار ے میں بتایا۔عدالت یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ یہ شادی سٹیزن شپ کے لیے ہوئی یا نہیں۔ اس کا فیصلہ عدالت نے کرناہے ۔۔اس موقع پر سہیل خان سے اس کی ریٹرن 1989میں ظاہر کرنے کا سوال کیاگیا۔ اگرچہ جج نے مقدمہ کو صیحح سمت میں آگے چلانے کی ہدایت دی ہے مگر وکلاء موقع پاتے ہی ادھر اُدھر کے سوال بھی کررہے ہیں۔

سردست 62سالہ ٹرک ڈرائیورروزانہ 11گھنٹے ڈرائیونگ کرکے اپنا پیٹ پال رہاہے۔ اس کی بیوی اس سے بے انتہا خوش ہے ،اسے اپنے شوہر سے کوئی تکلیف نہیں ۔کمرہ عدالت میں اس کی آنکھیں سارا وقت بھرائی رہتی ہیں۔ روزانہ امریکی سڑکو ں پر چھ سو میل (ایک ہزار کلو میٹر) ٹرک دوڑانے والا پرویز منظورخان کمرہ عدالت میں ساکن کھڑا رہتاہے ۔پرویز منظورخان امریکہ ماحول میں پوری طرح رچ بس چکا ہے اس ماحول سے الگ کرنا ٹھیک نہیں اس کی ٹی شرٹ پر ذیلی حروف میں’’ میڈ ان امریکا‘‘ لکھا تھا ۔اسے امریکی ہونے پر بہت فخر ہے۔ وہ امریکا کسی سیاست کا حصہ نہیں، سیاست میں کبھی الجھا ہے نہ الجھنے کی تمنا ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ت کے نام پر قتل کسی بھی صوبے کی ثقافت کا حصہ نہیں لیکن یہ ناسور سماج کا حصہ ہے،ایک تلخ حقیقت ہے جسے قبول کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں قانون ...

مزید پڑھیں