☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
’’سودی نظام ناکام ہو گیا،اب معاشی انقلاب آنے کو ہے‘‘

’’سودی نظام ناکام ہو گیا،اب معاشی انقلاب آنے کو ہے‘‘

تحریر : انجنیئررحمیٰ فیصل

04-28-2019

دنیا نے کئی نظام آزما کر دیکھ لیے، کبھی کمیونزم تو کبھی سوشلزم ،کبھی سرمایہ دارانہ نظام تو کبھی سرمایہ داری اور سوشلزم کا مکسچر مگر کہیں سکون نہیں ملا۔ ہر نظام اپنی بے شمار خامیوں کے باعث ناکامی سے دو چار ہوا۔ روسی کمیونزم تواس بری طرح ناکام ہوا کہ سابق سوویت یونین کو ہی لے ڈوبا۔ اس کے حصے بخرے ہو گئے۔

یورپ میں فری مارکیٹ کا تصور ناکامی سے دو چار ہے۔ برطانیہ ، یورپی یونین سے معاشی مسائل کی بنیاد پر ہی علیحدگی چاہتا ہے۔ یورپی یونین سے الگ ہونے کے بعد معیشت کا کیا حال ہوگا ؟ عوام کو روزگار میسر آئے گا کہ نہیں ؟ برطانوی کرنسی زوال پذیر ہو گی یا ترقی کی جانب اڑان بھرے گی۔۔۔ یہ اور ایسے بے شمارسوالوں پر برطانوی انجانے خوف اور تذبذب میں مبتلا ہیں۔

امریکہ الگ پریشان ہے ۔فری مارکیٹ کے تصورپر عمل کرنے سے امریکی منڈیوں پر چین ،لاطینی امریکی ممالک اورمیکسیکوکی مصنوعات کا قبضہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کبھی میکسیکو کے ساتھ حالت جنگ میں ہے تو کبھی یورپی ممالک کو آنکھیں دکھا رہاہے۔ امریکہ نے ٹیرف کی پابندیاں لگانے کے علاوہ چین سمیت کئی دوسرے ممالک کے خلاف ڈبلیو ٹی او سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔

کہیں کامیابی اور کہیں ناکامی نصیب ہوئی ہے۔ فرانس ، جرمنی اور آسٹریلیا کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ کہتے ہیں کہ فری مارکیٹ کے تصور نے تمام دنیا کی معیشت کو چند طاقتور ہاتھوں کا غلام بنادیا ہے۔ دولت حکومت کے کنٹرول سے نکل کے چند لوگو ں کے ہاتھوں میں محدود ہو گئی ہے۔ جس سے غربت ،پسماندگی اور بے چینی میںاضافہ ہو رہا ہے۔ ہر کوئی امیگرنٹس کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔

اس لیے نہیں کہ امیگرنٹس کا ان ممالک کی ترقی میں کوئی کردار نہیں ،بلکہ اس لیے کہ اب انہیں اپنے ملک میں بھوک اور مفلسی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے بچائو کیلئے وہ چھوٹی سے چھوٹی نوکریاں کرنے پربھی آمادہ ہیں۔ زندگی کی تلخیوں نے انہیں مشکلات کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سکھا دیا ہے۔ سود در سود کے نظام نے غریب کو غریب تر کر دیا ہے اور امیر کو سود سے بچنے کے طریقے سمجھا دئیے ہیں۔

اور یہ معاشرتی ناہمواری ہر ملک میں ہر سطح پر موجود ہے۔ کچھ ممالک میں شرح سود اس قدر زیادہ ہے کہ وہاں ہر آدمی اس کی ادائیگی کے چنگل میںپھنسا ہوا ہے اور کچھ ممالک میں اس قدر کم ہے کہ بچت ہی ممکن نہیں۔ بینکاری نظام بری طرح مسائل میں جکڑا ہوا ہے۔ کئی بینک آپس میں ضم ہو چکے ۔ حال ہی میں امریکہ نے ایک اسلامی بینک کیخلاف ایکشن لیا ہے۔

اس کا سبب بھی اسلامی بینکاری نظام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے امریکی بینکاری نظام کو راستہ دلوانا ہے۔ مگر یہ راستہ اتنی آسانی سے ملنے والا نہیں۔ اسی سے ملتی جلتی بات جان پوپ پال نے بھی کی ہے۔ ان کے مطابق’’ کیتھولک ازم ناکام ہورہا ہے‘‘۔ یعنی پوپ کے نزدیک کیتھولک ازم لوگوں کو اچھائی کی طرف لانے میں ناکام رہا ہے ۔اس وقت دنیا کے جن ممالک میں رائج کیتھولک ازم اور اس سے اخذ کر دہ معاشی ڈھانچہ نافذ ہے وہ ناکام ہو کر مسائل کی جڑ بن چکا ہے۔

مگر سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کے بعد کیاہو گا؟مغربی دنیا اگر اس سوال پر متفکر ہے تو ہمیں بھی کچھ سوچ لینا چاہیے۔ کیونکہ کئی مغربی ماہرین کے مطابق اسلام کا معاشی نظام ٹیکس سسٹم سے کہیں بہتر ہے۔ یہ حکومت، امراء اور غرباء میں زبردست مفاہمت اور مواخات کی فضاء قائم کرتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ معاشرتی ناہمواریوں پر ہر کوئی انگلی اٹھا رہا ہے۔ اس وقت امریکہ میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اس نظام نے مجھے کیا دیا ہے۔ امریکیوں کے خواب پورے نہیںہوئے۔ مغربی دانشور اور معیشت دان اس بات پر متفق ہیں کہ فری مارکیٹ کے تصور نے دولت کو بہت ہی محدود کر دیا ہے جہاں پہلے امریکہ میںاگر ایک سو لوگ دولت کو کنٹرول کر رہے تھے تو اب ان کی تعداد 10رہ گئی ہے۔

یعنی دولت کا ارتکاز دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ امریکی معاشرے میں بے چینی کا سبب یہی تو ہے۔مغربی دنیا کو تمام نظاموں کی ناکامی کے بعد اب کس نظام کی ضرورت ہے۔ وہ کون سا نظام ہے جو ارتکا زر کو روکتا اور دولت کو مساویانہ انداز میں پورے معاشرے میں تقسیم کر دیتا ہے؟ جس سے دنیا کے ساڑھے سات ارب سے زائد باشندے خوشحال زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ بظاہر ہمیں لگتا ہے کہ مغربی دنیا بہت انصاف پسند ہے ،وہ ٹیکس چورنہیں ۔نہ ہی وہ لوگ اپنے اثاثے چھپاتے ہیں۔

حالات اس کے بالکل الٹ ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ تمام ٹیکس ہیونز یعنی ٹیکس چوروں کے مراکز یورپ میں ہی قائم ہوئے ۔ پہلے پہل سوئٹزر لینڈ ٹیکس چوروں کا مرکز ہوا کرتا تھا ، دنیا کے انتہائی طاقتور سیاستدانوں نے بھی ٹیکس چوری کا پیسہ اسی ملک میں جمع کرایا۔ پھربارہ سے زیادہ جزائر اور چھوٹے ممالک ٹیکس ہیونز کے طور پر منظر عام پرآئے۔ پانامہ پیپرز اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے ورنہ ٹیکس چوروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

امریکہ جانتا ہے کہ اس کے انتہائی بڑے بزنس آف شور کمپنیوں میں رجسٹرڈ ہیں جنہیں ہم دنیا کے چھ امیر ترین افراد سمجھتے ہیں ان میں سے بھی دو تین کا بزنس آف شور کمپنیوں میں رجسٹرڈ ہے۔ سوشل میڈیا کی ایک دو شخصیات کا بزنس بھی آف شور کمپنیوں کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ برطانیہ کی ایک تہائی جائیداد آف شور کمپنیوں میںرجسٹرڈ ہے۔ یہی نہیں ہسپتال اور تعلیمی ادارے تک آف شور کمپنیوں میں رجسٹرڈ ہیں۔

لہٰذا عالمی بینکاری نظام کی شفافیت کب کی دم توڑ چکی اور امریکہ اور یورپ نے ٹیکس چوروں کی تعداد ہمارے تصور سے بھی زیادہ ہے، وہاں بڑ ی بڑی کارپوریشنوں نے ٹیکس چوری کے طریقے ڈھونڈ لیے ہیں ۔ امیر ترین آدمی اپنے سائل سے کہیں کم ٹیکس دے رہے ہیں۔یورپی ممالک بھی ٹیکسوں کا اصل نشانہ غریب اور عام آدمی ہے۔ سیلز ٹیکس اور وراثتی جائیداد پر ٹیکس اس کی دو مثالیں ہیں ۔دنیا بھر میں شرح سود طے کرنے کا بھی ایک مخصوص نظام ہے۔ یہ نظام بھی زیر بحث ہے اور زیر تحقیق ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں شرح سود نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ بینکوں میں پیسے جمع کرانا منفی انٹرسٹ ریٹ حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ کئی بینک بند ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی معیشت میں زکوٰۃ ، صدقہ و خیرات ،غربت کے خاتمے کا انتہائی شفاف حل ہیں۔ ایک عام اندازے کے مطابق دنیا بھر کے ٹیکس ہیونز میں 10ٹریلین ڈالر ( ایک ہزار کھرب روپے) جمع ہیں ۔اس رقم پر اگر زکوٰۃ کا تخمینہ لگایا جائے تو ہر سال ڈھائی سو ارب ڈالر امیر ترین افراد کے ہاتھ سے غریب ترین افراد کو منتقل ہوں گے۔

آئی ایم ایف نے یہ حجم 12ٹریلین ڈالر بتایا ہے ۔آئی ایم ایف کے مطابق دنیابھر کی 45 فیصدسرمایہ کاری انہی نامعلوم ذرائع سے ہوتی ہے۔کھوکھلی کمپنیوں کے ذریعے،جن کے ملازمین ہوتے ہیں نہ معقول دفاتر۔ آٹھ ممالک ایسی سرمایہ کاری کا گڑھ ہیں ،اس سرمایہ کاری کا 85فیصد حصہ وہیں سے منتقل ہوتا ہے۔ان میںنیدر لینڈز، ہانگ کانگ،سنگاپور ، آئرلینڈ،لکشم برگ، کے مین آئی لینڈ، برموڈااور برٹش ورجن آئی لینڈ بھی شامل ہیں۔کچھ ہی عرصہ قبل ڈوچے بینک کے ایک محقق جم ریڈ (Jim Reid) نے بھی بینکاری نظام کے سودی معاملات پر اپنی تحقیق شائع کی ہے۔

ان کی تحقیق کا عنوان تھا ’’دی سٹارٹ آف دی اینڈ آف فیئر منی‘‘۔عالمی معاشی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کئی تجربات کے بعد سونے اور چاندی کی جگہ کاغذ کی کرنسی نے لی مگر اب موجودہ ٹھوس کرنسیاں بھی ڈیجیٹل کرنسیوں میں ڈھل رہی ہے جیسا کہ بٹ کوئن۔ عالمی سطح پر اس کی قیمت کے تعین کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ اور عجیب و غریب ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے۔

یہ وہ سوچ ہے جسے لے کر ایک اہم امریکی ’’انسان دوست ‘‘(Philanthropist)اور معاشی ماہررے ڈیلیو (Ray Dalio) نے سرمایہ دارانہ نظام اور سود سے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔اس کا شمار دنیا کے 80امیر ترین افراد میں ہوتا ہے ۔ وہ کئی سو ارب ڈالرز کے فنڈز کو چلا رہا ہے۔اس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام اپنی آخری سانسیں لے رہاہے، اس میں دم خم باقی نہیں رہا۔ اس نظام نے امیر کو امیر اور غریب کو غریب تر بنا دیا ہے۔

رے ڈیلیو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اقوام عالم کے معاشی مسائل کا حل زکوٰۃ میں مضمر ہے۔یہ نظام ہم پاکستانیوں کیلئے 14سو سال پرانااور مغرب کے لیے بالکل نیا ہے۔ اہل مغرب حضرت محمد ﷺ کو دنیا کی اہم ترین شخصیت مانتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ کی وجہ سے عرب میں امن و امان قائم ہوا ۔بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے والے معاشرے میں عورت کو عظمت ملی۔ رے ڈیلیو نے اسلام کے معاشی ڈھانچے پر بہت سنجیدگی سے غور کیا ،مغرب اور امریکہ کواب اسلامی افکار پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

یہی اسلامی ڈھانچہ انہیں اس بے چینی اور تذبذب کی کیفیت سے نکال سکتا ہے جس میں وہ ان دنوں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ ذرا سوچئے ،دنیا میں کس طرح خوشحالی جنم لے گی۔ اس بارے میں مغربی مصنف اور دانشور محمد یاسل نے رے ڈیلیو کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلامی زکوٰۃ کے بعد دنیا کو ٹیکسوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ حتیٰ کہ وراثتی جائیدادوں پر بھی صفر ٹیکس سے معیشت بہت اچھی چلے گی۔ اس بارے میں بعض دوسرے دانشوروں نے حضور نبی پاک ﷺ کے زمانے کی معیشت کا جائزہ لیا ہے۔ آپ ﷺ کے زمانے میں زکوٰۃ ہی معاشی خوشحالی کا مرکز تھی۔ صدقہ و خیرات نے بھی دولت کی تقسیم کو مساوی بنانے میں رنگ دکھایا۔لیکن ان کی شخصیت بہت بڑی ہے۔

وہ دنیا کے انتہائی مضبوط مالیاتی اداروں کو چلانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ ان کے لفظوں کوپھینکا نہیں جاسکتا۔ اسی لیے دنیا نے ان کے بارے میں قدرے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ عمومی طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کو کیپٹل ازم سے کوئی فائدہ پہنچا ہے تو آپ کو اپنا منہ بند رکھنا چاہیے۔ فائدہ اٹھانے والوں کو کیپٹل ازم پر ہرگز تنقید نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بات رے ڈیلیو پر کسی حد تک پوری اترتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کی بہتی گنگا میں صرف ہاتھ ہی نہیں دھوئے بلکہ پورا نہائے ہیں۔ مگر اب مایوسی انہیں گھیر رہی ہے۔

رے ڈیلیو نے اسلامی معاشی نظام کی بنیادی اکائی یعنی زکوٰۃ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک خاص آمدنی اور وسائل پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ انتہائی مناسب اور معاشرے میں منصفانہ معاشی نظام قائم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ بقول رے ڈیلیو اسلام کا یہ پہلو دنیا کو معاشی ناہمواریوں بلکہ بدترین سماجی نا انصافی کے چنگل سے نجات دلا سکتا ہے۔ اس سے ایک طرف تو نئے آنے والے سرمایہ کار بے انتہا سودی چنگل سے نکل آئیں گے یعنی ملٹی پل سود سے بچ جائیں گے۔ کمپائونڈ انٹرسٹ اس وقت دنیا بھر کے کیلئے درد سر ہے۔

تباہ کن کمپائونڈ انٹرسٹ جہاں ایک طرف سرمایہ کاری کے راستے میںرکاوٹ ہے وہاں دوسری طرف دولت کو چند ہاتھوں میں محدود کررہا ہے۔ معروف معاشی ماہر نے بتایا کہ کیپیٹل ازم کی ناکامی کے بعد اسلامی معاشی نظام ہی اس کا جواب ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں دنیا کے سب سے بڑے فنڈ کے منیجر اور ارب پتی رے ڈیلیو نے اب 14سو سال پرانے اللہ تعالیٰ کے نظام کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔

رے ڈیلیو نے اعلانیہ طورپر کیپیٹل ازم کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب انقلاب آنے کو ہے۔ اسلام کا معاشی ڈھانچہ موجود ہ عالمگیر معاشی مسائل کا حل مہیا کرتا ہے ۔ دنیا کیلئے رے ڈیلیو کی بات کسی دھماکہ خیز مواد یا خودکش دھماکے سے کم نہیں۔ اسی موضوع پر مغربی میڈیا کے محمد یاسل ہرق نے بھی قلم اٹھایا ہے۔ بقول محمد یاسل ’’امریکیوں کے خواب کیپیٹل ازم میں نہیں بلکہ اسلام کے نظام میں پورے ہوسکتے ہیں۔ کیپیٹل ازم دنیا کا واحد نظام ہے جس نے ارتکاز زر کے باوجود لوگ چپ ہیں۔ مایوسی ضرور ہے مگر سناٹا ہے۔

کوئی آدمی ارب پتیوں کیخلاف مزاحمت نہیں کرتا‘‘۔ ورلڈ اکنامک فورم بھی دراصل عالمی مالیاتی نظام کو کنٹرول کرنے والے چند افراد کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکا ہے۔ سمجھدار لوگ اس کے ہر اجلاس کے دوران سڑکوں پر مظاہرے کرتے ہیں۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے کے مصداق ان مظاہرین کو بھی پولیس کی بھاری نفری تتر بتر کر دیتی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم سرمائے کے مزید ارتکاز کی تجاویز پر غور کرتے ہوئے ختم ہو جاتا ہے۔ غریب کی آواز پولیس کے بھاری بوٹوں کی چا پ میں دب جاتی ہے۔ معاشرتی ناہمواری کے بنیادی عوامی پر غور کرنے کی بجائے عالمی معاشی ماہرین عارضی اقدامات تجویز کرتے ہوئے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔

اب اس مرحلے پر ہمیں رے ڈیلیو یاد آتا ہے اس کے نزدیک معاشی مسائل کی جڑ سیاست میں ہے۔ جہاں مختلف ممالک میں سیاسی ڈھانچوں نے مختلف طبقات کے درمیان دوریاں پیدا کر دی ہیں۔ خلا کی سی کیفیت ہے۔ اور یہ تفریق ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ ایک طرف کسینو کیپیٹل ازم ہے اور دوسری طرف بھوک ننگ اور روٹی کے مسائل۔ یہ بھی تو’’ کسینو کیپیٹل ازم‘‘ کی پیداوار ہیں۔

اب ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں ٹیکس سسٹم بھی ٹھیک ہو اور اس کی بنیاد انفرادی شخصی آزادی ، احترام اور حقوق پر رکھی گئی ہوں۔ شرفاء اور عوام میں بھائی چارے اور اعتماد کا ڈھانچہ ہو ۔ رے یلیو نے اسلامی مواخات کا ذکر تو نہیں کیا مگر اس کی بات کا مقصد اسلامی مواخات بھی ہے۔ امیر اور غریب میں بھائی چارے کا نظام حضورنبی کریم ﷺ نے قرآن پاک کے عین مطابق 14صدیوں قبل نا صرف قائم کیا تھا بلکہ با احسن و خوبی چلا کر بھی دکھایا تھا۔

اس کی مثال ہمارے پاس موجود ہے۔ اسلامی مواخات کا لفظ استعمال کیے بغیر رے ڈیلیو اسلام میں امیر اور غریب کو برابر کو ملنے والے حقوق کی بات ضرور کرتا ہے۔ جس میں امیر ترین شخص اپنے غریب ترین رشتہ دار، دوست یا انجام آدمی کو زکوٰۃ دے کر اپنا فرض نبھاتا ہے۔ اس سے دونوں میں محبت بڑھتی ہے۔ اسلام کا یہ معاشی نظام سماجی نظام کی ایک زبردست شکل ہے۔

جس میں امیر اور غریب دونوں اپنی خوشی سے بہترین تعلق قائم کرتے ہیں اس کے برعکس موجودہ مغربی نظام میں دونوں میں نفرت اور دوریوں کی فضاء قائم ہے۔ حکومتی ٹیکس کو جبر سمجھاجاتاہے ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ حکومت راتوں رات نظام کو بدل دے ہمارے وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کی بات کی ہے۔ ریاست مدینہ کے معاشی نظام پر اب مغرب میں بھی بحث شروع ہو چکی ہے۔

بہت محدود ہے لیکن بہت اعلیٰ طبقے میں ہے۔ مغربی میڈیا ابھی سکتے کی حالت میں ہے اسے سمجھ نہیں آرہی کہ وہ بھلا کس طرح اسلام کے معاشی ڈھانچے پر قلم آرائی کرے۔ حکومتوں کو اب اس معاشی ڈھانچے پر ضرور سوچنا چاہئے۔ بالخصوص بہت زیادہ اور بہت کم شرح سود کے حامل دانشوروں کے نزدیک یہی مسائل کا حل ہے۔ اسی سے بنیادی تبدیلی جنم لے سکتی ہے۔ لہٰذا اب قوانین کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

           کوویڈ ۔19کا عذاب بدستور دنیا کے سر پر منڈلا رہا ہے ، یہ وہ وبا ء ہے جس نے دنیا کی ترقی کا راز ایسے ا فشا کیا کہ ہر ملک اور ہر طاقت کو اپنی صلاحیت نظر آ گئی ،    

مزید پڑھیں

ایک قلاش کلرک تھرڈ کلاس ہوٹل میں بیٹھا اپنے دوستوں سے یہ کہہ رہا تھا یارو ! ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی ہمارے ملک کے اُمراء ،روساء ،نام نہاد سیاست دان ،بیوروکریٹس بنکوں سے کروڑوں روپے لیکر معاف کرا لیتے ہیں    

مزید پڑھیں

آپ کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں یا سمارٹ فون آپکی ہر ای میل، میسج، چیٹ، لوکیشن، حرکات و سکنات پوری کی پوری گوگل اور فیس بک کے پاس ذخیرہ ہو رہی ہیں حتیٰ کہ جو معلومات آپ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں ،    

مزید پڑھیں