☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل سپیشل رپورٹ دنیا اسپیشل دین و دنیا کچن کی دنیا فیشن کھیل خواتین متفرق کیرئر پلاننگ ادب
قتل بنام غیرت ۔۔۔۔روک تھام کیسے ممکن ہے؟

قتل بنام غیرت ۔۔۔۔روک تھام کیسے ممکن ہے؟

تحریر : طاہر اصغر

05-12-2019

ت کے نام پر قتل کسی بھی صوبے کی ثقافت کا حصہ نہیں لیکن یہ ناسور سماج کا حصہ ہے،ایک تلخ حقیقت ہے جسے قبول کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں قانون سازی اس وقت تک غیر موثر رہے گی جب تک ان واقعات کے مقدمات درج نہیں ہوتے۔ پاکستان میںغیرت کے نام پر قتل پہلے مقامی مسئلہ تھا،

غیر پھر صوبائی اور ملکی حیثیت اختیار کر گیا ، اب بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے ۔ دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس جرم کی شرح بڑے شہری علاقوں کی نسبت بہت کم ہے۔اسی طرح آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ عورت کے خلاف اس جرم میں بھی سب سے آگے ہے۔نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں صوبوں کے لحاظ سے پنجاب پہلے نمبر پر ہے ۔

صنعتی شہر فیصل آباد میں پورے ملک میں سب سے زیادہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں۔ سندھ کے نو اضلاع میں یہ واقعات زیادہ پیش آتے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق سندھ بھر میں غیرت کے نام پر سالانہ ساڑھے تین سو سے زائد افراد قتل کردیئے جاتے ہیں۔اگر آپ سندھی اخبارات کا جائزہ لیں تو روزانہ اس طرح کے دو سے تین واقعات رپورٹ ہوتے ہیں اور یہ عام معمول بن چکا ہے ۔

بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کسی روز اخبارات میں کاروکاری کا کوئی واقعہ رپورٹ نہ ہو۔دیہی علاقوں میں ان واقعات کی رپورٹنگ مقامی صحافیوں کے چیلنج ثابت ہوتا ہے کیونکہ انہیں مقامی وڈیرے اور ان کے حامیوں کی مخالفت کا سامنا ہوتا ہے جو انہیں قتل بھی کراسکتے ہیں۔انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ بھی دیا جس میں ایک صحافی کو اس طرح کے واقعے کی رپورٹنگ پر دھمکیاں ملیں جس میں ایک وڈیرے نے دو خواتین کو "کاری" قرار دے کر قتل کرادیا تھا۔

سندھ کی سرزمین اپنی رو ایتی مہمان نوازی، امن وآشتی ،پیارومحبت اور بھائی چارے کی عظیم خصوصیات سے پہچانی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ یہاں قدیم فرسودہ روایات بھی رائج ہیں۔اندرون سندھ خواتین کے ساتھ ظالمانہ اوربہیمانہ رسم و رواج کی جڑیں آج بھی خاصی گہری ہیں،ان میں کاروکاری ،چراورونی سمیت دیگر غیرانسانی رسموں اورجابرانہ سوچ اور رویوں نے 21ویں صدی میں بھی اپنے دہشت ناک پنجے گاڑے ہوئے ہیں ، ملک کے بڑے شہروں کے عوام اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ ’’کاروکاری ‘‘کیا ہے؟ان کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ اندرون سندھ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کو کاروکاری کہا جاتا ہے۔

’’کاری ‘‘قرار دے کر غیرت کے نام پر کبھی خاتون اور کبھی اس جرم کے مرتکب مردجب کہ اکثر اوقات دونوں کو ہی ان کے عزیزواقارب انتہائی وحشیانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتا ردیتے ہیں۔،یہ بات بھی جنگ کے مشاہدے میں آئی ہے کہ ذاتی دشمنی ،جائیداد اور دیگر معاملات کی آڑ میں کسی بھی مرد یا عورت کو کاروکاری کے جرم کا مجرم قرار دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔کاروکاری کی ظالمانہ اور فرسودہ رسم بلوچستان سے سندھ کے خطے میں منتقل ہوئی ہے اسی لئے آج بھی بلوچستان سے ملحقہ سندھ اور پنجاب کے علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات قدرے زیادہ نظر آتے ہیں۔

غیرت کے نام پر قتل ایک ناسور ہے ،اورہمارے سماج کا حصہ ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے، اس کو قبول کرنا چاہیے۔ان کے مطابق وہ سمجھتے ہیں اس کا خاتمہ دو طریقوں سے ممکن ہے۔ 'ایک فیوڈل ازم کو چیلنج کرنا ہوگا اور دوسرا بقول ان کے ایسی مذہبی اقدار جن کی غلط تشریح کر دی گئی ہے ان سے چھٹکارا ضروری ہے کیونکہ ان کو زیرِ بحث لا کر مرد کو اعلیٰ بنادیا گیا ہے۔

کوئی معاشرہ اس وقت تک مہذب نہیں بن سکتا جب تک وہ عورت کو برابری کی بنیاد پر تسلیم نہیں کرتا ورنہ یہ الزام سماج پر ایک سیاہ دھبہ بنا رہے گا۔ اس دور کی لڑکیوں میں حقیقت پسندی ہے، اور ڈٹ جانے والی بھی ہے۔وہ مزاحمت بھی کرتی ہیں لیکن اس مزاحمت کی قیمت بہت بڑی ادا کرنی پڑتی ہے جو وہ برداشت نہیں کر سکتیں، اس میں ریاست بھی اس کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوتی۔ غیرت کے نام پر قتل برطانوی دور میں بھی ہوتے تھے ۔ انگریزوں نے پہلی بار قانون بنائے تھے۔ انگریز دور میں ایسے واقعات پیش آتے تھے لیکن موجودہ دور میں90 فیصد واقعات جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں ،ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ ان واقعات میں 90 فیصد خواتین قتل ہوتی ہیں اور اس کی وجہ قبائلی نظام ہے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی عورت نے غیر ت کے نا م پر کسی مرد کو قتل کیا ہے،ایسے واقعات بہت ہی کم ہیں۔کراچی کی نشتر کالونی میں غیرت کے نام پرخاتون نے عمرنامی شخص کو چھریوں کے وار کر کے قتل کردیا، پولیس نے خاتون ملزمہ کو گرفتار کرکے مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دی۔پولیس کے مطابق ملزمہ عائشہ عمر نامی شخص کے دفترمیں موجود تھی جہاں دونوں کے درمیان گالم گلوچ ہوگئی، موقع پرموجود افراد نے عمراور عائشہ کے درمیان بیچ بچا ئو کروایا اورمعاملہ رفع دفع کرادیا، اسی دوران عائشہ عمر کے پیچھے گئی اور چھری سے اسکی گردن پروار کر کے اسے قتل کر دیا۔موقع پرموجود افراد نے عائشہ کو پکڑکر اسے پولیس کے حوالے کردیا۔

اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔صاحبزادہ حامد رضا کی اپیل پر سنی اتحاد کونسل کے 40مفتیان کرام نے اپنے اجتماعی فتویٰ میں غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کو غیر اسلامی فعل اور بد ترین گناہ کبیرہ قرار دے دیا ہے۔اجتماعی فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کو جائز سجھنا کفر ہے۔خواتین کو پسند کی شادی کرنے پر زندہ جلانا اسلامی احکامات کے منافی ہے۔ عورتوں کو زندہ جلانا کفر ہے۔

آگ میں جلانے کی سزا رب تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کیلئے جائز نہیں ہے۔فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ اسلام نے بالغ عورتوں کو اپنی مرضی سے پسند کی شادی کرنے کا حق دیا ہے جیساکہ سورہ البقرٰہ کی آیت نمبر 232 میں اس کا حکم بیان ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ اے عورت کے خاندان والو ، عورتوں کو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے منع نہ کرو جبکہ وہ دونوں شادی کرنے پر راضی ہیں ‘‘اسلام غیرت کے نام پر قتل جیسے قبیح فعل کی ہر گز ہرگز اجازت نہیں دیتا۔فتویٰ میں کہا گیا ہے اسلام اسلامی ریاست کے حکمرانوں کیلئے عورتوں کے حقوق کا تحفظ فرض قرار دیتا ہے اس لئے حکومت عورتوں کے قتل کے واقعات کو روکنے کیلئے مؤثر قانون سازی کرے اور عورتوں کو قتل کرنے او ر زندہ جلانے کے قبیح فعل کو ناقابل معافی ، ناقابل مصالحت اور نا قابل ضمانت جرم قرار دیا جائے۔اجتماعی فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ ایبٹ آباد، مری اور لاہور میں خواتین کو زندہ جلانے کے واقعات نے معاشرے کو لرزا دیا ہے۔

یہ واقعات اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم سماجی اور معاشی لحاظ سے پسماندگی کی طرف جارہے ہیں۔فتویٰ میں مطالبہ کیا گیا تھاکہ حکومت غیرت کے نام پر قتل اور عورتوں کو زندہ جلانے جیسے واقعات کو روکنے کیلئے سخت قوانین بنائے۔ ایسے واقعات ملک اور اسلام کی بد نامی کا باعث ہیں۔لڑکیوں کو زندہ جلانے والے ملزمان کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے۔

وقت کے ساتھ ساتھ قانون ضرور بدلا ہے لیکن رویے تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔قانون سازی ایک سنگ میل ہے لیکن مقدمات تو تب ہی چلیں گے اور سزا ہوگی اور جب یہ واقعات پولیس کے پاس رپورٹ ہوں گے۔ قانون سازی تو اس سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں لیکن معاملہ عملدرآمد ہونے کا ہے جس کا فقدان ہے۔ کیونکہ یہاں مجموعی طور پر ذہنیت ہی جاگیردارانہ ہے۔ ایسے میں سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت ان خواتین کے قتل کی کس حد تک ذمہ دار ہے؟ وہ ارکان پارلیمنٹ اس جرم کو روکنے میں ناکامی کے کتنے ذمہ دار ہیں جنھوں نے حکومت مخالف دھرنے کو روکنے کے لیے بلائے گئے پارلیمنٹ کے اجلاس میں تو شرکت کی لیکن اس دوران دس منٹ ان قوانین کی منظوری کے لیے مختص نہیں کروائے؟

معاشرے میں صنفی برابری ہونی چاہیے اور اس کی ابتدا گھر سے ہوتی ہے۔ پاکستان کے دیہات میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ تمام مرد چارپائی پر بیٹھتے ہیں اور خواتین زمین پر بیٹھتی ہیں۔ مجال ہے جو گھر کے مرد کے سامنے وہ بھی چارپائی ہر بیٹھ جائیں۔ آج بھی دیہاتوں میں بہن اس وقت تک بھوکی رہتی ہے جب تک پہلے بھائی کھانا نہ کھا لے۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں یہ سوچ ہے کہ سماج میں خاندان کی نمائندگی لڑکا کرے گا، اس طرح عورت کو سماج سے منقطع کردیا جاتا ہے۔

تعلیمی نصاب میں صنفی مساوات نہیں۔ اس میں عورت کا کوئی کام و کردار نظر نہیں آتا۔ ایک خاتون کے پڑوس میں دو جیٹھانیوں کے کسی بات پر اختلافات ہوگئے اور ایک نے دوسری پر الزام عائد کیا کہ اس نے رات کو کمرے سے کسی کو نکلتے دیکھا تھا۔ اس کے دیور نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اس کا قتل کر دیا۔معاملہ پولیس تک بھی نہیں گیا۔ ایسا لگا جیسے عورت نہیں ایک چیونٹی تھی جسے مسل دیا گیا ہے، قانون میں بھی مرد کو بالادستی حاصل ہے وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ انسانی حقوق کمیشن کی تحقیق کے مطابق غیرت کے نام پر قتل میں اکثر مقتول خواتین کے شوہر اور بھائی ملوث پائے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی تحقیق کے مطابق نام نہاد غیرت کے نام پر قتل میں تقریباً ہمیشہ مقتول خواتین کے شوہر اور بھائی ملوث پائے جاتے ہیں۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ قتل کی جانے والی خواتین پر غیر ازدواجی تعلقات کا الزام لگانے کا رواج بہت عام ہے لیکن دراصل غیرت کے نام پر ہونے والی زیادہ تر وارداتیں لڑکی کی اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر شادی یا اس کی کوشش کا نتیجہ ہوتی ہیں۔انسانی حقوق کمیشن کی تحقیق کے مطابق نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی 30 فیصد وارداتوں میں خواتین کے شوہر اور 20 فیصد سے زائد میں ان کے اپنے بھائی ملوث پائے جاتے ہیں۔

دراصل ہمارے قبائلی نظام میںعورت کو عزت اور غیرت کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ پہلے وہ والد اور بھائی کی عزت ہے اور شادی کے بعد وہ شوہر کی عزت بن جاتی ہے۔ عورت کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ تم ہماری عزت اور غیرت ہو جبکہ مرد کو کبھی یہ سبق نہیں دیا جاتا ہے۔ عورت کو یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ تمہاری بھی عزت ہے اور تمہیں اپنی عزت کی خود حفاظت کرنی ہے۔اسی سے خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ اس صورتحال میں اگر مرد پر الزام آجائے تو عورت کو قتل کر کے اس کی عزت بحال کرا دی جاتی ہے جبکہ مرد آزاد رہتا ہے۔

تعلیم یافتہ لڑکیوں سے شادی کے بارے میں رضامندی پوچھی جاتی ہے ۔قبائلی نظام میں ثقافت اور مذہب میں تضاد ہے، مذہب عورت کو کئی حق دیتا ہے لیکن ثقافت نے عورت کو دیوار سے لگا دیا ہے جس میں اسے پسند سے شادی اور ملازمت کا حق نہیں ہے۔سماج میں عورت کو تحفط چاہیے جو ریاست نہیں دیتی۔ ایسا اس لئے کیا جاتا ہے کہ عام تاثر یہی ہے کہ جس قدر رشتے مضبوط ہوں گے، سوشل سکیورٹی بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی اور مستقبل محفوظ ہوگا۔ اسی بھائیوں کے کے بیٹوں بیٹیوں کو ترجیح دی جاتی ،یوں خاندان میں ہی جبری شادیاں کی جاتی ہیں اور جب جبری شادی ہوگی تو جذباتی لگاؤ سامنے نہیں آئے گا۔

جبری شادی کی ایک وجہ معاشی بھی ہے کیونکہ یہ سوچ عام ہے کہ لڑکی کی اگر خاندان سے باہر شادی کی جائے گی تو اس سے ملکیت تقسیم ہو جائے گی اسی وجہ سے خاندان میں شادی کو اولیت حاصل ہے۔ پھرسیاست میں جاگیردار اور وڈیرہ حاوی ہے اور متوسط طبقہ اتنا متحرک نہیں جو معاشرے کی نمائندگی کرے اور اس کو ان مسائل سے نجات دلائے۔ وڈیرا اپنی سیاسی حیثیت منوانے کے لیے ان واقعات کو فروغ دیتا ہے کیونکہ پوزیشن، پاور اور پولیٹیکس اس کی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں۔ایسے میں انسانی حقوق کے علمبردار سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ملک کا قانون ایک عورت کو اپنی مرضی سے شادی کی اجازت دیتا ہے اور سپریم کورٹ بھی اس کا حق تسلیم کرتی ہے تو پھر لوگ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو اپنی پسند سے شادی کی خواہش پر کیوں مار دیتے ہیں؟اس کی روک تھام کے لئے قانون کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ ٭٭٭٭