☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
مقبوضہ کشمیر سے فلسطین تک، جبرو وحشت پر خاموشی کب تک !

مقبوضہ کشمیر سے فلسطین تک، جبرو وحشت پر خاموشی کب تک !

تحریر : صہیب مرغوب

03-10-2019

یوں تو بھارت گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان میں دراندازی کررہاہے۔ 26فروری کو پاکستانی حدود کی خلا ف ورزی بھی اس سلسلے کی پہلی (اورشائد آخری )کڑی ہرگز نہیں ہے۔ اس روزبھارت کی تین فارمیشنز میں سے ایک نے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ۔اس کی دو فارمیشنز بھارتی حدود میں تیار کھڑی تھیں۔جن میں Sukhio-30اوراواکس طیارے بھی شامل تھے۔ بھارت نے ری فیولنگ کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔مگر پاکستان کو اس تمام منصوبے کی خبر پہلے سے ہی تھی۔اسی لئے اس نے بھارت کو بھی ممکنہ حملے کے بعد کے نتائج سے آگاہ کر دیا تھا۔پاکستان کی مکمل تیاری دیکھ کر بھارت گھبرا گیا۔ ایک فارمیشن نے پے لوڈ پھینک کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی ۔اس کے اگلے روز 27فروری کی صبح 10:05منٹ پربھارتی فضائیہ کے دو طیارے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوشہر ہ سیکٹر میں داخل ہوگئے۔ پاکستان کے جے ایف تھنڈرنے انہیں ’’دبوچ‘‘ لیا۔ پاکستانی پائلٹ نے کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مگ 21کو گرالیا ۔بھارتی میڈیا نے پہلے مگ 29کے لاپتہ ہونے کی خبر جاری کی جو بعدازاں واپس لے لی گئی ۔بھارتی میڈیا کبھی مگ 21اور کبھی مگ 29کہتارہا۔مگ کو لے بھارتی میڈیا نے اپنی حکومت کے بھی ’’لتے‘‘ لئے ہیں۔فضائیہ کو زبردست تنقید کا سامناہے ۔فضائیہ کے سربراہ نے 12طیاروں کی ’’بمباری‘‘ سے مرنے والوں کی تعداد بتانے کی بجائے پریس کانفرنس سے ہی چلے جانے میں ہی عافیت جانی۔ ایک اہم سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ مودی انتظامیہ نے 56سال پرانے ’’فلائنگ تابوت ‘‘کو پاکستانی حدود میں کیوں داخل کیا ؟۔179بھارتی ہواباز ان ’’فلائنگ تابوتوں‘‘ میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔میڈیا کی تنقید پر بھارتی حکومت اتنا کہہ کرچپ ہو گئی ہے کہ ’’ 14فروری کے بعد سوے تمام ماڈلز کے طیارے ہائی الرٹ ہیں، ہر ماڈل کے طیارے باری باری پرواز کرتے ہیں۔ ایس یو ۔30اور مگ 29 منگل کی رات بھر فضاء میںپرواز کرتے رہے ۔اگلے روزیہ ڈیوٹی مگ 21نے سنبھال لی ‘‘۔

اس کا کمانڈر گرفتاری کے بعد بھارت کو واپس کیا جا چکا ہے جہاں وہ بہت برے حالات سے دوچار ہے۔پاکستان میں تو وہ چائے نوش کرتا رہا مگر بھارت میں تفتیش کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ اس پر شک کیا جا رہا ہے،اس بات کا شک کہ اس نے کہیں کچھ بتا نہ دیا ہو۔ اس کا باپ ویسٹرن کمانڈ کا سربراہ رہ چکا ہے، بیوی بھی پائلٹ ہے۔ اسی لئے وہ بھارت کے روایتی جبر سے بچ نکلا ہے۔ مگر ’’جھوٹ ٹیسٹ‘‘ تو اس کا بھی ہوا۔ جس کی مدد سے حکام نے یہ جاننا چاہاکہ وہ پاکستان میں کچھ ’’ کہہ سن‘‘ کر تو نہیں آ گیا ؟بھارتی ڈرتے رہے کہ کہیں جسم میں خفیہ چپ تو نہیں چھپی ہوئی۔ بھارتی وزیر دفاع نے اس سے ملاقات ضرور کی مگر خود کا ’’ دفاع‘‘ کرتے ہوئے دور کرسی پر بیٹھ گئیں۔پاکستان کے بھیجے ہوئے جراثیم ہی کہیں انہیں نہ چپک جائیں!۔ سرجیکل سٹرائیک کے بے بنیاد دعوے کی مانند یہ دعویٰ بھی بھارتی سرکار کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔حکام اپنی اپوزیشن اور عوام کواب تک حقائق سے آگاہ نہیں کر سکے۔21جماعتیں ان سے مرنے والوں کی تعداد پوچھ رہی ہیں مگر کسی کو علم نہیں ہے۔فضائیہ کے افسر حکومت اور حکومت فضائیہ پر ڈال رہی ہے۔ اب تک بھارتی حکومت کسی ایک سوال کا جواب اپنے عوام کو نہیں دے سکی۔انہیں مطمئن نہیں کر سکی۔ اس کی کوکھ سے جنم لینے والا بھارتی نیشنل ازم بھارت کے لئے زبردست خطرہ بن گیا ہے۔اب مودی صاحب کو یہ فیصلہ کرناہے کہ انہیں انتخابات میں کامیابی درکار ہے یا وہ بھارت کو قائم ودائم دیکھنا چاہتے ہیں۔بھارتی مبصرین کے مطابق انتخابات میں کامیابی کی اندھی خواہش نے بھارتی یکجہتی کو آخری نہج پر پہنچا دیا ہے۔گلوبل ٹائمزکے ہو ویجیانے اپنی 4مارچ کی اشاعت میں لکھا ہے کہ ’’ قومیت یا ترقی ۔۔مودی کومشکل گھڑی کاسامنا‘‘ ۔مضمون نگار لکھتا ہے کہ ’’وزیر اعظم مودی نے انتخابات میں کامیابی کی خاطر پاکستان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے وہ ووٹروں کا دل جیت جائیں۔مگر کس قیمت پر۔کشیدگی سے بھارت کی ترقی متاثر ہو گی۔کشیدگی سے پہلے اپریل سے مئی تک ترقی کا تناسب جی ڈی پی 8.2فیصد کے برابر تھا جو کشیدگی کے بعد اکتوبر سے دسمبرتک6.6فیصد رہ گیا ہے۔ان کا ووٹربے روزگاری سے پہلے ہی تنگ ہے جو مودی دور میں 45برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے،یہ 6.1فیصد کو چھو رہا ہے۔کشیدگی کو جاری رکھنے کے لئے مودی حکومت کو ترقی اورروزگار کے ذرائع کی قربانی دینی ہو گی۔ معروف بھارتی مصنف ادیتیا مینن اس سے بھی اتفاق نہیں کرتے۔ان کے مضمون کا ٹائٹل ہے کہ (Will Pulwama & Balakot Make Voters Re-Elect Modi? Look State-Wise) وہ کہتے ہیں کہ ’’ہر ریاست کے اپنے مسائل اور اپنی صورتحال ہے۔مودی کامیاب ہوں گے یا نہیں ،اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہر ریاست کا الگ الگ جائزہ لینا ہو گا۔کارگل کے بعد بی جے پی راجھستان، مدھیہ پردیش اور دہلی میںزیادہ ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئی مگر اس نے یو پی کھو دیا۔کارگل کے بعد واجپائی کی مقبولیت میں 9.6فیصداضافہ ہوا، مودی کی مقبولیت بھی اسی طرح بڑھ سکتی ہے۔سرجیکل سٹرائیکس(کا ڈرامہ)یو پی اور اترکھنڈ میں کامیاب اورپنجاب میں ناکام ہوا ۔آخرکار اتحاداور معاشی نکات ہی اہم کردار ادا کریں گے۔لوک سبھا الیکشن کا اصل موضوع دہشت گردی اور حملہ ہی بن گیا ہے۔ پاکستان پر بہت زیادہ فوکس کرنے سے مودی کی توجہ بے روزگاری،رافیل سکینڈل اور زرعی بحران جیسے دوسرے اہم ایشوز سے ہٹ گئی ہے۔ساری کشیدگی میں مودی کو ہزیمت اٹھانا پڑے گی اور وہی خسارے میں رہیں گے‘‘۔ بھارتی میڈیاکے مطابق جماعت اسلامی پر پابندی کا الٹا اثر ہو سکتا ہے۔ہندوستان ٹائمزکی 4مارچ کی اشاعت کی ٹائٹل سٹوری میں یہی موضوع زیر بحث لایا گیا ہے۔سرخی ہے’’جماعت اسلامی پر پابندی جرأت مندانہ اقدام، مگر الٹا اثر ہو سکتا ہے‘‘۔مین سٹریم کی جماعت پر پابندی ریاستی امور کو بہتر طور پر چلانے کے لئے حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کی عکاس ہے۔جماعت اسلامی پر 5سال کے لئے لگائی گئی پابندی سے حکومت کے خیال میںپاکستان اور(مقبوضہ )کشمیرکے رہنمائوں میں رابطے کٹ جائیں گے۔لیکن سلامتی کے پس منظر میں اٹھایا گیا یہ قدم خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔اخبار نے بڑی خوبصورتی سے بھارتی حکمرانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ بڑے رہنمائوں کی سکیورٹی واپس لینے اور ان کے رہنمائوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگانے سے چھوٹے گروپوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔ایسا کرنے سے بڑی جماعتوں پر پابندی سے ان کے رابطے کمزور پڑ جائیں گے۔بڑی جماعتوں کا کنٹرول کمزور پڑنے سے تحریک خطرناک رخ بھی اختیار کر سکتی ہے ۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان خطے میں امن کے خواہاں ہیں بھارتی وزیراعظم نے بھی اب یہ محسو س کرلیا ہے کہ جنگ کا کوئی فائدہ نہیں۔اسی لئے بھارتی وزیر اعظم مودی نے اپنی ایک کسی میٹنگ میں پاکستان کا ذکر کیا نہ ہی اپنے گرفتارپائلٹ کی کوئی بات کی انہیں معلو م تھا کہ امن کی خواہشمند پاکستانی حکومت گرفتارپائلٹ کو رہا کر کے بھارتی میڈیا کو منہ توڑ جواب دے چکی ہے ۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنا بیانیہ تبدیل کرلیا تھا۔انہوں نے بی جے پی کے ایک جلسے سے ٹیلی فونک خطاب میںپاکستان کا نام تک نہیں لیا۔انہوں نے صر ف اتنا کہا کہ ’’دشمن ہمیں غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے ۔وہ ہماری ترقی روکنا چاہتا ہے، ہم تمام عوام ان منصوبوں کے سامنے چٹان کی مانند متحد کھڑے ہیں‘‘۔ انہوں نے پاکستان کا ذکر کیے بغیر صرف اتنا کہا کہ ’’بہادر فوجیوں نے سرحد پر انتہائی حوصلہ کیساتھ کارروائی کی اور سرحدوںسے باہر بھی جوانمردی کا مظاہر ہ کررہے ہیں۔ دنیا نے ہمارے فوجیوں کی طاقت دیکھ لی ہے ۔بھارت متحد رہے گا ۔بھارتی ایک ہیں ،متحدہ رہ کر ہی پروان چڑھیں گے‘‘۔ تاہم ان کی جانب سے مہم جوئی جاری ہے،بھارت اب اپنے ٹینک بھی بارڈر پر لے آیا ہے۔اس نے کچھ نئے محاذوں پر بھی بمباری کی ہے۔ہماری توپوں نے اسے خاموش کرا دیا ہے۔مگر مہم جوئی کا اندیشہ ختم نہیں ہوا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناکام مہم جوئی سے مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں اُجاگر ہوگیاہے ۔واشنگٹن پوسٹ نے اپنے تین نامہ نگاروںایملے ٹامکن ،لائرز کمارکلس ،اور ٹم میکو کے حوالے سے اپنے مضمون ’’مسئلہ کشمیر ‘‘(The Trouble With Kashmir )میں مسئلہ کشمیر کو برس ہا برس سے نامکمل ایجنڈا قرار دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں ’’بھارت اور پاکستان کے پاس کشمیر کا ایک ایک حصہ ہے ،دونوں ممالک لائن آف کنٹرول سے تقسیم کیے گئے ہیں، اس سرحد پر بھاری مقدارمیں اسلحہ جمع ہے ۔بھارت مقبوضہ کشمیر کے بڑے حصے پر قابض ہے جو جموں وکشمیر کہلاتاہے جبکہ پاکستانی حصہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کہلاتاہے، چین کے پاس اکسائی چین کے نام سے مشرقی حصہ ہے ۔بھارت نے 1970ء کے بعد پہلی مرتبہ اپنے طیارے پاکستانی سرحدمیں داخل کیے ہیں‘‘۔ صرف ایک دن میں بھارتی رویہ میں خوشگوار تبدیلی کو سب نے محسوس کیا ۔کیونکہ بھار ت کے اندر آر ایس ایس کی انتہا پسندی پر امن پسندوں کی آوازبہت کمزور پڑگئی تھی۔ ونگ کمانڈر کی رہائی کے بعد امن مشن تیز ہو گیا ہے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق ’’بھارت جانتا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اورخودمختاری کی خلاف ورزی کا جواب بھارت کو فوری طورپر ملے گا۔ بالاکوٹ پر حملہ کے منصوبہ سازوں کو اس کے جواب کا بھی منتظر رہنا چاہیے تھا۔بھارت کو بحران کوطول دینے کی تجاویز بھی دی جارہی ہیں تاہم یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بھارتی حکومت نے اس اقدام سے ایک نیا خطرہ پیداکردیاہے بحران کو طول دینے سے کچھ حاصل نہ ہوگا اب تناؤ کو کم کرنے کی حکمت عملی ہی بہتر ثابت ہوگی‘‘ ۔مضمون نگارنے بھارتی جنگجوئی کے برعکس بیانات دیئے ہیں ۔ ان بیانات سے عالمی رائے عامہ بھارت کے خلاف ہوسکتی ہے چنانچہ اب سفارتکاری کو موقع ملنا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ دنوںہنوئی کے دورہ پر تھے ،شمالی کوریہ کیساتھ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں ناکامی کے بعد انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرانے میں اپنا کرداراداکرنا شروع کر دیا ہے۔ ہنوئی میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ سعودی عرب ،ترکی اور دوسرے ممالک میں کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار اداکریں گے، مشرقی وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء سے بھی انہیں اچھی خبریں سننے کی اُمید ہے۔‘‘ ہنوئی میں امریکی صدر نے پاکستان کے حق میںایک خوشگوار یو ٹرن لیا ۔انہو ں نے کئی عشروں سے چلے آنے والے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے اسے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ’’پاکستان اور بھارت کئی دہائیوں سے ایک دوسرے سے نبردآزما ہیں لیکن اب انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان اور بھارت سے اچھی خبریں ملنے کی اُمید ہے ‘‘۔یورپی یونین نے بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھا دیا ہے۔یورپی پارلیمنٹ نے اپنے اجلاس میں ہنگامی طورپرمقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و تشدد بند کرنے پر زور دیا۔2007ء کے بعدسے پہلی مرتبہ کشمیر ایشو اتنی طاقت سے عالمی سطح پر ابھرا ہے۔بھارت کہتا ہے کہ پاکستان تنہا ہو گیا مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔بھارت دنیا بھر میں تنہا ہو گیا ہے۔امریکی صدر نے بھی کشمیر ایشو حل کرنے کی بات کی جبکہ یورپی یونین نے تو مطالبہ ہی کر ڈالا ہے۔بھارت میںانسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عالمی سطح پر کام ہو رہاہے۔ اگرچہ اس میں وقت لگ سکتا ہے مگر اقوام متحدہ کی رپورٹ رائیگاں نہیں جائے گی ۔جلد یا بدیر اس پر کارروائی ضرور ہو گی۔اس معاملے میںچین اور مشرق وسطیٰ بھی بھارت کے ساتھ نہیں ہیں۔بھارت کو او آئی سی کے اجلاس میں بلایا ضرور گیا تھا مگر وہاںاس کے خلاف سخت قراردادکی منظوری سے بھارت کو اپنی حیثیت کا پتہ چل گیا ہے۔ اسی اجلاس میںبھارتی وزیر خارجہ کی موجودگی میں عمران خان کے اقدامات کی تعریف کی گئی۔ جس کے بعد سے دعوت نامہ ملنے پر بغلیں بجانے والا بھارتی میڈیاعالم سوگ میں ہے۔اس ناکامی کی ذمہ داری بھی مودی حکومت پر ڈالی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر بھارت ایک منجدھار میں ہے۔اسے دہشت گردی پر تو حمایت حاصل ہے مگر کسی اور معاملے پر دنیا اس کے ساتھ نہیں ہے۔ ماضی کی طرح اسے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر آناہی پڑے گا، اور مسائل کا حل بھی یہی ہے۔ اب فلسطین کا ذکر کرتے ہیں جہاں حالات بہت خراب ہیں، اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔یہ بات کسی اور نے نہیں ، اقوام متحدہ کے افسر نے ہی کی ہے۔اقوام متحدہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے غزہ میں جنگی جرائم کی تفتیش کے لئے Independent Commission of Inquiryقائم کیا تھا۔جس کی رپورٹ تیار ہے۔جو جلد ہی منظر عام پر آنے والی ہے۔ اس سے عالمی دنیا میں تہلکہ مچ جائے گا۔ممکن ہے کہ رپورٹ اسرائیل کے خلاف جنگی جرایم پر تفتیش کا دروازہ کھول دے۔ اقوام متحدہ کا ایک تفتیش کار پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ’’اسرائیلی فوجوں نے مقبوضہ علاقوں میں مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس سے 189افراد ہلاک ہو گئے ۔اگرچہ امریکہ نے اقوام متحدہ میںغزہ میں اسرائیلی تشد کے خلاف کویت کی سربراہی میں تیار کردہ قرارداد ناکام بنا دی جس میںفلسطینی شہریوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا گیا تھا۔کویت نے بھی آزا دتحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔گزشتہ منگل کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمودعباس نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کے داماد کوشنر پہلے ہی ایک تفصیلی امن پلان کیساتھ مشرقی وسطیٰ کا دورہ کر چکے ہیں۔ کوشنر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں پر اسرائیلی انتہا پسندوںکو کسی تبدیلی کی بو آ رہی ہے۔ان کے کان کھڑے ہیں۔ صدرٹرمپ کی باتوں سے لگتا ہے کہ کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطین بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اقوام متحدہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’فلسطین میں اسرائیلی فوجوں کی فائرنگ اور آنسوگیس سے30مارچ 2018کے بعد سے 20ہزار فلسطینی زخمی اور 205شہید ہو چکے ہیں۔ جس پر ترکی نے اسرائیلی سفیرکو اپنے ملک سے نکال دیا ہے جبکہ بیلجئیم اور آئر لینڈ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔اس معاملے پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندے اوریورپی یونین ایک طرف اورامریکہ اور اسرائیل دوسری طرف ہیں۔امریکہ اور یورپ میں یہ تقسیم اس وقت مزید واضح ہو گئی جب اسرائیل کو امریکہ کے سوا کسی اور ملک کی جانب سے کوئی حمایت حاصل نہ ہوئی۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق شہید ہونے والوں میں35خواتین بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے اسے جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’فلسطین میں اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم پر مقدمہ بن سکتا ہے۔کچھ مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگائی تھی یاسنگ باری کی تھی مگر اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کرنے اور حفاظتی باڑ کاٹنے کے الزامات لگائے جو کہ غلط تھے۔اسرائیلی فوج نے نہتے شہریوں پر سیدھی گولیاں چلائیں بلکہ فضائی بمباری بھی کی۔ ‘‘جس سے ایک آٹھ مہینے کی معصوم بچی بھی موت کے منہ میں چلی گئی۔ اسرائیل نے ٹینٹوں میں پناہ گزیںفلسطینیوں پر بھی بے پناہ شیلنگ کی۔چاروں طرف زیریلی گیسوں کا دھوں ہی دھواں ہے،ڈاکٹر زاورہسپتالوں کی انتظامیہ اس سے محصورفلسطینیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے مگراب تک ناکام ہے۔یاد رہے کہ غزہ کی باریک سی پٹی میں20لاکھ فلسطینی طویل عرصے سے محصور ہیں۔ایک طرف اسرائیل بمباری ہے تو دوسری طرف سے مصرکا محاصرہ جاری ہے۔جنیوا میںاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ونگ نے اسے سنگین ترین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’وہاں جو کچھ ہونے والا ہے، وہ سوچ کر ہی ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘‘۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ترجمان رپرٹ کولویل نے کہا کہ ’’عالمی قوانین کے اندر رہتے ہوئے اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔مگر جان لیوا طاقت کا استعمال آخری حربہ ہونا چاہیے۔غزہ میں اس کا استعمال جائز نہیں‘‘۔ گزشتہ منگل کے روز اقوام متحدہ نے اپنے اجلاس میں اسرائیلی ظلم پرخاموشی اختیار کی۔بعد ازاں مشرق وسطیٰ پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندینکولے میلا دی وف نے کہا کہ۔۔ ’’فلسطین میں قتل عام کا کوئی جواز نہیں‘‘۔ان کا یہ کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر بھڑک اٹھیں۔نیکی ہیلے کھل کر اسرائیل کے دفاع میں بول پڑیں،اس دوران دونوں میں تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔انہوں نے یہ مضحکہ خیز بیان جاری کیا کہ ’’اسرائیل سے زیادہ کسی ملک نے بھی تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا‘‘۔فلسطینی نمائندے ریاض منصور نے قتل عام بند کروانے کے لئے سکیورٹی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ صرف چند روزہ فائرنگ میں آتھ ماہ کے بچے سمیت 60فلسطین جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ’’تفصیلی امن منصوبے میں اسرائیل فلسطینی تنازعے کا قابل عمل اور منصفانہ حل موجو دہے ۔اسرائیل فلسطینی تنازعہ 2019ء میں حل ہوگا‘‘ ۔ یہ بہت بڑی بات ہے جو انہوں نے کہہ دی ہے۔اگرچہ امریکی سفارتخانہ کی مقبوضہ بیت المقد س منتقلی کے بعد سے فلسطینی رہنمائوںنے ٹرمپ انتظامیہ سے ہر قسم کے مذاکرات روک دیئے ہیں لیکن اسرائیلی وزارت عظمیٰ کے اُمید وار کی تنقید اور مغربی میڈیا کے تبصرو ں سے لگتا ہے کہ مسئلہ فلسطین حل ہونے کے قریب ہے ۔اسرائیل میں کہا جا رہا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکہ سے کہہ دیا ہے کہ وہ ان کے پلان پر عمل کرنے کو تیار ہیں!یہ پلان کوشنر کے پاس ہے۔مشرق وسطیٰ کے کئی بڑے ممالک بھی اس پلان کے ظاہری خد و خال سے آگاہ ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ’’ مشرق وسطیٰ امن میں نیتن یاہو نے فلسطینیوں کوکئی رعایتیں دی ہیں‘‘ ۔نیتن یاہو کے حریف امیدوار بینی غانزڈونلڈ ٹرمپ سے نالاں ہیں۔ ان کے نزدیک امریکی صدر نیتن یاہو کو برسر اقتدار لانے والے کام کررہے ہیں۔انہوںنے الزام عائد کیا کہ ’’یوں لگتاہے کہ ہر کوئی فلسطینی ریاست کے قیام کا منصوبہ لے کر ہمارے سروں پر منڈلا رہاہے‘‘۔اسرائیل میں عام انتخابات 9اپریل کو ہونے والے ہیں ۔اسرائیلی وزیر اعظم کو بھی بھارتی وزیر جیسی داخلی کش مکش کا سامنا ہے۔وہاں ووٹ بری طرح تقسیم ہیں۔سب سے بڑی پارٹی کوبھی 19فیصد سے زیادہ ووٹ ملنے کا امکان نہیں۔دس جماعتیں 3سے 5فیصد تک ووٹ حاصل کر کے اسرائیل کے پارلیمانی ڈھانچے کی جڑوں کو کمزور کر دیں گی ۔کوئی جماعت بھی 23فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں لے سکے گی۔ مسئلہ فلسطین پر ممکنہ تصفیے سے متعلق ایک سوال امریکی صدر سے ہنوئی میں ہوا تھاجسے وہ ٹال گئے تھے۔ مشرق وسطیٰ میں اس قسم کے وعدے وعید نئی بات نہیں۔فلسطینی تو زندہ ہی لولی پاپس پر ہیں۔کیمپ ڈیوڈ سے لے کر اب تک لولی پاپس کے علاوہ انہیں ملا ہی کیا ہے۔اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں نے انہیں دیا ہی کیا ہے، صرف لیا ہی لیاہے۔ ہر مذاکرات سے اسرائیل کو فلسطین پر غاصبانہ تسلط کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ ہر ڈیل کے بعد اسرائیل کو ڈھیل ملی ، اس نے غیر قانونی آبادیوں کے رقبے میں اضافہ کر لیا۔فلسطینیوںکا ارض وطن سکڑتا ہی جا رہا ہے۔ اب مل بھی گیا تو ایک محدود سا ،کمزور سافلسطین آزاد ہو گا۔اسرائیلی اپوزیشن فلسطین کو ملنے والی معمولی رعایتوں کا بتنگڑ بنا نے اور واویلا کرنے کے موڈ میں ہے ۔ ٭٭٭٭ بھارتیوں کا رویہ بدل گیا۔۔۔ پاکستان کا بائیکاٹ کرنے والو ںمیں بھارتی فلم انڈسٹری پیش پیش تھی۔ پاکستان کی حکمت عملی نے بھارتی انڈسٹری کو بھی حمایت کرنے پر مجبورکردیاہے ۔ہیمامالنی اور ایشا گپتا نے رہائی کا خیر مقدم کیا۔ ہیمامالنی نے ٹوئٹ کیا کہ ’’ آپ کی رہائی کی خبر انتہائی خوشگوار ہے، اللہ تعالیٰ کرے خیر ہو‘‘۔ وشال ددلانی نے ’’جنگ نہیں ‘‘کے ہیش ٹیگ کیساتھ تین بار معافی مانگی۔ کہتے ہیں جنگ سے پناہ چاہئے ۔ ابھی نندن کے چہرے کی مسکراہٹ سے آپ خود دیکھ لیں گے کہ پاکستان میں وہ مہمان تھا ،دشمن نہیں۔برکھا دت کے نزدیک پاکستانی پارلیمنٹ میں عمران خان کا اعلان بہت بڑی خبر تھی ۔ویوک اوبرائے بھی رہائی کی خبر پر جھوم اُٹھے۔ کہتے ہیں ،ہمارے دل میں خوشیاں مچل رہی ہیں ۔ متھر بھنڈرکرنے بھی مہناز مرچنٹ کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے اسے عظیم خبر قراردیا۔نمرت کور کے نزدیک ونگ کمانڈر کی رہائی سے مکمل جنگ کی قیاس آرائیوں کو دم توڑ دینا چاہئے ۔ راہول دیو نے ونگ کمانڈر کی رہائی کو محبت کی لہروں سے تعبیر کیا ۔گلوکارہ سونل چوہا ن نے کہاکہ اس خبرنے میرا دن بنادیا ۔ملاپ نامی گروپ نے عمران خان کی تصویر کیساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے پاکستان اور بھار ت کو سیلوٹ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم ونگ کمانڈر کی رہائی کاخیر مقدم ہی نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیںکہ دونوںممالک کو امن کے راستے پر لوٹ جانا چاہیے‘‘۔ مہناز مرچنٹ نے ونگ کمانڈر کی غیر مشروط رہائی کو فنٹاسٹک خبر قرار دیا ۔ سندیپ بھرد واج نے بھی ڈپلومیسی اور سفارتکاری پر زوردیاہے۔

مزید پڑھیں

’’بجٹ بم‘‘ تیاری کے آخری مراحل میں ہے ۔ ’’بارودی مواد‘‘ یعنی مختلف محکموں کے اعدادو شمار 22مارچ 2019تک مکمل ہو جائیں گے ۔ سرکاری ارباب اختیار کے مطابق اس مرتبہ بجٹ ’’بم‘‘ نہیں بلکہ شادی بیاہ جیسی’’ پھلجھڑیاں‘‘ چلیں گی۔ جن سے ترقی اور خوشخالی کے شگوفے پھوٹیں گے ۔ کیا ہونے والا ہے؟ یہ تو خدا جانتا ہے مگر 21دسمبر 2018کو وزارت خزانہ کے جاری کردہ بجٹ کال سرکلر میں کچھ نیا نہیں ہے ۔ماضی کی طرح اس میں بھی وہی پرانی باتیں دہرائی گئی ہیں۔اگلے مالی سال کے بجٹ میں بھی تمام محکموں، اداروں اور کارپوریشنوں کو ’’ حد‘‘ میں رہ کراخراجات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ورنہ کسی کو ایک پائی بھی اضافی نہیںملے گی ۔یہ نکتہ ماضی میں بھی بجٹ دستاویز کا حصہ رہا ، اب پھر ہے۔ اس مرتبہ وفاقی وزارت خزانہ نے تمام محکموں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ’’ لم سم‘‘ اور ’’غیر منظور شدہ‘‘ منصوبوں کے لئے بھی فنڈ مانگنے سے گریز کریں۔

مزید پڑھیں

اقوام متحدہ کے زیراہتمام 22 مارچ پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ نے ہدف طے کیا ہے کہ 2030تک دنیا کہ ہر انسان تک صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولت فراہم کرنے کی جدوجہد کر نا ہے۔ 2019 کے پانی کے عالمی دن کا اسی مناسبت سے تھیم ہے ۔’’Leaving no one behind‘‘ کسی کو پیچھے نہ چھوڑو ،ہر شخص کو صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولت فراہم کرنے کا مشن ہم سب کو جاری رکھنا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کے انسانوں کو پانی کے مسائل کی سنگینی سے آگاہ کرنا اور ان کومسائل کے حل کی کا شعور دیناہے تاکہ وہ ان ماحولیاتی مسائل کے نقصانات سے آگاہ ہوں اور ماحول کے تحفظ کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ اقوام متحدہ کے زیراہتمام اس دن دنیا بھر میںحکومتی اور غیر حکومتی اداروں کی جانب سے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں